لائیو, خطے سے امریکی فوج کا انخلا، ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی سمیت 14 نکات امریکہ بھجوا دیے ہیں: ایرانی میڈیا

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ کی جنگ کے حوالے سے نو نکات پر مشتمل تجاویز کے جواب میں ایران نے 14 نکاتی تجاویز بھیجی ہیں۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اس بات کا امکان موجود ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے حملے دوبارہ شروع کر دے۔‘

خلاصہ

  • ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ 'امریکہ کے صدر نے ایرانی بحری جہازوں کی غیرقانونی ضبطی کو کھلے عام ’قزاقی‘ قرار دیتے ہوئے فخر سے کہا کہ ’ہم قزاقوں کی طرح عمل کرتے ہیں۔ سنگین اعتراف جرم ہے۔‘
  • ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اس بات کا امکان موجود ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے حملے دوبارہ شروع کر دے۔‘
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کا جلد جائزہ لیں گے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اسے قابلِ قبول نہیں سمجھتے۔
  • روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اعلان کیا ہے کہ ماسکو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے خاتمے اور مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے درکار ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
  • بی بی سی سے بات کرنے والے متعدد صومالی سکیورٹی حکام کے مطابق صومالی قزاقوں نے یمن کے ساحل کے قریب ایک تیل بردار جہاز کو اغوا کر لیا ہے۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں مختلف ایرانی شخصیات کی جانب سے رابطہ کیا جا رہا ہے جو معاہدے کی پیشکش کر رہے ہیں

لائیو کوریج

  1. ایران نے 2022 کے احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکار کے قتل کے جرم میں سزا یافتہ شخص کو پھانسی دے دی

    ایرانi عدلیہ کے خبر رساں ادارے میزان کے مطابق 2022 میں ایران میں مظاہروں کے دوران ایک سکیورٹی اہلکار کے قتل میں ملوث مجرم کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔

    اتوار کے روز میزان کی جانب سے شائع رپورٹ میں کہا گیا ایران کی سپریم کورٹ نے 2025 کے اواخر میں مجرم کی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا جس کے بعد اسے پھانسی دے دی گئی۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ملزم کی شناخت مہربان عبداللہ زادہ کے نام سے کی گئی ہے جنھیں 2022 میں ہونے والے ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکار عباس فاطمیہ کی موت کے ذمہ دار افراد میں سے ایک قرار دیا گیا تھا۔ یہ احتجاج پولیس تحویل میں نوجوان خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے تھے۔

    میزان کے مطابق ملزم نے سکیورٹی اہلکار پر حملے کا اعتراف کیا تھا۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا (ہیومنر رائٹس ایکٹوسٹ اِن ایران) نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ عبداللہ زادہ سے زبردستی اعترافِ جرم کروانے کے لیے ان پر تشدد کیا گیا تھا۔

  2. ٹرمپ کو ناممکن فوجی آپریشن یا خراب معاہدے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا: پاسداران انقلاب

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلیجنس یونٹ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ’ناممکن فوجی آپریشن یا خراب معاہدے‘ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق تنظیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں حالیہ پیشرفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکہ کے لیے فیصلے لینے کے مواقع کم ہیں۔ یونٹ کا کہنا ہے کہ تہران نے امریکی فوج کو ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے ڈیڈلائن مقرر کر دی ہے۔ تاہم اس ڈیڈلائن کی کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین، روس اور یورپ کی جانب سے واشنگٹن کے خلاف لہجے میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کو ’ناممکن فوجی آپریشن یا خراب معاہدے‘ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا ٹرتھ سوشل پر جاری اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ’وہ ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کا جلد جائزہ لیں گے،‘ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’وہ اسے قابلِ قبول نہیں سمجھتے۔‘

    دوسری جانب ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ کی جنگ کے حوالے سے نو نکات پر مشتمل تجاویز کے جواب میں ایران نے 14 نکاتی تجاویز بھیجی ہیں۔

    خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ’امریکہ نے اپنے تجویز میں دو ماہ کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم ایران نے واضح کیا کہ تمام معاملات 30 دن کے اندر حل ہونے چاہییں اور توجہ جنگ بندی میں توسیع کے بجائے ’جنگ کے خاتمے‘ پر مرکوز ہونی چاہیے۔

    ایران کی جانب سے واشنگٹن پہنچائی جانے والی 14 نکاتی تجویز میں دوبارہ حملے سے دور رہنے کی ضمانت، ایران کے گرد و نواح سے امریکی فوجیوں کا انخلا، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگ کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے ہرجانے کی ادائیگی، ایران پر ہر قسم کی پابندیوں کا خاتمہ، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا اختتام اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا طریقۂ کار جیسے امور شامل ہیں۔

    تسنیم کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران ان تجاویز پر امریکہ کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔

  3. مارکو روبیو رواں ہفتے ویٹیکن کا دورہ کریں گے، اطالوی اخبارات

    مارکو روبیو پوپ لیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو رواں ہفتے ویٹیکن اور اٹلی کا دورہ کریں گے۔ روبیو کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چند ہفتے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سوشل میڈیا پر پوپ لیو پر تنقید کرنے کے باعث سیاسی حلقوں کے مختلف دھڑوں سے تعلق رکھنے والے مسیحیوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کا کہنا ہے کہ اٹلی کے دو اخبارات لا ریپبلکا اور کوریئرے ڈیلا سیرا میں شائع ہونے والی خبروں میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا مارکو روبیو کی پوپ لیو سے براہِ راست ملاقات ہو گی یا نہیں۔ تاہم ان اخبارات کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ ویٹیکن کے اعلیٰ سفارتی عہدیدار کارڈینل پیئٹرو پیرولین سے ملاقات متوقع ہے۔

    مارکو روبیو کی پوپ لیو سے آخری ملاقات مئی 2025 میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ہمراہ ہوئی تھی۔ دونوں امریکی عہدیداروں نے سینٹ پیٹر اسکوائر میں نئے پوپ کی افتتاحی عبادت میں شرکت کی تھی اور اگلے روز پوپ سے ایک نجی ملاقات بھی کی تھی۔

  4. پاکستان کے مقامی بانڈز میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کے مقامی بانڈز میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق رواں مالی سال کے دوران 17 اپریل تک مقامی بانڈز میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 94 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق یکم جولائی 2025 سے اپریل کے وسط تک ٹریژری بلز میں 97 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی آمد ہوئی، جبکہ 91 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا انخلا ہوا جس کے نتیجے میں خالص سرمایہ کاری 5 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہی۔

    اس دوران مارچ کے مہینے میں پاکستان کے مقامی بانڈز سے غیر ملکی سرمایہ کاری کا زیادہ اخراج ریکارڈ کیا گیا۔

    سٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ٹریژری بلز سے سب سے زیادہ 29 کروڑ 10 لاکھ ڈالر برطانیہ کو منتقل ہوئے، اس کے بعد 27 کروڑ 10 لاکھ ڈالر متحدہ عرب امارات گئے۔

    اس کے علاوہ 21 کروڑ 80 لاکھ ڈالر بحرین اور سات کروڑ 70 لاکھ ڈالر سنگاپور کو منتقل ہوئے، جبکہ تین کروڑ 20 لاکھ ڈالر امریکہ گئے۔

  5. اسرائیل نے امریکہ سے جدید ایف-35 اور ایف-15 آئی اے طیاروں کے دو سکواڈرن خریدنے کی منظوری دے دی

    ایف-35

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اسرائیل نے امریکی کمپنیوں لاک ہیڈ مارٹن اور بوئنگ سے ایف-35 اور ایف-15 آئی اے طیاروں کے دو نئے جنگی سکواڈرن خریدنے کے منصوبے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔

    اسرائیلی وزارتِ دفاع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اس سودے کی مالیت دسیوں ارب شیکل ہے۔

    اسرائیلی ویب سائٹ دی ٹائمز آف اسرائیل کی وزارتی کمیٹی برائے خریداری نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں وزارتِ دفاع کے اس منصوبے کی منظوری دی ہے جس کے تحت لاک ہیڈ مارٹن سے ایف-35 آئی کا چوتھا سکواڈرن اور بوئنگ سے ایف-15 آئی اے کا دوسرا سکواڈرن حاصل کیا جائے گا۔

    ٹائمز آف اسرائیل کی خبر کے مطابق ان طیاروں کی شمولیت کے بعد آنے والے برسوں میں اسرائیلی فضائیہ کے پاس ایف-35 آئی طیاروں کی مجموعی تعداد 100 تک پہنچ جائے گی جبکہ ایف-15 آئی اے — جو جدید ایف-15 ای ایکس کا اسرائیلی ماڈل ہے — کی تعداد 50 ہو جائے گی۔

  6. ایران اور فرانس کے وزرا خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے فرانسیسی ہم منصب کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جارحانہ جنگ کے خاتمے کے لیے تہران کے مؤقف اور اقدامات سے آگاہ کیا ہے۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اس ٹیلی فونک گفتگو کے دوران عباس عراقچی اور فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نویل بارو نے خطے اور عالمی سطح پر ہونے والی تازہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق عباس عراقچی نے اس موقع پر اپنے فرانسیسی ہم منصب کو ایران کے ان مؤقف اور سفارتی اقدامات سے آگاہ کیا جن کا مقصد امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ کا خاتمہ ہے۔

    فرانسیسی وزیر خارجہ نے سفارتی کوششوں کے تسلسل کے لیے اپنے ملک کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کا جاری رہنا خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کا سبب بنے گا۔

  7. خطے سے امریکی فوج کا انخلا، ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی سمیت 14 نکات امریکہ بھجوا دیے ہیں: ایرانی میڈیا

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران نے پاکستان کی ثالثی کے ذریعے امریکہ کی نو نکاتی تجاویز کے جواب میں اپنا مؤقف واشنگٹن کو پہنچا دیا ہے، جس میں بنیادی زور ’جنگ کے خاتمے‘ کے نکتے پر دیا گیا ہے۔

    ایران کی جانب سے امریکہ تک پہنچائی جانے والی تجاویز کے حوالے سے چند تفصیلات سامنے آرہی ہیں۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ کی جنگ کے حوالے سے نو نکات پر مشتمل تجاویز کے جواب میں ایران نے 14 نکاتی تجاویز بھیجی ہیں۔

    خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ’امریکہ نے اپنے تجویز میں دو ماہ کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم ایران نے واضح کیا کہ تمام معاملات 30 دن کے اندر حل ہونے چاہییں اور توجہ جنگ بندی میں توسیع کے بجائے ’جنگ کے خاتمے‘ پر مرکوز ہونی چاہیے۔

    ایران کی جانب سے واشنگٹن پہنچائی جانے والی 14 نکاتی تجویز میں دوبارہ حملے سے دور رہنے کی ضمانت، ایران کے گرد و نواح سے امریکی فوجیوں کا انخلا، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگ کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے ہرجانے کی ادائیگی، ایران پر ہر قسم کی پابندیوں کا خاتمہ، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا اختتام اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا طریقۂ کار جیسے امور شامل ہیں۔

    تسنیم کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران ان تجاویز پر امریکہ کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔

    تاہم اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا ٹرتھ سوشل پر جاری اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ’وہ ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کا جلد جائزہ لیں گے،‘ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’وہ اسے قابلِ قبول نہیں سمجھتے۔‘

  8. اسرائیل کا جنوبی لبنان کے متعدد شہروں میں کارروائی کے آغاز کا اعلان، علاقہ مکینوں کو گھر خالی کرنے کا حکم

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل نے لبنان میں ایک اور نئی فوجی کارروائی کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے مُلک کے جنوب میں متعدد شہروں اور دیہات کے رہائشیوں سے اپنے گھروں کو خالی کرنے کی اپیل کی ہے۔

    اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے ایک ’انتباہ‘ جاری کرتے ہوئے جنوبی لبنان کے 11 شہروں اور قصبوں کے مکینوں سے کہا کہ وہ فوری طور پر اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو جائیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد اس کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

    فوج نے خبردار کیا ہے کہ جو افراد حزب اللہ کے ٹھکانوں یا فورسز کے قریب موجود ہوں گے، انھیں خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    اسرائیل بدستور جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیلی افواج اس وقت جنوبی لبنان کے ایک تنگ علاقے پر قابض ہیں اور ان گھروں کو منہدم کر رہی ہیں جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ حزب اللہ کے اہم ٹھکانوں اور تنصیبات کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔

    دوسری جانب حزب اللہ بھی ڈرون اور راکٹ حملوں کے ذریعے لبنان کے اندر اور شمالی اسرائیل میں اسرائیلی افواج کو نشانہ بنا رہی ہے۔

  9. آبنائے ہرمز سے باحفاظت گزرنے کے لیے ایران سے عالمی سطح پر رابطوں میں اضافہ: فارس نیوز

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کے سلسلے میں ایران سے رابطوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ کشیدگی کے باعث بحری آمدورفت گزشتہ ماہ کے مقابلے میں کم ہو کر تقریباً نصف رہ گئی ہے۔

    خبر رساں ادارے نے ایرانی وزارتِ خارجہ کے معاون برائے اقتصادی سفارتکاری حمید قنبری کے حوالے سے بتایا کہ متعدد ممالک اپنے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزارنے کے لیے ایران سے بار بار رابطے کر رہے ہیں تاکہ تہران کی منظوری حاصل کی جا سکے۔

    حمید قنبری کے مطابق مختلف ممالک تشویش اور فوری نوعیت کے پیغامات اور سفارتی مراسلوں کے ذریعے اپنی جہازرانی کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ جاپان کے وزیرِ اعظم اس سے قبل ذاتی طور پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ کر چکے ہیں، جس میں جاپانی تیل بردار جہازوں کی آبنائے ہرمز سے محفوظ انداز میں گزرنے کے حوالے سے بات چیت کی گئی تھی۔

    فارس نیوز کے مطابق جاری کشیدگی کے تناظر میں رواں ماہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت گزشتہ ماہ کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد کم ہو چکی ہے اور اس وقت صرف وہی جہاز گزرنے کی اجازت رکھتے ہیں جنھیں ایران کی جانب سے اجازت نامہ حاصل ہو اور جو ایرانی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے متعین کردہ راستوں پر سفر کریں۔

  10. جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے حملے، سات افراد ہلاک متعدد زخمی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں، اسرائیل کی جانب سے یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں کہ جب علاقے میں جنگ بندی بدستور برقرار ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں عمارتوں کو مسمار کرنے کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں سرحدی گاؤں یارون میں واقع ایک کیتھولک خانقاہ بھی شامل ہے جسے حال ہی میں بلڈوزر کے ذریعے منہدم کیا گیا۔

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ اس مقام کو اسرائیل کی جانب راکٹ داغے جانے کے مرکز کے طور پر استعمال کر رہی تھی، تاہم لبنان کی کیتھولک کلیسا نے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  11. ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی سے متعلق امریکی صدر کا بیان براہِ راست اور سنگین اعتراف جرم ہے: ایرانی دفترِ خارجہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے جس میں انھوں نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ’امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کے نفاذ کے لیے ’بحری قزاقوں کی طرح‘ عمل کر رہی ہے۔‘ کہ جواب میں ایرانی دفترِ خارجہ کا ردِ عمل سامنے آیا ہے۔

    ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کے صدر نے ایرانی بحری جہازوں کی غیرقانونی ضبطی کو کھلے عام ’قزاقی‘ قرار دیتے ہوئے فخر سے کہا کہ ’ہم قزاقوں کی طرح عمل کرتے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکی صدر کے اس بیان کو محض زبانی لغزش نہیں بلکہ بین الاقوامی بحری قوانین کے خلاف امریکی اقدامات کی مجرمانہ نوعیت کا براہِ راست اور سنگین اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔‘

    اسماعیل بقائی نے اپنے اس حالیہ بیان میں زور دیا کہ ’عالمی برادری، اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بین الاقوامی قانون کی ایسی کھلی اور سنگین خلاف ورزیوں کو کسی بھی صورت معمول کا حصہ بننے سے روکنا چاہیے اور انھیں دوٹوک انداز میں مسترد کرنا چاہیے۔‘

    تاہم دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اساتزہ کے عالمی دن کے حوالے سے جاری ایک بیان میں کہا کہ ’اگر آج ہم وطن کے دفاع کے محاذ پر ایسی مناظر دیکھ رہے ہیں جنھوں نے دنیا کو حیران کر دیا ہے تو اس کا سہرا اُن اساتذہ کو جاتا ہے جنھوں نے ہمارے بچوں کو ایمان، قربانی، انسانیت اور ایران سے محبت کے سبق دیا ہے۔‘

  12. یمن کے ساحل کے قریب سے تیل بردار بحری جہاز اغوا

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی سے بات کرنے والے متعدد صومالی سکیورٹی حکام کے مطابق صومالی قزاقوں نے یمن کے ساحل کے قریب ایک تیل بردار جہاز کو اغوا کر لیا ہے۔

    یمن کی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ ’ایم ٹی ایوریقا‘ نامی تیل بردار بحری جہاز کو ہائی جیک کرنے کے بعد صومالیہ کی جانب لے جایا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق جہاز کو خلیجِ عدن میں بندرگاہ قنا کے قریب قزاقوں نے اپنے قبضے میں لیا۔

    بی بی سی سے گفتگو کرنے والے نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ کے تین سکیورٹی حکام کے مطابق قزاق ایک دور دراز ساحلی علاقے، قندالہ نامی قصبے کے قریب سے روانہ ہوئے، جو خلیجِ عدن کے کنارے واقع ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ 10 دنوں کے دوران علاقے میں تیل بردار جہاز کے ساتھ پیش آنے والی یہ دوسری واردات ہے۔ اس سے قبل 22 اپریل کو صومالی قزاقوں نے ’آنر 25‘ نامی ٹینکر کو اغوا کیا تھا، جو 18 ہزار 500 بیرل تیل موغادیشو لے جا رہا تھا۔

    سکیورٹی حکام کے مطابق ایم ٹی ایوریقا اغوا سے قبل مغربی افریقی ملک ٹوگو کا پرچم لیے ہوئے تھا۔ جہاز کو مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بجے مسلح افراد نے اپنے قبضے میں لیا۔

    اطلاعات کے مطابق یہ جہاز اس وقت یمن اور صومالیہ کے درمیان خلیجِ عدن میں سفر کر رہا ہے اور امکان ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں صومالی پانیوں میں لنگر انداز ہو جائے گا۔

    دوسری جانب جمعے کے روز برطانیہ کی میری ٹائم ٹرانسپورٹ آپریشن نے ایک علیحدہ واقعے میں اطلاع دی کہ یمن کے شہر المکلا کے قریب ایک مال بردار جہاز کے قریب ایک کشتی میں سوار ’مسلح افراد‘ دیکھے گئے۔

    تاہم ابھی تک صومالی حکام اور صومالی پانیوں میں قزاقی کے خلاف کارروائیوں کی نگرانی کرنے والی یورپی یونین نیول فورس کی جانب سے تازہ ہائی جیکنگ کے واقعے پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

  13. روس خطے میں جنگ کے خاتمے اور ایران کی مدد کو تیار ہے: سرگئی لاوروف

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اعلان کیا ہے کہ ماسکو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے خاتمے اور مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے درکار ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جمعے کے روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس کے دوران روسی وزیر خارجہ نے تہران کے خلاف فوجی حملے کی مذمت پر مبنی روس کے اصولی مؤقف کو دہرایا۔

    انھوں نے زور دیا کہ روس، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مسلط کی گئی جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہے۔

    بیان کے مطابق، ایران کی مسلح افواج نے امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے بلا اشتعال تازہ حملوں کا بھرپور جواب دیا، جس کے دوران کم از کم 100 مرحلوں میں جوابی کارروائیاں کی گئیں اور مغربی ایشیا کے وسیع علاقے میں امریکی اور اسرائیلی حساس اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

    تاہم ایران کی جوابی کارروائیوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 40 دن کی جنگ کے بعد ایران کے خلاف حملوں میں دو ہفتوں کے وقفے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کی، تاہم ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا، جسے ایران کی جانب سے جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔

    اس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو تمام بحری آمدورفت کے لیے بند کر دیا ہے، سوائے ان جہازوں کے جو ایرانی حکام سے رابطہ کر کے اجازت حاصل کریں۔ اس اقدام نے عالمی توانائی منڈیوں میں شدید ہلچل پیدا کر دی ہے۔

    ادھر ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے روسی ہم منصب کو امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف ایران کے مؤقف اور مغربی ایشیا میں امن کے قیام کے لیے ایران کی کوششوں اور اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

  14. بلوچستان میں شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں چار عسکریت پسند اور جوابی کارروائی میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دو مختلف علاقوں میں فائرنگ کے تبادلے اور بارودی سرنگ کے دھماکے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ نجی سکیورٹی کمپنی کے دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    سرکاری حکام کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ ساحلی ضلع گوادر کے علاقے پسنی میں پیش آیا جہاں ایک جھڑپ میں چار عسکریت پسند بھی ہلاک ہوئے۔

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پسنی میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی۔

    اہلکار نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی کے دوران چار عسکریت پسند ہلاک جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں دو سکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے۔

    اُدھر ضلع دُکی میں باردی سرنگ کے دھماکے میں نجی سکیورٹی کمپنی کے دو اہلکار زخمی ہوگئے۔

    ڈکی پولیس کے ایک اہلکار عبدالغنی نے فون پر بتایا کہ یہ واقعہ ضلع کے علاقے تلائو میں پیش آیا۔

    انھوں نے بتایا کہ اس علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے بارودی سرنگ نصب کی تھی جو کہ اس وقت پھٹ گئی جب ایک موٹر سائیکل اس سے ٹکرا گیا۔

    بارودی سرنگ کے پھٹنے سے موٹر سائیکل پر سوار نجی سکیورٹی کمپنی کے دو اہلکار زخمی ہوگئے جن کو طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ زخمی ہونے والے پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز اس علاقے میں کوئلے کے ٹرکوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے تعینات تھے۔

  15. اس بات کا امکان موجود ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے حملے دوبارہ شروع کر دے: ٹرمپ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کا جلد جائزہ لیں گے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اسے قابلِ قبول نہیں سمجھتے۔

    فلوریڈا کے علاقے ویسٹ پام بیچ میں میامی روانگی سے قبل ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اس بات کا امکان موجود ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے حملے دوبارہ شروع کر دے۔‘

    اس سے قبل ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا تھا کہ ایران نے اپنی تجویز مستقل طور پر جنگ کے خاتمے کے مقصد کے تحت ثالث کے طور پر پاکستان کو پیش کی ہے اور اب ’معاملہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ سفارتکاری کا راستہ اختیار کرے یا محاذ آرائی پر مبنی پالیسی جاری رکھے۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پیغام میں لکھا کہ ’ایران نے گزشتہ 47 برسوں کے دوران انسانیت اور دنیا کے خلاف اپنے اقدامات کی ابھی تک اتنی بڑی قیمت ادا نہیں کی۔‘

    صحافیوں کے سوالات کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انھیں معاہدے کے مجموعی ڈھانچے سے آگاہ کر دیا گیا ہے تاہم ابھی تفصیلی متن انھیں فراہم کیا جانا ہے۔

    ایرانی حکام کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسترد کی گئی تجویز میں آبنائے ہرمز میں کشتیرانی کی بحالی اور ایران کے خلاف امریکی محاصرے کے خاتمے سے متعلق شرائط شامل ہیں جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت کو بعد کے مرحلے کے لیے مؤخر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

  16. سینٹ کام: بحری ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے 48 بحری جہازوں کا رخ موڑا گیا

    امریکی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے بتایا ہے کہ گذشتہ 20 دنوں میں بحری ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے 48 بحری جہازوں کا رخ موڑا جا چکا ہے۔

    امریکی بحری ناکہ بندی میں خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں واقع ایران کی تمام بندرگاہیں اور ساحلی علاقے شامل ہیں۔

    اس کے نتیجے میں ایرانی بندرگاہوں میں بحری جہازوں کی آمد و رفت روک دی گئی ہے، اور ایرانی تجارت سے متعلق کسی بھی بحری نقل و حرکت کو محدود کر دیا گیا ہے۔

    کوئی بھی جہاز جو کسی بھی طور پر ایران سے منسلک ہو، یا ایرانی سامان لے جا رہا ہو یا لانے والا ہو، اسے روکا جائے گا اور اس کی تلاشی لی جائے گی۔

  17. آبنائے ہرمز کا کنٹرول جوہری ہتھیاروں سے زیادہ اہم ہے: ایرانی رکنِ پارلیمان

    NurPhoto via Getty images

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty images

    ایرانی شوریٰ کونسل کی تعمیرِ نو کمیٹی کے سربراہ محمد رضا رضائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام و انصرام جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہے۔

    ایران کے سرکاری چینل العالم ٹی وی کے مطابق رضائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنا ایرانی عوام کا مطالبہ ہے، اور ہم اس حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

    ایرانی رکنِ پارلیمان کے مطابق، آبنائے ہرمز کے انتظام کے منصوبے کے تحت جہازوں سے وصول کی جانے والی فیس کا 30 فیصد فوجی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے پر خرچ کیا جائے گا۔

  18. چین نے ایرانی تیل خریدنے والی کمپنیوں پر امریکی پابندیاں مسترد کر دیں

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چین کی وزارتِ تجارت نے سنیچر کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ ایرانی تیل خریدنے کے الزام میں نشانہ بنائی گئی پانچ کمپنیوں کے خلاف امریکی پابندیوں کی تعمیل نہیں کرے گی۔

    چین ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے، خاص طور پر چھوٹی اور آزاد ریفائنریوں کے ذریعے جنھیں ’ٹی پاٹس‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ریفائنریاں کم قیمت پر فروخت ہونے والے ایرانی خام تیل پر انحصار کرتی ہیں۔

    امریکہ، جو ایران کی آمدنی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، نے ان قسم کی ریفائنریوں کے خلاف پابندیاں سخت کر دی ہیں۔

    چین کی وزارتِ تجارت کا کہنا ہے کہ وہ امریکی پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتی اور چینی کمپنیوں اور اداروں کو بھی ان پر عمل درآمد یا ان کی تعمیل نہیں کرنی چاہیے۔

    وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندیاں ’چینی کمپنیوں کو دیگر ممالک کے ساتھ معمول کی اقتصادی، تجارتی اور متعلقہ سرگرمیاں انجام دینے سے غیر منصفانہ طور پر روکتی یا محدود کرتی ہیں، اور بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔‘

    وزارت نے مزید کہا: ’چینی حکومت ہمیشہ ان یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتی آئی ہے جو اقوامِ متحدہ کی منظوری کے بغیر اور بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر نہیں لگائی جاتیں۔‘

    اس فیصلے میں پانچ چینی کمپنیوں کا ذکر ہے: تین صوبہ شینڈونگ میں اور دو دیگر، جن میں ہینگلی پیٹروکیمیکل ریفائنری (ڈالیان) اور ہیبے ژنہائی کیمیکل گروپ شامل ہیں۔

    گذشتہ روز واشنگٹن نے ایک اور چینی کمپنی پر یہ کہتے ہوئے پابندی عائد کی کہ اس نے ایرانی خام تیل کے ’کروڑوں بیرل‘ درآمد کیے اور ایران کے لیے اربوں ڈالر کی آمدنی پیدا کی۔

    چین کی وزارتِ تجارت کے بیان میں اس کمپنی کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔

    یہ نئی پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعطل برقرار ہے، اور فروری کے آخر میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والے تنازع کا تاحال کوئی مستقل حل سامنے نہیں آیا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مئی میں چینی رہنما شی جن پنگ سے مذاکرات کے لیے چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔

  19. لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 13 افراد ہلاک: وزارتِ صحت

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ جمعے کو جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں چار خواتین اور ایک بچے سمیت 13 افراد ہلاک، جبکہ 32 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    دو خواتین اور ایک بچہ سمیت آٹھ افراد حبوش کے علاقے میں ہلاک ہوئے، جہاں اسرائیلی ڈیفینس فورسز نے علاقہ خالی کرنے کی ہدایات جاری کر رکھی تھیں۔

    دو خواتین سمیت چار افراد ضلع صیدا میں ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ ایک اور شخص عین بال کے علاقے میں ہلاک ہوا ہے۔

    لبنان میں جنگ بندی تین ہفتوں کے لیے بڑھا دی گئی تھی لیکن اس کے باوجود بھی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

    سنیچر کو حزب اللہ نے کہا تھا کہ اس نے لبنان میں اسرائیلی فوجیوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جمعرات کو جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران اس کا اہلکار ہلاک ہوا تھا۔ اس حالیہ تنازع میں اب تک 17 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

  20. ایران میں دو افراد کو موساد کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں پھانسی دے دی گئی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہFile photo: Getty Images

    ایران میں اسرائیل کے خفیہ ادارے موساد کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں دو افراد کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک تنسیم نیوز ایجنسی کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے سزا کی توثیق کے بعد یعقوب کریمپور اور ناصر بقرزادہ کو دو مئی کی صبح پھانسی دی گئی ہے۔

    یعقوب پر الزام تھا کہ وہ 1980 سے 1988 تک جاری رہنے والی ایران اور عراق کے درمیان جنگ کے وقت سے ’موساد کے ساتھ تعاون‘ کر رہے تھے اور انھیں اس کے عوض ڈیجیٹل فنڈنگ ملتی تھی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یعقوب نے اپنے جرم کا ’اعتراف‘ کیا تھا اور وہ اپنے ہینڈلر کے ساتھ ایک ٹیلی گرام آئی ڈی سے رابطے میں تھے۔

    تنسیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ناصر نے مبینہ طور پر ایران میں حساس مقامات سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کیا تھا اور ان میں نطنز کے قریب واقع ایک مقام بھی شامل تھا۔