لائیو, عباس عراقچی کا عمانی اور سعودی وزرائے خارجہ سے رابطہ، آبنائے ہرمز سمیت خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلیفون پر بات چیت میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ دوسری جانب امریکی صدر کی آج زیلنسکی اور نیتن یاہو کی ملاقات متوقع ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. بحیرہ قزوین میں ایرانی جہاز پر یوکرین کا حملہ ایران پر حملے کے مترادف ہے: روس

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنکریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف

    روس نے کہا ہے کہ بحیرہ کیسپین یا بحیرہ قزوین میں ایرانی جہاز پر یوکرین کے حملے کو خود ایران پر حملہ تصور کیا جانا چاہیے۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ’یہ حملہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کیئو سے پیدا ہونے والے خطرے‘ کا خاتمہ کرنا کس قدر ضروری ہے۔

    ایران کا کہنا ہے کہ ’اس حملے میں ایک ایرانی ملاح ہلاک جبکہ ایک اور زخمی ہوا ہے۔‘ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ’اس حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا۔‘

    یوکرین نے سنیچر کے روز اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بحیرہ قزوین میں ایران سے متعلق فوجی سامان کی منتقلی میں استعمال ہونے والے دو روسی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔‘

    دمتری پیسکوف نے آج یوکرین پر الزام عائد کیا کہ وہ ’دہشت گردانہ حملوں‘ کا جغرافیائی دائرہ وسیع کر رہا ہے۔

  2. جنگ کے نتیجے میں گیس اور پیٹرول کی پیداواری صلاحیت کا ایک بڑا حصہ متاثر ہوا: ایران

    IRNA

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ،تصویر کا کیپشنایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی

    ایرانی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’حالیہ جنگ کے نتیجے میں ملک کی گیس اور پیٹرول کی پیداواری صلاحیت کا ایک بڑا حصہ متاثر ہوا ہے۔

    حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ’ایران تقریباً 230 ملین مکعب میٹر گیس کی پیداواری صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے۔‘

    انھوں نے پیٹرول کی پیداوار سے متعلق کوئی تفصیلی اعداد و شمار جاری نہیں کیے، تاہم کہا کہ ’دشمن کے حملوں کے باعث پیٹرول کی پیداواری صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث حکومت کو اس معاملے کا مؤثر انتظام کرنا پڑ رہا ہے۔‘

    فاطمہ مہاجرانی نے مزید کہا کہ ’ایران یومیہ 100 ملین لیٹر پیٹرول پیدا کرتا ہے، جو عوام کو بلا تعطل فراہم کیا جائے گا۔ تاہم ملک اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے کچھ مقدار میں پیٹرول درآمد بھی کرتا ہے، جس کے لیے قیمتی زرمبادلہ مختص کرنا پڑتا ہے۔‘

    ان کے مطابق یہی زرمبادلہ بنیادی اشیائے ضروریہ، ادویات اور کارخانوں کے لیے خام مال کی فراہمی پر بھی خرچ ہونا چاہیے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایران میں تیل کے ایک ڈیپو پر امریکی حملے کے بعد کے مناظر

    حکومتی ترجمان کے مطابق 29 مارچ کو ’اسرائیل اور امریکہ کے بیک وقت حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے دوران ایران کی متعدد تیل اور گیس تنصیبات، جن میں ساؤتھ پارس کے منصوبے بھی شامل ہیں، حملوں کا نشانہ بنے۔‘

    فاطمہ مہاجرانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’جنگ کے دوران امریکی حملوں میں عوامی خدمات انجام دیتے ہوئے 350 سے زائد سرکاری ملازمین ہلاک ہوئے۔‘

    انھوں نے حالیہ امریکی حملوں سے ہونے والے بنیادی ڈھانچے کے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’مجموعی طور پر 12 پل اور دو سرنگیں متاثر ہوئیں۔‘

    حکومتی ترجمان کے مطابق بوشہر ایئرپورٹ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور اسے ازسرِ نو تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’حال ہی میں خریدا گیا ایک مسافر طیارہ بھی براہِ راست حملے کا نشانہ بنا۔‘

  3. وزیر اعظم شہباز شریف کی پیٹرولیم مصنوعات کے سٹریٹیجک ریزروز بڑھانے کی ہدایت

    وزیراعظم شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab/X

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کے سٹریٹیجک ریزروز بڑھانے کی ہدایت بھی دی گئی ہیں۔

    وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں آئل ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور پالیسی پر عملدرآمد سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

    اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آئل ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ ملک کے توانائی تحفظ کے نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ریفائنریاں نہ صرف توانائی کی ضروریات بہتر انداز میں پوری کریں گی بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور ماحول دوست ایندھن کی فراہمی میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔

    اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ ریفائنریوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے ان کی اپ گریڈیشن ضروری ہے۔

    وزیراعظم نے اوگرا کی کارکردگی بہتر بنانے اور توانائی کی منڈی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اصلاحات متعارف کرانے کی ہدایت بھی کی اور کہا کہ توانائی کے شعبے میں مسابقت، شفافیت اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جانا چاہیے۔

    انھوں نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ نئی پالیسی پر مؤثر اور بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطہ رکھتے ہوئے اصلاحاتی عمل کو تیز کیا جائے۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ پالیسی میں کی جانے والی ترامیم کا مقصد یورو فائیو معیار کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی پیداوار کو یقینی بنانا اور فرنس آئل سمیت کم معیار کی پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار میں کمی لانا ہے۔

    وزیراعظم نے براؤن فیلڈ ریفائنریوں سے متعلق ترمیم شدہ پالیسی کے فروغ کے لیے قطر، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں روڈ شوز منعقد کرنے کی ہدایت بھی کی۔

  4. ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا عمانی اور سعودی وزرائے خارجہ سے رابطہ، آبنائے ہرمز سمیت خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان رابطوں میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، خطے میں کشیدگی میں کمی اور امن و امان کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    ایران اور سعودی عرب کے حکام کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سعودی عرب اور ایران کے اتحادی حوثی گروپ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔

    یاد رہے کہ حال ہی میں ایران اور عمان کے درمیان دو روزہ مذاکرات ہوئے تھے جن میں امریکی فوجی حملوں کے خاتمے کے بعد کی صورتحال پر بات ہوئی تھی۔

    فریقین کی جانب سے ان مذاکرات کو نتیجہ خیز قرار دیا تھا، تاہم ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے گزشتہ روز کہا کہ ایران نے مذاکرات کے دوران عمان کی ایک تجویز مسترد کر دی ہے۔

  5. اسرائیلی فوج کا اردن کی سرحد کے قریب ڈرون کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے اردن کی سرحد کے قریب ایک ڈرون کو مار گرایا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ابھی یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اسے کہاں سے بھیجا گیا تھا۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ ڈرون اسرائیلی فضائی حدود میں داخل نہیں ہوا تھا۔ اسے کہاں سے لانچ کیا گیا، اس کی تحقیقات جاری ہیں۔

    یاد رہے کہ اس ماہ کے آغاز میں ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اردن متعدد مرتبہ حملوں کی زد میں آ چکا ہے۔ اسرائیل نے اس تازہ تنازع میں براہ راست حصہ نہیں لیا ہے۔

  6. سپین اور فرانس میں ہیٹ ویو کا نیا انتباہ جاری، بوردو کے قریب جنگل کی آگ کا تیزی سے پھیلاؤ

    جنگل کی آگ

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    سپین اور فرانس میں ایک بار پھر ہیٹ ویوز کے الرٹس جاری کیے گئے ہیں اور اس دوران بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    سپین کے محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ شدید موسمی حالات کم از کم اتوار تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

    ادارے نے آگ لگنے کے شدید خطرات سے خبردار کیا ہے جبکہ فائر فائٹرز ملک کی تاریخ کی بعض بدترین آگ سے نمٹنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    فرانس کے جنوب مغربی علاقے ہیٹ ویو کے باعث ’ییلو الرٹ‘ پر ہیں جو بدھ کے روز اپنے عروج پر پہنچنے کا خدشہ ہے۔

    ادھر بوردو کے میئر نے کہا ہے کہ وہ ہر صورتِ حال سے نمٹنے کی ممکنہ تیاری کر رہے ہیں کیونکہ فرانس میں لگی جنگلات میں آگ اب وہاں کے جنوب مغربی ایک شہر سے 15 کلومیٹر (نو میل) کے فاصلے پر پہنچ چکی ہے۔

    میڈرڈ کے مغرب میں آگ بے قابو ہو کر پھیلنے کے باعث فرانس میں تقریباً 2 لاکھ 20 ہزار افراد اور سپین میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

    صدر ایمانوئل میخواں نے فرانس کے آگ سے متاثرہ علاقے کے دورے کے دوران کہا کہ ملک کوانتہائی خطرناک جنگلات میں لگی آگ کا سامنا ہے جو ان کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے مشکل ہے۔

  7. امریکی صدر سے آج زیلنسکی اور نیتن یاہو کی ملاقات ہوگی

    ٹرمپ، نیتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل کو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی میزبانی کریں گے۔ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور یوکرین کے درمیان جنگیں ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ان دونوں رہنماؤں کے ساتھ تعلقات بھی مختلف راستے اختیار کر رہے ہیں۔

    کہا جاتا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی توجہ یوکرین کی طرف مبذول کرائی گئی تھی جب وہ ملک روسی افواج کی پیش قدمی کو روکنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

    اس کے برعکس نیتن یاہو ایک ایسے وقت میں واشنگٹن جا رہے ہیں جب وائٹ ہاؤس نے ایران کے ساتھ تنازع کے خاتمے کے لیے وسیع معاہدے تک پہنچنے میں پیش رفت نہ ہونے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

    ٹرمپ، زیلنسکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یاد رہے کہ منگل کے روز طویل عرصے تک ریپبلکن سینیٹر رہنے والے لنڈسے گراہم کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے علاوہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی واشنگٹن کا سفر کیا ہے۔ لنڈسے گراہم ایک سخت گیر ریپبلکن سینیٹر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے بارہا ٹرمپ کو یوکرین میں جنگ کی حمایت کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی تھی۔

    یوکرین کی جنگ اور مشرق وسطیٰ میں وسیع تر تنازع دونوں ایک نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔ ایران کی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد، ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کے لیے امریکی فضائی حملے روک رہے ہیں۔

  8. علمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی، برینٹ خام تیل کی قیمت 86.89 ڈالر فی بیرل ہو گئی

    oil prices

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر مذاکرات کی امیدوں کے باعث منگل کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری رہا ہے اور فی بیرل قیمت ایک ڈالر سے زیادہ گر گئی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل قیمت میں کمی کے بعد 86.89 ڈالر فی بیرل رہا جو 20 جولائی کے بعد کم ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔

    یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتیں ایک موقع پر 100 ڈالر تک پہنچ گئی تھیں کیونکہ دونوں جانب سے فوجی کارروائیوں اور دھمکیوں میں شدت آ گئی تھی۔

    تاہم منگل کے روز عالمی منڈی میں یہ نمایاں کمی امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیوں میں عارضی وقفے کے بعد سامنے آئی جس سے سپلائی سے متعلق خدشات میں کمی آتی دکھائی دے رہی ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ ایرانی حکومت کی درخواست پر ایران کے خلاف حملے روک دیے گئے ہیں۔ تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اگر نئی جنگ بندی پر اتفاق نہ ہوا تو امریکہ دوبارہ کارروائی شروع کر سکتا ہے۔

  9. اگر امریکہ نے بحری ناکہ بندی دہرائی تو تہران اسے ’جنگ میں توسیع‘ سمجھے گا: خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹرز

    Iran flags and people with war weapon

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کی اعلیٰ فوجی کمان خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دہرائی تو تہران اسے ’جنگ میں توسیع‘ تصور کرے گا۔

    ایران کے جنگی انتظام میں اہم کردار ادا کرنے والی کمانڈ نے پیر کی شب ایک نیا بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’گزشتہ تین دنوں کے دوران امریکہ نے ہمارے ملک کے ساحلی اور علاقائی پانیوں میں ایرانی بحری جہازوں، تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کو دھمکیاں دی ہیں۔ ہم خبردار کرتے ہیں کہ اس اقدام کو خطے میں جنگ کے دائرے میں توسیع سمجھا جائے گا۔‘

    بیان کے مطابق ’ایران کی مسلح افواج نے عملی میدان میں ثابت کیا ہےکہ وہ اس ملک کے خلاف کسی بھی دھمکی یا دہشت گردانہ اقدام کا فیصلہ کن جواب دیں گی اور کسی بھی ملک کی دہشت گرد فوج کو بھی بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘

  10. عراقی گروہ ’آئی آر آئی‘ کی ابقیق کی تیل تنصیب پر حملے سے متعلق سعودی عرب کے دعووں کی تردید

    سعودی عرب میں واقع ’ابقیق‘ (Abqaiq) آئل تنصیب کے اوپر دھواں

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنسیٹلائٹ تصاویر میں سعودی عرب میں واقع ’ابقیق‘ (Abqaiq) آئل تنصیب کے اوپر دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔

    ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں پر مشتمل عراقی گروہ ’آئی آر آئی‘ (عراقی اسلامی مزاحمت) نے عراقی سرزمین سے سعودی عرب پر ڈرون حملوں کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔

    آئی آر آئی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے ابقیق کی تیل تنصیب پر حملے سے متعلق سعودی وزارتِ دفاع کے دعووں کی تردید کی ہے۔

    یاد رہے کہ یمن کے حوثی جنگجوؤں نے کچھ گھنٹے قبل کہا تھا کہ اُنھوں نے ڈرون حملے کے ذریعے مشرقی سعودی عرب میں تیل کی پیداوار اور نقل و حمل کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    سعودی وزارتِِ دفاع نے اپنی تنصیبات پر ہونے والے ان حملوں کا ذمہ دار ایران کے اتحادی عراقی ملیشیاؤں کو ٹھہراتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھا ہے۔

    سعودی وزارتِ دفاع کا دعویٰ ہے کہ اس نے عراق کی سمت سے داغے گئے متعدد ڈرونز کو راستے میں ہی روک کر تباہ کر دیا۔

    سیٹلائٹ تصاویر میں سعودی عرب میں واقع ’ابقیق‘ (Abqaiq) آئل تنصیب کے اوپر دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔

    ان الزامات کے جواب میں عراقی گروہ نے اپنے بیان میں سعودی عرب کو کسی بھی قسم کی جوابی کارروائی کے خلاف خبردار کیا اور کہا کہ یمن کے حوثیوں کے حملے یمن پر سعودی ناکہ بندی کا نتیجہ ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان نے سعودی عرب میں ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اشتعال انگیز حملے پورے خطے میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

  11. نیتن یاہو واشنگٹن پہنچ گئے، ٹرمپ سے ملاقات میں ایران جنگ پر تبادلہ خیال متوقع

    نیتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو واشنگٹن پہنچ گئے ہیں جہاں ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات بھی متوقع ہے۔

    یاد رہے کہ منگل کے روز طویل عرصے تک ریپبلکن سینیٹر رہنے والے لنڈسے گراہم کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے علاوہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی بھی واشنگٹن آمد متوقع ہے۔

    اس دوران دونوں رہنما کی الگ الگ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے جس میں یوکرین کی جنگ اور ایران سے متعلق جنگ پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ واشنگٹن روانگی سے قبل اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ ملاقات میں زیرِ غور تمام موضوعات پر بات چیت ہو گی، تاہم ایران اس ایجنڈے میں سرفہرست ہو گا۔

    نیتن یاہو کا یہ دورہ گزشتہ ہفتے اس وقت خبروں میں نمایاں رہا تھا جب نیویارک کے میئر کے امیدوار زہران ممدانی نے غزہ میں جنگ کو ’جنگی جرم‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ان کے پاس قانونی اختیار ہوا تو وہ نیتن یاہو کو بین الاقوامی فوجداری عدالت میں زیرِ التوا الزامات کے باعث نیویارک آمد پر ’گرفتار‘ کر سکتے ہیں۔

    تاہم اگلے روز اپنے اس بیان سے رجوع کرتے ہوئے تسلیم کیا تھا کہ نیویارک کے میئر کے طور پر ان کے عہدے کے پاس قانونی طور پر ایسی کارروائی کا اختیار نہیں ہو گا۔

    سابق ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے پیر کے روز ایک بیان میں نیتن یاہو کے واشنگٹن کے دورے کے بارے میں کہا تھا کہ اس کا مقصد ممکنہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے سے روکنا تھا۔

  12. اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خبروں کا سلسلہ جاری ہے تاہم بدھ کے روز آگے بڑھنے سے پہلے ہم آپ کے لیے گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ پیش کر رہے ہیں۔

    • پاکستان کی حکومت نے 28 جولائی کے لیے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں تین روپے 37 پیسے اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ان قیمتوں کا اطلاق صرف 28 جولائی کے لیے ہو گا۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ ’انتہائی سنجیدہ‘ مذاکرات کر رہا ہے لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ ’انتہائی سخت‘ فوجی کارروائی کا حکم دیں گے۔
    • سعودی عرب نے عراق سے داغے گئے کئی ڈرونز کو فضا میں ہی روک کر مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے جس کے بعد عراقی وزیرِ اعظم علی زیدی نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
    • پاکستان نے سعودی عرب میں ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز حملے پورے خطے میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
    • پاکستان کے زیرِ انتطام کشمیر کی کالعدم قرار دی گئی تنظیم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ راولا کوٹ میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے اُن کے پانچ کارکن ہلاک ہو گئے ہیں۔ تاہم پولیس نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ حالیہ جنگ کے اخراجات اور نقصانات کی تلافی کے لیے ’امریکی کنٹرول میں موجود‘ ایرانی رقم کا استعمال کریں گے۔
    • ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’اس وقت امریکی فریق کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔‘ انھوں نے ایران کی جانب سے مذاکرات کی درخواست سے متعلق خبروں کو بھی ’من گھڑت خبریں‘ قرار دیا۔
  13. عراقی وزیرِ اعظم کا سعودی عرب پر حملے کی تحقیقات کا حکم

    سعودی عرب کی جانب سے پیر کے روز عراق سے داغے گئے کئی ڈرونز کو فضا میں ہی روک کر مار گرانے کے اعلان کے بعد عراقی وزیرِ اعظم علی زیدی نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    پیر کی شام، عراقی وزیرِ اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ عراق اپنی سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

    اس سے قبل سعودی وزارتِ خارجہ نے عراقی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو سعودی عرب کے خلاف حملوں کے مرکز کے طور پر استعمال ہونے سے روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔

    سعودی وزارتِ دفاع نے اس سے قبل کہا تھا کہ ڈرون حملے کا ہدف مشرقی صوبے اور ریاض میں موجود تیل کی تنصیبات تھیں۔

    سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے اس ڈرون حملے کا ذمہ دار ’ایران کی حمایت یافتہ دہشت گرد ملیشیاؤں‘ کو قرار دیا تھا۔

  14. پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے فی لیٹر کمی، ڈیزل کی قیمت میں تین روپے 37 پیسے اضافہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی حکومت نے 28 جولائی کے لیے پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر ایک روپے کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں تین روپے 37 پیسے اضافہ کر دیا ہے۔

    پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق ان قیمتوں کا اطلاق صرف 28 جولائی کے لیے ہو گا۔

    قیمتوں میں ردوبدل ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی میں تعطل کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آ رہی ہے۔

  15. ہمارے پاس وافر گولہ بارود موجود ہے: امریکی صدر کی اسلحے میں کمی سے متعلق خدشات کی تردید

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ حالیہ جنگ کے اخراجات اور نقصانات کی تلافی کے لیے ’امریکی کنٹرول میں موجود‘ ایرانی رقم کا استعمال کریں گے۔

    ’ایئر فورس ون‘ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران پر تقریباً پانچ ماہ تک بمباری کے بعد ’امریکی گولہ بارود کی کمی سے متعلق خدشات‘ کو بھی مسترد کر دیا اور کہا: ’ہمارے پاس وافر مقدار میں گولہ بارود موجود ہے۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ ’ہمارے پاس ہر قسم کا بہت سا گولہ بارود موجود ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، بائیڈن نے اس کا ایک بڑا حصہ یوکرین کو دے دیا تھا اور اسی لیے ہم اب اپنے ذخائر کو دوبارہ بحال کر رہے ہیں۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اب بھی بہت سا گولہ بارود ہے، خاص طور پر روایتی اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا گولہ بارود۔ میرا مطلب ہے، اتنا زیادہ کہ ہم کسی بھی صورتحال میں اس کا پورا استعمال نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس واقعی بہت بڑے ذخائر موجود ہیں۔

  16. پاکستان کی سعودی عرب میں ڈرون حملے کی مذمت

    پاکستان نے سعودی عرب میں ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز حملے پورے خطے میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

    پاکستان نے خطے میں دیرپا امن، سلامتی اور استحکام کے حصول کی کوششوں کی حمایت کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔

    واضح رہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے کچھ گھنٹے قبل کہا تھا کہ اُنھوں نے ڈرون حملے کے ذریعے مشرقی سعودی عرب میں تیل کی پیداوار اور نقل و حمل کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    سیٹلائٹ تصاویر میں اب سعودی عرب میں واقع 'ابقیق' (Abqaiq) آئل تنصیب کے اوپر دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ ایران کے اتحادی حوثیوں کی جانب سے 'ابقیق' کی تنصیب پر حملے کی اطلاع ملی ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

  17. ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے تو ’انتہائی سخت‘ فوجی کارروائی کریں گے: صدر ٹرمپ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ ’انتہائی سنجیدہ‘ مذاکرات کر رہا ہے لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ ’انتہائی سخت‘ فوجی کارروائی کا حکم دیں گے۔

    امریکی ویب سائٹ ایگزیوس سے گفتگو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے ثالثی کرنے والے ممالک کی درخواست پر اور مذاکرات کو وقت دینے کی خاطر ایران پر حملے روکنے کا حکم دیا تھا۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم ایران کے ساتھ انتہائی سنجیدہ مذاکرات کر رہے ہیں۔ اگر بات نہ بنی تو ہم انتہائی شدید فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دیں گے۔‘

    انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ سفارت کاری کو کتنا وقت دینے کے لیے تیار ہیں؟ تو صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’بہت زیادہ نہیں۔ یا تو یہ کام جلد ہو جائے گا یا پھر بالکل نہیں ہوگا۔‘

    اُنھوں نے حملے رکنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی اور سٹاک کی قدر میں اضافے کی طرف بھی اشارہ کیا۔

    صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم کے دورہ واشنگٹن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نیتن یاہو سے اس بات پر بات کروں گا کہ اگر میں صدر نہ ہوتا تو اب تک ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا اور اسرائیل تباہ ہو چکا ہوتا۔‘

  18. جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا راولا کوٹ میں پانچ کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ، پولیس کا تصدیق سے گریز, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان کے زیرِ انتطام کشمیر کی کالعدم قرار دی گئی تنظیم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ راولا کوٹ میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے اُن کے پانچ کارکن ہلاک ہو گئے ہیں۔ تاہم پولیس نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔

    جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رُکن عابد شاہین نے بی بی سی سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ فائرنگ سے ایک درجن سے زاءد کارکن زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی ڈیڈ باڈیز راولا کوٹ کے علاقے دریک کے قریب قائم کیے گئے میڈیکل کیمپ میں رکھوا دی گئی ہیں۔

    عابد شاہین کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کور کمیٹی کے رکن عمر نذیر کشمیری کا قریبی عزیز بھی شامل ہے۔

    اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کی تنظیم کے کارکنوں پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ دریک کے مقام سے راولاکوٹ شہر اور پھر وہاں سے مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے جا رہے تھے۔

    دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے سربراہ کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک نے اس دعوے پر بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس وقت ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کر سکتے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ جب تک ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں کسی ریکارڈ پر نہ ا جائیں اور یا ان کو پوسٹمارٹم کے لیے ہسپتال نہ لایا جائے۔ وہ اس کی تصدیق نہیں کر سکتے۔

    اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ ماہ بھی ایکشن کمیٹی کے خلاف آپریشن کیا گیا تھا تو اُنھوں نے 400 کارکنان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جبکہ ریکارڈ پر پانچ ہلاکتیں سامنے ائی تھیں۔

    ’کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں نے زبردستی راولا کوٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی‘

    ڈپٹی انسپکٹر جنرل پونچھ ریجن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پیر کی شام کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں نے زبردستی راولا کوٹ شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اُنھیں منتشر ہونے کا کہا۔

    بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان ’شرپسند عناصر‘ نے منتشر ہونے کے بجائے زبردستی شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سوشل میڈیا ہینڈلز کی جانب سے حقائق کو مسخ کر کے من گھڑت ویڈیوز کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  19. ڈرون حملے کے بعد سعودی عرب کی ’ابقیق‘ ریفائنری کے اوپر دھوئیں کے بادل

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہCOPERNICUS SENTINEL-2/Reuters

    یمن کے حوثی جنگجوؤں نے کچھ گھنٹے قبل کہا تھا کہ اُنھوں نے ڈرون حملے کے ذریعے مشرقی سعودی عرب میں تیل کی پیداوار اور نقل و حمل کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    سیٹلائٹ تصاویر میں اب سعودی عرب میں واقع ’ابقیق‘ (Abqaiq) آئل تنصیب کے اوپر دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ ایران کے اتحادی حوثیوں کی جانب سے ’ابقیق‘ کی تنصیب پر حملے کی اطلاع ملی ہے۔

    ’ابقیق‘ خام تیل کو ’سٹیبلائز‘ کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی ریفائنریز میں سے ایک ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے خام تیل کو بڑے ٹینکوں میں ذخیرہ کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

    یہ ریفائنری بنیادی طور پر سعودی عرب کی ’مغرب-مشرق پائپ لائن‘ کے لیے تیل کو پروسیس کرتی ہے جس کی بدولت سعودی عرب آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر بحیرہ احمر اور نہرِ سوئز کے راستے اپنا تیل برآمد کر سکتا ہے۔

    سعودی وزارتِِ دفاع نے اپنی تنصیبات پر ہونے والے ان حملوں کا ذمہ دار ایران کے اتحادی عراقی ملیشیاؤں کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھا ہے۔

    ایران کی جانب سے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

  20. ایران نے عمان کی جنوبی راستہ کھلا رکھنے کی تجویز قبول نہیں کی: کاظم غریب‌ آبادی

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے قانونی و بین الاقوامی امور کے نائب کاظم غریب‌ آبادی نے تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد عمان میں مذاکرات ہوئے تھے۔

    ان کے مطابق مخالف فریق کا اصرار تھا کہ ایران اور عمان کے مذاکرات کے نتیجے تک جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھولا گیا جنوبی راستہ کھلا رکھا جائے، تاہم ایرانی وفد نے یہ تجویز مسترد کر دی۔

    غریب‌آبادی نے یہ بھی کہا کہ ایرانی وفد نے مذاکرات جاری رکھنے کے لیے ’کسی قسم کا اصرار یا درخواست‘ نہیں کی۔