آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, عباس عراقچی کا عمانی اور سعودی وزرائے خارجہ سے رابطہ، آبنائے ہرمز سمیت خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلیفون پر بات چیت میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ دوسری جانب امریکی صدر کی آج زیلنسکی اور نیتن یاہو کی ملاقات متوقع ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا عمانی اور سعودی وزرائے خارجہ سے رابطہ، آبنائے ہرمز سمیت خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان رابطوں میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، خطے میں کشیدگی میں کمی اور امن و امان کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    ایران اور سعودی عرب کے حکام کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سعودی عرب اور ایران کے اتحادی حوثی گروپ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔

    یاد رہے کہ حال ہی میں ایران اور عمان کے درمیان دو روزہ مذاکرات ہوئے تھے جن میں امریکی فوجی حملوں کے خاتمے کے بعد کی صورتحال پر بات ہوئی تھی۔

    فریقین کی جانب سے ان مذاکرات کو نتیجہ خیز قرار دیا تھا، تاہم ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے گزشتہ روز کہا کہ ایران نے مذاکرات کے دوران عمان کی ایک تجویز مسترد کر دی ہے۔

  2. اسرائیلی فوج کا اردن کی سرحد کے قریب ڈرون کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے اردن کی سرحد کے قریب ایک ڈرون کو مار گرایا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ابھی یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اسے کہاں سے بھیجا گیا تھا۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ ڈرون اسرائیلی فضائی حدود میں داخل نہیں ہوا تھا۔ اسے کہاں سے لانچ کیا گیا، اس کی تحقیقات جاری ہیں۔

    یاد رہے کہ اس ماہ کے آغاز میں ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اردن متعدد مرتبہ حملوں کی زد میں آ چکا ہے۔ اسرائیل نے اس تازہ تنازع میں براہ راست حصہ نہیں لیا ہے۔

  3. سپین اور فرانس میں ہیٹ ویو کا نیا انتباہ جاری، بوردو کے قریب جنگل کی آگ کا تیزی سے پھیلاؤ

    سپین اور فرانس میں ایک بار پھر ہیٹ ویوز کے الرٹس جاری کیے گئے ہیں اور اس دوران بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    سپین کے محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ شدید موسمی حالات کم از کم اتوار تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

    ادارے نے آگ لگنے کے شدید خطرات سے خبردار کیا ہے جبکہ فائر فائٹرز ملک کی تاریخ کی بعض بدترین آگ سے نمٹنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    فرانس کے جنوب مغربی علاقے ہیٹ ویو کے باعث ’ییلو الرٹ‘ پر ہیں جو بدھ کے روز اپنے عروج پر پہنچنے کا خدشہ ہے۔

    ادھر بوردو کے میئر نے کہا ہے کہ وہ ہر صورتِ حال سے نمٹنے کی ممکنہ تیاری کر رہے ہیں کیونکہ فرانس میں لگی جنگلات میں آگ اب وہاں کے جنوب مغربی ایک شہر سے 15 کلومیٹر (نو میل) کے فاصلے پر پہنچ چکی ہے۔

    میڈرڈ کے مغرب میں آگ بے قابو ہو کر پھیلنے کے باعث فرانس میں تقریباً 2 لاکھ 20 ہزار افراد اور سپین میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

    صدر ایمانوئل میخواں نے فرانس کے آگ سے متاثرہ علاقے کے دورے کے دوران کہا کہ ملک کوانتہائی خطرناک جنگلات میں لگی آگ کا سامنا ہے جو ان کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے مشکل ہے۔

  4. امریکی صدر سے آج زیلنسکی اور نیتن یاہو کی ملاقات ہوگی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل کو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی میزبانی کریں گے۔ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور یوکرین کے درمیان جنگیں ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ان دونوں رہنماؤں کے ساتھ تعلقات بھی مختلف راستے اختیار کر رہے ہیں۔

    کہا جاتا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی توجہ یوکرین کی طرف مبذول کرائی گئی تھی جب وہ ملک روسی افواج کی پیش قدمی کو روکنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

    اس کے برعکس نیتن یاہو ایک ایسے وقت میں واشنگٹن جا رہے ہیں جب وائٹ ہاؤس نے ایران کے ساتھ تنازع کے خاتمے کے لیے وسیع معاہدے تک پہنچنے میں پیش رفت نہ ہونے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

    یاد رہے کہ منگل کے روز طویل عرصے تک ریپبلکن سینیٹر رہنے والے لنڈسے گراہم کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے علاوہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی واشنگٹن کا سفر کیا ہے۔ لنڈسے گراہم ایک سخت گیر ریپبلکن سینیٹر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے بارہا ٹرمپ کو یوکرین میں جنگ کی حمایت کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی تھی۔

    یوکرین کی جنگ اور مشرق وسطیٰ میں وسیع تر تنازع دونوں ایک نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔ ایران کی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد، ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کے لیے امریکی فضائی حملے روک رہے ہیں۔

  5. علمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی، برینٹ خام تیل کی قیمت 86.89 ڈالر فی بیرل ہو گئی

    امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر مذاکرات کی امیدوں کے باعث منگل کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری رہا ہے اور فی بیرل قیمت ایک ڈالر سے زیادہ گر گئی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل قیمت میں کمی کے بعد 86.89 ڈالر فی بیرل رہا جو 20 جولائی کے بعد کم ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔

    یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتیں ایک موقع پر 100 ڈالر تک پہنچ گئی تھیں کیونکہ دونوں جانب سے فوجی کارروائیوں اور دھمکیوں میں شدت آ گئی تھی۔

    تاہم منگل کے روز عالمی منڈی میں یہ نمایاں کمی امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیوں میں عارضی وقفے کے بعد سامنے آئی جس سے سپلائی سے متعلق خدشات میں کمی آتی دکھائی دے رہی ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ ایرانی حکومت کی درخواست پر ایران کے خلاف حملے روک دیے گئے ہیں۔ تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اگر نئی جنگ بندی پر اتفاق نہ ہوا تو امریکہ دوبارہ کارروائی شروع کر سکتا ہے۔

  6. اگر امریکہ نے بحری ناکہ بندی دہرائی تو تہران اسے ’جنگ میں توسیع‘ سمجھے گا: خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹرز

    ایران کی اعلیٰ فوجی کمان خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دہرائی تو تہران اسے ’جنگ میں توسیع‘ تصور کرے گا۔

    ایران کے جنگی انتظام میں اہم کردار ادا کرنے والی کمانڈ نے پیر کی شب ایک نیا بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’گزشتہ تین دنوں کے دوران امریکہ نے ہمارے ملک کے ساحلی اور علاقائی پانیوں میں ایرانی بحری جہازوں، تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کو دھمکیاں دی ہیں۔ ہم خبردار کرتے ہیں کہ اس اقدام کو خطے میں جنگ کے دائرے میں توسیع سمجھا جائے گا۔‘

    بیان کے مطابق ’ایران کی مسلح افواج نے عملی میدان میں ثابت کیا ہےکہ وہ اس ملک کے خلاف کسی بھی دھمکی یا دہشت گردانہ اقدام کا فیصلہ کن جواب دیں گی اور کسی بھی ملک کی دہشت گرد فوج کو بھی بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘

  7. عراقی گروہ ’آئی آر آئی‘ کی ابقیق کی تیل تنصیب پر حملے سے متعلق سعودی عرب کے دعووں کی تردید

    ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں پر مشتمل عراقی گروہ ’آئی آر آئی‘ (عراقی اسلامی مزاحمت) نے عراقی سرزمین سے سعودی عرب پر ڈرون حملوں کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔

    آئی آر آئی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے ابقیق کی تیل تنصیب پر حملے سے متعلق سعودی وزارتِ دفاع کے دعووں کی تردید کی ہے۔

    یاد رہے کہ یمن کے حوثی جنگجوؤں نے کچھ گھنٹے قبل کہا تھا کہ اُنھوں نے ڈرون حملے کے ذریعے مشرقی سعودی عرب میں تیل کی پیداوار اور نقل و حمل کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    سعودی وزارتِِ دفاع نے اپنی تنصیبات پر ہونے والے ان حملوں کا ذمہ دار ایران کے اتحادی عراقی ملیشیاؤں کو ٹھہراتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھا ہے۔

    سعودی وزارتِ دفاع کا دعویٰ ہے کہ اس نے عراق کی سمت سے داغے گئے متعدد ڈرونز کو راستے میں ہی روک کر تباہ کر دیا۔

    سیٹلائٹ تصاویر میں سعودی عرب میں واقع ’ابقیق‘ (Abqaiq) آئل تنصیب کے اوپر دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔

    ان الزامات کے جواب میں عراقی گروہ نے اپنے بیان میں سعودی عرب کو کسی بھی قسم کی جوابی کارروائی کے خلاف خبردار کیا اور کہا کہ یمن کے حوثیوں کے حملے یمن پر سعودی ناکہ بندی کا نتیجہ ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان نے سعودی عرب میں ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اشتعال انگیز حملے پورے خطے میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

  8. نیتن یاہو واشنگٹن پہنچ گئے، ٹرمپ سے ملاقات میں ایران جنگ پر تبادلہ خیال متوقع

    اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو واشنگٹن پہنچ گئے ہیں جہاں ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات بھی متوقع ہے۔

    یاد رہے کہ منگل کے روز طویل عرصے تک ریپبلکن سینیٹر رہنے والے لنڈسے گراہم کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے علاوہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی بھی واشنگٹن آمد متوقع ہے۔

    اس دوران دونوں رہنما کی الگ الگ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے جس میں یوکرین کی جنگ اور ایران سے متعلق جنگ پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ واشنگٹن روانگی سے قبل اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ ملاقات میں زیرِ غور تمام موضوعات پر بات چیت ہو گی، تاہم ایران اس ایجنڈے میں سرفہرست ہو گا۔

    نیتن یاہو کا یہ دورہ گزشتہ ہفتے اس وقت خبروں میں نمایاں رہا تھا جب نیویارک کے میئر کے امیدوار زہران ممدانی نے غزہ میں جنگ کو ’جنگی جرم‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ان کے پاس قانونی اختیار ہوا تو وہ نیتن یاہو کو بین الاقوامی فوجداری عدالت میں زیرِ التوا الزامات کے باعث نیویارک آمد پر ’گرفتار‘ کر سکتے ہیں۔

    تاہم اگلے روز اپنے اس بیان سے رجوع کرتے ہوئے تسلیم کیا تھا کہ نیویارک کے میئر کے طور پر ان کے عہدے کے پاس قانونی طور پر ایسی کارروائی کا اختیار نہیں ہو گا۔

    سابق ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے پیر کے روز ایک بیان میں نیتن یاہو کے واشنگٹن کے دورے کے بارے میں کہا تھا کہ اس کا مقصد ممکنہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے سے روکنا تھا۔

  9. اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خبروں کا سلسلہ جاری ہے تاہم بدھ کے روز آگے بڑھنے سے پہلے ہم آپ کے لیے گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ پیش کر رہے ہیں۔

    • پاکستان کی حکومت نے 28 جولائی کے لیے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں تین روپے 37 پیسے اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ان قیمتوں کا اطلاق صرف 28 جولائی کے لیے ہو گا۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ ’انتہائی سنجیدہ‘ مذاکرات کر رہا ہے لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ ’انتہائی سخت‘ فوجی کارروائی کا حکم دیں گے۔
    • سعودی عرب نے عراق سے داغے گئے کئی ڈرونز کو فضا میں ہی روک کر مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے جس کے بعد عراقی وزیرِ اعظم علی زیدی نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
    • پاکستان نے سعودی عرب میں ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز حملے پورے خطے میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
    • پاکستان کے زیرِ انتطام کشمیر کی کالعدم قرار دی گئی تنظیم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ راولا کوٹ میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے اُن کے پانچ کارکن ہلاک ہو گئے ہیں۔ تاہم پولیس نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ حالیہ جنگ کے اخراجات اور نقصانات کی تلافی کے لیے ’امریکی کنٹرول میں موجود‘ ایرانی رقم کا استعمال کریں گے۔
    • ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’اس وقت امریکی فریق کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔‘ انھوں نے ایران کی جانب سے مذاکرات کی درخواست سے متعلق خبروں کو بھی ’من گھڑت خبریں‘ قرار دیا۔
  10. عراقی وزیرِ اعظم کا سعودی عرب پر حملے کی تحقیقات کا حکم

    سعودی عرب کی جانب سے پیر کے روز عراق سے داغے گئے کئی ڈرونز کو فضا میں ہی روک کر مار گرانے کے اعلان کے بعد عراقی وزیرِ اعظم علی زیدی نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    پیر کی شام، عراقی وزیرِ اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ عراق اپنی سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

    اس سے قبل سعودی وزارتِ خارجہ نے عراقی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو سعودی عرب کے خلاف حملوں کے مرکز کے طور پر استعمال ہونے سے روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔

    سعودی وزارتِ دفاع نے اس سے قبل کہا تھا کہ ڈرون حملے کا ہدف مشرقی صوبے اور ریاض میں موجود تیل کی تنصیبات تھیں۔

    سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے اس ڈرون حملے کا ذمہ دار ’ایران کی حمایت یافتہ دہشت گرد ملیشیاؤں‘ کو قرار دیا تھا۔

  11. پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے فی لیٹر کمی، ڈیزل کی قیمت میں تین روپے 37 پیسے اضافہ

    پاکستان کی حکومت نے 28 جولائی کے لیے پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر ایک روپے کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں تین روپے 37 پیسے اضافہ کر دیا ہے۔

    پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق ان قیمتوں کا اطلاق صرف 28 جولائی کے لیے ہو گا۔

    قیمتوں میں ردوبدل ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی میں تعطل کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آ رہی ہے۔

  12. ہمارے پاس وافر گولہ بارود موجود ہے: امریکی صدر کی اسلحے میں کمی سے متعلق خدشات کی تردید

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ حالیہ جنگ کے اخراجات اور نقصانات کی تلافی کے لیے ’امریکی کنٹرول میں موجود‘ ایرانی رقم کا استعمال کریں گے۔

    ’ایئر فورس ون‘ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران پر تقریباً پانچ ماہ تک بمباری کے بعد ’امریکی گولہ بارود کی کمی سے متعلق خدشات‘ کو بھی مسترد کر دیا اور کہا: ’ہمارے پاس وافر مقدار میں گولہ بارود موجود ہے۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ ’ہمارے پاس ہر قسم کا بہت سا گولہ بارود موجود ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، بائیڈن نے اس کا ایک بڑا حصہ یوکرین کو دے دیا تھا اور اسی لیے ہم اب اپنے ذخائر کو دوبارہ بحال کر رہے ہیں۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اب بھی بہت سا گولہ بارود ہے، خاص طور پر روایتی اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا گولہ بارود۔ میرا مطلب ہے، اتنا زیادہ کہ ہم کسی بھی صورتحال میں اس کا پورا استعمال نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس واقعی بہت بڑے ذخائر موجود ہیں۔

  13. پاکستان کی سعودی عرب میں ڈرون حملے کی مذمت

    پاکستان نے سعودی عرب میں ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز حملے پورے خطے میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

    پاکستان نے خطے میں دیرپا امن، سلامتی اور استحکام کے حصول کی کوششوں کی حمایت کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔

    واضح رہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے کچھ گھنٹے قبل کہا تھا کہ اُنھوں نے ڈرون حملے کے ذریعے مشرقی سعودی عرب میں تیل کی پیداوار اور نقل و حمل کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    سیٹلائٹ تصاویر میں اب سعودی عرب میں واقع 'ابقیق' (Abqaiq) آئل تنصیب کے اوپر دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ ایران کے اتحادی حوثیوں کی جانب سے 'ابقیق' کی تنصیب پر حملے کی اطلاع ملی ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

  14. ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے تو ’انتہائی سخت‘ فوجی کارروائی کریں گے: صدر ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ ’انتہائی سنجیدہ‘ مذاکرات کر رہا ہے لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ ’انتہائی سخت‘ فوجی کارروائی کا حکم دیں گے۔

    امریکی ویب سائٹ ایگزیوس سے گفتگو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے ثالثی کرنے والے ممالک کی درخواست پر اور مذاکرات کو وقت دینے کی خاطر ایران پر حملے روکنے کا حکم دیا تھا۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم ایران کے ساتھ انتہائی سنجیدہ مذاکرات کر رہے ہیں۔ اگر بات نہ بنی تو ہم انتہائی شدید فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دیں گے۔‘

    انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ سفارت کاری کو کتنا وقت دینے کے لیے تیار ہیں؟ تو صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’بہت زیادہ نہیں۔ یا تو یہ کام جلد ہو جائے گا یا پھر بالکل نہیں ہوگا۔‘

    اُنھوں نے حملے رکنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی اور سٹاک کی قدر میں اضافے کی طرف بھی اشارہ کیا۔

    صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم کے دورہ واشنگٹن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نیتن یاہو سے اس بات پر بات کروں گا کہ اگر میں صدر نہ ہوتا تو اب تک ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا اور اسرائیل تباہ ہو چکا ہوتا۔‘

  15. جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا راولا کوٹ میں پانچ کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ، پولیس کا تصدیق سے گریز, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان کے زیرِ انتطام کشمیر کی کالعدم قرار دی گئی تنظیم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ راولا کوٹ میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے اُن کے پانچ کارکن ہلاک ہو گئے ہیں۔ تاہم پولیس نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔

    جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رُکن عابد شاہین نے بی بی سی سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ فائرنگ سے ایک درجن سے زاءد کارکن زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی ڈیڈ باڈیز راولا کوٹ کے علاقے دریک کے قریب قائم کیے گئے میڈیکل کیمپ میں رکھوا دی گئی ہیں۔

    عابد شاہین کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کور کمیٹی کے رکن عمر نذیر کشمیری کا قریبی عزیز بھی شامل ہے۔

    اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کی تنظیم کے کارکنوں پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ دریک کے مقام سے راولاکوٹ شہر اور پھر وہاں سے مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے جا رہے تھے۔

    دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے سربراہ کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک نے اس دعوے پر بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس وقت ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کر سکتے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ جب تک ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں کسی ریکارڈ پر نہ ا جائیں اور یا ان کو پوسٹمارٹم کے لیے ہسپتال نہ لایا جائے۔ وہ اس کی تصدیق نہیں کر سکتے۔

    اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ ماہ بھی ایکشن کمیٹی کے خلاف آپریشن کیا گیا تھا تو اُنھوں نے 400 کارکنان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جبکہ ریکارڈ پر پانچ ہلاکتیں سامنے ائی تھیں۔

    ’کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں نے زبردستی راولا کوٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی‘

    ڈپٹی انسپکٹر جنرل پونچھ ریجن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پیر کی شام کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں نے زبردستی راولا کوٹ شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اُنھیں منتشر ہونے کا کہا۔

    بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان ’شرپسند عناصر‘ نے منتشر ہونے کے بجائے زبردستی شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سوشل میڈیا ہینڈلز کی جانب سے حقائق کو مسخ کر کے من گھڑت ویڈیوز کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  16. ڈرون حملے کے بعد سعودی عرب کی ’ابقیق‘ ریفائنری کے اوپر دھوئیں کے بادل

    یمن کے حوثی جنگجوؤں نے کچھ گھنٹے قبل کہا تھا کہ اُنھوں نے ڈرون حملے کے ذریعے مشرقی سعودی عرب میں تیل کی پیداوار اور نقل و حمل کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    سیٹلائٹ تصاویر میں اب سعودی عرب میں واقع ’ابقیق‘ (Abqaiq) آئل تنصیب کے اوپر دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ ایران کے اتحادی حوثیوں کی جانب سے ’ابقیق‘ کی تنصیب پر حملے کی اطلاع ملی ہے۔

    ’ابقیق‘ خام تیل کو ’سٹیبلائز‘ کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی ریفائنریز میں سے ایک ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے خام تیل کو بڑے ٹینکوں میں ذخیرہ کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

    یہ ریفائنری بنیادی طور پر سعودی عرب کی ’مغرب-مشرق پائپ لائن‘ کے لیے تیل کو پروسیس کرتی ہے جس کی بدولت سعودی عرب آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر بحیرہ احمر اور نہرِ سوئز کے راستے اپنا تیل برآمد کر سکتا ہے۔

    سعودی وزارتِِ دفاع نے اپنی تنصیبات پر ہونے والے ان حملوں کا ذمہ دار ایران کے اتحادی عراقی ملیشیاؤں کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھا ہے۔

    ایران کی جانب سے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

  17. ایران نے عمان کی جنوبی راستہ کھلا رکھنے کی تجویز قبول نہیں کی: کاظم غریب‌ آبادی

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے قانونی و بین الاقوامی امور کے نائب کاظم غریب‌ آبادی نے تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد عمان میں مذاکرات ہوئے تھے۔

    ان کے مطابق مخالف فریق کا اصرار تھا کہ ایران اور عمان کے مذاکرات کے نتیجے تک جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھولا گیا جنوبی راستہ کھلا رکھا جائے، تاہم ایرانی وفد نے یہ تجویز مسترد کر دی۔

    غریب‌آبادی نے یہ بھی کہا کہ ایرانی وفد نے مذاکرات جاری رکھنے کے لیے ’کسی قسم کا اصرار یا درخواست‘ نہیں کی۔

  18. سعودی وزارتِ دفاع کا ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیا کے داغے گئے ڈرونز کو تباہ کرنے کا دعویٰ

    سعودی وزارتِ دفاع کا دعویٰ ہے کہ اس نے عراق کی سمت سے داغے گئے متعدد ڈرونز کو راستے میں ہی روک کر تباہ کر دیا۔

    سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان جنرل ترکی المالکی کے مطابق اس ڈرون حملے کا ہدف مشرقی صوبے اور ریاض میں واقع تیل کی تنصیبات تھیں۔

    وزارتِ دفاع کے ترجمان نے اس حملے کا الزام ’ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا‘ کو قرار دیا۔

    جنرل ترکی المالکی نے خبردار کیا کہ سعودی عرب اپنے دفاع اور مناسب وقت و مقام پر جواب دینے کے ’جائز حق‘ کو محفوظ رکھتا ہے۔

  19. نیتن یاہو، ٹرمپ سے ملاقات کے لیے روانہ، ایران ایجنڈے میں سرفہرست ہو گا: اسرائیلی وزیرِاعظم

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے روانہ ہو رہے ہیں، جو صدر ٹرمپ کے دوسری مدتِ صدارت کے لیے منتخب ہونے کے بعد ان کے درمیان آٹھویں ملاقات ہو گی۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ یہ کسی بھی دوسرے بین الاقوامی رہنما کے مقابلے میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کی سب سے زیادہ ملاقاتیں ہیں۔ انھوں نے اسے اپنے لیے ’اعزاز‘ اور ’بڑی ذمہ داری‘ قرار دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ملاقات میں زیرِ غور تمام موضوعات پر بات چیت ہو گی، تاہم ایران اس ایجنڈے میں سرفہرست ہو گا۔

    نیتن یاہو کے مطابق، ’ہمارا مقصد واضح ہے: اسرائیل کی سلامتی کا تحفظ، اس کی طاقت کو مضبوط بنانا اور اپنے اردگرد امن کے دائرے کو وسیع کرنا۔‘

    اسرائیلی وزیرِاعظم نے کہا کہ وہ اسرائیل کی سلامتی، قوت اور مستقبل کو یقینی بنانے کے عزم کے تحت اس مشن پر روانہ ہو رہے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اپنے دورے کے دوران وہ اپنے اور ریاستِ اسرائیل کے ’حقیقی دوست‘ سینیٹر گراہم کو بھی خراجِ عقیدت پیش کریں گے، جنھیں انھوں نے ’اسرائیل کے عظیم ترین دوستوں میں سے ایک‘ قرار دیا۔

    نیتن یاہو نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ اس طرح وہ تمام اسرائیلی شہریوں کے جذبات کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

  20. اسماعیل بقائی: اس وقت امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج اپنی پریس کانفرنس میں کہا: ’اس وقت امریکی فریق کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔‘

    انھوں نے ایران کی جانب سے مذاکرات کی درخواست سے متعلق خبروں کو بھی ’من گھڑت خبریں‘ قرار دیا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا: ’ایسے وقت میں جب امریکہ ایران کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات اور جارحیت میں مصروف ہے، ہماری توجہ دفاع پر مرکوز ہے۔ ممکن ہے کہ ثالث موجودہ علاقائی پیش رفت کے بارے میں امریکی فریق کے پیغامات ہمیں پہنچائیں۔‘

    امریکی حملوں کے خاتمے کے بارے میں انھوں نے کہا: ’ایران امریکہ کو یہ اجازت نہیں دے گا کہ وہ جنگ اور امن کے اوقات کا تعین کرے۔‘

    بقائی نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال کو ’جنگ بندی‘ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    ان کے مطابق، ’گذشتہ چند روز کے دوران فضا نسبتاً پُرسکون رہی ہے، جو ایرانی مسلح افواج کی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے، اور امریکہ کی جانب سے کی جانے والی ہر کارروائی کا ہم دوٹوک جواب دیں گے۔‘

    اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس کے ایک اور حصے میں کہا کہ ’آبنائے ہرمز بدستور بند ہے۔‘

    بقائی نے بحیرۂ خزر میں ایک جہاز پر یوکرین کے حملے کو ’غیر قانونی‘ اور ’بلاجواز‘ مہم جوئی قرار دیا اور ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ ’اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔‘