آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران نے وعدے پورے نہ کیے تو ٹرمپ کے پاس کئی آپشنز ہیں: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی امیر کویت سے ملاقات کے بعد گفتگو

کویت سٹی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اگر ایران اپنے وعدے پورے نہیں کرتا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں، جن میں پابندیوں کی بحالی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران واضح وعدے کیے تھے اور صدر ٹرمپ نے بھی واضح کر دیا ہے کہ ان وعدوں کی پاسداری ضروری ہے۔

خلاصہ

  • امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ دوحہ میں ایران کے منجمد فنڈز کی نگرانی کے لیے ایک ادارہ قائم کیا جائے گا
  • ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرانی نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں مذاکرات اگلے ہفتے شاید منگل کو دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو کوئی رقم ادا نہیں کی گئی اور نہ ہی ایران کے اپنے فنڈز میں سے کوئی رقم جاری کی گئی ہے۔
  • لبنان میں جنگ کا خاتمہ ایران میں جنگ کے خاتمے جتنا اہم ہے: باقر قالیباف

لائیو کوریج

  1. ایران نے وعدے پورے نہ کیے تو ٹرمپ کے پاس کئی آپشنز ہیں: مارکو روبیو

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے 60 روزہ پابندیوں میں نرمی ایک عارضی اقدام ہے اور واشنگٹن کو توقع ہے کہ تہران معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل کرے گا۔

    کویت سٹی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ اگر ایران اپنے وعدے پورے نہیں کرتا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں، جن میں پابندیوں کی بحالی بھی شامل ہو سکتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ایسا ضرور ہوگا، لیکن صدر کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ پابندیاں واپس بحال کر دی جائیں۔‘

    مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران واضح وعدے کیے تھے اور صدر ٹرمپ نے بھی واضح کر دیا ہے کہ ان وعدوں کی پاسداری ضروری ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اگر ایران اپنے وعدے پورے کرتا ہے تو پیش رفت جاری رہے گی، بصورت دیگر امریکہ کے پاس صورتحال سے نمٹنے کے لیے دیگر راستے موجود ہیں۔

  2. بلوچستان میں اغوا ہونے والے ترک شہری دو ماہ بعد بازیاب، واپس وطن روانہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع چاغی میں دو ماہ قبل اغوا کیے جانے والے ترکی کے ایک شہری کو بازیاب کرا لیا گیا ہے اور وہ اپنے وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔

    بلوچستان کے ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ غیر ملکی شہری کو چند روز قبل ضلع مستونگ کے علاقے سے بازیاب کرایا گیا تھا۔

    اہلکار کے مطابق ترک شہری کو اپریل میں ضلع چاغی کے علاقے داریگوان میں ایک نجی معدنی منصوبے پر حملے کے دوران اغوا کیا گیا تھا۔ اس حملے میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک ڈرلنگ سائٹ کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں ترکی سے تعلق رکھنے والے ایک ڈرلر سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ حملہ آوروں نے منصوبے کی مشینری کو بھی نقصان پہنچایا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اسی واقعے کے دوران مسلح افراد نے ترکیہ سے تعلق رکھنے والے ایک اور ڈرلر، صالح گل جمال، کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

    سینیئر سرکاری اہلکار کے مطابق مغوی شہری کو مستونگ کے علاقے کردگاپ سے بازیاب کرایا گیا۔ تاہم بعض اطلاعات کے مطابق اغوا کاروں نے اسے اسی علاقے میں چھوڑ دیا تھا، جہاں سے مقامی حکام نے اسے تحویل میں لے کر کوئٹہ منتقل کیا۔

    ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ترک شہری کی بازیابی کسی تاوان کی ادائیگی کے نتیجے میں عمل میں آئی یا اغوا کاروں نے انھیں بغیر کسی شرط کے چھوڑ دیا۔

    کوئٹہ میں پولیس حکام نے بازیاب ہونے والے شہری کا بیان ریکارڈ کیا ہے۔ ایک اہلکار کے مطابق اغوا کے بعد انھیں مختلف پہاڑی علاقوں میں رکھا گیا تھا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ بازیابی کے وقت ترک شہری کی طبیعت تسلی بخش تھی۔ وہ پہلے ترکی میں ڈرلنگ کے شعبے سے وابستہ تھے تاہم بہتر معاوضے کی پیشکش پر پاکستان میں کام کرنے آئے تھے۔

    سرکاری اہلکار کے مطابق بعد ازاں انھیں کوئٹہ سے کراچی منتقل کیا گیا، جہاں سے وہ اپنے وطن ترکی واپس روانہ ہو گئے۔

  3. کویت میں امریکی سفارتخانہ دوبارہ فعال، وزیر خارجہ مارکو روبیو کی کویت کے امیر سے ملاقات

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح سے ملاقات کی ہے جس میں علاقائی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ خلیج فارس میں اپنے قریبی اتحادیوں کو یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہے، جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ مفاہمت اور حالیہ کشیدگی سے متاثر ہوئے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق بعض خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ سمجھوتے میں اس کے میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے حمایت یافتہ گروپوں، پراکسیز، سے متعلق ان کے تحفظات کو مکمل طور پر شامل نہیں کیا جا رہا۔

    کویت کے امیر سے ملاقات سے قبل مارکو روبیو نے کویت میں امریکی سفارت خانے کی عمارت میں پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کی، جو جنگ کے دوران بند کر دی گئی تھی اور اب دوبارہ کھولی جا رہی ہے۔

    ملاقات کے بعد مارکو روبیو نے کہا کہ ’کویت علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک اہم اور ناگزیر شراکت دار ہے‘ اور امریکہ کویت کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔

    مارکو روبیو کے دورے کا اگلا پڑاؤ بحرین ہوگا، جہاں وہ مزید علاقائی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔

    دوسری جانب، ایران نے حالیہ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے تھے، جن کے بارے میں تہران کا کہنا تھا کہ یہ اڈے اس کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔

    کویت کے امیر سے ملاقات کے بعد مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ ایران کے حوالے سے خلیج فارس میں اس کے اتحادیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والا کوئی کام نہیں کرے گا۔

    امریکی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو ٹریفک کے لیے کھلا اور آزاد ہونا چاہیے۔

    امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ماہرانہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان اہم ثالث پاکستان نے آج کہا کہ یہ ملاقاتیں اگلے ہفتے، ’شاید منگل سے‘ جاری رہیں گی۔

  4. امریکہ نے اسرائیلی فوج کو جنوبی لبنان سے واپس بلانے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا: وزیر دفاع اسرائیل کاٹز

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اسرائیلی فوج کو جنوبی لبنان سے واپس بلانے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا۔

    اُدھر لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج نے قصبہ یاتر کے نواحی علاقوں کو توپ خانے کے گولوں سے نشانہ بنایا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں 60 روزہ جنگ بندی کے لیے لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔

    تل ابیب میں ایک انٹرویو میں اسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ ’ہم پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ ہم کسی بھی صورت میں پیچھے نہیں ہٹیں گے، اور اس وقت تک، اور یہ ایک سفارتی کامیابی ہے، امریکہ کی طرف سے اسرائیل کو لبنان سے نکلنے کے لیے کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر مستقبل میں امریکہ کی جانب سے ایسا کوئی مطالبہ کیا جاتا ہے تو کیا اسرائیلی فوج اس پر عمل کرے گی، تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو جبکہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ بات واضح کر دی ہے کہ ’ہم وہاں شمالی علاقوں کے رہائشیوں کے تحفظ کے لیے موجود ہیں۔‘

  5. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تحریک انصاف کو انتخابات میں حصہ لینے کی عبوری اجازت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مظفرآباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کشمیر کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔

    ’آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ‘ نے ’پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر‘ کی رجسٹریشن سے متعلق کیس میں عبوری حکم جاری کرتے ہوئے پارٹی کو آئندہ عام انتخابات 2026 میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔

    عدالتِ عالیہ میں زیرِ سماعت آئینی درخواست میں پی ٹی آئی ’آزاد کشمیر‘ نے الیکشن کمیشن کے 16 مئی 2026 کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں پارٹی کی رجسٹریشن سے انکار کیا گیا تھا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ فیصلہ غیر قانونی، غیر آئینی اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔

    جسٹس سید شاہد بہار کی سربراہی میں عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد عبوری حکم جاری کیا، جس کے مطابق ’پی ٹی آئی آزاد کشمیر‘ کو عام انتخابات 2026 میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ حکم عارضی نوعیت کا ہے اور اس کا انحصار مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے پر ہوگا۔

    عدالت نے مزید سماعت کے لیے کیس 2 جولائی 2026 تک ملتوی کر دیا ہے، جہاں فریقین کے تفصیلی دلائل سنے جائیں گے۔

    عدالت کے تحریری حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے، رجسٹریشن سے متعلق قانونی تقاضوں اور آڈٹ سمیت دیگر نکات کا مکمل جائزہ آئندہ سماعت میں لیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پارٹی نے ’آزاد کشمیر الیکشن ایکٹ 2020‘ کے تحت تمام قانونی تقاضے پورے کر لیے ہیں اور آڈٹ کی تکمیل رجسٹریشن کے لیے لازمی شرط نہیں ہے۔

  6. جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملہ، دو افراد ہلاک

    جنوبی لبنان میں ایک کار پر اسرائیلی ڈرون حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس کارروائی کو حزب اللہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    لبنان کے سرکاری میڈیا کے مطابق گاڑی کو نشانہ بنانے والا یہ حملہ جنوبی شہر نبطیہ کے قریب کیا گیا۔

    بی بی سی عربی کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے دو ایسے افراد کو نشانہ بنایا جو اس کے بقول ’حزب اللہ کے مسلح ارکان‘ تھے۔

    اسرائیلی فوج کے دعوے کے مطابق یہ افراد اس کی افواج کے لیے خطرہ تھے۔ اسرائیلی فوج نے واضح کیا کہ وہ اپنے لیے درپیش خطرات کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی۔

    حزب اللہ نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں شامل ایران کے ایک اہم رہنما محمد باقر قالیباف حالیہ بیان میں واضح کر چکے ہیں کہ ’لبنان میں جنگ کا خاتمہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ایران میں جاری کشیدگی کا خاتمہ۔‘

  7. خلیج میں پھنسے 11 ہزار ملاحوں کے انخلا کی تیاری: انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن

    اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث خلیج میں جو 11 ہزار سے زائد ملاح پھنس گئے تھے، اب ان کے انخلا کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔

    آئی ایم او کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز کے مطابق یہ ایک ’بڑے پیمانے کا آپریشن‘ ہوگا جس میں ایران، عمان، امریکہ اور خطے کے دیگر ساحلی ممالک کے ساتھ ساتھ سمندری شعبے کا تعاون شامل ہوگا۔

    انھوں نے کہا کہ انخلا کے عمل کے لیے ضروری حفاظتی ضمانتیں حاصل کر لی گئی ہیں اور محفوظ بحری نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے حالات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔

    آئی ایم او کے مطابق ملاحوں کا انخلا آبنائے ہرمز کے کھلے رہنے سے مشروط ہے جو خطے میں تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔

    ادارے کے مطابق یہ اقدام بحری سلامتی کی بحالی اور سویلین جہاز رانی پر حملوں کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

  8. امریکی وزیر خزانہ کا ایرانی فنڈز کی نگرانی کے لیے قطر میں ادارہ قائم کرنے کا اعلان

    امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک ایسا ادارہ قائم کیا جائے گا جو ایران کے منجمد فنڈز کی نگرانی کرسکے گا۔

    امریکی وزیر خزانہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کا ایک ’بڑا حصہ‘ خوراک اور ادویات کی(خصوصاً امریکہ سے) خریداری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    سکاٹ بیسنٹ نے امریکی ٹی وی چینل سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ ان فنڈز کی نگرانی کے لیے امریکی محکمہ خزانہ دوحہ میں اپنا ایک آپریشنل سیل قائم کرے گا۔

    دوسری جانب بی بی سی فارسی کے مطابق ایران نے امریکہ سے زرعی اور دواسازی کی مصنوعات خریدنے کے دعووں کی تردید کی ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ خود طے کریں گے کہ یہ فنڈز کہاں خرچ کیے جائیں گے۔

    یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے کچھ فنڈز کو امریکہ کے کسانوں سے مکئی، گندم، سویابین اور دیگر زرعی مصنوعات خریدنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    ان کے مطابق ایران میں خوراک کی شدید قلت ہے اور یہ اشیا امریکہ سے فراہم کی جائیں گی۔

  9. سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی پیش رفت ایران کی مخلصانہ کوششوں کے بغیر ناممکن تھی: محسن نقوی

    پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ’سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی پیش رفت ایران کی قیادت کی مخلصانہ کوششوں کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ پاکستان ہمیشہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام کا حامی رہا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔‘

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے یہ بات ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی نے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران کہی ۔ اس ملاقات میں پاکستان ایران تعلقات اور امن معاہدے کے بعد خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    ایرانی وزیرِ داخلہ نے ایرانی صدر اور ان کے وفد کے دورۂ پاکستان کے دوران پرتپاک استقبال پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں کشیدگی میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ نے سکیورٹی تعاون، انسدادِ دہشت گردی، سائبر سکیورٹی، امیگریشن اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

    ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے کہا کہ وہ جلد پاکستان کا تفصیلی دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ انھوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کے کردار اور پاکستانی عوام کے تعاون کو بھی سراہا۔

  10. شہباز شریف سے قطر کے امیر کی ٹیلیفونک گفتگو، امن کوششوں کے لیے پاکستان کی حمایت کا اظہار

    وزیراعظم شہباز شریف اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے ٹیلیفونک گفتگو میں اتفاق کیا ہے کہ مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچانے کی کوششوں سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

    وزیر اعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق امیرِ قطر نے وزیراعظم کو پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں پر مبارکباد دی جن کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط ہوئے۔

    اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے امیرِ قطر کا امن کی کوششوں میں مسلسل اور بھرپور تعاون پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ کامیابی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک کوششوں اور قطر سمیت برادر ممالک کے اہم کردار کی بدولت ممکن ہوئی۔

    دونوں رہنماؤں نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے تکنیکی سطح کے مذاکرات کے پہلے دور پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مثبت پیش رفت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ مذاکرات کامیاب ہو سکیں۔

  11. ایران نے یقین دہانی کروائی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے کوئی رقم نہیں لی جا رہی: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو کوئی رقم ادا نہیں کی گئی اور نہ ہی ایران کے اپنے فنڈز میں سے کوئی رقم جاری کی گئی ہے۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھے گئے پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران نے امریکہ کو یقین دہانی کروائی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر نہ کوئی ٹول ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے، نہ انشورنس اخراجات لیے جا رہے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی اور فیس وصول کی جا رہی ہے۔‘

    صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر یہ معلومات غلط ثابت ہوئیں تو مذاکرات فوری طور پر ختم کر دیے جائیں گے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ ایران کے کچھ فنڈز، جو اس کے کنٹرول میں ہیں، استعمال کرتے ہوئے اپنے کسانوں اور مویشی پالنے والوں سے مکئی، گندم، سویا بین اور دیگر زرعی اجناس خریدے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ایران میں خوراک کی شدید ضرورت ہے اور یہ اشیا خصوصی طور پر امریکہ سے خرید کر فراہم کی جائیں گی۔

  12. مذاکرات شاید منگل سے دوبارہ شروع ہو جائیں گے: ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں امریکہ ایران مذاکرات کے لیے قائم کی گئی تکنیکی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں رہیں گی اور بطور ثالث آنے والے ہفتوں میں مذاکراتی عمل کو آگے بڑھاتی رہیں گی۔

    صحافیوں کو ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرانی نے بتایا کہ ’میرے خیال میں مذاکرات اگلے ہفتے شاید منگل کو دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ21 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں ایران امریکہ مذاکرات کا دوسرا دور ہوا جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کی نمائندگی کی۔

    انھوں نے بتایا کہ دوسرے مرحلے کے لیے تین مخصوص تکنیکی ورکنگ گروپس بنائے گئے ہیں، پہلا گروپ نیوکلیئر پروگرام سے متعلق معاملات کو دیکھ رہا ہے، دوسرا گروپ پابندیوں اور منجمداثاثوں کے امورکا جائزہ لے رہا ہے جبکہ تیسرا گروپ لبنان کی صورتحال پر کام کررہا ہے۔ پاکستان اورقطری کی تکنیکی ٹیمیں امریکہ اور ایران کی تکنیکی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں رہیں گی۔

    ان کا کہنا تھا مختلف ملکوں نے خطے میں قیام امن کے کردار پر پاکستان کی تعریف کی جبکہ ثالثی اور امن کوششوں میں پاکستانی میڈیا نے بھی ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔

  13. سفارتی تنہائی کا شکار سمجھے جانے والے ملک کو آج دنیا پیس میکر کے طور پر پہچانتی ہے: اسحاق ڈار

    پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ 47 سال بعد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوئے جس میں پاکستان نے بطور ثالث بہترین کردار ادا کیا۔

    قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ’ایران اور امریکہ دونوں نے مل کر پاکستان کو بطور ثالث چنا۔ پاکستان کو آج دنیا بھر میں پیس میکر اور ثالث ملک کے طور پر جانا جاتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ کئی بار ایسا لگا کہ شاید یہ ممکن نہ ہو پائے تاہم آخر کار ان دونو ں فریقوں کو ایک میز پر بٹھانے میں کامیاب ہوئے۔

    ’ہمارا ہدف امریکی اڈے ہیں‘

    امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور ایران کی جوابی کارروائی کے حوالے سے اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ جنگ بندی سے قبل 2800 کے قریب ڈرونز اور میزائل کے حملے ایران کی طرف ہوئے جن میں سے کچھ نشانے چوک بھی گئے پھر جواباً امریکی اڈوں پر ایران نے حملے کیے۔۔

    ’پھر ایران جب رد عمل میں حملے کرتا تھا تو ہم کہتے تھے کہ یہ تمام مسلمان ممالک ہیں ان پر مہربانی کر کے اٹیکس نہ کریں تو وہ کہتے تھے کہ ہمارا ہدف امریکی اڈے ہیں ہم امریکہ تو نہیں پہنچ سکتے تو جو سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہو رہی ہے ہم اس پر حملے کر رہے ہیں۔‘

    ان کے مطابق ’یہ ہمارا بھی امتحان تھا تاہم ہم اس میں کامیب ہوئے۔ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے میں متحرک کردار ادا کیا۔ خطے میں امن کے لیے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔‘

    ان کے مطابق ’گزشتہ دو ہفتوں کے دوران سیزفائر اور کشیدگی میں کمی کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں جاری رہیں۔ پاکستان نے ایران، امریکا، قطر اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھے اور دونوں جانب مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا۔‘

    اسحاق ڈار کے مطابق اعلیٰ سطح مذاکرات کے متعدد ادوار منعقد ہوئے جن میں کچھ باضابطہ راؤنڈز شامل تھے۔ بعض مذاکراتی سیشن 21 گھنٹے تک جاری رہے اور دوپہر سے شروع ہو کر اگلے روزصبح تک چلتے رہے۔ مختلف مراحل پر وقفے لے کر مشاورت کا عمل آگے بڑھایا گیا تاکہ تمام نکات پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔‘

    اسحاق ڈار کے مطابق ’چند سال پہلے تک پاکستان کو ڈپلومیٹک آئیسولیٹڈ کنٹری کہا جاتا تھا تاہم آج ہمیں ایک سے کہیں زائد دعوتیں ملتی ہیں جس میں سے ہمیں منتخب کرنا ہوتا ہے۔‘

    ان کے مطابق ’ہم چاہتے تھے کہ امن مزاکرات کے تمام مراحل پاکستان میں طے پائیں تاہم دونوں فریقوں کو اپنی اپنی قیادت کو بھی اعتماد میں لینا تھا۔‘

    وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اب معاشی ترقی کی جانب لے جانے میں اہم رہیں گے۔

    اپنے خطاب کے دوران پی ٹی آئی کے ایوان میں تنقید کے جواب میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’جس جماعت کے ساتھ مسئلہ ہوتا ہے وہاں میں انوالو ہوتا ہوں لیکن آپ بہت آگے نکل گئے ہیں جب آپ اپنے اداروں پر، جی ایچ کیو پر حملہ کریں گے تو معاملہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔‘

  14. خاتون کا ریپ کرنے پر ڈیلیوری ڈرائیور کو آٹھ سال کی قید، ’مجرم کے پاس پاکستان جانے کا یک طرفہ ٹکٹ تھا‘

    برطانیہ میں ایک ڈیلیوری ڈرائیور کو ہسپتال سے نکلنے والی ایک کمزور خاتون کا ریپ کرنے کے جرم میں آٹھ سال سے زائد قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    27 سالہ ملزم کو دو دن بعد ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں مجرم کے پاس پاکستان جانے کا یک طرفہ ٹکٹ تھا۔

    عدالت کو بتایا گیا کہ متاثرہ خاتون ’نشے کی حالت میں، الجھن کا شکار اور اپنے پیروں پر ٹھیک سے کھڑی نہ ہو سکنے والی‘ حالت میں ورتھنگ ہسپتال آئی تھیں۔

    مقدمے کے مطابق11 مارچ کو سلیمان مکیش نے انھیں پکڑا کار کے بونٹ پر زبردستی لٹایا اور ان پر جنسی حملہ کیا۔

    ورتھنگ سے تعلق رکھنے والے مکیش نے پہلے ہی ریپ کے جرم کا اعتراف کر لیا تھا اور منگل کو اسے آٹھ سال اور تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی تاہم اس کے بعد انھیں مزید تین سال تک نگرانی میں رہنا ہو گا۔

    ’خاتون کی خود کو بچانے کے لیے دیوار کا سہارا لینے کی کوشش‘

    عدالت کو بتایا گیا کہ خاتون نے حملے سے پہلے خود کو بچانے کے لیے دیوار کا سہارا لینے کی کوشش کی تھی۔

    کچھ دیر بعد ایک شخص نے انھیں دیکھا تو خاتون نے بتایا کہ ان کا ریپ کیا گیا ہے۔

    اس واقعےکے سامنے آنے پر پولیس کو بلایا گیا اور خاتون نے گاڑی کی نشاندہی کی، جہاں سے مجرم کی انگلیوں کے نشانات ملے۔

    جج کرسٹین ہینسن نے کہا کہ خاتون ’اپنی سب سے کمزور حالت میں تھیں جب ایک اجنبی نے ہسپتال کے ساتھ کار پارک میں ان کا ریپ کیا۔‘

    جج کے مطابق اس واقعے کا خاتون پر شدید نفسیاتی اثر ہوا اور وہ فلیش بیکس کی وجہ سے دوبارہ ہسپتال نہیں جا سکتیں۔

    عدالت میں بتایا گیا کہ کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کرنے والے مکیش سٹوڈنٹ ویزا پر برطانیہ میں تھے جن کے پاس 2028 تک رہنے کی اجازت موجود تھی۔

    دفاع کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ ملزم خاتون کی مدد کے لیے رکا تھا۔

  15. بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر بلوچستان میں شٹر ڈاؤن ہڑتال

    بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور مرکزی رہنما صبغت اللہ کو دی گئی سزا کے خلاف بلوچستان کے متعدد علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے۔

    یہ ہڑتال بی وائی سی کی جانب سے دی گئی کال پر کی گئی جبکہ بعض دیگر قوم پرست جماعتوں نے بھی اس کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

    پیر کے روز کوئٹہ میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے 2024 میں گوادر میں منعقدہ جلسے کے دوران ایک سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

    اس فیصلے کے خلاف منگل کو صوبے کے مختلف علاقوں میں کاروباری مراکز بند رہے جس کے باعث معمول کی کاروباری سرگرمیاں متاثر رہیں۔

    ماہ رنگ بلوچ کو سزا کے عدالتی فیصلے میں کیا لکھا گیا، جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  16. لبنان میں جنگ کا خاتمہ ایران میں جنگ کے خاتمے جتنا اہم ہے: باقر قالیباف

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ، ایران میں جنگ کے خاتمے جتنا ہی اہم ہے۔

    انھوں نے یہ بات آذربائیجان کے دار الحکومت باکو میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی پارلیمانی یونین کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

    قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران باہمی احترام اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی بنیاد پر تمام اسلامی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ خطے کی سلامتی ’درآمد شدہ‘ نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے ’مقامی اور علاقائی بنیادوں‘ پر قائم ہونا چاہیے۔

  17. جنوبی لبنان کا کنٹرول لبنانی فوج کو دینے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کا ’آزمائشی منصوبہ‘

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیل اور لبنان ایک ایسے آزمائشی منصوبے پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت اسرائیلی افواج جنوبی لبنان کے بعض علاقوں کا کنٹرول لبنانی فوج کے حوالے کریں گی۔ اس منصوبے کو امریکہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔

    روئٹرز نے تین سینیئر اسرائیلی حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس منصوبے میں شامل لبنانی افواج امریکی تربیت اور سکیورٹی جانچ کے عمل سے گزر رہی ہیں تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان کا حزب اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔

    روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جنوبی لبنان کے بعض علاقوں کی سکیورٹی لبنانی فورسز کے حوالے کیے جانے تک اسرائیل خطے میں موجود رہے گا۔

    امریکہ اور اسرائیل نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔

  18. پاکستان، قطر، امریکہ اور ایران کی تکنیکی ٹیموں کا رابطہ جاری رہے گا: ترجمان دفتر خارجہ

    دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں ثالث کے طور پر آئندہ ہفتوں میں امریکہ اور ایران کی تکنیکی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں رہیں گی تاکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مؤثر عمل در آمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ برگن سٹاخ میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے کئی اہم اقدامات طے کیے گئے ہیں۔ ان میں ثالثی کے عمل کی سیاسی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی کا قیام شامل ہے، جبکہ چیف مذاکرات کار اس کمیٹی کو باقاعدگی سے آگاہ کریں گے اور مختلف ورکنگ گروپس کی قیادت کریں گے۔ یہ گروپس جوہری پابندیوں، نگرانی اور تنازعات کے حل جیسے معاملات پر کام کریں گے تاکہ معاہدے پر مؤثر عمل در آمد ممکن بنایا جا سکے۔

    انھوں نے کہا کہ فریقین کے درمیان 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے براہِ راست رابطے کا نظام قائم کرنے اور کسی بھی غلط فہمی سے بچنے کے لیے اقدامات پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دورہ پاکستان کی تفصیلات بتاتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک میں وفود کی سطح پر ملاقاتیں ہوئیں جن کے دوران دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ دورہ کرنے والے ایرانی صدر اور پاکستانی وزیرِ اعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی، عوامی اور علاقائی روابط سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر غور کیا گیا۔

    جبکہ ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن عمل اور باہمی دلچسپی کے حامل علاقائی و عالمی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

  19. خیبر پختونخوا میں کارروائی کے دوران چھ مطلوب شدت پسند ہلاک: محکمہ انسداد دہشت گردی

    محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ لوئر دیر میں سی ٹی ڈی اور ضلعی پولیس کی مشترکہ کارروائی میں چھ مطلوب شدت پسند ہلاک کر دیے گئے۔

    سی ٹی ڈی کی پریس ریلیز کے مطابق یہ کارروائی منگل کو اس وقت کی گئی جب سکیورٹی فورسز کو اطلاع ملی کہ حالیہ حملوں میں ملوث ایک گروہ پہاڑی علاقے میں موجود ہے۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق یہ گروہ باڈوان پل پولیس چیک پوسٹ پر حملہ میں بھی شامل تھا جس میں کانسٹیبل محمد اسماعیل ہلاک ہوئے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق پولیس نے ’اپنی حفاظت اور شدت پسندوں کی گرفتاری‘ کے لیے جوابی فائرنگ کی، بعد ازاں سرچ آپریشن کے دوران چھ افراد ہلاک پائے گئے۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں خلیل الرحمان عرف صدام، نجم الدین عرف ابوجانہ اور کفایت اللہ شامل ہیں جبکہ دیگر افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران اسلحہ بھی برآمد کیا گیا جس میں کلاشنکوفیں، ہینڈ گرینیڈز اور کارتوس شامل ہیں۔

  20. خواجہ آصف کے بیان پر انڈیا کی تنقید: ’یہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے‘

    انڈیا نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال سے متعلق پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے انھیں ’اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش‘ قرار دیا ہے۔

    انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جسوال سے خواجہ آصف کے بیانات سے متعلق سوال کیا گیا، جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ ’پاکستان کی جانب سے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی کوششیں ہیں۔ ہم ان من گھڑت دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔‘

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے احتجاج پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ عندیہ دیا تھا کہ ایسا انڈیا کے ایما پر کیا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں نو جون سے احتجاج اور لانگ مارچ شروع کر رکھا ہے۔

    حکام نے اس گروپ پر بغاوت کا الزام لگا کر اس پر پابندی لگا دی ہے اور اس کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔

    اس دوران راولاکوٹ میں فائرنگ سے شاہ زیب نامی نوجوان کی ہلاکت سے صورتحال کشیدہ ہو گئی تھی۔ راولاکوٹ پولیس نے اس واقعے کی ایف آئی آر نامعلوم مسلح نقاب پوش افراد کے خلاف درج کی، تاہم مظاہرین کا الزام ہے کہ شاہ زیب پولیس کے ہاتھوں مارے گئے، جبکہ پولیس اس کی تردید کرتی ہے۔

    اسی حوالے سے پریس کانفرنس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت اعوان نے گذشتہ روز کہا کہ بد امنی کے نتیجے میں پولیس کے چار اہلکار ہلاک ہوئے۔

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے 11 جون کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس احتجاج پر بات کی۔ انھوں نے مظاہرین سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے حق میں ہیں ’لیکن جب آپ قانون ہاتھ میں لیں گے، خون بہائیں گے تو آپ یہ توقع کیسے کر سکتے ہیں کہ ریاست خاموش رہے۔‘

    خواجہ آصف نے مظاہرین پر الزام لگایا کہ انھوں نے سرکاری اہلکاروں کو قتل کر کے ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے سوالیہ انداز میں اس بد امنی کو انڈیا سے جوڑتے ہوئے کہا: ’کہیں یہ نفرت لائن کے اُس پار سے تو امپورٹ نہیں کی گئی؟‘

    خواجہ آصف نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر اپنے ایک حالیہ بیان پر بھی وضاحت پیش کی ہے کہ اور کہا ہے کہ دیانت داری سے دیے گئے دو ٹوک بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

    22 جون کو خواجہ آصف کے ایک ٹیلی وژن انٹرویو کا کلپ سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ راولاکوٹ اور دھیرکوٹ میں ہونے والا احتجاج پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شامل تمام علاقوں کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں راولاکوٹ والوں کو کوئی لمبا چوڑا کشمیری مانتا بھی نہیں ہوں۔‘

    اس کی وضاحت کرتے ہوئے 23 جون کو خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں لکھا: ’میرے مؤدبانہ خیال میں کشمیریت کی تعریف پیدائشی سرٹیفیکیٹس سے نہیں ہوتی، بلکہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے پاکستانیوں، جن میں کشمیری اور دیگر شامل ہیں، کی دی گئی قربانیوں اور جدوجہد سے ہوتی ہے۔‘