انڈیا نے
پاکستان کے زیر
انتظام کشمیر کی صورتحال سے متعلق پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیانات پر
تنقید کرتے ہوئے انھیں ’اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش‘ قرار دیا
ہے۔
انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر
جسوال سے خواجہ آصف کے بیانات سے متعلق سوال کیا گیا، جواب میں انھوں نے کہا کہ
یہ ’پاکستان کی جانب سے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور انسانی حقوق کی خلاف
ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی کوششیں ہیں۔ ہم ان من گھڑت دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد
کرتے ہیں۔‘
وزیر دفاع خواجہ
آصف نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے احتجاج پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ
عندیہ دیا تھا کہ ایسا انڈیا کے ایما پر کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان
کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ
عوامی ایکشن کمیٹی نے کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے
کے حق میں کشمیر بھر میں نو جون سے احتجاج اور لانگ مارچ شروع کر رکھا ہے۔
حکام نے اس گروپ پر بغاوت کا الزام
لگا کر اس پر پابندی لگا دی ہے اور اس کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔
اس دوران راولاکوٹ میں فائرنگ سے شاہ
زیب نامی نوجوان کی ہلاکت سے صورتحال کشیدہ ہو گئی تھی۔ راولاکوٹ پولیس نے اس
واقعے کی ایف آئی آر نامعلوم مسلح نقاب پوش افراد کے خلاف درج کی، تاہم مظاہرین کا
الزام ہے کہ شاہ زیب پولیس کے ہاتھوں مارے گئے، جبکہ پولیس اس کی تردید کرتی ہے۔
اسی حوالے سے پریس کانفرنس میں پاکستان
کے زیر انتظام کشمیر میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت اعوان
نے گذشتہ روز کہا کہ بد امنی کے نتیجے میں پولیس کے چار اہلکار ہلاک ہوئے۔
پاکستان کے
وزیر دفاع خواجہ آصف نے 11 جون کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس
احتجاج پر بات کی۔ انھوں نے مظاہرین سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ معاملات کو بات چیت
کے ذریعے حل کرنے کے حق میں ہیں ’لیکن جب آپ قانون ہاتھ میں لیں گے، خون بہائیں
گے تو آپ یہ توقع کیسے کر سکتے ہیں کہ ریاست خاموش رہے۔‘
خواجہ آصف نے
مظاہرین پر الزام لگایا کہ انھوں نے سرکاری اہلکاروں کو قتل کر کے ان کی لاشوں کی
بے حرمتی کی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے سوالیہ انداز میں اس بد امنی کو انڈیا سے جوڑتے
ہوئے کہا: ’کہیں یہ نفرت لائن کے اُس پار سے تو امپورٹ نہیں کی گئی؟‘
خواجہ آصف نے
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر اپنے ایک حالیہ بیان پر بھی وضاحت پیش کی ہے کہ
اور کہا ہے کہ دیانت داری سے دیے گئے دو ٹوک بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا
ہے۔
22 جون کو
خواجہ آصف کے ایک ٹیلی وژن انٹرویو کا کلپ سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ
راولاکوٹ اور دھیرکوٹ میں ہونے والا احتجاج پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شامل
تمام علاقوں کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں راولاکوٹ
والوں کو کوئی لمبا چوڑا کشمیری مانتا بھی نہیں ہوں۔‘
اس کی
وضاحت کرتے ہوئے 23 جون کو خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں
لکھا: ’میرے مؤدبانہ خیال میں کشمیریت کی تعریف پیدائشی سرٹیفیکیٹس سے نہیں ہوتی،
بلکہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے پاکستانیوں، جن میں کشمیری اور دیگر شامل ہیں، کی دی
گئی قربانیوں اور جدوجہد سے ہوتی ہے۔‘