لائیو, جب ایران کو مسلم ممالک پر حملے نہ کرنے کا کہا تو جواب آیا کہ ہم امریکہ نہیں پہنچ سکتے، ہمارا ہدف امریکی اڈے ہیں: اسحاق ڈار

نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا کہ ’جنگ بندی سے قبل ایران نے جب رد عمل میں امریکی اڈوں پر حملے کیے تو ہم کہتے تھے کہ براہ مہربانی مسلمان ممالک پر حملے نہ کریں تو وہ کہتے تھے کہ جو سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہو رہی ہے ہم اس پر حملے کر رہے ہیں۔‘

خلاصہ

  • لبنان میں جنگ کا خاتمہ ایران میں جنگ کے خاتمے جتنا اہم ہے: باقر قالیباف
  • پاکستان، قطر، امریکہ اور ایران کی تکنیکی ٹیموں کا رابطہ جاری رہے گا: ترجمان دفتر خارجہ
  • پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے متعلق خواجہ آصف کے بیان پر انڈیا کی تنقید: 'یہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے'
  • عمان کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت آسان بنانے کے لیے عارضی راستہ قائم کرنے کا اعلان
  • ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے سے متعلق کانگریس کی قرار داد 'بے وقت اور بے معنی' ہے: صدر ٹرمپ

لائیو کوریج

  1. سفارتی تنہائی کا شکار سمجھے جانے والے ملک کو آج دنیا پیس میکر کے طور پر پہچانتی ہے: اسحاق ڈار

    وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار

    ،تصویر کا ذریعہPTV News

    پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ 47 سال بعد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوئے جس میں پاکستان نے بطور ثالث بہترین کردار ادا کیا۔

    قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ’ایران اور امریکہ دونوں نے مل کر پاکستان کو بطور ثالث چنا۔ پاکستان کو آج دنیا بھر میں پیس میکر اور ثالث ملک کے طور پر جانا جاتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ کئی بار ایسا لگا کہ شاید یہ ممکن نہ ہو پائے تاہم آخر کار ان دونو ں فریقوں کو ایک میز پر بٹھانے میں کامیاب ہوئے۔

    ’جنگ بندی سے قبل 2800 کے قریب ڈرونز اور میزائل کے حملے ایران کی طرف ہوئے کچھ نشانے چوکے بھی۔ پھر ایران جب رد عمل میں حملے کرتا تھا تو ہم کہتے تھے کہ یہ تمام مسلمان ممالک ہیں ان پر مہربانی کر کے اٹیکس نہ کریں تو وہ کہتے تھے کہ ہمارا ہدف امریکن اڈے ہیں ہم امریکہ تو نہیں پہنچ سکتے تو جو سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہو رہی ہے ہم اس پر حملے کر رہے ہیں۔‘

    ان کے مطابق ’ یہ ہمارا بھی امتحان تھا تاہم ہم اس میں کامیب ہوئے۔ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے میں متحرک کردار ادا کیا۔ خطے میں امن کے لیے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔‘

    ان کے مطابق ’گزشتہ دو ہفتوں کے دوران سیزفائر اور کشیدگی میں کمی کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں جاری رہیں۔ پاکستان نے ایران، امریکا، قطر اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھے اور دونوں جانب مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا۔‘

    اسحاق ڈار کے مطابق اعلیٰ سطح مذاکرات کے متعدد ادوار منعقد ہوئے جن میں کچھ باضابطہ راؤنڈز شامل تھے۔ بعض مذاکراتی سیشن 21 گھنٹے تک جاری رہے اور دوپہر سے شروع ہو کر اگلے روزصبح تک چلتے رہے۔ مختلف مراحل پر وقفے لے کر مشاورت کا عمل آگے بڑھایا گیا تاکہ تمام نکات پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔‘

    اسحاق ڈار کے مطابق ’چند سال پہلے تک پاکستان کو ڈپلومیٹک آئیسولیٹڈ کنٹری کہا جاتا تھا تاہم آج ہمیں ایک سے کہیں زائد دعوتیں ملتی ہیں جس میں سے ہمیں منتخب کرنا ہوتا ہے۔‘

    ان کے مطابق ’ہم چاہتے تھے کہ امن مزاکرات کے تمام مراحل پاکستان میں طے پائیں تاہم دونوں فریقوں کو اپنی اپنی قیادت کو بھی اعتماد میں لینا تھا۔‘

    وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اب معاشی ترقی کی جانب لے جانے میں اہم رہیں گے۔

    اپنے خطاب کے دوران پی ٹی آئی کے ایوان میں تنقید کے جواب میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’جس جماعت کے ساتھ مسئلہ ہوتا ہے وہاں میں انوالو ہوتا ہوں لیکن آپ بہت آگے نکل گئے ہیں جب آپ اپنے اداروں پر، جی ایچ کیو پر حملہ کریں گے تو معاملہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔‘

  2. خاتون کا ریپ کرنے پر ڈیلیوری ڈرائیور کو آٹھ سال کی قید، ’مجرم کے پاس پاکستان جانے کا یک طرفہ ٹکٹ تھا‘

    خاتون کا ریپ کرنے پر ڈیلیوری ڈرائیور کو آٹھ سال کی قید،

    ،تصویر کا ذریعہSussex Police

    برطانیہ میں ایک ڈیلیوری ڈرائیور کو ہسپتال سے نکلنے والی ایک کمزور خاتون کا ریپ کرنے کے جرم میں آٹھ سال سے زائد قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    27 سالہ ملزم کو دو دن بعد ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں مجرم کے پاس پاکستان جانے کا یک طرفہ ٹکٹ تھا۔

    عدالت کو بتایا گیا کہ متاثرہ خاتون ’نشے کی حالت میں، الجھن کا شکار اور اپنے پیروں پر ٹھیک سے کھڑی نہ ہو سکنے والی‘ حالت میں ورتھنگ ہسپتال آئی تھیں۔

    مقدمے کے مطابق11 مارچ کو سلیمان مکیش نے انھیں پکڑا کار کے بونٹ پر زبردستی لٹایا اور ان پر جنسی حملہ کیا۔

    ورتھنگ سے تعلق رکھنے والے مکیش نے پہلے ہی ریپ کے جرم کا اعتراف کر لیا تھا اور منگل کو اسے آٹھ سال اور تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی تاہم اس کے بعد انھیں مزید تین سال تک نگرانی میں رہنا ہو گا۔

    ’خاتون کی خود کو بچانے کے لیے دیوار کا سہارا لینے کی کوشش‘

    عدالت کو بتایا گیا کہ خاتون نے حملے سے پہلے خود کو بچانے کے لیے دیوار کا سہارا لینے کی کوشش کی تھی۔

    کچھ دیر بعد ایک شخص نے انھیں دیکھا تو خاتون نے بتایا کہ ان کا ریپ کیا گیا ہے۔

    اس واقعےکے سامنے آنے پر پولیس کو بلایا گیا اور خاتون نے گاڑی کی نشاندہی کی، جہاں سے مجرم کی انگلیوں کے نشانات ملے۔

    جج کرسٹین ہینسن نے کہا کہ خاتون ’اپنی سب سے کمزور حالت میں تھیں جب ایک اجنبی نے ہسپتال کے ساتھ کار پارک میں ان کا ریپ کیا۔‘

    جج کے مطابق اس واقعے کا خاتون پر شدید نفسیاتی اثر ہوا اور وہ فلیش بیکس کی وجہ سے دوبارہ ہسپتال نہیں جا سکتیں۔

    عدالت میں بتایا گیا کہ کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کرنے والے مکیش سٹوڈنٹ ویزا پر برطانیہ میں تھے جن کے پاس 2028 تک رہنے کی اجازت موجود تھی۔

    دفاع کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ ملزم خاتون کی مدد کے لیے رکا تھا۔

  3. بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر بلوچستان میں شٹر ڈاؤن ہڑتال

    کوئٹہ

    بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور مرکزی رہنما صبغت اللہ کو دی گئی سزا کے خلاف بلوچستان کے متعدد علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے۔

    یہ ہڑتال بی وائی سی کی جانب سے دی گئی کال پر کی گئی جبکہ بعض دیگر قوم پرست جماعتوں نے بھی اس کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

    پیر کے روز کوئٹہ میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے 2024 میں گوادر میں منعقدہ جلسے کے دوران ایک سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

    اس فیصلے کے خلاف منگل کو صوبے کے مختلف علاقوں میں کاروباری مراکز بند رہے جس کے باعث معمول کی کاروباری سرگرمیاں متاثر رہیں۔

    ماہ رنگ بلوچ کو سزا کے عدالتی فیصلے میں کیا لکھا گیا، جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  4. لبنان میں جنگ کا خاتمہ ایران میں جنگ کے خاتمے جتنا اہم ہے: باقر قالیباف

    باقر قالیباف

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ، ایران میں جنگ کے خاتمے جتنا ہی اہم ہے۔

    انھوں نے یہ بات آذربائیجان کے دار الحکومت باکو میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی پارلیمانی یونین کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

    قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران باہمی احترام اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی بنیاد پر تمام اسلامی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ خطے کی سلامتی ’درآمد شدہ‘ نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے ’مقامی اور علاقائی بنیادوں‘ پر قائم ہونا چاہیے۔

  5. جنوبی لبنان کا کنٹرول لبنانی فوج کو دینے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کا ’آزمائشی منصوبہ‘

    اسرائیلی فوجی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیل اور لبنان ایک ایسے آزمائشی منصوبے پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت اسرائیلی افواج جنوبی لبنان کے بعض علاقوں کا کنٹرول لبنانی فوج کے حوالے کریں گی۔ اس منصوبے کو امریکہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔

    روئٹرز نے تین سینیئر اسرائیلی حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس منصوبے میں شامل لبنانی افواج امریکی تربیت اور سکیورٹی جانچ کے عمل سے گزر رہی ہیں تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان کا حزب اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔

    روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جنوبی لبنان کے بعض علاقوں کی سکیورٹی لبنانی فورسز کے حوالے کیے جانے تک اسرائیل خطے میں موجود رہے گا۔

    امریکہ اور اسرائیل نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔

  6. پاکستان، قطر، امریکہ اور ایران کی تکنیکی ٹیموں کا رابطہ جاری رہے گا: ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستانی دفتر خارجہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں ثالث کے طور پر آئندہ ہفتوں میں امریکہ اور ایران کی تکنیکی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں رہیں گی تاکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مؤثر عمل در آمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ برگن سٹاخ میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے کئی اہم اقدامات طے کیے گئے ہیں۔ ان میں ثالثی کے عمل کی سیاسی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی کا قیام شامل ہے، جبکہ چیف مذاکرات کار اس کمیٹی کو باقاعدگی سے آگاہ کریں گے اور مختلف ورکنگ گروپس کی قیادت کریں گے۔ یہ گروپس جوہری پابندیوں، نگرانی اور تنازعات کے حل جیسے معاملات پر کام کریں گے تاکہ معاہدے پر مؤثر عمل در آمد ممکن بنایا جا سکے۔

    انھوں نے کہا کہ فریقین کے درمیان 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے براہِ راست رابطے کا نظام قائم کرنے اور کسی بھی غلط فہمی سے بچنے کے لیے اقدامات پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دورہ پاکستان کی تفصیلات بتاتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک میں وفود کی سطح پر ملاقاتیں ہوئیں جن کے دوران دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ دورہ کرنے والے ایرانی صدر اور پاکستانی وزیرِ اعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی، عوامی اور علاقائی روابط سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر غور کیا گیا۔

    جبکہ ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن عمل اور باہمی دلچسپی کے حامل علاقائی و عالمی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

  7. خیبر پختونخوا میں کارروائی کے دوران چھ مطلوب شدت پسند ہلاک: محکمہ انسداد دہشت گردی

    محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ لوئر دیر میں سی ٹی ڈی اور ضلعی پولیس کی مشترکہ کارروائی میں چھ مطلوب شدت پسند ہلاک کر دیے گئے۔

    سی ٹی ڈی کی پریس ریلیز کے مطابق یہ کارروائی منگل کو اس وقت کی گئی جب سکیورٹی فورسز کو اطلاع ملی کہ حالیہ حملوں میں ملوث ایک گروہ پہاڑی علاقے میں موجود ہے۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق یہ گروہ باڈوان پل پولیس چیک پوسٹ پر حملہ میں بھی شامل تھا جس میں کانسٹیبل محمد اسماعیل ہلاک ہوئے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق پولیس نے ’اپنی حفاظت اور شدت پسندوں کی گرفتاری‘ کے لیے جوابی فائرنگ کی، بعد ازاں سرچ آپریشن کے دوران چھ افراد ہلاک پائے گئے۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں خلیل الرحمان عرف صدام، نجم الدین عرف ابوجانہ اور کفایت اللہ شامل ہیں جبکہ دیگر افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران اسلحہ بھی برآمد کیا گیا جس میں کلاشنکوفیں، ہینڈ گرینیڈز اور کارتوس شامل ہیں۔

  8. خواجہ آصف کے بیان پر انڈیا کی تنقید: ’یہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے‘

    انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جسوال

    ،تصویر کا ذریعہHindustan Times via Getty Images

    انڈیا نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال سے متعلق پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے انھیں ’اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش‘ قرار دیا ہے۔

    انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جسوال سے خواجہ آصف کے بیانات سے متعلق سوال کیا گیا، جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ ’پاکستان کی جانب سے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی کوششیں ہیں۔ ہم ان من گھڑت دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔‘

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے احتجاج پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ عندیہ دیا تھا کہ ایسا انڈیا کے ایما پر کیا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں نو جون سے احتجاج اور لانگ مارچ شروع کر رکھا ہے۔

    حکام نے اس گروپ پر بغاوت کا الزام لگا کر اس پر پابندی لگا دی ہے اور اس کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔

    اس دوران راولاکوٹ میں فائرنگ سے شاہ زیب نامی نوجوان کی ہلاکت سے صورتحال کشیدہ ہو گئی تھی۔ راولاکوٹ پولیس نے اس واقعے کی ایف آئی آر نامعلوم مسلح نقاب پوش افراد کے خلاف درج کی، تاہم مظاہرین کا الزام ہے کہ شاہ زیب پولیس کے ہاتھوں مارے گئے، جبکہ پولیس اس کی تردید کرتی ہے۔

    اسی حوالے سے پریس کانفرنس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت اعوان نے گذشتہ روز کہا کہ بد امنی کے نتیجے میں پولیس کے چار اہلکار ہلاک ہوئے۔

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے 11 جون کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس احتجاج پر بات کی۔ انھوں نے مظاہرین سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے حق میں ہیں ’لیکن جب آپ قانون ہاتھ میں لیں گے، خون بہائیں گے تو آپ یہ توقع کیسے کر سکتے ہیں کہ ریاست خاموش رہے۔‘

    خواجہ آصف نے مظاہرین پر الزام لگایا کہ انھوں نے سرکاری اہلکاروں کو قتل کر کے ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے سوالیہ انداز میں اس بد امنی کو انڈیا سے جوڑتے ہوئے کہا: ’کہیں یہ نفرت لائن کے اُس پار سے تو امپورٹ نہیں کی گئی؟‘

    خواجہ آصف نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر اپنے ایک حالیہ بیان پر بھی وضاحت پیش کی ہے کہ اور کہا ہے کہ دیانت داری سے دیے گئے دو ٹوک بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

    22 جون کو خواجہ آصف کے ایک ٹیلی وژن انٹرویو کا کلپ سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ راولاکوٹ اور دھیرکوٹ میں ہونے والا احتجاج پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شامل تمام علاقوں کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں راولاکوٹ والوں کو کوئی لمبا چوڑا کشمیری مانتا بھی نہیں ہوں۔‘

    اس کی وضاحت کرتے ہوئے 23 جون کو خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں لکھا: ’میرے مؤدبانہ خیال میں کشمیریت کی تعریف پیدائشی سرٹیفیکیٹس سے نہیں ہوتی، بلکہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے پاکستانیوں، جن میں کشمیری اور دیگر شامل ہیں، کی دی گئی قربانیوں اور جدوجہد سے ہوتی ہے۔‘

  9. ٹرمپ کی ایران کے خلاف کارروائی روکنے سے متعلق امریکی سینیٹ کی قرار داد پر تنقید

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے سے متعلق کانگریس کی قرار داد کو ’بے وقت اور بے معنی‘ قدم قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے لکھا: ’میں ایران کو تقریباً شکست کے دہانے پر لے آیا تھا، وہ ہارنے والا تھا، ہمیں عملی طور پر ہر چیز دینے کو آمادہ تھا، اور دہائیوں میں پہلی بار امریکہ اور اس کے صدر، یعنی مجھے، مکمل احترام دے رہا تھا۔‘

    ٹرمپ کے مطابق ایسے وقت میں ’امریکی سینیٹ نے وار پاورز ایکٹ (جنگ سے متعلق اختیار کا قانون) پر بے وقت اور بے معنی ووٹ کیا، جس سے دنیا میں دہشت گردی کے سب سے بڑے سرپرست کو یہ پیغام دیا گیا کہ امریکہ میرے اقدامات سے خوش نہیں ہے اور مجھے رکنا ہو گا۔‘

    سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ ’اس طرح دشمن کو فائدہ اور سہولت فراہم کی گئی۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’چار نکمے ریپبلکنز نے بھی ڈیموکریٹس کے ساتھ ووٹ دیا، اور ایران نے میرے لوگوں سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ ان سینیٹرز نے میرا کام مزید مشکل بنا دیا ہے، مگر میں اسے کسی نہ کسی طریقے سے مکمل کر کے رہوں گا۔ کیوں کہ میں ہمیشہ کام مکمل کرتا ہوں۔‘

    واضح رہے کہ امریکہ کی ریپبلکن اکثریتی سینیٹ نے 48 کے مقابلے پر 50 ووٹوں سے ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ روکیں یا فوجی کارروائی جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی منظوری حاصل کریں۔

    امریکی صدر ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ

    ،تصویر کا ذریعہtruthsocial.com/@realDonaldTrump

  10. اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن بازار میں لگی آگ پر رات گئے قابو پا لیا گیا: حکام, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    حکام کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن میں واقع اتوار بازار میں لگی آگ پر منگل کو رائے گئے قابو پالیا گیا۔

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آگ بھجانے کے اس عمل میں ریسکیو 1122 کی چھ گاڑیاں مصروف رہیں جبکہ پاک بحریہ کی فائر بریگیڈ نے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ بازار کے مجموعی طور پر نو حصوں تک پھیل گئی تھی جس کے نتیجے میں 380 سے زائد سٹال متاثر ہوئے۔ ابتدائی طور پر مالی نقصان کا تخمینہ تقریباً 12 کروڑ روپے لگایا جا رہا ہے۔ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    گذشتہ تین برس کے دوران اسلام آباد کے ایچ نائن اتوار بازار میں آتشزدگی کا یہ چوتھا بڑا واقعہ ہے۔

    جولائی 2024 میں بھی اسی بازار میں آگ لگی تھی جس کے نتیجے میں 625 سٹال مکمل طور پر جل گئے تھے۔

    حکام کے مطابق ایچ نائن اتوار بازار میں مجموعی طور پر دو ہزار 743 سٹال موجود ہیں۔

  11. عمان کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت سہل بنانے کے لیے عارضی راستہ بنانے کا اعلان

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    عمان نے منگل کے روز اعلان کیا کہ وہ بین الاقوامی بحری تنظیم (آئی ایم او) کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت کو آسان بنانے کے لیے ایک عارضی سمندری راستہ بنائے گا۔

    عمان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جو جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنا چاہتے ہیں، انھیں بین الاقوامی بحری تنظیم اور عمانی حکام کے ساتھ رابطہ کرنا ہو گا۔

    یہ اعلان ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی سفارتی وفد کے دورہ عمان کے بعد سامنے آیا۔ منگل کو ایک مشترکہ بیان میں ایران اور عمان کہہ چکے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے ایک محفوظ اور کھلا بحری راستہ برقرار رکھنے کے لیے پُر عزم ہیں، جبکہ اس کے ساتھ ہی انھوں نے اس آبی گزر گاہ میں اپنی خود مختاری اور حاکمیتی حقوق پر بھی زور دیا۔

    انھوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور اس راستے پر فراہم کی جانے والی خدمات کی لاگت کا جائزہ لینے کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی جائے گی۔

    یہ بیان مسقط میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان ملاقات کے بعد جاری کیا گیا۔

    سوئٹزرلینڈ سے روانگی کے بعد ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان پہنچے تھے، جہاں انھوں نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق اور وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے ملاقات کی۔

    منگل کے روز بین الاقوامی بحری تنظیم، جو اقوام متحدہ سے وابستہ ادارہ ہے، نے یہ بھی بتایا کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے بحری جہازوں پر موجود عملے کے 11 ہزار سے زائد ارکان کے انخلا کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ جہاز ران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ اور آبنائے ہرمز میں آمد و رفت محدود ہونے کے بعد سے وہاں پھنسے ہوئے تھے۔

    بین الاقوامی بحری تنظیم نے کہا کہ ان جہاز رانوں کے انخلا کا عمل خطے کے تمام ممالک اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون سے انجام دیا جائے گا۔

  12. ٹرمپ کو ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیوں کے لیے کانگریس کی اجازت درکار ہو گی، امریکہ میں قرارداد منظور, سارین حبیشیان

    کیپٹل ہل

    ،تصویر کا ذریعہKevin Carter/Getty Images

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ کی ریپبلکن اکثریتی سینیٹ نے ایک قرار داد منظور کر لی ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ روکیں یا فوجی کارروائی جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی منظوری حاصل کریں۔

    منگل کے روز ہونے والی ووٹنگ میں 50 ارکان نے قرار داد کے حق میں اور 48 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ رائے شماری میں چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں جماعتوں میں جنگ کی مخالفت پائی جاتی ہے۔

    یہی قرار داد جون میں امریکی ایوان نمائندگان سے بھی منظور کی گئی تھی، جہاں چار ریپبلکن ارکان نے تمام ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر 215 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے اسے منظور کیا۔

    تاہم یہ قرار داد زیادہ تر علامتی نوعیت کی ہے کیونکہ کانگریس کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے باوجود اسے صدر ٹرمپ کے پاس غور کے لیے نہیں بھیجا جائے گا اور نہ ہی اسے قانونی حیثیت حاصل ہے۔

    یہ ووٹنگ اس حوالے سے اہم ہے کہ 1973 کے وار پاورز ریزولوشن (جنگ سے متعلق اختیار کا قانون) کے نفاذ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کانگریس کے دونوں ایوانوں نے کسی صدر کو فوجی کارروائی ختم کرنے کی ہدایت دینے والی متفقہ قرار داد منظور کی ہے۔

    اس قرار داد کی منظوری اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کہ اس سے وائٹ ہاؤس پر ایران جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سات اپریل کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد ایسی کوئی صورتحال نہیں رہی جس سے امریکی افواج کو واپس بلانے کی ضرورت ہو۔

    اہلکار نے یہ بھی کہا کہ یہ قرارداد صرف اس لیے منظور ہو سکی کیونکہ دو ریپبلکن سینیٹرز مچ میک کونل اور ڈیو میک کارمک اجلاس میں موجود نہیں تھے۔

    وفاقی قانون کے مطابق 60 دن سے زیادہ فوجی کارروائی جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے 28 فروری کو شروع ہوئے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اپریل کی جنگ بندی نے اس مدت کو دوبارہ شمار کیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس قومی سلامتی کی بنیاد پر اس مدت میں مزید 30 دن کی توسیع بھی کر سکتا ہے۔

  13. سوئٹزرلینڈ میں ایران، امریکہ اور ثالث ممالک کے تکنیکی مذاکرات مکمل، چار ورکنگ گروپس کے قیام پر اتفاق

    tasnimnews

    ،تصویر کا ذریعہtasnimnews

    ایران کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ثالث ممالک کے ساتھ ہونے والے تکنیکی مذاکرات کامیابی سے مکمل ہو گئے ہیں، جس سے 100 روز سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں ارنا اور تسنیم نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی، جنھوں نے ایرانی تکنیکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کی، نے کہا کہ چار فریقی مذاکرات آئندہ مذاکرات کے طریقۂ کار، ورکنگ گروپس اور عمل در آمد کے نظام پر اتفاقِ رائے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئے۔

    غریب آبادی نے کہا کہ یہ مذاکرات اتوار کو ہونے والے اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اجلاس کے بعد منعقد ہوئے، جو پیر کی علی الصبح تک جاری رہے۔

    غریب آبادی نے کہا، ’مفاہمتی یادداشت اور اعلیٰ سطحی اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے پر عملدرآمد کے طریقۂ کار طے کرنے کے لیے تکنیکی مذاکرات کیے گئے، جن کے نتیجے میں ضروری مفاہمت حاصل کر لی گئی ہے۔‘

    یہ مفاہمتی یادداشت 17 جون کو امریکی اور ایرانی صدور کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ورچوئل طور پر طے پائی تھی۔

    غریب آبادی کے مطابق طے پانے والے اتفاقِ رائے کے تحت آئندہ مذاکرات اعلیٰ سطحی کمیٹی کی نگرانی میں ہوں گے، جن میں ایرانی پارلیمان کے سپیکر، ایرانی وزیر خارجہ، امریکی نائب صدر اور پاکستان و قطر کے وزرائے اعظم شرکت کریں گے۔

    انھوں نے بتایا کہ فریقین نے چار ورکنگ گروپس کے قیام پر بھی اتفاق کیا ہے جو پابندیوں کے خاتمے، جوہری امور، تعمیرِ نو و اقتصادی ترقی، اور نگرانی و عملدرآمد کے معاملات پر کام کریں گے۔

    ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کی مفاہمت اور اتوار شب جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کی روشنی میں مفاہمتی یادداشت کے رکن ممالک کے درمیان ایک رابطہ نظام قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ لبنان سے متعلق کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک علیحدہ رابطہ سیل بھی قائم کیا جائے گا، جس میں مفاہمتی یادداشت کے رکن ممالک کے ساتھ پاکستان اور قطر بھی شامل ہوں گے۔

    غریب آبادی کے مطابق چاروں ممالک کے تکنیکی وفود کے سربراہان ورکنگ گروپس اور نئے قائم ہونے والے رابطہ سیلز کی سرگرمیوں کی نگرانی کریں گے اور ان کی پیش رفت سے اعلیٰ سطحی کمیٹی کو آگاہ کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ تکنیکی مذاکرات میں ایرانی تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور پٹرولیم مصنوعات کی فروخت اور ان سے متعلق خدمات کے لیے عمومی لائسنس کے حصول سے متعلق اقدامات بھی زیر بحث آئے۔

    ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق مذاکرات میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی پر بھی اتفاقِ رائے ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ امریکی فریق نے تیل، پیٹروکیمیکل اور پٹرولیم مصنوعات کی فروخت اور متعلقہ خدمات کے لیے عمومی لائسنس جاری کر دیا ہے، جسے امریکی دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) کی ویب سائٹ پر بھی شائع کر دیا گیا ہے۔

    غریب آبادی نے مزید کہا کہ مفاہمت کے تحت 12 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی فنڈز کی بحالی کے معاہدے پر فوری عمل در آمد کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ یہ رقم دو اقساط میں جاری کی جائے گی اور ہر قسط چھ ارب ڈالر پر مشتمل ہو گی۔

    اس سے قبل ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد قالیباف نے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ 12 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی پر اتفاق ہو گیا ہے۔

    ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ رقم امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔

    اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ’ہم ایک منصفانہ اور معقول معاہدے کے حوالے سے بہت اچھی پیش رفت کر رہے ہیں۔ جو رقم جاری کی جا رہی ہے اسے خوراک کی خریداری کے لیے استعمال کیا جائے گا، اور یہ خوراک صرف امریکہ سے خریدی جائے گی۔ مکئی، سویا بین اور دیگر ضروری زرعی اجناس ہمارے کسانوں سے حاصل کی جائیں گی۔‘

    دریں اثنا امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کو تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دینے کے لیے 60 روزہ رعایت (ویور) کا اعلان بھی کیا ہے۔

  14. امریکہ نے ایران کی قومی ٹیم پر پابندیاں نرم کر دیں

    امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ورلڈ کپ میں ایرانی قومی ٹیم کے سفری انتظامات پر پابندیاں نرم کر دی ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق امریکہ نے ایرانی ٹیم کو اپنے اگلے میچ سے دو روز قبل امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔

    عالمی کپ کے میزبان کی حیثیت سے امریکہ کی جانب سے ایرانی ٹیم پر عائد پابندیوں کے ایک حصے کے طور پر، ٹیم کو اپنے میچ سے ایک دن پہلے امریکہ جانے کی اجازت دی گئی تھی اور ان کے ویزے کی شرائط کے مطابق انھیں میچ کے اسی دن فوری طور پر امریکی سرزمین سے نکلنا تھا۔

    اس پابندی کی وجہ سے ایرانی قومی ٹیم نے اپنے کیمپ کی جگہ کو امریکہ کے ایریزونا سے میکسیکو میں تیجوانا منتقل کر دیا تھا۔

    ایران نے ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے میں اب تک دو میچ کھیلے ہیں اور ٹیم کا تیسرا میچ مصر کے خلاف 27 جون کو سییٹل میں ہو گا۔

  15. بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کار مناسب وقت پر ایران پہنچیں گے: ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران یہ سمجھنے میں غلطی پر ہے کہ اس کے جنگ میں متاثر ہونے والے جوہری مراکز کا بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی جانب سے معائنہ نہیں کیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ایجنسی کے معائنہ کار ’مناسب وقت‘ پر ایران میں موجود ہوں گے۔

    اس سے چند گھنٹے قبل انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ’ایران نے مکمل طور پر اور بغیر کسی شرط کے اعلیٰ ترین سطح پر جوہری معائنوں پر طویل مدت (یہاں تک کہ ہمیشہ کے لیے) اتفاق کیا ہے‘ اور یہ بھی کہا کہ ’اگر ایران اس پر راضی نہ ہوتا تو مزید مذاکرات نہ ہوتے۔‘

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایران کا جنگ سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے ایجنسی کو رسائی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ان کے یہ بیانات بظاہر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے گذشتہ روز کے بیان کے ردعمل میں تھے، جنھوں نے کہا تھا کہ ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کی واپسی پر اتفاق کیا ہے۔

  16. کسی ملک کو آبنائے ہرمز میں جہازوں سے ٹول وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: مارکو روبیو

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے اپنے خلیجی دورے کا آغاز کیا، جس دوران وہ کویت اور بحرین بھی جائیں گے تاکہ تہران سے متعلق معاہدے پر بات چیت کی جا سکے۔

    وزیر خارجہ نے ابوظہبی پہنچنے پر کہا کہ کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز میں جہازوں سے ٹول وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    انھوں نے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت کسی ملک کو اس پر ٹول یا فیس عائد کرنے کا حق حاصل نہیں۔

    مارکو روبیو کے مطابق انھیں نہیں لگتا کہ اس معاملے پر خطے میں کسی کو قائل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں کے تمام ممالک بھی اسی مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں۔

  17. اقوام متحدہ کے ادارے کا آبنائے ہرمز میں پھنسے 11 ہزار جہاز رانوں کا انخلا شروع کرنے کا اعلان

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ سے منسلک انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن نے آبنائے ہرمز میں پھنسے بحری جہازوں پر موجود عملے کے 11 ہزار سے زائد ارکان کے انخلا کا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ادارے کے مطابق یہ وہ جہاز ران ہیں جو ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں ٹریفک پر عائد پابندیوں کے بعد سے خطے میں پھنسے ہوئے تھے۔

    انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن نے کہا کہ ان جہاز رانوں کے انخلا کا آپریشن خطے کے تمام ممالک اور امریکہ کے قریبی تعاون سے کیا جائے گا۔

    اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق پھنسے ہوئے ملاحوں اور سمندری مسافروں نے مہینوں تک شدید مصائب اور مشکلات کا سامنا کیا ہے۔

    انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے کہا کہ ایران امریکہ معاہدہ سمندری سلامتی کی بحالی کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔

  18. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • ایرانی صدر مسعود پزشکیان اپنا ایک روزہ سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد اسلام آباد سے روانہ ہو گئے
    • اپنے دورہ پاکستان کے دوران پزشکیان نے وزیر اعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی
    • اسلام آباد میں ایرانی صدر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں شہباز شریف نے کہا کہ ’رہبر اعلیٰ تک یہ پیغام پہنچائیں کہ ایران نے وقار کے ساتھ جنگ بندی اور امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت حاصل کی ہے‘
    • ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ جنگ کے آغاز سے مفاہمتی یادداشت تک ہر مرحلے پر پاکستان نے انتھک اور مخلصانہ کوششیں کیں
  19. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔