لائیو, راولاکوٹ میں فائرنگ سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا ایک رکن ہلاک، کارکنان کا ہسپتال کے سامنے لاش رکھ کر احتجاج
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کے اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں شاہ زیب نامی شخص کی ہلاکت ہوئی۔ دوسری جانب راولاکوٹ کے ایس ایس پی خاور شوکت نے کہا ہے کہ وہ اس کی تحقیقات کر رہے ہیں جس کے بعد واقعہ کے بارے میں تفصیلات شییر کریں گے۔
خلاصہ
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں فائرنگ کے نتیجے میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا ایک رکن ہلاک ہو گیا ہے جس کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہیں
سونے کی قیمت میں فی تولہ 12 ہزار 489 روپے کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
بحرین کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ امن میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے قائم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی بارودی سرنگیں بچھا کر استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ،ایران فوری طور پر ان بلا جواز حملوں سے باز آئے۔'
امریکی ’جارحیت‘ کے بعد کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا: پاسداران انقلاب
لائیو کوریج
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی آج پاکستان سے ایران کے لیے روانہ ہوں گے
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی آج پاکستان سے ایران کے لیے روانہ ہوں گے۔ اس حوالے سے وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ وزیر داخلہ ثالثی کی کوششوں کے تحت ایران جا رہے ہیں۔
اہلکار کے مطابق ’وزیر داخلہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پیغام رہبر اعلیٰ کے لیے لے کر جا رہے ہیں جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ایرانی قیادت کے لیے انھیں خصوصی پیغام دیا ہے۔‘
خیال رہے یہ حالیہ ہفتوں میں محسن نقوی کا تیسرا دورہ تہران ہے اور وہ اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ بھی ایران کا سفر کر چکے ہیں
دوسری جانب وزارت داخلہ سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ وزیر محسن نقوی کرغزستان سے وطن واپس پہنچ گئے ہیں اور اب وہ وزیراعظم شہباز شریف اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کے بعد آج وہ تہران روانہ ہوں گے۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا نے بھی اس خبر کے حوالے سے بیان جاری کیا ہے کہ ’یہ دورہ اس کے فوراً بعد ہوا ہے جب محسن نقوی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے داخلہ کے اجلاس کے موقع پر اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی کے ساتھ دو ملاقاتیں کی تھیں۔
ارنا کے مطابق ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے حال ہی میں کہا ہے کہ دونوں فریق ایک مفاہمتی یادداشت کے مسودے کی تیاری کے آخری مراحل میں ہیں جس کا مقصد تنازع کے خاتمے پر مرکوز ہے۔
پاکستان میں سونے کی قیمت میں فی تولہ 12 ہزار 489 روپے کی کمی, تنویر ملک ، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے بعد سنیچر کے روز مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں فی تولہ 12 ہزار 489 روپے کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت کم ہو کر چار لاکھ 55 ہزار 327 روپے ہو گئی۔
اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 11 ہزار 240 روپے کمی کے بعد تین لاکھ 89 ہزار 772 روپے تک آ گئی۔
ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 124.89 ڈالر کمی کے بعد 4 ہزار 328.92 ڈالر فی اونس ہو گئی۔
مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں کا تعین عالمی نرخوں کے مقابلے میں 20 ڈالر پریمیم شامل کر کے کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی کمی دیکھنے میں آئی۔ فی تولہ چاندی 463 روپے سستی ہو کر سات ہزار 267 روپے کی سطح پر آ گئی جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 421 روپے کمی کے بعد چھ ہزار 202 روپے ہو گئی۔
بشکیک: محسن نقوی کی روس، تاجکستان، ازبکستان، کرغزستان اور قازقستان کے وزرائے داخلہ سے الگ الگ ملاقاتیں
،تصویر کا ذریعہMOI
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بشکیک میں روس، تاجکستان، ازبکستان، کرغزستان اور قازقستان کے وزرائے داخلہ سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں اور اس دوران اہم معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے ہیں۔
غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے تعاون
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی کی روسی وزیرِ داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف کے ساتھ ملاقات کے دوران اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے جن کے تحت پاکستان اور روس غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے تعاون بڑھائیں گے۔
دونوں ممالک اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ ایک دوسرے کی معاونت فراہم کریں گے اور ایسے شہریوں کی واپسی کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنائیں گے جو کسی بھی ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔
منشیات کے خلاف کارروائی اور غیر قانونی ادویات کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے تعاون کو مضبوط بنانے کا ایک اور معاہدہ بھی دستخط کیا گیا۔
افغانستان کے اندر سرگرم دہشت گرد کیمپوں پر توجہ مرکوز
وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور تاجک وزیرِ داخلہ رمضان رحیم زادہ کے درمیان ملاقات میں افغانستان کے اندر سرگرم دہشت گرد کیمپوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ دونوں وزراء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ افغانستان میں دہشت گرد کیمپ اور منشیات کی پیداوار خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرات ہیں۔
انھوں نے اتفاق کیا کہ اس وقت افغانستان میں مختلف (تقریباً 25) دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔
پاکستان اور ازبکستان میں ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق
وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور ازبکستان کے وزیرِ داخلہ میجر جنرل عزیز تاشپولاتوف کے درمیان بات چیت کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون اور مشترکہ تربیتی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فریقین نے اپنے اپنے وزارتِ داخلہ کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیا۔
کرغز وزیرِ داخلہ نیازبیک اولان اوموکانویچ کے ساتھ ایک علیحدہ ملاقات میں دونوں فریقین نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اپنے کرغز ہم منصب کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر کرغزستان کے انتخاب پر مبارک باد دی۔
قازقستان کے وزیرِ داخلہ یرزھان سعدینوف کے ساتھ ملاقات میں دونوں فریقین نے غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ دونوں وزرا نے دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی وزارتِ داخلہ کے درمیان ایک ورکنگ گروپ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔
راولاکوٹ میں فائرنگ کے نتیجے میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا ایک رکن ہلاک, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں فائرنگ کے نتیجے میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا ایک رکن ہلاک ہو گیا ہے جس کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں شاہ زیب نامی شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولاکوٹ کے ایس ایس پی خاور شوکت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شاہ زیب کی ہلاکت کے بارے میں کہا کہ وہ اس کی تحقیقات کر رہے ہیں اور جب تحقیقات مکمل ہو جائیں گی تو پھر وہ اس واقعہ کے بارے میں تفصیلات شییر کریں گے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ مذکورہ نوجوان راولاکوٹ سے عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن عمر نذیر کے ہمرار کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد واپس آرہے تھے کہ بر منج پل کے قریب ان کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں شاہ زیب موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔
انھوں نے کہا کہ عمر نذیر کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ملی کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اگرچہ عوامی ایکشن کمیٹی نے نو جون کو ہڑتال کی کال دی ہوئی ہے لیکن تاجروں کی بڑی تعداد نے آج سے ہی اپنی دکانیں بند کرنا شروع کردی ہیں۔
کمشنر راولاکوٹ سردار وحید نے بی بی سی کو بتایا کہ عمر نزیر اور شاہ زیب جلسے کے بعد واپس آرہے تھے کہ ڈبل کیبن میں بیٹھے ہوئے افراد جو کہ سول کپڑوں میں ملبوس تھے ان کی جانب سے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی اور فائرنگ کے نتیجے میں شاہ زیب ہلاک ہوگیا۔
انھوں نے کہا کہ پولیس کی طرف سے جو رپورٹ دی گئی ہے اس کے مطابق عمر نذیر کی گاڑی سے بھی فائرنگ کی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے گاڑی پر فائرنگ نہیں کی گئی اور نہ ہی پولیس اس وقت جائے حادثہ پر پہلے سے موجود تھے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو: پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے
راولاکوٹ میں شیخ زید ہسپتال کے سامنے ڈیڈ باڈی رکھ کر احتجاج
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صحافی فرحان طارق کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنان راولاکوٹ میں شیخ زید ہسپتال کے سامنے ڈیڈ باڈی رکھ کر احتجاج کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت سینکڑوں کارکنان ہسپتال کے باہر موجود ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کی ایک قابل ذکر تعداد ہسپتال کے باہر موجود ہے۔
انھوں نے کہا کہ شاہ زیب کی نماز جنازہ شام چھ بجے ادا کی جائے گی اور جنازے میں شرکت کے لیے باغ اور پلندری سے لوگ راولاکوٹ کی طرف جا رہے ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بند، سکیورٹی سخت
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ہوم ڈپارٹمنٹ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ڈھائی سو سے زیادہ ایسے افراد کی فہرست تیار کر لی گئی ہے جن کے بارے میں کہ بتایا جاتا ہے کہ وہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سرکردہ رہنما ہیں۔
اہلکار کے مطابق اس فہرست میں شامل افراد کو انسداد دہشت ایکٹ کے شیڈول ون میں ڈالا جائے گا جس کے مطابق ان افراد کی نہ صرف نقل و حرکت پر پابندی ہوگی بلکہ وہ اپنے بینک اکاونٹس بھی اجازت کے بغیر استعمال نہیں کر سکیں گے۔
اہلکار کے مطابق ’بارہ ہزار سے زیادہ رینجرز کے اہلکاروں کو کشمیر کے مختلف علاقوں میں تعینات کیا جا رہا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے چھ ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار بھی امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔‘
دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے۔
امن میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے قائم نہیں کیا جا سکتا، ایران فوری طور پر بلا جواز حملوں سے باز آئے: بحرین
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
بحرین کی وزارتِ خارجہ نے ایران کی جانب سے بحرین اور کویت پر آج صبح کیے گئے حملوں کی نئی لہر کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے قائم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی بارودی سرنگیں بچھا کر استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ،ایران فوری طور پر ان بلا جواز حملوں سے باز آئے۔‘
بحرین کی وزارت خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ’ آج میزائل اور ڈرون داغنے والوں کے پاس دو راستے ہیں، یا تو امن اور تعاون کا راستہ اختیار کرے یا خود کو تنہا سمجھے‘
بیان کے مطابق ’ ایران امن کی راہ اپنائے، اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بغیر کسی پابندی یا فیس کے کھول دے تاکہ سمندری جہازرانی کی آزادی برقرار رہے۔‘
بیان میں متنبہ کیا گیا کہ ’اپنی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کا دفاع اور عوام کا تحفظ ایک ایسی سرخ لکیر ہے جس پر بحرین کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔‘
یاد رہے کہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ’کویت میں امریکہ کے دو فضائی اڈوں اور بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کی اہم تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔‘
وزارت نے کہا کہ بحرین اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام جائز اقدامات کرے گا اور اسے اپنے برادر ممالک اور اتحادیوں کی حمایت حاصل ہوگی۔
بیان کے مطابق ’ایران کا یہ اقدام خلیجِ عرب کے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے اور دینِ اسلام کی ان تعلیمات کے بھی منافی ہے جو جارحیت سے اجتناب اور خونریزی روکنے پر زور دیتی ہیں۔‘
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی حملوں میں دونوں ممالک کی سرزمین کی جانب سات بیلسٹک میزائل داغے گئے، جنھیں اللہ کے فضل سے کامیابی کے ساتھ روک لیا گیا۔ ‘
بحرین کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ یہ کھلی جارحیت دونوں ممالک کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی، اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی اصولوں کی سنگین پامالی ہے، اور بین الاقوامی قانونی فیصلوں کی مسلسل خلاف ورزی کی عکاسی کرتی ہے۔
وزارت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مملکتِ بحرین خطے میں امن اور استحکام کے راستے پر کاربند ہے تاہم اس کا صبر کمزوری کی علامت نہیں۔
اسرائیلی حملے میں کئی فوجی ہلاک ہو گئے: لبنان
لبنان کی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے کئی
فوجی اور ایک نان کمیشنڈ افسر جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
لبنانی
فوج کے مطابق اسرائیل نے خردلی سے نبطیہ جانے والی سڑک پر ایک فوجی گاڑی کو نشانہ
بنایا۔
بڑی ٹیک کمپنیوں کے خدشات کے باعث وال سٹریٹ میں مندی، امریکی سٹاکس گر گئے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جمعے کو امریکی سٹاک مارکیٹوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جہاں ٹیکنالوجی پر مبنی نیسڈیک انڈیکس اپریل 2025 کے بعد اپنی سب سے بڑی ایک روزہ گراوٹ کا شکار ہوا۔
اس خدشے کے بڑھنے کے ساتھ کہ اس سال اب تک ہونے والی مارکیٹ کی بڑھوتری پائیدار نہیں ہو سکتی، اپریل کی ملازمتوں سے متعلق غیر متوقع طور پر مضبوط امریکی رپورٹ نے فروخت کے رجحان کو جنم دیا، اور ہفتے کے اختتام پر بڑی امریکی مارکیٹیں مندی پر بند ہوئیں۔
اس ڈیٹا نے سرمایہ کاروں میں یہ خدشات مزید بڑھا دیے کہ فیڈرل ریزرو شرحِ سود کو زیادہ عرصے تک بلند رکھ سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ مہنگائی اب بھی قابو میں نہیں آ رہی۔
نیسڈیک انڈیکس 4 فیصد سے زیادہ گر گیا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 میں 2.6 فیصد کمی ہوئی اور ڈاؤ جونز صنعتی اوسط 1.35 فیصد نیچے آ گیا۔
ڈیجیٹل اثاثوں میں بھی جمعے کو تیزی سے فروخت دیکھی گئی۔ سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن میں نمایاں کمی آئی کیونکہ سرمایہ کاروں نے زیادہ خطرناک اثاثوں سے ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا۔
یہ اچانک کمی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ سرمایہ کار بلند شرحِ سود سے کس قدر خوفزدہ ہیں۔
اگرچہ مضبوط روزگار کا بازار عموماً معیشت کے لیے اچھی خبر ہوتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ فیڈرل ریزرو جلد قرضے کی لاگت کم کرنے کا امکان نہیں رکھتا۔
میکواری گروپ کے اکنامکس کے سربراہ ڈیوڈ ڈوئل نے کہا کہ جمعے کی روزگار رپورٹ ممکنہ طور پر "حد سے زیادہ اچھی" تھی، خاص طور پر بلند مہنگائی کے تناظر میں۔
انھوں نے کہا کہ اس ڈیٹا نے اس امکان کو بڑھا دیا ہے کہ فیڈرل ریزرو اس سال شرحِ سود میں اضافہ کر سکتا ہے، جس نے سٹاک مارکیٹ میں فروخت کو مزید بڑھایا۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ سرمایہ کار جو شرحِ سود میں کمی کے منتظر تھے، انہیں فوری طور پر اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنا پڑی۔
تاہم، جمعے کی یہ گراوٹ عالمی مارکیٹ میں خوف و ہراس کی علامت نہیں تھی۔ اس کے بجائے، سرمایہ کار ٹیکنالوجی سٹاکس سے نکل کر دیگر شعبوں کی طرف منتقل ہوتے دکھائی دیے، جن کے بارے میں ناقدین پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ ان کی قدر بہت زیادہ بڑھ چکی ہے اور وہ 2000 کی دہائی کے اوائل کے ڈاٹ کام ببل کی طرح گر سکتے ہیں۔
بڑے سرمایہ کاری فنڈز نے اے آئی اور مائیکروچِپ کمپنیوں سے سرمایہ نکال لیا، جن کے حصص کی قیمتیں حالیہ برسوں میں تیزی سے بڑھی تھیں۔
مارکیٹ سے مکمل طور پر نکلنے کے بجائے، سرمایہ کار روایتی طور پر محفوظ سمجھے جانے والے شعبوں کی طرف بڑھ گئے۔ صحت، یوٹیلٹیز اور روزمرہ استعمال کی اشیاء جیسے شعبوں میں اضافہ دیکھا گیا، جن میں کرافٹ ہائنز اور کیورگ ڈاکٹر پیپر جیسی کمپنیاں شامل ہیں، کیونکہ سرمایہ کار استحکام کی تلاش میں تھے۔
یہ تیز گراوٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیوں کے حصص کس قدر غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔
چونکہ چند بڑی ٹیک کمپنیوں کا سٹاک مارکیٹ میں بہت بڑا حصہ ہے، اس لیے سرمایہ کاروں کے رجحان میں معمولی تبدیلی بھی پوری مارکیٹ کو نیچے لے جا سکتی ہے۔
مارکیٹ میں اس گراوٹ پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کی روزگار رپورٹ پر منفی ردعمل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’مہنگائی پر حد سے زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا، ’مجھے امید ہے کہ مارکیٹ یہ سیکھے گی کہ جب اعداد و شمار اچھے ہوں تو مارکیٹ کو اوپر جانا چاہیے، نیچے نہیں۔‘
دوسری جانب، آئندہ ہفتے ٹیکنالوجی اور سیاست توجہ کا مرکز ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے بڑے اے آئی ایگزیکٹوز کو وائٹ ہاؤس مدعو کیا ہے تاکہ ایک نئی تجویز پر بات کی جا سکے: کہ امریکی حکومت ان کی کمپنیوں میں عوامی حصص حاصل کرے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس قدم کا مقصد نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں عوام کا نقطۂ نظر تبدیل کرنا ہے، تاکہ عام امریکی بھی ’اے آئی کی کامیابی سے فائدہ اٹھا سکیں۔‘
’لبنان کو اس کے حقیقی دشمن سے نجات دلائیں‘: لبنانی صدر کے بیان پر ایران کا ردعمل
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے
لبنان کے صدر جوزف عون کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ
مذاکرات میں لبنان ایران کا ’سودے بازی کا کارڈ‘ ہوتا تو تہران کافی پہلے واشنگٹن
کے ساتھ معاہدہ کر سکتا تھا۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے سی این این
کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران اور اس کی اتحادی حزب اللہ لبنان کو
امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ’سودے بازی کے ایک آلے‘ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’ایران کے
مفادات کی قیمت لبنان کے عوام چکا رہے ہیں اور اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ
سے تھک چکے ہیں۔‘
جوزف عون نے ایران سے مطالبہ کیا تھا
کہ وہ ان کے ملک میں مداخلت نہ کرے اور حزب اللہ سے بھی کہا تھا کہ اسرائیل کے
ساتھ تنازع کا واحد حل سفارت کاری ہے۔
لبنان کے صدر نے اس گفتگو میں ایران
کے پاسداران انقلاب سے مخاطب ہو کر کہا تھا: ’یہ آپ کا نہیں، ہمارا ملک ہے۔ آپ کا
کام نہیں کہ ہمارے ملک میں مداخلت کریں۔‘
لبنانی
صدر کے اس انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم
ایکس پر لکھا: ’جوزف عون کے بیانات کے مطابق، بظاہر یہ ایران ہے جس نے لبنان کے
پانچویں حصے پر قبضہ کیا، ایک چوتھائی لبنانیوں کو بے گھر کیا اور ان کے ملک پر
روزانہ بمباری کرتا ہے۔ جناب صدر، لبنان کو اس کے حقیقی دشمن سے نجات دلائیں۔‘
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہڑتال کی کال کے پیش نظر رینجرز تعینات، مہاجرین کی نشستوں سے متعلق ریفرنس کی آج سماعت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی
سپریم کورٹ میں مہاجرین کی 12 نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت آج ہو رہی
ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ یہ کیس سن رہا ہے۔
چیف جسٹس نے اس کیس میں معاونت کے
لیے سپریم کورٹ کے دو سینیئر وکلا کو عدالتی معاون مقرر کیا ہے، جبکہ عوام الناس
(پبلک ایٹ لارج) کو بھی کیس میں مدد کے لیے نوٹس جاری کیے گئے ہیں، تاکہ متعلقہ
فریق یا دلچسپی رکھنے والے شہری اپنا نقطہ نظر پیش کر سکیں۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں زیرِ سماعت
ہے جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے انہی مہاجر نشستوں کے معاملے پر نو جون کو پاکستان
کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔ ان 12 نشستوں میں سے 10 صوبہ
پنجاب میں واقع ہیں۔
دوسری جانب چند وکلا نے پاکستان کے
زیرِ انتظام کشمیر کے قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر کی تعیناتی کو بھی ہائی کورٹ
میں چیلنج کر رکھا ہے۔ چوہدری لطیف اکبر اس وقت قانون ساز اسمبلی کے سپیکر ہیں اور
31 جنوری کو سابق صدر بیرسٹر سلطان محمود کی وفات کے بعد سے قائم مقام صدر کی ذمہ
داریاں سنبھال رہے ہیں۔ درخواست گزار وکلا کا مؤقف ہے کہ صدر کا عہدہ ایک اہم
آئینی منصب ہے اور اسے طویل عرصے تک خالی نہیں رکھا جا سکتا۔
ممکنہ احتجاج اور ہڑتال کے پیش نظر
حکومت نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔ مظفرآباد، میرپور، کوٹلی اور دیگر بڑے
شہروں میں رینجرز تعینات کر دی گئی ہے۔
محکمۂ داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق
12 ہزار سے زائد رینجرز اہلکار مختلف علاقوں میں پہنچ چکے ہیں، جبکہ اسلام آباد
پولیس کے تقریباً 1500 اہلکاروں کی تعیناتی بھی متوقع ہے۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں تا حکمِ ثانی انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے، جبکہ موبائل فون سروس بدستور فعال ہے۔
ادھر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے
وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے اسلام آباد میں اعلیٰ حکومتی نمائندوں سے ملاقات
کی اور انھیں موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن
راجہ الیاس نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا احتجاج مکمل طور پر پُر امن ہوگا۔ ان کے
مطابق وہ حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عمل در آمد کا
مطالبہ کر رہے ہیں اور مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مہاجرین کی 12 نشستوں کا تنازع کیا ہے؟ اس حوالے سے مزید جاننے کے لیے بی بی سی کی یہ تحریر پڑھیں۔
صحرائے صحارا میں گاڑی خراب ہونے پر پھنس جانے والے 50 افراد پیاس سے ہلاک
حکام کے مطابق کم از کم 50 افراد نائجر کے شمالی حصے میں واقع صحراۓ صحارا کے ایک دور دراز علاقے میں اس وقت پیاس سے ہلاک ہو گئے جب ان کو لے جانے والا ٹرک خراب ہو گیا۔
یہ گروہ مالی سے واپس آ رہا تھا، جہاں وہ عید الاضحیٰ کی تقریبات میں شرکت کے لیے گیا تھا، لیکن راستے میں ان کا پانی ختم ہو گیا اور وہ اسمکہ سے تقریباً 80 کلومیٹر (50 میل) مغرب میں پھنس گئے، جو نائجر اور الجزائر کے درمیان ایک اہم سرحدی گزرگاہ ہے۔
اگادیز کے گورنر نے کہا، ’مسافرایک ایسے خطرناک ماحول کے بیچ میں پھنس گئے جہاں انتہائی درجہ حرارت اور سہولیات کی عدم دستیابی بقا کو نہایت مشکل بنا دیتی ہے۔‘
صرف دو افراد زندہ بچ سکے، جو صحرا عبور کرتے ہوئے اسمکہ تک پہنچے اور وہاں حکام کو اطلاع دی۔
ایک مقامی این جی او کے سربراہ چیہو ازیزو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے خلاف ہم برسوں سے کام کر رہے ہیں۔‘
’ہم ڈرائیوروں، مسافروں اور نقل نکانی سے متعلق سرگرمیوں میں شامل ہر فرد کو صحرا عبور کرنے کے خطرات کے بارے میں آگاہی دے رہے ہیں۔ یہ حالیہ واقعہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ عام طور پر ہم لیبیا یا الجزائر جانے والے راستوں پر اس طرح کے واقعات دیکھتے ہیں۔‘
اس تازہ واقعے میں، اگادیز کے گورنر کے بیان کے مطابق، یہ گاڑی مالی کے شہر تلہنڈیک سے روانہ ہوئی تھی لیکن اپنے مقررہ راستے سے بھٹک گئی۔
ڈرائیور اور مسافروں نے کئی دنوں تک گاڑی کو ٹھیک کرنے کی بار بار کوشش کی، لیکن ان کی یہ کوششیں آخرکار ناکام ثابت ہوئیں۔
بیان میں مزید کہا گیا، ’پانی سے محروم ہونے اور گاڑی کو ٹھیک نہ کر پانے کے باعث‘ زیادہ تر لوگ زندہ نہ رہ سکے۔
حکام کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’درجنوں لاشیں اس ناکارہ لاری کے نیچے اور اس کے اطراف سے ملی ہیں‘۔
متاثرین، جو سب کے سب نائجر کے شہری تھے، کو مقامی حکام کی جانب سے بھیجی گئی امدادی ٹیم نے اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا۔
،تصویر کا ذریعہAgadez governorate/Facebook
ریسکیو ٹیم نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے واپسی کے دوران انھیں ایک اور خراب گاڑی نظر آئی جس میں 60 سے زائد افراد سوار تھے، جو بیٹری خراب ہونے کے باعث تین دن سے پھنسے ہوئے تھے۔
گورنر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ لاری مالی کے شہر ہاروبا سے روانہ ہوئی تھی، جو نائجر کی سرحد سے 300 کلومیٹر سے زیادہ دور ہے۔
ریسکیو ٹیم، جس میں نائجر کی فوج بھی شامل تھی، انھوں نے ’تھکے ماندہ اور پریشان حال مسافروں‘ میں پانی تقسیم کیا اور گاڑی کی مرمت میں مدد دی، جس کے بعد وہ محفوظ طریقے سے اپنا سفر دوبارہ شروع کرنے کے قابل ہو گئے۔
نائجر کا صحرا اب بھی مغربی افریقہ بھر سے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے تارکینِ وطن کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، جو اس خطرناک سفر سے جڑے خطرات کے باوجود بار بار اسے اختیار کرتے ہیں۔
قریب ترین شہر اگادیز کے گورنر نے کہا کہ یہ سانحہ ان نوجوانوں کی ’کمزوری اور بے بسی‘ کو اجاگر کرتا ہے جو ہجرت اور سرحد پار معاشی سرگرمیوں میں مصروف ہوتے ہیں اور اکثر بہتر زندگی کی تلاش میں غیر مستحکم علاقوں سے گزرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
امریکی فوج نے ایران میں گوروک اور جزیرہ قشم پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی
،تصویر کا ذریعہx.com/CENTCOM
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے
ایک ویڈیو جاری کی ہے جو اس کے مطابق گوروک اور جزیرہ قشم میں ایران کے ریڈار
مقامات کو نشانہ بنائے جانے کی ہے۔
سینٹکام کا کہنا ہے کہ ’بحری آمد و
رفت کو لاحق فوری نوعیت کے خطرے‘ کے جواب میں امریکی افواج نے ان مقامات کو نشانہ
بنایا۔
اس
سے قبل سینٹکام نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی طرف داغے گئے چار خودکش ڈرون
مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
ایران کے چھ میزائل روکے، ساتواں ہدف تک نہ پہنچ سکا: سینٹکام
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام)
نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے ہمسایہ
ممالک کی طرف داغے گئے متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون روکے۔
سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم
ایکس پر لکھا کہ پہلے ایران نے آبنائے ہرمز کی طرف چار خودکش ڈرون داغے جنھیں مار
گرایا گیا۔ اس کے چند گھنٹوں بعد ایران نے کویت اور بحرین کی جانب سات بیلسٹک
میزائل داغے۔
سینٹکام کے مطابق ابتدائی جائزوں سے
ظاہر ہوتا ہے کہ چھ میزائل روک لیے گئے جبکہ ساتواں میزائل اپنے ہدف تک نہ پہنچ
سکا۔
امریکی
فوج نے یہ بھی کہا کہ امریکی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی
اور بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچنے سے
متعلق ایران کے دعوے ’غلط‘ ہیں۔
کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا: پاسداران انقلاب
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایران کے
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کویت میں امریکہ کے دو فضائی اڈوں اور بحرین میں
امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کی اہم تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا
گیا۔
پاسداران
انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ سنیچر کی صبح ’امریکی فوج کے اکسانے پر اور اس کی رہنمائی
میں چار تیل بردار بحری جہاز غیر قانونی طور پر آبنائے ہرمز عبور کرنے کا ارادہ
رکھتے تھے۔‘
پاسداران
انقلاب کے مطابق اس کی بحریہ نے انتباہ بھی جاری کیا، جسے نظر انداز کیا گیا۔ اس
پر ایک بحری جہاز کو نشانہ بنا کر روک دیا گیا اور دیگر واپس لوٹ گئے۔
پاسداران
انقلاب کے بیان میں کہا گیا کہ اس واقعے کے بعد ’امریکی ڈرونز نے قشم میں ایک مواصلاتی ٹاور اور
سیریک میں ایک ٹاور کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔‘
اس
سے پہلے امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے اعلان کیا تھا کہ اس نے آبنائے
ہرمز کی طرف داغے گئے چار ایرانی ڈرون مار گرائے اور پھر گوروک اور جزیرہ قشم میں
ایران کے ریڈار مقامات کو نشانہ بنایا۔
خطے میں امریکی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا: پاسداران انقلاب
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے پاسداران انقلاب
کے شعبۂ تعلقات عامہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ گوروک اور جزیرہ قشم پر امریکی ’جارحیت‘
کے بعد خطے میں ’دشمن‘ کے اڈوں کو ایرانی فوج کی جانب سے ایروسپیس میزائلوں سے
نشانہ بنایا گیا۔
بحرین میں خطرے کا سائرن اور فضائی انتباہ جاری
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا ہے
خطرے کے سائرن بجائے گئے ہیں اور ملک میں فضائی انتباہ جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ انتباہ آبنائے ہرمز میں تازہ
جھڑپوں کے بعد اس وقت جاری کیا گیا جب کویت نے اعلان کیا کہ وہ میزائل اور ڈرون
حملوں کا نشانہ بنا ہے۔
بحرین
کی وزارتِ داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں لکھا: ’خطرے کا
سائرن بج چکا ہے۔ شہریوں اور رہائشیوں سے درخواست ہے کہ وہ پر سکون رہیں اور قریبی
محفوظ مقام پر چلے جائیں۔‘
فضائی دفاع کا نظام میزائلوں اور ڈرونز کو روک رہا ہے: کویت
کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کونا
نے ملک کی مسلح افواج کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ کویت کا فضائی دفاع کا نظام سنیچر
کے روز حملہ آور میزائلوں اور ڈرونز کو روک رہا ہے۔
کویتی فوج نے مزید کہا کہ دھماکوں کی
آوازیں فضائی دفاع کے نظام کی جانب سے اہداف کو نشانہ بنائے جانے کی وجہ سے ہیں۔
کویت
کے فوجی حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ
حفاظتی اور سکیورٹی ہدایات پر عمل کریں۔
امریکی افواج نے بحرِ ہند میں ایک آئل ٹینکر کو تحویل میں لیا: پینٹاگون
،تصویر کا ذریعہUniversal Images Group via Getty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ
جمعرات کی شب بغیر پرچم والے ’ڈاوینا‘ نام ایک ایسے تیل بردار بحری جہاز کو بحر
ہند میں روک کر تلاشی لی گئی جس پر پابندیاں ہیں۔
امریکہ نے ایران کی بحری تجارت پر
محاصرہ نافذ کر رکھا ہے اور خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تہران نے بعض جہازوں
کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روکنے کے لیے ان پر فائرنگ بھی کی۔
امریکی افواج نے حالیہ مہینوں میں
بحرِ ہند میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کو روکا ہے۔
جہازوں کی نگرانی کے ڈیٹا کے مطابق
تیل بردار بحری جہاز ڈاوینا 20 لاکھ بیرل تک خام تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور
ایرانی تیل کی تجارت میں استعمال ہونے پر اکتوبر 2024 میں اس پر امریکہ نے
پابندیاں لگائی تھیں۔
بحری نگرانی کے نظام میرین ٹریفک کے
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جہاز لینور کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور
اسے آخری بار پانچ جون کو سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب دیکھا گیا تھا۔
شپنگ
کے اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ پکڑے جانے کے وقت اس بحری جہاز میں تیل
کی کھیپ موجود تھی۔
امریکی فوج کا آبنائے ہرمز پر چار ایرانی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہU.S. Navy via Getty Images
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے
ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کی طرف داغے گئے چار خودکش ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
کیا ہے۔
سینٹکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون خطے
میں بحری آمد و رفت کے لیے فوری نوعیت کا خطرہ تھے۔
سینٹکام کے مطابق امریکی افواج نے
مزید حملوں کو روکنے کے لیے گوروک اور جزیرہ قشم میں ایران کے ساحلی نگرانی کے
ریڈار مراکز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
ایران
کی کارروائیوں کو بلاجواز اور جارحانہ قرار دیتے ہوئے سینٹکام نے یہ بھی کہا کہ
امریکی افواج بدستور چوکس ہیں اور اپنے دفاع کے لیے جوابی کارروائیاں کریں گی۔
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں چار روپے کمی کا اعلان
پاکستان کی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں چار روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے۔
وزارت توانائی کے پیٹرولیئم ڈویژن کے اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 377 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت 380 روپے 78 پیسے فی لیٹر برقرار ہے۔
پیٹرول کی نئی قیمت کا اطلاق رات 12 بجے سے ہو چکا ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنستمبر 2025 کے دوران مظفر آباد میں عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کا منظر
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے صدر نے
جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے
محکمۂ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں عوامی ایکشن کمیٹی پر دہشتگردی
میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے اپنے اقدام سے ریاست میں امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالا۔
محکمۂ داخلہ کا الزام ہے کہ جموں وکشمیر
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے عوام کو ریاست کے خلاف اُکسایا، نفرت انگیزی کو فروغ دیا
اور معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا۔
اس اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان
کے زیرِ انتظام کشمیر کے صدر نے انسداد دہشتگردی ایکٹ 2014 کی شق 12 کے تحت جموں و
کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیموں کی فہرست ’فرسٹ شیڈول‘ میں شامل کرنے
کی منظوری دے دی ہے۔
تاحال عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے اس
اعلامیے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ یہ تنظیم ماضی میں مظفر آباد سمیت دیگر علاقوں میں احتجاج کر چکی ہے اور اس کی جانب سے اسمبلی میں 12 مخصوص نشستوں، حکمران اشرافیہ کی مراعات اور کوٹہ سسٹم کے خاتمے سمیت دیگر مطالبات کیے جاتے رہے ہیں۔
آئندہ منگل کو احتجاج کی کال کے پیش نظر جموں و
کشمیر یونیورسٹی نے آٹھ جون سے ہونے والے تمام امتحانات تاحکمِ ثانی مؤخر کر دیے
ہیں جبکہ مظفر آباد سمیت کئی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس سست روی اور تعطل کا شکار
ہے۔
یاد رہے کہ عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنے
مطالبات کے حق میں نو جون کو مکمل ہڑتال کی کال دے رکھی ہے جبکہ آئی جی کشمیر
ڈاکٹر لیاقت علی کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت سے اضافی
سکیورٹی طلب کی گئی ہے اور دیگر ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
اس حوالے سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی
حکومت نے کہا تھا کہ احتجاج کے نام پر ’کسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیا جائے
گا۔‘
دریں اثنا کشمیر کے مختلف شہروں سے لوگوں نے
انٹرنیٹ سروس کی سست روی اور تعطل کی شکایات کی ہیں۔ کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی سکیورٹی
صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے
کے لیے متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔