’صفر اعتماد‘ کی بنیاد پر تیار کیا گیا فلسطینی گروہوں کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی فوج کے انخلا کا منصوبہ کیا ہے؟, شائمہ خلیل بی بی سی نیوز کی نامہ نگار برائے شمالی امریکہ

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
بی بی سی کو چار صفحات پر مشتمل ایک روڈمیپ حاصل ہوا ہے، جس میں غزہ میں موجود مسلح گروہوں کے غیر مسلح ہونے کے مرحلہ وار عمل کی تفصیلات موجود ہیں۔
اس منصوبے کے تحت حماس کے غیر مسلح ہونے کے عمل کو اسرائیلی فوج کے بتدریج انخلا اور ایک نئی عبوری فلسطینی اتھارٹی کے قیام سے جوڑا گیا ہے، جسے ایک بین الاقوامی استحکام فورس کی حمایت حاصل ہو گی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کو جان بوجھ کر ’صفر اعتماد‘ کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے اور اس میں تصدیق کے طریقۂ کار شامل ہیں، یعنی نہ حماس اور نہ ہی اسرائیل اگلے مرحلے میں اس وقت تک داخل ہوں گے جب تک مخالف فریق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر لیتا۔
ان حکام کے مطابق، غزہ میں موجود نسبتاً چھوٹے مسلح گروہوں کو پہلے غیر مسلح کیا جائے گا، جس کے بعد حماس اپنی اس عسکری ساخت کو ختم کرنا شروع کرے گی جسے امریکی حکام نے ایک "ریاست نما فوجی ڈھانچہ" قرار دیا ہے۔ اس میں سرنگیں، اسلحہ گودام اور ہتھیار سازی کی تنصیبات شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل کو مکمل ہونے میں خاصا وقت لگ سکتا ہے۔
روڈمیپ کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد ایک نئی فلسطینی اتھارٹی غزہ میں تمام ہتھیاروں پر مکمل اختیار رکھے گی۔ اسرائیل نے تاحال اس منصوبے پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔





