ٹرمپ کے ساتھ ملاقات ’بہترین‘ رہی: اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو

،تصویر کا ذریعہMaâayan Toaf (GPO)/Handout/Anadolu via Getty Images
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کو کہا کہ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی ملاقات ’بہترین‘ رہی۔
ایران کے خلاف مشترکہ جنگ شروع کرنے کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔
بند کمرے میں ہونے والی یہ ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹے جاری رہی اور وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کے مطابق ’مثبت اور نتیجہ خیز‘ رہی۔
ٹرمپ نے بھی ملاقات کے کئی گھنٹے بعد سوشل میڈیا پر اسے ’بہت اچھی ملاقات‘ قرار دیا اور کہا کہ اس دوران ’بہت سے اہم موضوعات پر بات ہوئی‘، تاہم انھوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب دونوں رہنما اپنے اپنے ملک میں سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ نیتن یاہو کو دوبارہ انتخاب کا سامنا ہے اور ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں خرابی ان کے لیے ایک سیاسی مسئلہ بن چکی ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ پر دباؤ ہے کہ وہ اس غیر مقبول جنگ کا خاتمہ کریں جس نے معیشت کو متاثر کیا، قیمتوں میں اضافہ کیا اور نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل سیاسی مشکلات پیدا کی ہیں۔
اے پی کے مطابق ملاقات کے بعد نیتن یاہو نے انسٹاگرام پر انتہائی گرمجوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس اجلاس میں ٹرمپ کی ’پوری سینئر ٹیم شریک تھی۔

،تصویر کا ذریعہMaâayan Toaf (GPO)/Handout/Anadolu via Getty Images
اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس بھی موجود تھے، جو ماضی میں اسرائیل پر تنقید کر چکے ہیں اور جون میں اسرائیلی حکام کو خبردار کر چکے تھے کہ عالمی رہنماؤں میں ٹرمپ ہی ان کے حقیقی دوست ہیں۔
نیتن یاہو نے عبرانی زبان میں کہا: ’جب میں بہترین کہتا ہوں تو میرا مطلب رسمی تعریف نہیں ہوتا۔ یہ مکمل شراکت داری، باہمی حمایت اور اس مشترکہ مقصد کے تحت ہونے والی گفتگو تھی کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہ ہوں، اور دیگر مقاصد بھی حاصل کیے جائیں۔‘
بعد میں نیتن یاہو نے جے ڈی وینس اور ٹرمپ کے ساتھ امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی آخری رسومات میں بھی شرکت کی، جہاں ان کی یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بھی گفتگو ہوئی۔




