لائیو, ایرانی صدر کی پاکستان آمد سے قبل اسلام آباد میں ریڈ زون سیل اور سکیورٹی کے سخت انتظامات

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق یہ دورہ ’اسلام آباد مفاہمت یادداشت‘ پر دستخط کے بعد جاری سفارتی مصروفیات کے ساتھ ساتھ باہمی دلچسپی کی علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بھی بات چیت کا اہم موقع فراہم کرے گا۔ ایرانی صدر کی آمد کے تناظر میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں تیاریاں جاری ہیں اور سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

خلاصہ

  • ایرانی وفد نے واک آؤٹ کی دھمکی دی تھی، لیکن مذاکرات میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے: امریکی نائب صدر
  • امریکہ نے ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کے لیے 60 دن کا عارضی لائسنس جاری کر دیا
  • ایران امریکہ کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کا اعلامیہ جاری لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے سیل بنانے پر اتفاق، بات چیت جاری رہے گی
  • ایران کے صدر منگل کو پاکستان آئیں گے: پاکستانی دفترِ خارجہ کی تصدیق
  • امریکہ، ایران تکنیکی مذاکرات پیر کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ
  • اُمید کرتے ہیں کہ امریکہ اور ایران مذاکرات کی رفتار برقرار رکھیں گے: ترجمان چینی وزارتِ خارجہ
  • سوئٹزرلینڈ میں امریکہ، ایران مذاکرات میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کا پہلا دور 80 منٹ جاری رہا

لائیو کوریج

  1. ایران امریکہ سے زرعی سامان خریدنے کا پابند نہیں، ٹرمپ کے بیان پر ایران کے مرکزی بینک کا ردعمل

    ایران کے مرکزی بینک کے گورنر نے کہا ہے کہ ایران امریکہ سے زرعی سامان خریدنے کا پابند نہیں تاہم اگر امریکی قیمتیں اور معیار دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ موزوں ہیں تو ہمیں امریکہ سے تجارت میں کوئی رکاوٹ نہیں۔

    عبدالنصر ہمتی نے یہ بھی کہا کہ ایران کی حالیہ زرعی خریداری میں امریکی اور یورپی یونین کی بڑی فرمیں معمول کے مطابق شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے جو منجمد اثاثے بحال کیے جا رہے ہیں، وہ انھیں امریکہ سے خوراک خریدنے کے لیے استعمال کرے گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے پہلے دور کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایران کے کچھ منجمد اثاثے جاری کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ رقم خوراک کی خریداری کے لیے استعمال کی جانی ہے اور یہ خصوصی طور پر امریکہ اور امریکی کسانوں سے خریدی جائے گی۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ تازہ ترین پیشرفت کے حصے کے طور پر امریکی کسانوں سے مکئی، سویابین اور دیگر زرعی مصنوعات خریدی جائیں گی۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارے کسان بہت خوش ہیں۔ مجھے بہت سی کالیں موصول ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس سے بہت خوش ہیں۔‘

  2. ایران امریکہ بات چیت میں تین تکنیکی گروپس شامل ہیں: پاکستانی وزیر خارجہ

    اسحاق ڈار

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کی وجہ سے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں ناکام ہونے کے قریب پہنچ گئی تھیں۔

    پاکستان کے وزیر خارجہ نے سوئس ریزورٹ میں ہونے والی امریکہ ایران تکنیکی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مذاکرات کچھ دن پہلے بھی شروع ہو سکتے تھے لیکن لبنان پر اسرائیلی حملے کی وجہ سے سب کچھ رک گیا۔

    العربیہ نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جن معاملات پر بات چیت ہو گی ان میں ایران کے جوہری معاملات، اس پر پابندیوں اور منجمد اثاثوں اور لبنان پر توجہ مرکوز کرنے والے تین ورکنگ گروپس شامل ہیں۔

    اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات کاروں کو کچھ معاملات پر کام مکمل کرنے کے لیے 30 دن کا وقت دیا گیا ہے جبکہ وسیع تر معاہدے کو 60 دن کے اندر حتمی شکل دینے کی امید ہے۔

    اسحاق ڈار نے پاکستان کے موقف کا اعادہ کیا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کو ان حالات میں واپس آنا چاہیے جو 28 فروری کو تنازعہ شروع ہونے سے پہلے موجود تھے۔

  3. روس یوکرین تنازع: پاکستان کا فوری جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کی بحالی کا مطالبہ

    پاکستان نے روس یوکرین کے تنازع کے خاتمے کے لیے فوری جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق یوکرین کے معاملے پر سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندے اور سفیر عثمان جدون نے افسوس کا اظہار کیا کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مثبت پیشرفت نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے یہ تنازع مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔

    پریس ریلیز کے مطابق پاکستانی سفیر نے روشنی ڈالی کہ جنگ کی وجہ سے عام شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

    بیان کے مطابق یوکرین تنازع کے حل کے لیے پاکستان نے کشیدگی میں فوری کمی اور تعمیری سفارت کاری پر زور دیا۔

    پریس ریلیز کے مطابق پاکستان یوکرین تنازع کے پرامن حل کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور ہر اس کوشش کی حمایت کرتا ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور تمام فریقین کے جائز قومی سلامتی کے مفادات کو مدنظر رکھے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. مارکو رویبو رواں ہفتے متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کا دورہ کریں گے

    مارکو روبیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے سیکرٹری خارجہ مارکو رویبو رواں ہفتے متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کا دورہ کریں گے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ منگل سے جمعرات تک ان ممالک کا دورہ کریں گے، جس سے ٹرمپ انتظامیہ کو موقع ملے گا کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے ابتدائی معاہدے کے حوالے سے براہ راست اپنے خلیجی عرب اتحادیوں سے بات کر سکے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے سوموار کے روز بتایا کہ مارکو روبیو بحرین میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

    واضح رہے کہ خلیج تعاون کونسل سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، عمان اور قطر پر مشتمل ہے۔

    اگرچہ جی سی سی رہنماؤں نے ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں کی وسیع پیمانے پر حمایت کی لیکن پھر بھی مفاہمت کی یادداشت کی مخصوص شرائط پر تشویش پائی جاتی ہے۔

    اس تشویش کا ایک نکتہ تہران کے لیے 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو کے فنڈ کا امکان ہے اور خلیجی رہنماؤں کا خیال ہے کہ ایران یہ فنڈ علاقائی پراکسی گروپوں کی مالی معاونت کرنے اور اپنی فوجی صلاحیت کے لیے استعمال کرے گا۔

    یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کی حالیہ جنگ کے دوران کئی خلیجی ممالک براہ راست ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے متاثر ہوئے۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت، بحرین اور قطر ان سبھی ممالک میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے سکیورٹی ڈھانچے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

  5. ایران کی جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں داخلے کی اجازت سے متعلق جے ڈی وینس کے دعوے کی تردید

    جے ڈی وینس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران نے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ وہ مذاکرات کے پہلے دور کے بعد جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں واپس آنے کی اجازت دے گا۔

    سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے بعد جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ بات چیت جلد ہو سکتی ہے لیکن ایران کی وزارت خارجہ نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ تہران نے جوہری معائنے کے حوالے سے ’کوئی نئے وعدے‘ نہیں کیے۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے ساتھ ایک انٹرویو میں وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران نے جوہری معائنہ کاروں کے بارے میں ’کوئی نئے وعدے‘ نہیں کیے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کے ساتھ کوئی بھی بات چیت ’پارلیمنٹ اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے طے کردہ موجودہ طریقہ کار کے تحت‘ ہو گی۔

    آئی اے ای اے نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    یاد رہے کہ ایران نے گزشتہ برس 12 روزہ جنگ کے دوران ان مقامات تک آئی اے ای اے کی رسائی معطل کر دی تھی، جن پر امریکہ اور اسرائیل نے بمباری کی تھی۔

  6. ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے دورے پر روانہ

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سوئٹزرلینڈ سے واپسی کے بعد عمان روانہ ہو گئے ہیں۔

    ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق قالیباف اور عراقچی ’آبنائے ہرمز کے انتظامات‘ پر بات چیت اور دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے مسقط روانہ ہوئے۔

    ارنا نیوز ایجنسی کے مطابق محمد قالیباف ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کریں گے۔

  7. ایرانی صدر کا دورہ پاکستان: اسلام آباد میں تیاریاں جاری، سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات

    ایران پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان آج پاکستان کا دورہ کریں گے۔

    ایرانی صدر کے ترجمان حبیب عباسی کے مطابق یہ دورہ ممکنہ طور پر ایک روز پر مشتمل ہو گا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ایرانی صدر گذشتہ دوروں کی قراردادوں پر عمل درآمد، دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے اور پاکستان کے کردار کی تعریف کے لیے پاکستان آئیں گے۔

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق یہ دورہ ’اسلام آباد مفاہمت یادداشت‘ پر دستخط کے بعد جاری سفارتی مصروفیات کے ساتھ ساتھ باہمی دلچسپی کی علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بھی بات چیت کا ایک اہم موقع فراہم کرے گا۔

    دفترِ خارجہ کے مطابق ایرانی صدر پاکستان کے صدر اور وزیرِ اعظم سے ملاقات کریں گے جبکہ چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی اور نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے بھی ملاقات کریں گے۔

    یاد رہے کہ بطور صدر مسعود پزشکیان کا یہ پاکستان کا دوسرا دورہ ہو گا۔ ایرانی صدر نے اس سے قبل اگست 2025 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

    ایران پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی صدر کی آمد کے تناظر میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں تیاریاں جاری ہیں اور سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    اسلام آباد کے مختلف حصوں کو ایران اور پاکستان کے جھنڈوں سے سجا دیا گیا ہے۔

    اس دورے کے تناظر میں شہر میں عام تعطیل کا اعلان تو نہیں کیا گیا تاہم اسلام آباد کے ریڈ زون میں موجود سرکاری دفاتر کے ملازمین آج ’ورک فرام ہوم‘ یعنی گھر سے کام کریں گے تاہم چند وزارتوں کے دفتر معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق رات 12 بجے سے اگلے حکم تک شہر میں کسی بھی جانب یا کسی بھی شاہراہ سے آنے والی ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند رہے گا۔

    بیان کے مطابق ماسوائے میریٹ اور مارگلہ روڈ ریڈ زون کے تمام داخلی راستے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند رہیں گے۔

    اس حوالے سے اسلام آباد ٹریفک پولیس نے شہریوں کے لیے متبادل پلان بھی جاری کیا ہے۔

    اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن میں شہریوں سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے انھیں مطلع کیا گیا ہے کہ آج ٹریل تھری، ٹریل فور اور ٹریل فائیو بھی بند رہے ہیں۔

  8. جوہری توانائی ایجنسی سے معمول کے مطابق بات چیت جاری رہے گی: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ اسلامی مشاورتی اسمبلی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے فیصلوں کے مطابق رابطہ جاری رہے گا۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں 18 گھنٹوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کے دوران جوہری معاملات پر کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی ایران نے کوئی نیا وعدہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے اندر جوہری مذاکرات کا آغاز یادداشت کی شق نمبر 13 کے نفاذ سے مشروط ہے۔

    مفاہمت کی یادداشت کے پیرا گراف 13 کے مطابق پیراگراف 1، 4، 5، 10 اور 11 کے نفاذ کے بعد حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع ہوں گے۔

    یادداشت کی پہلی شق کے مطابق لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا فوری اور مستقل خاتمہ ضروری ہے۔

    اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعوی کیا تھا کہ ایران نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

  9. اسرائیل کی فوج جب تک ضروری ہوا جنوبی لبنان میں موجود رہے گی: وزیرِ اعظم نیتن یاہو

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جب تک ہم چاہیں گے اسرائیل کی فوج جنوبی لبنان میں موجود رہے گی۔

    ایکس پر جاری بیان میں اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’جنوبی لبنان میں ہماری افواج کو اپنے یا شمال کے باشندوں کے خلاف کسی بھی براہ راست خطرے کو بے اثر کرنے کے لیے کارروائی کی مکمل آزادی ہے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج پر اس سلسلے میں کوئی پابندی نہیں ہے۔

    نیتن یاہو نے کیا ہے کہ اسرائیلی فوج جب تک ضروری ہو جنوبی لبنان میں ’سکیورٹی زون‘ میں موجود رہے گی۔

  10. ایران کے صدر منگل کو پاکستان آئیں گے: پاکستانی دفترِ خارجہ کی تصدیق

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے دفترِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان منگل کو پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے اور اُن کے ہمراہ ایرانی وزرا اور دیگر اعلی حکام سمیت ایک سطح کا وفد بھی ہو گا۔

    دورے کے دوران ایرانی صدر پاکستان کے صدر اور وزیرِ اعظم سے ملاقات کریں گے جبکہ اُن کی چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی اور نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے بھی ملاقات کریں گے۔

    بطور صدر مسعود پزشکیان کا یہ پاکستان کا دوسرا دورہ ہو گا۔

    پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق دورے کے دوران پاکستان اور ایران دو طرفہ تعلقات کے مکمل دائرہ کار کا جائزہ لیں گے اور تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی، عوامی تبادلے اور علاقائی روابط کے لیے نئی راہیں تلاش کریں گے۔

    دفترِ خارجہ کے مطابق یہ دورہ ’اسلام آباد مفاہمت یادداشت‘ پر دستخط کے بعد جاری سفارتی مصروفیات کے ساتھ ساتھ باہمی دلچسپی کی علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بھی بات چیت کا ایک اہم موقع فراہم کرے گا۔

    دفترِ خارجہ کے مطابق یہ دورہ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد جاری سفارتی مصروفیات کے ساتھ ساتھ باہمی دلچسپی کی علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بھی بات چیت کا ایک اہم موقع فراہم کرے گا۔

  11. امریکہ نے ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کے لیے 60 دن کا عارضی لائسنس جاری کر دیا

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی محکمہ خزانہ نے ایک اجازت نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت 21 اگست تک ایرانی خام تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی ترسیل اور فروخت کی اجازت ہوگی۔

    واشنگٹن اور تہران کے درمیان گذشتہ ہفتے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت، امریکہ نے ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات کے لیے چھوٹ دینے پر اتفاق کیا تھا۔

    امریکی محکمہ خزانہ کے اجازت نامے میں انشورنس، بینکنگ خدمات اور نقل و حمل کے لین دین کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔

    اس لائسنس میں خام تیل، پیٹرو کیمیکل مصنوعات اور ایران سے نکلنے والی پیٹرولیم مصنوعات کی امریکہ میں درآمد بھی شامل ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر لکھا تھا کہ ایرانی تیل اور پیٹرو کیمیکل کی برآمدات پر پابندیاں معطل کر دی گئی ہیں، بحری ناکہ بندی ختم ہو گئی ہے اور کچھ منجمد اثاثے بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔

    امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں جاری نتیجہ خیز مذاکرات کے سلسلے میں، ایران نے آبنائے ہرمز میں آزادانہ اور کھلی راہداری اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنہ کاروں کو اپنے ملک میں داخلے کی اجازت دینے کا عہد کیا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ فریم ورک کے حصے کے طور پر امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت کے لیے 60 دن کا عارضی لائسنس جاری کیا ہے۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہX/@SecScottBessent

    واضح رہے کہ ایران پر سے پابندیاں ہٹانے کا معاملہ مفاہمتی یادداشت کے نکتہ سات میں تھا۔

    اس میں درج تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف تمام معاشی پابندیاں ختم کرے گا، جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت عائد پابندیاں اور وہ پابندیاں بھی شامل ہیں جو امریکہ نے یکطرفہ طور پر نافذ کی تھیں۔

    دستاویز میں کہا گیا تھا کہ اس حوالے سے شیڈول پر حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر اتفاق کیا جائے گا لیکن دونوں فریق اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ آئندہ مذاکرات میں اس معاملے کو 'فوری طور پر' حل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    ایران ان پابندیوں سے شدید متاثر ہوا ہے اور امریکہ کی ایک مہم 'آپریشن اکنامک فیوری' کا مقصد تہران کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کرنا رہا ہے۔

  12. ’دُشمن کے ساتھ تعاون‘ کا الزام، ایران میں تین ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا

    ایرانی عدلیہ کے مطابق ’دُشمن کے ساتھ تعاون‘ کے الزام میں ایران میں تین ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ایرانی عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ گرفتار کیے گئے ان ’دُشمن کے ساتھیوں‘ میں 684 افراد نے اسرائیل کے لیے ’آپریشنل کارروائیاں‘ کیں اور 1258 نے ’سیاسی پروپیگنڈہ‘ اور ’میڈیا سرگرمیاں‘ کیں۔

    اصغر جہانگیر کے مطابق اس سلسلے میں 1061 افراد پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے اور غداروں کی سینکڑوں جائیدادوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

    حالیہ جنگ کے آغاز کے بعد سے ایرانی عدلیہ نے ’جاسوسی کی سزا کی شدت‘ کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے، ’دشمن کے ساتھ تعلق یا تعاون‘ کے الزام میں سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا ہے یا ان کی جائیداد ضبط کر لی ہے۔ جنوری کے مظاہروں کے دوران ایران کے اندر بعض معروف شخصیات کی جائیدادیں بھی ضبط کر لی گئی تھیں۔

  13. گنج شہیداں مسجد، صدر زرداری کا بیان اور انڈیا کا سخت ردعمل: تنازع کیا ہے؟, مہتاب عالم، بی بی سی اردو، دہلی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہRK

    گذشتہ ہفتے پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے کی جانب سے انڈین شہر وارانسی میں واقع گنج شاہد مسجد کے متعلق دئے گئے ایک بیان پر انڈین وزارت خارجہ نے سخت اعتراض درج کیا ہے۔

    وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پاکستانی صدر کے بیان کو ’احمقانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ’پاکستان کے صدر کے بے بنیاد تبصروں کو انڈیا پوری طرح سے مسترد کرتا ہے۔ ویسے بھی، انھیں انڈیا کے اندرونی معاملات پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘

    خیال رہے کہ سنیچر کے روز پاکستانی صدر کے ایکس پر ایک پوسٹ میں انڈیا کے تاریخی مسلم مذہبی مقامات، بشمول وارانسی میں ہزار سال پرانی مسجد گنج شاہد کے انہدام اور دھمکیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔

    انھوں نے انڈیا سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے کو کہا اور خبردار کیا کہ یہ انڈیا میں انتشار اور دائمی افراتفری کا سبب بن سکتے ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے فوری طور پر اقلیتی حقوق اور مشترکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

    انڈین وزارت خارجہ کا ردعمل

    اس کے جواب میں انڈین دفتر خارجہ کے ترجمان نے سنیچر کو کہا کہ ’یہ تبصرے اس لیے بھی احمقانہ ہیں کیونکہ انسانی حقوق کے معاملے میں پاکستان کا اپنا ریکارڈ بہت خراب رہا ہے، جس پر دنیا بھر میں بحث ہوتی رہی ہے۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’مختلف مذاہب کی اقلیتوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے اور ان پر ظلم کرنے کی پاکستان کی طویل تاریخ ہر کسی کو معلوم ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا ’اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے پاکستانی صدر کے تبصرے کو صرف ایک جان بوجھ کر کیا گیا سیاسی حملہ ہی سمجھا جا سکتا ہے۔‘

    وزارت خارجہ کے ترجمان نے الزام لگایا کہ ایسے بیانات پاکستان کی شدت پسندی اور نفرت کی قومی پالیسیوں سے متاثر ہیں۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہ@PressOfPakistan

    گنج شہیداں مسجد کا معاملہ کیا ہے؟

    وارانسی میں کاشی ریلوے سٹیشن کے توسیع اور ترقیاتی منصوبے کے تحت ریلوے انتظامیہ نے سٹیشن کے مرکزی انڑی گیٹ کے قریب واقع گنج شاہدہ مسجد انتظامیہ کو نوٹس جاری کر کے 20 جون تک احاطہ خالی کرنے کی ہدایت دی ہے۔

    خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ریلوے اہلکاروں نے جمعرات کو بتایا کہ انھوں نے کاشی ریلوے سٹیشن کے مرکزی داخلی دروازے پر واقع گنج شہیداں مسجد کی دیوار پر ایک نوٹس لگایا ہے۔ اس نوٹس میں سٹیشن کی توسیع کی قانونی کارروائی کے تحت 20 جون تک جگہ خالی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

    پی ٹی آئی کے مطابق، کینٹ ریلوے سٹیشن کے سپرٹنڈنٹ ارپِت گپتا نے کہا کہ سٹیشن کی توسیع اور مجوزہ تعمیراتی کاموں کے لیے کاشی ریلوے سٹیشن کے آس پاس کی زمین کو غیر قانونی قبضے سے آزاد کرانا ضروری ہے۔

    مسجد انتظامیہ کمیٹی کا کیا کہنا ہے ؟

    مسجد انتظامیہ کمیٹی نے اس نوٹس کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور کہا کہ وہ اسے عدالت میں چیلنج کریں گے۔ کمیٹی کے جوائنٹ سیکرٹری ایس ایم یاسین نے بی بی سی ہندی کی نامہ نگار پریرنا کو بتایا، ’یہ مسجد تقریباً ایک ہزار سال پرانی ہے۔ اس کی تعمیر 1034 میں ہوئی تھی۔ اس کا نام گنج شہید اس لیے ہے کیونکہ یہاں جن لوگ کی قبر ہے، ان میں سے کئی آزادی کی لڑائی میں شامل رہے ہیں۔ اس لیے اس کا تاریخی اہمیت بھی ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’ریلوے تو 1887 میں آئی ہے، ان کے نوٹس کا ہم جواب دے رہے ہیں۔ ڈسٹرک مجسٹریٹ وارانسی ستیندر کمار سے بھی یقین دہانی ہوئی ہے۔ تین دن پہلے ہماری ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ انھوں نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ مسجد کو زبردستی نہیں توڑا جائے گا۔‘

    مسجد کمیٹی کا کہنا ہے کہ سنہ 1883-84 کے بندوبست کے نقشے اور اس سے پہلے کے نقشوں میں بھی مسجد کا ذکر ہے۔ ان کے مطابق، ’جس مقدمے کے خارج ہونے کی بات نوٹس میں لکھی گئی ہے وہ مسجد کے باہر مشرق کی زمین سے متعلق تھا۔ مسجد سے اس مقدمے کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ نوٹس گمراہ کن ہے۔'

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہRK

    خود انڈین حکومت نے پاکستان میں اقلیتوں کے حالات پر تبصرہ کرنے کو معمول بنا لیا ہے'

    اس معاملے میں سینئر صحافی سدھارتھ وردراجن نے جہاں صدر زرداری کے بیان کو صرف ’ایک دکھاوا‘ کہا ہے وہیں ان کا کہنا ہے انڈین وزارت خارجہ کا جواب بھی غیر منصفانہ ہے۔

    بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’خود انڈین حکومت نے پاکستان میں اقلیتوں کے حالات پر تبصرہ کرنے کو معمول بنا لیا ہے، لہٰذا انڈیا کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے انڈیا میں اقلیتوں کے بارے میں ایسا ہی کرنے پر تنقید کرے۔‘

    انھوں نے مزید کہا حقیقت یہ ہے کہ مذہبی اقلیتوں کو انڈیا اور پاکستان دونوں میں امتیازی سلوک اور تشدد کا سامنا ہے اور دونوں حکومتیں اس میں شریک جرم ہیں۔

    دریں اثنا مسجد انتظامیہ کمیٹی کے جوائنٹ سیکرٹری ایس ایم یاسین نے پاکستانی صدر کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ’پاکستان کے صدر اپنے یہاں کے مسائل دیکھیں، ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ ہم اپنے مسائل خود دیکھ لیں گے۔ وہ معاملے کو اور پیچیدہ ہی کر رہے ہیں۔‘

  14. صدر مسعود پزشکیان منگل کو پاکستان جائیں گے: ایرانی میڈیا

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان منگل کو پاکستان جائیں گے۔

    ارنا کے مطابق دورے کے دوران ایرانی صدر پاکستانی حکام سے بات چیت کریں گے۔

    ایرانی صدر کے ترجمان حبیب عباسی کے مطابق یہ دورہ ممکنہ طور پر ایک روز پر مشتمل ہو گا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ایرانی صدر گذشتہ دوروں کی قراردادوں پر عمل درآمد، دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے اور پاکستان کے کردار کی تعریف کے لیے پاکستان آئیں گے۔

    ایرانی صدر نے اس سے قبل اگست 2025 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

  15. امریکہ، ایران تکنیکی مذاکرات کے لیے وزارتِ خارجہ کی ٹیم سوئٹزرلینڈ میں موجود رہے گی: اسحاق ڈار

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات کے لیے پاکستانی وزارتِ خارجہ کی ایک ٹیم سوئٹزرلینڈ میں موجود رہے گی۔

    ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر پائیدار امن و استحکام کے مقصد کے حصول کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ میں اسلام آباد ایم او یو پر عمل درآمد کے سلسلے میں امریکہ اور ایران کی طرف سے دکھائے جانے والے تعمیری جذبے کی بھی تعریف کرتا ہوں۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ ثالثی کے عمل میں اہم کردار ادا کرنے پر میں قطر کی ریاست کا بھی تہہ دل سے مشکور ہوں۔

  16. سوئٹزرلینڈ میں ایران، امریکہ مذاکرات کے بعد وزیرِ اعظم شہباز شریف واپسی کے لیے روانہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    وزیرِ اعظم شہباز شریف سوئٹزرلینڈ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد پاکستان روانہ ہوگئے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے 21 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاخ میں اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر عملدرآمد کے حوالے سے اعلیٰ سطح مذاکرات میں شرکت کی۔

    زیورخ ایئرپورٹ پر سوئس حکام اور سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کے سفیر مرغوب سلیم بٹ نے وزیراعظم کو الوداع کیا۔

  17. ایرانی وفد نے واک آؤٹ کی دھمکی دی تھی، لیکن مذاکرات میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے: امریکی نائب صدر

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سوئٹزرلینڈ میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ پچھلے 24 گھنٹے بہت اچھے رہے ہیں، لبنان میں امن رہا ہے جبکہ آبنائے ہرمز بھی کھلی رہی۔

    جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ اتوار کو ایران کے ساتھ مذاکرات میں معاملات کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے واک آوٹ کی دھمکی دی تھی یا سوشل میڈیا پر اس نوعیت کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں، لیکن اس کے بعد مقامی وقت کے مطابق رات ایک بجے تک بات چیت جاری رہی۔

    جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ عالمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے انسپکٹرز ایران جائیں گے اور اس بات کی نگرانی کریں گے کہ آیا ایران ابتدائی معاہدے پر عمل کر رہا ہے یا نہیں۔

    امریکی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم حتمی معاہدے تک پہنچیں اور اس معاملے کا مستقل حل ہو، لیکن اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے بڑی پیش رفت کی ہے۔

    جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ میں نے رات دو بجے آئی اے ای اے کے انسپکٹرز کو ٹیلی فون کیا، لیکن آپ سمجھ سکتے ہیں ک رات دو بجے بہت کم لوگ فون اُٹھاتے ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ اس ہفتے انسپکٹرز ایران جا سکتے ہیں اور اس حوالے سے ہم آج اُن سے بات کر سکتے ہیں۔

    لبنان کے سکیورٹی زون میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کے سوال پر امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ہم اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ لبنان کی خودمختاری کا تحفظ ہو۔

    امریکی نائب صدر نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات میں جانے سے قبل امریکی وفد نے چار اہداف طے کیے تھے اور چاروں حاصل کر لیے گئے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ پہلا ہدف یہ تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور سٹریٹجک آبی گزرگاہ میں کسی بھی تنازع کو وسیع تر تنازعے میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے ایک طریقہ کار وضح کیا جائے۔

    جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ اس آبی گزرگاہ کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل پہلے ہی بڑھ چکی ہے اور مذاکرات کاروں نے مستقبل میں اس آبی گزرگاہ میں کسی بھی تنازع سے بچاؤ کے لیے ایک فریم ورک بنایا ہے۔

    اُن کے بقول دوسرا ہدف علاقائی جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر مرکوز تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکی حکام نے ایسے مواصلاتی چینلز قائم کرنے کے لیے کام کیا جو تشدد بڑھنے سے روکنے کے لیے فوری طور پر متحرک ہوں اور اس کے لیے علاقائی سٹیک ہولڈرز کو استعمال کیا جا سکے۔

    جے ڈی وینس نے کہا کہ ’اگر لڑائی شروع ہو تو ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ اسے کیسے روکنا ہے۔‘

    امریکی نائب صدر کے بقول تیسرا ہدف یہ تھا کہ ایران عالمی توانائی ایجنسی کے انسپکٹرز کو ایران آنے کی اجازت دے۔ اُن کے بقول اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ ایران ان انسپکٹرز کو واپس بلائے گا۔ یہ امریکی عوام کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔

    واضح رہے کہ ایران نے گذشتہ برس امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے اور 12 روزہ جنگ کے بعد عالمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں سے تعاون معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سے پہلے توانائی ایجنسی کے انسپکٹرز کو ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت تھی۔

    امریکی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ چوتھا مقصد یہ تھا کہ تکنیکی مذاکرات کو آنے والے ہفتوں میں جاری رکھا جائے۔ وینس نے کہا کہ امریکی، ایرانی، قطری اور پاکستانی حکام نے ان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے درکار عمل اور نگرانی کے ڈھانچے کو قائم کرنے میں اہم پیش رفت کی ہے۔

    سوئٹزرلینڈ مذاکرات کو کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہوئے وینس نے زور دیا کہ مذاکرات کار ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر نہیں پہنچے ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’حتمی معاہدہ ایک گھر ہے اور ہم نے اس گھر کی کامیاب بنیاد رکھ دی ہے۔‘

  18. امریکہ، ایران تکنیکی مذاکرات پیر کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اتوار کو امریکہ، ایران مذاکرات کے بعد پیر کو تکنیکی سطح کے مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ نے ترجمان وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ تکنیکی مذاکرات اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ہوں گے۔

    ایرانی وفد کی سربراہی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کریں گے۔

  19. اُمید کرتے ہیں کہ امریکہ اور ایران مذاکرات کی رفتار برقرار رکھیں گے: ترجمان چینی وزارتِ خارجہ

    چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ چین اُمید کرتا ہے کہ ایران اور امریکہ مذاکرات کی رفتار برقرار رکھیں گے۔

    پیر کو نیوز کانفرنس کے دوران سوئٹزرلینڈ مذاکرات سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان چینی وزارتِ خارجہ گو جیا کھون کا کہنا تھا کہ چین کو اُمید ہے کہ دونوں ممالک بات چیت میں مثبت پیش رفت کے لیے ٹھوس کوششیں کرتے رہیں گے۔

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ چین پاکستان، قطر اور دیگر فریقوں کی طرف سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

  20. سوئٹزرلینڈ میں امریکہ، ایران مذاکرات میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’مثبت اور تعمیری ماحول‘ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے تحت سوئٹزرلینڈ میں پہلا مذاکراتی دور کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا ہے۔

    ایکس پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بات چیت میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے جس میں حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ روڈ میپ پر اتفاق ہوا ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سوئٹزرلینڈ مذاکرات کے دوران اعلی سطح کی کمیٹی کے قیام پر بھی اتفاق ہوا ہے جو سیاسی نگرانی اور مزید تکنیکی مذاکرات کی راہ ہموار کرے گی۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’میں امریکہ اور ایران دونوں کی قیادت کی جانب سے تعمیری بات چیت کے مسلسل عزم کی ستائش کرتا ہوں اور اس تاریخی عمل کو آگے بڑھانے میں تمام برادر اور دوست ممالک کی حمایت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ خاص طور پر برادر ملک قطر کے شکرگزار ہیں جس نے ان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے سازگار حالات کے لیے تعاون کیا اور ان مذاکرات کی میزبانی میں سہولت فراہم کرنے پر سوئس حکومت کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

    اُن کا کہنا تھا میں خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکرگزار ہوں، جن کی انتھک کوششوں سے یہ مذاکرات کامیاب ہوئے۔ ان کی لگن، عزم اور استقامت واقعی قابل ستائش ہے جس کے بغیر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی تھی۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا دفتر خارجہ میں اپنی ٹیم کے ساتھ سفارتی کوششوں پر دل کی گہرائیوں سے تعریف اور شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ میں وزیر داخلہ محسن نقوی کی محنت کو بھی دل کی گہرائیوں سے سراہتا ہوں جنھوں نے ان مذاکرات کی کامیابی میں بھرپور تعاون کیا۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری کو پرامن اور دیرپا حل کی جانب آگے بڑھانے میں اپنا مخلصانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔