فنانس بل 2026-27 پر سینیٹ کمیٹی کی سخت سوالات اور تجاویز, تنویر ملک، صافی
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے فنانس بل 2026-27 اور بجٹ تجاویز پر تفصیلی غور کیا، جس میں کسٹمز اور سیلز ٹیکس سے متعلق اہم ترامیم زیر بحث آئیں۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے کی، جنہوں نے بجٹ میں بار بار کیے جانے والے *تجربات* پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کئی اصلاحات مطلوبہ نتائج نہیں دیتیں اور بعد میں واپس لینا پڑتی ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر مملکت بلال اظہر کیانی سمیت متعدد سینیٹرز شریک ہوئے۔ ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم نے ٹیکس پالیسی اور انتظامیہ کو الگ کرنے کے لیے ٹیکس پالیسی آفس قائم کیا ہے۔
سینیٹر عبدالقادر نے سپر ٹیکس کو سرمایہ کاری کے لیے نقصان دہ قرار دیا، جبکہ سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ بعض صوبوں کی ٹیکس وصولی ایف بی آر سے بہتر ہے۔
اجلاس میں ضبط شدہ سامان کی نیلامی نجی شعبے کے ذریعے کرانے کی ایف بی آر تجویز منظور کر لی گئی۔ کسٹمز کلیئرنس کے لیے مقررہ مدت طے کرنے کی تجویز پر اتفاق ہوا۔
کسٹمز قوانین میں جرمانے کے اختیارات ایف بی آر کو دینے کی تجویز پر اختلاف سامنے آیا۔ سیلز ٹیکس اصلاحات ایف بی آر نے کمیٹی کو ایڈوانس رسید انوائس سسٹم، پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم اور نیشنل فیس لیس سینٹر کے قیام پر بریفنگ دی۔
وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ الیکٹرانک انوائسنگ سے کاروباری لین دین کی نگرانی مزید مؤثر ہوگی۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت معیشت کو استحکام سے پائیدار ترقی کی طرف لے جانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور ٹیکس پالیسی آفس سال بھر تاجروں سے مشاورت جاری رکھے گا۔ آئندہ اجلاس کمیٹی فنانس بل 2026-27 کی شق وار جانچ کا عمل آج دوپہر دوبارہ شروع کرے گی اور اپنی سفارشات سینیٹ میں پیش کرے گی۔















