سمندری انٹیلی جنس فراہم کرنے والے ادارے وینگارڈ نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا ہے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کے دوران ایک تیسرا مال بردار جہاز حملے کی زد میں آیا ہے۔
ایران کے ساحل سے تقریباً چھ بحری میل کے فاصلے پر پانامہ کے پرچم بردار جہاز ایم ایس سی فرانسسکا کو آبنائے ہرمز سے جنوبی سمت میں خلیج عمان کی جانب جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔
وینگارڈ کے مطابق پاسداران انقلاب نے ایم ایس سی فرانسسکا سے رابطہ کیا اور اسے لنگر انداز ہونے کی ہدایت دی۔
جہاز کی جانب سے ہل اور رہائشی حصے کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی گئی ہے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فی الحال دستیاب نہیں ہیں۔
اس سے قبل بی بی سی ویریفائی کے مطابق آج صبح جس مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا وہ پانامہ کا پرچم بردار جہاز یوفوریا ہے جو متحدہ عرب امارات میں قائم ایک کمپنی کی ملکیت ہے۔
کلپر کے اے آئی ایس ڈیٹا کے مطابق یہ جہاز 22 اپریل کو آبنائے ہرمز سے گزرنا شروع ہوا تھا اور اس کی منزل سعودی عرب کا شہر جدہ درج تھی۔
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر اور وینگارڈ کی رپورٹس کے مطابق ایران کے مغرب میں تقریباً آٹھ بحری میل کے فاصلے پر جہاز کو حملے کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد جہاز کے کیپٹن نے اسے روک دیا۔
بتایا گیا ہے کہ جہاز کا عملہ محفوظ ہے اور جہاز کو کسی قسم کے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ یہ آج صبح خلیج میں نشانہ بننے والا دوسرا جہاز ہے۔
اس سے قبل اطلاع دی گئی تھی کہ ایک یونانی ملکیت کے جہاز پر پاسداران انقلاب نے فائرنگ کی تھی۔
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پاسداران انقلاب کی ایک گن بوٹ نے کنٹینر بردار جہاز پر فائرنگ کی۔ بی بی سی ویریفائی کے مطابق اس واقعے میں ملوث جہاز یونان کا پرچم بردار ’ایپامینونڈاس‘ ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل سے وابستہ خبر رساں ادارے نور نیوز نے جہاز کے کپتان کی جانب سے یو کے ایم ٹی او کو دیے گئے اس بیان سے اختلاف کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جہاز کو کسی قسم کی ریڈیو وارننگ نہیں دی گئی تھی۔
نور نیوز کے مطابق جہاز نے ایرانی مسلح افواج کی جانب سے دی جانے والی وارننگز کو نظر انداز کیا تھا۔
یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ عمان کے شمال مشرق میں تقریباً 15 بحری میل کے فاصلے پر پیش آیا اور فائرنگ کے نتیجے میں جہاز کے برج کو شدید نقصان پہنچا۔