لائیو, ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے بعد آبنائے ہرمز میں تین مال بردار جہازوں پر حملے

ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے بعد آبنائے ہرمز میں تین مال بردار جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں۔ ادھر ایرانی میڈیا کی جانب سے شیئر کردہ بیان کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ اس نے خلاف ورزی کے مرتکب دو جہازوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

خلاصہ

  • وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا امن مذاکرات کے سلسلے میں مجوزہ دورہِ پاکستان منسوخ کر دیا گیا ہے۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
  • پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے صدر ٹرمپ کا ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع پر شکریہ ادا کیا گیا ہے۔
  • پاکستان مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے ایران کے جواب کا منتظر ہے: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ
  • صدر ٹرمپ کا ’اچھے اتحادی‘ امارات کی مالی مدد اور کرنسی کے تبادلے کا عندیہ

لائیو کوریج

  1. پاسداران انقلاب کی بحریہ نے تین جہازوں کو نشانہ بنایا، دو کو اپنی تحویل میں لے لیا: ایرانی میڈیا

    ایم ایس سی فرانسسکا کی یہ تصویر 2018 میں جرمنی میں لی گئی تھی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایم ایس سی فرانسسکا کی یہ تصویر 2018 میں جرمنی میں لی گئی تھی

    ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں نشانہ بننے والے تینوں جہازوں کو پاسداران انقلاب نے نشانہ بنایا ہے۔

    پاسداران انقلاب سے وابستہ خبر رساں ادارے فارس کا کہنا ہے کہ یوفوریا نامی ایک جہاز کو نشانہ بنایا گیا اور وہ اس وقت ایرانی ساحل کے قریب گراؤنڈ ہو چکا ہے۔

    ایرانی میڈیا کی جانب سے شیئر کردہ بیان کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ اس نے خلاف ورزی کے مرتکب دو جہازوں کو اپنی تحویل میں لیا اور ایرانی ساحل کی جانب منتقل کیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ’نظم و سلامتی میں خلل ڈالنا ہماری سرخ لکیر ہے۔‘

  2. ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے بعد سے آبنائے ہرمز پر تین جہازوں پر حملے, بی بی سی ویریفائی

    ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے بعد سے آبنائے ہرمز پر تین جہازوں پر حملے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سمندری انٹیلی جنس فراہم کرنے والے ادارے وینگارڈ نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا ہے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کے دوران ایک تیسرا مال بردار جہاز حملے کی زد میں آیا ہے۔

    ایران کے ساحل سے تقریباً چھ بحری میل کے فاصلے پر پانامہ کے پرچم بردار جہاز ایم ایس سی فرانسسکا کو آبنائے ہرمز سے جنوبی سمت میں خلیج عمان کی جانب جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔

    وینگارڈ کے مطابق پاسداران انقلاب نے ایم ایس سی فرانسسکا سے رابطہ کیا اور اسے لنگر انداز ہونے کی ہدایت دی۔

    جہاز کی جانب سے ہل اور رہائشی حصے کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی گئی ہے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فی الحال دستیاب نہیں ہیں۔

    اس سے قبل بی بی سی ویریفائی کے مطابق آج صبح جس مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا وہ پانامہ کا پرچم بردار جہاز یوفوریا ہے جو متحدہ عرب امارات میں قائم ایک کمپنی کی ملکیت ہے۔

    کلپر کے اے آئی ایس ڈیٹا کے مطابق یہ جہاز 22 اپریل کو آبنائے ہرمز سے گزرنا شروع ہوا تھا اور اس کی منزل سعودی عرب کا شہر جدہ درج تھی۔

    برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر اور وینگارڈ کی رپورٹس کے مطابق ایران کے مغرب میں تقریباً آٹھ بحری میل کے فاصلے پر جہاز کو حملے کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد جہاز کے کیپٹن نے اسے روک دیا۔

    بتایا گیا ہے کہ جہاز کا عملہ محفوظ ہے اور جہاز کو کسی قسم کے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ یہ آج صبح خلیج میں نشانہ بننے والا دوسرا جہاز ہے۔

    اس سے قبل اطلاع دی گئی تھی کہ ایک یونانی ملکیت کے جہاز پر پاسداران انقلاب نے فائرنگ کی تھی۔

    برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پاسداران انقلاب کی ایک گن بوٹ نے کنٹینر بردار جہاز پر فائرنگ کی۔ بی بی سی ویریفائی کے مطابق اس واقعے میں ملوث جہاز یونان کا پرچم بردار ’ایپامینونڈاس‘ ہے۔

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل سے وابستہ خبر رساں ادارے نور نیوز نے جہاز کے کپتان کی جانب سے یو کے ایم ٹی او کو دیے گئے اس بیان سے اختلاف کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جہاز کو کسی قسم کی ریڈیو وارننگ نہیں دی گئی تھی۔

    نور نیوز کے مطابق جہاز نے ایرانی مسلح افواج کی جانب سے دی جانے والی وارننگز کو نظر انداز کیا تھا۔

    یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ عمان کے شمال مشرق میں تقریباً 15 بحری میل کے فاصلے پر پیش آیا اور فائرنگ کے نتیجے میں جہاز کے برج کو شدید نقصان پہنچا۔

  3. پہلگام حملے کو ایک سال مکمل ہونے پر مودی کا پیغام اور پاکستان کا ردعمل

    پہلگام حملہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے گذشتہ سال ہونے والے پہلگام حملے کو یاد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انڈیا کبھی بھی کسی قسم کی دہشت گردی کے آگے نہیں جھکے گا۔‘

    ایکس پر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم گذشتہ برس اسی دن پہلگام کے ہولناک دہشت گرد حملے میں جان گنوانے والے بے گناہ افراد کو یاد کر رہے ہیں۔ انھیں کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ دکھ کی اس گھڑی میں میری ہمدردیاں ان سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں جو اس نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔

    ’بطور قوم ہم غم اور عزم کے ساتھ متحد ہیں۔ انڈیا کبھی بھی کسی قسم کی دہشت گردی کے آگے نہیں جھکے گا۔ دہشت گردوں کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔‘

    اس کے ردعمل میں پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ انڈیا پہلگام حملے کے ایک سال بعد بھی ’اپنے موقف کے حق میں شواہد پیش نہیں کر سکا۔‘

    ان کا دعویٰ تھا کہ انڈیا ’اپنے اندرونی معاملات کو بیرونی اور بیرونی معاملات کو اندرونی رنگ دے کر پیش کرتا رہا ہے۔ دہشت گردی اس کا اندرونی معاملہ ہے جسے وہ بیرونی مسئلہ بنا کر پیش کرتا ہے۔‘

    عطا تارڑ نے یاد دلایا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس ’فالس فلیگ آپریشن‘ کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی مگر انڈیا کے پاس ’اس کا کوئی خاطر خواہ جواب نہیں تھا۔‘

    انھوں نے مئی 2025 کی لڑائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اپنی خودمختاری، وقار اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔‘

  4. ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی میں توسیع بے معنی ہے: ایرانی مشیر

    ایران کے ایک سینیئر مشیر مہدی محمدی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کی بات ’بے معنی‘ ہے اور یہ یقینی طور پر ’اچانک حملے کے لیے مزید وقت حاصل کرنے کی چال ہے۔‘

    مہدی محمدی ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کے مشیر ہیں۔

    ایکس پر فارسی زبان میں ایک پیغام میں مہدی محمدی نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے ’ناکہ بندی کا تسلسل بمباری سے مختلف نہیں۔ اس کا جواب فوجی کارروائی کی صورت میں دیا جانا چاہیے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ایران خود پہل کرے۔‘

    امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کیے ہوئے ہے۔

    اتوار کے روز امریکی افواج نے ایرانی مال بردار جہاز پر سوار ہو کر اس کی تلاشی لی۔ اس سے قبل ایران کئی ہفتوں سے اس مصروف سمندری تجارتی راستے کو عملی طور پر بند کیے ہوئے تھا۔

  5. وزیر اعظم شہباز شریف کی ایرانی سفر سے ملاقات، قیام امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال

    شہباز شریف، مقدم

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایران کے سفیر سے ملاقات کی ہے۔

    پاکستان میں وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے 22 اپریل 2026 کو وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں جاری علاقائی صورت حال اور امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔‘

    خیال رہے کہ ایرانی سفیر نے گذشتہ روز اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ’یہ ایک عالمی طور پر تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ایک بڑی تہذیب کا حامل کوئی بھی ملک دھمکی اور طاقت کے زیر اثر مذاکرات نہیں کرتا۔ یہ ایک مضبوط، اسلامی اور فقہی اصول ہے۔ کاش امریکہ نے اس حقیقت کو سمجھا ہوتا۔۔۔‘

  6. آبنائے ہرمز میں ایک اور بحری جہاز پر فائرنگ: یو کے ایم ٹی او

    یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک اور بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ اب سے کچھ دیر پہلے ہم نے آپ کو خبر دی تھی کہ یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر کے مطابق ایران کے پاسداران انقلاب نے مبینہ طور پر آبنائے ہرمز میں ایک کنٹینر جہاز پر فائرنگ کی ہے۔

    برطانوی رائل نیوی کی زیر قیادت یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے باہر جانے والے ایک کارگو جہاز پر ایران کے مغرب میں فائرنگ کیے جانے کی اطلاع ملی اور اب اسے پانی میں روک دیا گیا ہے۔

  7. چین نے پیٹرول کی قیمتیں کم کر دیں

    چین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کے مطابق ایران جنگ کے پیش نظر تیل کی عالمی منڈیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے بعد چین پہلی بار پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کر رہا ہے۔

    قیمت میں کمی سے ڈرائیوروں کو 92 آکٹین ​​پیٹرول کے 50 لیٹر کے ٹینک پر تقریباً تین ڈالر کی بچت ہو گی۔

    واضح رہے کہ بیجنگ نے ایران امریکہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کئی بار اضافہ کیا۔

  8. امریکہ ناکہ بندی ختم کرے تو مذاکرات کے لیے تیار ہیں: اقوام متحدہ میں ایرانی نمائندے

    اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے امیر سعید کا کہنا ہے کہ امریکہ ناکہ بندی ختم کرے تو تہران مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

    امیر سعید کے مطابق ’ہمیں کچھ اشارے مل رہے ہیں کہ وہ یہ ناکہ بندی ختم کرنے پر آمادہ ہیں۔ جیسے ہی انھوں نے بحری ناکہ بندی ختم کی، مذاکرات کا اگلا دور ہو گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے عسکری جارحیت نہیں شروع کی بلکہ انھوں نے ہمارے خلاف جنگ شروع کی اور ’ہم تیار ہیں۔‘

    ایران کے نمائندے نے یہ بھی کہا کہ ’اگر وہ (امریکہ) میز پر بیٹھ کر مذاکرات کے لیے آمادہ ہیں، تاکہ سیاسی حل تلاش کیا جا سکے تو ’وہ ہمیں بھی تیار پائیں گے‘ اور اگر ’وہ جنگ چاہتے ہیں تو ایران اس کے لیے بھی تیار ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں کنٹینر جہاز کو نشانہ بنایا: یو کے میری ٹائم

    یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق ایران کے پاسداران انقلاب نے مبینہ طور پر آبنائے ہرمز میں ایک کنٹینر جہاز پر فائرنگ کی ہے۔

    برطانوی رائل نیوی کی زیر قیادت یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ عمان سے 15 ناٹیکل میل شمال مشرق میں پیش آیا۔

  10. پاکستان میں امن مذاکرات کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں, پال ایڈمز، نامہ نگار برائے سفارتی امور

    اسلام آباد میں ایران امریکہ مذاکرات کی تیاریاں

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ایران میں رجیم تبدیلی کا دعویٰ کیا لیکن اب وہ اسے خود رجیم فریکچر قرار دے رہے ہیں۔

    اب جب کہ ایران کے بہت سے اعلیٰ رہنما ہلاک ہو چکے ہیں، یہ سوال کہ اب وہاں طاقت میں کون ہے، سفارت کاری کے کام کو مزید مشکل بنا رہا ہے۔

    امریکی صدر کے تازہ اقدام کے اثرات کا اندازہ لگانا شاید تھوڑی جلد ہے لیکن تہران کی طرف سے فوری ملنے والے اشارے مثبت نہیں۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور اہم مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ٹرمپ ایک اور حملے کے لیے وقت خرید رہے ہیں۔

    ایک فوجی ترجمان نے اس وارننگ کو دہرایا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو ایران جوابی حملہ کرنے کو تیار ہے۔

    اسلام آباد میں مذاکرات کے ایک اور دور کے لیے انتظامات بدستور جاری ہیں، شہر کے کچھ حصے تاحال سیل ہیں لیکن اس ہفتے ہونے والی ملاقات کی امیدیں فی الحال معدوم ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔

  11. چار دن قبل مجھے بتایا گیا کہ ایران آبنائے ہرمز کھولنا چاہتا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ چار دن قبل ان سے رابطہ کر کے بتایا گیا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھولنا چاہتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ایران آبنائے ہرمز کو بند نہیں رکھنا چاہتا، وہ اسے کھولنا چاہتا ہے تاکہ روزانہ کی بنیاد پر 500 ملین ڈالر کما سکے۔‘

    ٹرمپ نے مزید لکھا کہ ’ایران اس لیے یہ کہہ رہا ہے کہ اسے آبنائے ہرمز کو بند رکھنا ہے کیونکہ میں نے اسے مکمل طور پر بند اور بلاک کر رکھا ہے۔‘

    امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ چار روز قبل ان کو بتایا گیا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنا چاہتا ہے لیکن اگر ہم ایسا کریں گے تو ایران کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہو پائے گی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. ایران کے خلاف جارحیت کی صورت میں ہم پہلے سے طے شدہ اہداف پر حملہ کریں گے: خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر

    ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کی مسلح افواج ’متحرک ہیں‘ اور ’جارحیت کی صورت میں‘ جواب دیں گی۔

    خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذولفقاری نے خبردار کیا ہے کہ ’امریکی صدر اور ملک کے فوجی کمانڈروں کی بار بار دھمکیوں کے پیش نظر‘ ایرانی مسلح افواج ’متحرک‘ ہیں۔

    ان کے مطابق ’ہماری قابل اور طاقتور افواج ایران کے خلاف جارحیت یا کسی بھی کارروائی کی صورت میں پہلے سے طے شدہ اہداف پر فوری اور طاقتور حملہ کرنے کے لیے طویل عرصے سے 100 فیصد تیار ہیں۔‘

    واضح رہے کہ خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے اس اعلان سے چند گھنٹے قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے جنگ بندی میں توسیع کر دی ہے ’جب تک کہ ایران اپنی آفر پیش نہیں کرتا۔‘

  13. امریکی وزیرِ خزانہ کی ناکہ بندی پر وضاحت، نئی پابندیوں کی دھمکی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایرانی بندرگاہوں پر جاری بحری ناکہ بندی کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کی ہیں۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’چند ہی دنوں میں ایران کے خارگ جزیرے پر واقع تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات مکمل طور پر بھر جائیں گی اور ایران کو نا چاہتے ہوئے بھی تیل کے کنویں بند کرنا پڑیں گے۔‘

    وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ ’ایران کی سمندری تجارت کو محدود کرنا براہِ راست ایرانی حکومت کی آمدنی کے بنیادی ذرائع کو نشانہ بنانا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ امریکی وزارت خزانہ معاشی دباؤ کے ذریعے تہران کے مالی وسائل پیدا کرنے، منتقل کرنے اور واپس لانے کی صلاحیت کو منظم انداز میں کمزور کرتی رہے گی۔‘

    انھوں نے خبردار کیا کہ ’جو کوئی بھی خفیہ طور پر ایران کی تجارت پر امریکی پابندیوں کو نظرانداز کرنے کی کوشش کرے گا اسے بھی سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

  14. اب امریکہ سے مذاکرات غیر معقول ہیں: ایرانی رکنِ پارلیمان, غنچہ حبیبزاد، بی بی سی فارسی

    ایران کی پارلیمنٹ کے رکن محمود نبویان کا ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہنا ہے کہ ’اب کے بعد امریکہ کے ساتھ مذاکرات مکمل طور پر نقصان دہ اور غیر معقول ہیں۔‘

    واضح رہے کہ محمود نبویان اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں ایرانی وفد کا حصہ تھے۔

    دوسری جانب ایران کے اعلیٰ عسکری کمانڈ ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر کوئی حملہ کیا گیا تو ایرانی افواج ’پہلے سے طے شدہ اہداف کو نشانہ بنائیں گی اور امریکہ و اسرائیل کو مزید سخت سبق سکھائیں گی۔‘

    نبویان کی پوسٹ اور خاتم الانبیاء کے بیان دونوں میں جنگ بندی میں توسیع کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا اگرچہ یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد ایرانی ذرائع ابلاغ میں سامنے آئے ہیں۔

    تاحال امریکی صدر کے جنگ بندی میں توسیع کے بیان کے بعد ایران کی وزارت خارجہ اس کے دیگر حکام، یا پارلیمنٹ کے سپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

  15. امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہِ پاکستان منسوخ: وائٹ ہاؤس

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا امن مذاکرات کے سلسلے میں مجوزہ دورہِ پاکستان منسوخ کر دیا گیا ہے۔

    وینس اس ماہ دوسری مرتبہ اسلام آباد کا دورہ کرنے والے تھے اور بدھ کے روز ان کی آمد متوقع تھی۔

    وائٹ ہاؤس انتظامیہ کے ایک عہدیدار کے مطابق امریکی نائب صدر کے دورہِ پاکستان اور امن مذاکرات سے متعلق تفصیلات وائٹ ہاؤس کی جانب سے ہی جاری کی جائیں گی۔

    امریکی نائب صدر کے دورہِ پاکستان کی منسوخی کی یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے کی پاکستانی درخواست منظور کر لی ہے۔

  16. جنگ بندی میں توسیع پر امریکی صدر کے شکر گزار ہیں: وزیراعظم شہباز شریف

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے صدر ٹرمپ کا ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع پر شکریہ ادا کیا گیا ہے۔

    اب سے کُچھ دیر قبل ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’وہ ذاتی حیثیت میں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شکر گزار ہیں کہ جنھوں نے سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کے لیے جنگ بندی میں توسیع کی پاکستانی درخواست کو قبول کیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اعتماد اور بھروسے کی بنیاد پر پاکستان خطے میں جاری اس تنازع کے مذاکرات کی مدد سے حل کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔‘

    وزیر اعظم نے ایکس پر جاری بیان میں امید ظاہر کی کہ ’دونوں فریق جنگ بندی کی پابندی جاری رکھیں گے اور اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں ایک جامع امن معاہدہ طے پانے کی طرف بڑھیں گے، جس کا مقصد تنازع کا مستقل خاتمہ ہے۔‘

  17. عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار ہے تاہم فی الحال اس کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے کم ہے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات سے متعلق مختلف پیش رفت کے باعث منگل کے روزتیل کی قیمتیں غیر یقینی کا شکار رہیں اور شدید نوعیت کا اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

    ابتدائی طور پر برینٹ کروڈ کی قیمت میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور یہ 100 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر پہنچ گئی۔

    تاہم بعد ازاں صدر ٹرمپ کے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے بعد قیمت دوبارہ کم ہو کر 98.97 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔

    اس کے باوجود موجودہ قیمتیں منگل کے روز ابتدائی سطح سے اب بھی زیادہ ہیں اور فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 35 فیصد زیادہ ہیں۔

  18. امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر مزید مہلت حاصل کر لی, واشنگٹن سے بی بی سی نیوز کے نامہ نگار ڈینیئل بش کا تجزیہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق معاملے میں مزید مہلت لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    منگل ابر بدھ کی درمیانی شب ان کے اعلان کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کرتے ہوئے انھوں نے وہ ڈیڈ لائن مؤخر کر دی ہے جو انھوں نے تہران کو معاہدہ کرنے کے لیے دی تھی، بصورت دیگر بدھ کے روز جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

    جنگ بندی میں توسیع کے ذریعے ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف دوبارہ شدید فضائی حملے شروع کرنے کی اپنی دھمکی پر عمل نہیں کیا تاہم اس فیصلے نے یہ بھی یقینی بنایا ہے کہ آنے والے دنوں یا ہفتوں میں انھیں ایک بار پھر اسی فیصلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ٹرمپ نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب یہ نہیں واضح کیا کہ نئی جنگ بندی کی مدت کتنی ہوگی، صرف یہ کہا کہ وہ ایران کو مزید وقت دے رہے ہیں تاکہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ’متحدہ تجویز‘ پیش کر سکے۔

    یہ دو ہفتوں میں دوسری بار ہے جب ٹرمپ نے جنگ میں اضافے کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس تنازع کو ختم کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

  19. بریکنگ, ٹرمپ کا مذاکرات کے کسی نتیجے پر پہنچنے تک جنگ بندی میں توسیع اور ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انھوں نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’اس حقیقت کی بنیاد پر کہ ایران کی حکومت شدید اندرونی تقسیم کا شکار ہے جو کہ غیر متوقع نہیں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر ہمیں کہا گیا ہے کہ ایران پر حملے کو اس وقت تک روک دیے جائیں جب تک ان کے رہنما اور نمائندے ایک متحدہ تجویز پیش نہ کر دیں۔‘

    امریکی صدر کا مزید کہنا ہے کہ ’لہٰذا میں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور دیگر تمام پہلوؤں سے تیار اور مستعد رہا جائے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس لیے جنگ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کی تجویز پیش نہیں کی جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہوں۔‘

  20. جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں اسرائیل پر حملہ کیا گیا: حزب اللہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں شمالی اسرائیل پر راکٹ داغے ہیں۔

    اسرائیلی دفاعی افواج نے منگل کی شام ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ ’حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں کارروائیوں میں مصروف ان کی فورسز پر متعدد راکٹ داغے۔‘

    اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ ’ان کی جانب سے جوابی کارروائی میں حزب اللہ کے لانچر کو نشانہ بنایا جہاں سے یہ راکٹ فائر کیے گئے تھے۔‘

    امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یحییل لائٹر نے کہا ہے کہ ’حزب اللہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم ان کے خلاف اپنا دفاع کریں گے جو نقصان پہنچانے، قتل کرنے اور امن کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘