ایران پر آج پھر سخت حملہ کریں گے: صدر ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ نے گذشتہ روز بھی ایران پر ایک ’سخت حملہ‘ کیا تھا اور ’ہم آج بھی ان پر سخت حملہ کریں گے اور پھر دیکھیں گے کہ معاہدے کا کیا ہوتا ہے۔‘
بدھ کو اوول آفس میں بات چیت کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے قریب ہیں لیکن تہران ’حیل و حجت سے کام لے رہا ہے۔‘
’وہ ہمیں بے قوم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ مجھے شرمندگی سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ماضی میں ان کا بےوقوف صدور سے پالا پڑتا رہا ہے۔‘
علی الصبح امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکی افواج نے ایک ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں ایران میں کارروائی کی ہے۔
سینٹکام نے ایک بیان میں کہا ’یہ مشن بلا جواز ایرانی جارحیت کے تناظر میں ایک جواب ہے۔‘
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’تشدد کو بڑھاوا دینے والی امریکی حکومت نے آج علی الصبح جسک، سرک اور قشم کے کئی مقامات پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہری سپلائی کے پانی کے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔‘
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کرتے ہوئے (امریکی فوجی اڈوں کے) چار بڑے اہداف کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے پاسداران انقلاب کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ ’ان میں F-35 کے ہینگرز اور اردن کے علاقے الازرق میں ایک امریکی فوجی کمانڈ اور کنٹرول مرکز شامل ہیں۔‘
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس سے قبل پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف کارروائی روکی تھی
صدر ٹرمپ نے آج ایک مرتبہ پھر ایران کو ممکنہ حملے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں ایران کے ساتھ کئی مہینوں سے کام کر رہا ہوں اور انھیں معاہدے پر دستخط کرنا چاہیے کیونکہ یہ ایک اچھا معاہدہ ہے۔‘
’اس کے تحت انھیں جوہری ہتھیار بنانے کا حق حاصل نہیں ہے۔ حقیقت میں ان پر کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے پر پابندی ہوگی۔‘
















