لائیو, میرے خیال میں جنگ ختم ہونے کے قریب ہے، ایران بہت شدت سے کسی معاہدے تک پہنچنے کا خواہشمند ہے: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ اُن کے خیال میں جنگ ختم ہونے کے قریب ہے اور ایران بہت شدت سے کسی معاہدے تک پہنچنے کا خواہشمند ہے۔ دوسری جانب امریکی سینٹ کام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی ناکہ بندی کامیابی سے جاری ہے اور دس ہزار اہلکاروں اور درجنوں جنگی جہازوں کی مدد سے امریکہ نے سمندر کے راستے ایرانی تجارت کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اُن کے خیال میں جنگ ختم ہونے کے قریب ہے اور ایران بہت شدت سے کسی معاہدے تک پہنچنے کا خواہشمند ہے
  • ٹرمپ کا پاکستان میں مذاکرات کے دوسرے دور کا عندیہ: ’ایران سے اگلے دو روز میں مذاکرات ہو سکتے ہیں‘
  • دس ہزار اہلکاروں اور درجنوں جنگی جہازوں کی مدد سے امریکہ نے سمندر کے راستے ایرانی تجارت کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے: سینٹ کام
  • امریکہ اور اسرائیل سے بات چیت ’نتیجہ خیز‘ رہی، مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ اور مقام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا: لبنانی سفیر
  • ایران اور امریکہ کے درمیان پائیدار امن معاہدے کی امید، تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری

لائیو کوریج

  1. امن مذاکرات کی امیدوں کے باعث تیل کی قیمتیں مستحکم

    امریکہ اور ایران میں نئے امن مذاکرات کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں جس کے باعث ایشیا میں تیل کی قیمتیں مستحکم ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ مذاکرات ’آئندہ دو روز میں‘ دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، تاہم تہران کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلے کے کسی اجلاس کے بارے میں اسے تاحال ’کوئی معلومات نہیں‘ ہیں۔

    برینٹ خام تیل کی قیمت 0.3 فیصد اضافے سے 95 ڈالر فی بیرل سے کچھ اوپر رہی۔

    توانائی کی قیمتوں میں کمی منگل کے روز اس وقت آئی جب ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے کسی معاہدے کی امید میں وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے۔

    آج بدھ کے روز ایشیا کی بڑی منڈیوں میں بھی مثبت رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے، جاپان کا نکئی 225 انڈیکس تقریباً ایک فیصد بڑھا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی ایکسچینج تین فیصد بڑھا۔

  2. ٹرمپ ایران کے ساتھ ’کوئی چھوٹا معاہدہ نہیں، بلکہ بہت بڑا سودا‘ کرنا چاہتے ہیں، مذاکرات جاری رکھیں گے: نائب صدر جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

    ،تصویر کا ذریعہChip Somodevilla/Getty Images

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ ’کوئی چھوٹا معاہدہ نہیں، بلکہ بہت بڑا سودا کرنا چاہتے ہیں۔‘

    امریکہ میں قائم ادارے ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے زیر اہتمام ایک گفتگو میں جے ڈی وینس نے ایران امریکہ امن مذاکرات کی تفصیلات بتائیں۔

    امریکی نائب صدر نے بتایا کہ ایران کے ساتھ کوئی نتیجہ خیز سمجھوتہ اس لیے نہ ہو سکا کیوں کہ ’ٹرمپ ایک ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس کے تحت ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہو اور وہ ریاستی سطح پر دہشت گردی کی سرپرستی نہ کر رہا ہو۔‘

    جے ڈی وینس نے کہا کہ اگر ایران ایک نارمل ملک کی طرح برتاؤ کرتا ہے تو امریکہ ایک نارمل ملک کی طرح اس سے معاشی طور پر پیش آئے گا۔

    امریکی نائب صدر کا کہنا تھا: ’اگر ایران وعدہ کرے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا تو ہم یقینی بنائیں گے کہ ایران معاشی طور پر خوشحال ہو۔‘

    ’یہ ہے وہ پیشکش جو امریکی صدر (ایران کو) کر رہے ہیں، اور اسے ممکن بنانے کے لیے ہم مذاکرات جاری رکھیں گے۔‘

    جے ڈی وینس کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے ان سے کہا تھا کہ پاکستان جا کر اچھی نیت سے ایران کے ساتھ مذاکرات کریں۔ تاہم انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ’امریکہ اور ایران میں بہت بد اعتمادی موجود ہے جو ایک رات میں ختم نہیں ہو سکتی۔‘

    اس کے باوجود امریکی نائب صدر دونوں ممالک کے درمیان ہوئی پیشرفت سے مطمئن نظر ائے۔ ان کا کہنا تھا: ’اچھی بات یہ ہے کہ جنگ بندی جاری ہے‘ اور ’جس جگہ ہم ہیں (یعنی جو پیشرفت ہوئی) اس کے بارے میں ہم اچھا محسوس کر رہے ہیں۔‘

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

    ،تصویر کا ذریعہChip Somodevilla/Getty Images

  3. 10 ہزار اہلکاروں اور درجنوں جنگی جہازوں کی مدد سے امریکہ نے سمندر کے راستے ایرانی تجارت کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے: سینٹ کام

    امریکی طیارہ بردار جہاز پر موجود جنگی طیارہ

    ،تصویر کا ذریعہU.S. CENTCOM

    امریکی سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور ’مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی بحری برتری برقرار ہے۔‘

    سینٹ کام کی جانب سے ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا: ’ایران کی اندازاً 90 فیصد معیشت کا انحصار سمندر کے راستے بین الاقوامی تجارت پر ہے۔ ناکہ بندی کے نفاذ کے 36 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں امریکی فوج نے سمندر کے ذریعے ایران میں آنے اور ایران سے جانے والی تمام معاشی تجارت مکمل روک دی ہے۔‘

    سینٹ کام کے مطابق 10 ہزار سے زائد امریکی اہلکار درجنوں جنگی جہازوں اور طیاروں کی مدد سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پر عمل کرا رہے ہیں۔ پہلے 24 گھنٹوں کے دوران کوئی بھی جہاز امریکی ناکہ بندی عبور نہ کر سکا، جبکہ چھ تجارتی جہاز امریکی افواج کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے خلیجِ عمان میں واقع کسی ایرانی بندرگاہ میں واپس چلے گئے۔

    سینٹ کام کی جاری کردہ مزید تفصیلات کے مطابق امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرائرز اُن اثاثوں میں شامل ہیں جو ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کرا رہے ہیں۔ ایک عام ڈیسٹرائر پر 300 سے زائد بحری اہلکار تعینات ہوتے ہیں، جو جارحانہ اور دفاعی سمندری کارروائیاں انجام دینے میں اعلیٰ درجے کی تربیت رکھتے ہیں۔

    ایکس پر جاری سینٹ کام کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے ساحلی علاقوں یا بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے ہر ملک کے جہاز پر ناکہ بندی کا نفاذ بلا امتیاز ہو گا۔ جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے وہ جہاز جن کی منزل یا روانگی کا مقام ایران نہیں ہے، انھیں نہیں روکا جائے گا۔

    امریکی سینٹ کام کی طرف سے جاری تفصیل، جس میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے لیے تعینات کیے گئے وسائل کا بتایا گیا ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہU.S. CENTCOM

  4. میرے خیال میں ایران جنگ ختم ہونے کے قریب ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جنگ ’ختم ہونے کے قریب‘ ہے۔

    یہ بات انھوں نے صحافی ماریا بارٹیرومو کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں کہی ہے، جو امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز پر نشر کیا جائے گا۔

    فاکس نیوز کی جانب سے اس انٹرویو کے کچھ حصے ابھی جاری کیے گئے ہیں جبکہ مکمل انٹرویو امریکی وقت کے مطابق شام چھ بجے (پاکستانی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح نو بجے) نشر کیا جائے گا۔

    انٹرویو کا جو حصہ فاکس نیوز کے ایکس ہینڈل سے جاری کیا گیا ہے اس میں ماریا بارٹیرومو امریکی صدر سے سوال کرتی ہیں کہ کیا یہ جنگ ختم ہو چکی ہے؟ جواب میں ٹرمپ کہتے ہیں کہ اُن کے خیال میں یہ جنگ ’ختم ہونے کے قریب‘ ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’اگر میں نے ابھی اپنا داؤ کھیل دیا‘ تو ایران کو اپنے ملک کی تعمیر نو میں 20 سال لگیں گے، اور ’ابھی ہمارا کام ختم نہیں ہوا۔‘

    انٹرویو کے ابھی تک دستیاب حصے میں تو ٹرمپ یہ وضاحت نہیں کرتے کہ ’ابھی اپنا داؤ کھیلنے‘ سے ان کی کیا مراد ہے، تاہم اس سے پہلے وہ ایران کے پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے اور ایران کو ’پتھر کے دور میں‘ واپس دھکیلنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔

    فاکس نیوز کو انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا: ’دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، میرا خیال ہے وہ (ایران) بہت شدت سے کسی معاہدے تک پہنچنے کے خواہشمند ہیں۔‘

    صدر ٹرمپ مزید کہتے ہیں کہ اگر وہ ایران پر حملہ نہ کرتے تو ایران جوہری ہتھیار بنا چکا ہوتا۔

  5. امریکی ناکہ بندی کے باوجود دو ایرانی جہاز بندرگاہ سے روانہ, الیكس مرے، بی بی سی ویریفائی

    بی بی سی ویریفائی کی جانب سے تجزیہ کیے گئے جہازوں کی نقل و حرکت کے ڈیٹا سے ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں سے جہاز روانہ ہو رہے ہیں۔

    بظاہر 13 اپریل کو کارگو جہاز اشکان 3 ایران کی چابہار بندرگاہ کے قریب سے بغیر سامان لادے روانہ ہوا تھا۔ چابہار کی بندرگاہ آبنائے ہرمز سے سینکڑوں کلو میٹر مشرق میں واقع ہے۔ یہ جہاز اس وقت پاکستان کے قریب مشرق کی جانب سفر کر رہا ہے۔

    ایک اور کنٹینر شپ شابدیث بھی 13 اپریل کو چابہار بندرگاہ کے قریب سے بغیر سامان لادے روانہ ہوا۔ امریکی ناکہ بندی کے نفاذ کے بعد اس نے بھی مشرق کی سمت سفر شروع کیا اور اب انڈیا کے قریب ہے۔ یہ جہاز اپنی منزل چین کے شہر ژوہائی کو ظاہر کر رہا ہے۔

    ناکہ بندی کے آغاز کے بعد ان دونوں جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور نہیں کی۔ دونوں جہاز ایرانی پرچم تلے سفر کر رہے ہیں۔

  6. امریکہ اور اسرائیل سے بات چیت ’نتیجہ خیز‘ رہی، مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ اور مقام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا: لبنانی سفیر

    امریکہ میں لبنان کی سفیر ندا حمادہ معوض کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ہونے والی ابتدائی بات چیت ’نتیجہ خیز‘ رہی۔

    منگل کے روز ہونے والے مذاکرات کے بعد جاری ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے نومبر 2024 میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر ’مکمل عمل درآمد کی فوری ضرورت‘ پر زور دیا۔

    یاد رہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 13 ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد یہ معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کو جنوبی لبنان میں اپنی مسلح موجودگی ختم کرنے کے لیے 60 دن دیے گئے تھے۔

    ندا حمادہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے جنگ بندی کے ساتھ ساتھ بے گھر افراد کی اپنے گھروں کو واپسی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ انھوں نے لبنان کی ’تمام لبنانی علاقوں پر مکمل خودمختاری‘ اور تنازع کے باعث پیدا ہونے والے ’شدید انسانی بحران‘ میں کمی کے لیے اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    لبنانی سفیر کا کہنا ہے کہ آئندہ مذاکرات کی تاریخ اور مقام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

    واشنگٹن میں ہونے والی بات چیت میں امریکی نمائندے بھی شریک تھے۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں آج ہونے والی بات چیت کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

    جبکہ اسرائیلی سفیر کا دعویٰ تھا کہ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ لبنان کو اُس طاقت کے چنگل سے آزاد کرایا جائے جس پر ایران حاوی ہے اور جسے حزب اللہ کہا جاتا ہے۔

    لبنان اسرائیل مذاکرات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  7. ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں کی گئی عارضی نرمی میں توسیع نہیں کی جائے گی: امریکی محکمہ خزانہ

    امریکی وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ ایران پر عائد کردہ تیل کی پابندیوں میں کی گئی عارضی نرمی میں توسیع نہیں کی جائے گی۔

    وزارتِ خزانہ کی جانب سے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ سمندر میں پھنسے ہوئے ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت کے لیے جو قلیل مدتی اجازت نامہ جاری کیا گیا تھا اس میں توسیع نہیں کیا جائے گا۔ یہ اجازت 19 اپریل کو ختم ہو رہی ہے۔

    محکمے کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد ایران پر ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ برقرار رکھنا ہے۔

    ایکس پر جاری ایک اور پیغام میں امریکی وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ وہ ایسے غیر ملکی مالیاتی اداروں کے خلاف بھی پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہے جو ’ایران کی سرگرمیوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

  8. ایران اور امریکہ کے درمیان پائیدار امن معاہدے کی امید، تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری

    منگل کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھنے میں آئی جسے تجزیہ کار ایران اور امریکہ کے درمیان پائیدار امن معاہدے کے امکان سے جوڑتے ہیں۔

    عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت ساڑھے چار فیصد کم ہو کر فی بیرل 94.87 ڈالر کی نچلی سطح تک آ گئی۔ تاہم بعد ازاں اس میں معمولی بحالی بھی دیکھی گئی۔

    سرمایہ کاری کی تجاویز دینے والی کمپنی کوئلٹر سے وابستہ لنڈزی جیمز کہتی ہیں کہ ممکنہ طور پر مذاکرات کے دوسرے دور کی خبروں نے منڈیوں میں بہتری لانے میں مدد دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے بھی ایسے اشارے ملے ہیں کہ تہران امریکی ناکہ بندی کو آزمانے کے بجائے فوجی تصادم سے بچنے کے لیے تیل کی ترسیل عارضی طور پر روکنے کو ترجیح دے گا۔

    تیل کی قیمتوں کا گراف
  9. تہران میں دھماکے کی آواز سنی گئی ہے: ایرانی ذرائع ابلاغ

    ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ تہران میں دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔

    تہران کے ضلع 10 کے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد بالیدہ نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’غدار اور غیر محبِ وطن عناصر‘ نے ایک ’معمولی دھماکہ‘ کیا ہے۔ تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس دھماکے کے پیچھے کون ملوث ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ شہر میں صورتِ حال ’قابو میں‘ ہے۔

    اس ویڈیو پیغام کے بعد پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ فارس نیوز ایجنسی نے اپنی ایک علیحدہ رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ دھماکہ ’مائع گیس سے بنائے گئے دو دیسی ساختہ دھماکہ خیز پیکیجز‘ کی وجہ سے ہوا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس دھماکے میں تین افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں جبکہ تین گھروں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور دو گاڑیوں کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔

  10. دنیا ’جنگل کے قانون‘ کی طرف جا رہی ہے، چینی صدر شی جن پنگ

    چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی زنہوا کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ایک بار پھر’جنگل کے قانون‘ کی طرف لوٹ رہی ہے۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر شی جن پنگ نے یہ بات چین کے دورے پر آئے ہسپانوی ہم منصب پیڈرو سانچیز سے گفتگو کے دوران کہی۔

    بظاہر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دنیا ’انتشار‘ کا شکار ہے اور ’قانون اور طاقت کی حکمرانی کے درمیان رسہ کشی‘ جاری ہے۔

    ملاقات کے دوران صدر شی نے سپین کے ساتھ تعاون مضبوط کرنے پر زور دیا تاکہ دنیا کو ’جنگل کے قانون‘ کی طرف جانے سے روکا جا سکے اور ’بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی نظام‘ کا دفاع کیا جا سکے۔

    چینی صدر شی جن پنگ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  11. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ امریکہ اور اور ایران کے درمیان مذاکرات ’اگلے دو دنوں میں‘ ہو سکتے ہیں، اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ’بہت اچھا کام‘ کر رہے ہیں۔ انھوں نے اخبار کو بتایا کہ ’اگلے دو دنوں میں کچھ ہو سکتا ہے اور ہم وہاں (پاکستان) جا سکتے ہیں۔‘
    • پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ’بحری ناکہ بندی قائم کرنے کا غیر قانونی، اشتعال انگیز اور غیر تعمیری اقدام ایک غیر ذمہ دارانہ قدم ہے۔‘
    • ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران جنگ سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگا رہا ہے تاکہ ہرجانے کے معاملے کو مذاکرات میں شامل کیا جا سکے۔
    • فرانس نے اعلان کیا ہے کہ وہ برطانیہ کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک بین الاقوامی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔
    • اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ اپنا دفاعی معاہدہ معطل کر دیا ہے۔ فوجی ساز و سامان کے تبادلے اور مشترکہ تحقیق کے تعاون کے اس معاہدے میں ہر پانچ سال بعد خودکار طور پر تجدید ہو جایا کرتی تھی، تاہم اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے ویرو نا میں ایک تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت نے موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر معاہدے کی تجدید روکنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس صورتحال کا حوالہ دے رہی ہیں۔‘
    • پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ترکی میں 17 اپریل کو ہو گی
  12. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔