آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
خاتون بن کر آن لائن دوستی، پھر’بھائی‘ بن کر بلیک میلنگ: پاکستانی شہریوں سمیت متعدد افراد کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز ملنے کا انکشاف
- مصنف, امریندر یارالگڈا
- عہدہ, بی بی سی ہندی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
انٹرنیٹ پر دھوکہ دہی کے طریقے مسلسل بدل رہے ہیں۔ کبھی جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے دوستی کی جاتی ہے، کبھی محبت اور تعلق کا جھانسہ دے کر ذاتی تصاویر حاصل کی جاتی ہیں اور پھر انھی تصاویر یا ویڈیوز کی مدد سے لوگوں کو بلیک میل کر کے پیسے بٹورے جاتے ہیں۔
انڈیا کی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد میں پولیس نے ایک ایسے ہی مبینہ فراڈ کا انکشاف کیا ہے، جس میں ایک 23 سالہ شخص پر الزام ہے کہ انھوں نے خاتون بن کر سوشل میڈیا پر تقریباً ایک ہزار افراد سے رابطہ کیا، ان سے نازیبا تصاویر اور ویڈیوز حاصل کیں اور بعد میں انھیں بلیک میل کر کے رقم وصول کی۔
پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت پون کمار کے نام سے ہوئی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر لڑکیوں کی تصاویر والے اکاؤنٹس کے ذریعے لوگوں کو دوست بننے کی دعوت دیتے تھے۔ پھر بات چیت کا آغاز ہوتا اور رفتہ رفتہ بات جنسی نوعیت کی چیٹ تک پہنچ جاتی۔
پولیس کے مطابق اس دوران وہ لوگوں سے ان کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز منگواتے تھے، لیکن اس کے بعد کہانی میں ایک نیا موڑ آتا۔
اب تک خاتون بن کر بات کرنے والا شخص خود کو اسی لڑکی کا بھائی ظاہر کرتا اور متاثرہ شخص سے پیسے مانگنے لگتا تھا۔
حیدرآباد پولیس کا دعویٰ ہے کہ لڑکی اور اس کے بھائی کا کردار ادا کرنے والا شخص دراصل ایک ہی تھا۔
کن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا؟
پولیس کے مطابق پون کمار نے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً ایک ہزار افراد کو اس طریقے سے اپنے جال میں پھنسایا۔ ان میں ڈاکٹر، پولیس اہلکار، کاروباری افراد، سرکاری افسران، سافٹ ویئر انجینیئرز اور لیکچرار شامل ہیں۔
چارمینار کے ڈپٹی کمشنر پولیس کرن کھرے نے بتایا کہ ملزم گذشتہ چار برس سے اس طریقے سے لوگوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔ اس مقصد کے لیے وہ کولکتہ کی ایک ماڈل سمیت مختلف لڑکیوں کی تصاویر استعمال کرتا تھا اور لوگوں سے رقم وصول کرتا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس افسر کے مطابق مبینہ فراڈ کا شکار ہونے والوں میں انڈیا کی مختلف ریاستوں کے علاوہ دوسرے ممالک میں رہنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
پولیس نے ملزم کے قبضے سے تین موبائل فون، ایک لیپ ٹاپ اور 16 جی بی کی ایک پین ڈرائیو برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
لڑکیوں کی تصاویر استعمال کر کے یہ فراڈ کیسے کیا جا رہا تھا؟
پولیس کے مطابق، ملزم کونڈابٹولا پون کمار کا تعلق انڈیا کی ریاست تلنگانہ کے ضلع بھدرادری کوتہ گوڑم کے علاقے ٹیکول پلی سے ہے۔
پولیس کی تفتیش میں معلوم ہوا کہ پون کمار نے حیدرآباد کے علاقے بالا نگر میں واقع سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹول ڈیزائن (سی آئی ٹی ڈی) میں ڈپلومہ کی تعلیم شروع کی تھی، لیکن دوسرے سال ہی پڑھائی چھوڑ دی۔
ڈپٹی کمشنر پولیس کے مطابق اس کے بعد انھوں نے اپنے خاندان کو بتایا کہ وہ ملا ریڈی کالج میں بی ٹیک کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
پون کمار حیدرآباد میں رہتے ہوئے چھوٹے موٹے کام کرتے رہے تاہم اس وقت وہ بے روزگار تھے۔
پولیس کے مطابق وہ لڑکیوں کی تصاویر استعمال کر کے انسٹاگرام اور فیس بک پر جعلی اکاؤنٹس بناتے تھے۔ ان اکاؤنٹس کے ذریعے لوگوں کو فرینڈ ریکویسٹ یا فالو کرنے کی درخواستیں بھیجی جاتی تھیں۔ ریکویسٹ قبول ہونے کے بعد وہ لڑکی بن کر ان سے بات چیت شروع کر دیتے تھے۔
ڈپٹی کمشنر پولیس کرن کھرے نے بتایا کہ ملزم آہستہ آہستہ گفتگو کو جنسی نوعیت کی چیٹ کی طرف لے جاتے اور صارفین سے ان کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز حاصل کر کے محفوظ کر لیتے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پون کمار خود بھی سامنے والے افراد کو بعض ماڈلز کی نیم برہنہ تصاویر بھیجتے تھے تاکہ انھیں ان کی اصل شناخت پر شک نہ ہو۔
پولیس کے مطابق نازیبا تصاویر اور ویڈیوز حاصل کرنے کے بعد پون کمار لوگوں سے پیسے بٹورنا شروع کر دیتے تھے۔
اب تک جس لڑکی کے نام سے وہ متاثرہ افراد سے چیٹ کر رہے ہوتے، بعد میں خود کو اسی لڑکی کا بھائی ظاہر کر کے سامنے آتے تھے۔
اس کے بعد وہ نازیبا تصاویر اور ویڈیوز بھیجنے والے افراد سے فون کالز، واٹس ایپ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے رابطہ کرتے تھے۔
ڈپٹی کمشنر پولیس کرن کھرے نے بتایا کہ ملزم متاثرہ افراد کو دھمکاتے تھے کہ ان کی بہن نے خودکشی کر لی ہے یا وہ پولیس میں شکایت درج کروا دے گا۔ پولیس کے مطابق ان دھمکیوں کے ذریعے وہ لوگوں سے رقم وصول کرتے تھے۔
کرن کھرے کے مطابق پون کمار نے اس مقصد کے لیے سب سے زیادہ کولکتہ کی ایک ماڈل کی تصاویر استعمال کیں۔
پولیس نے اس ماڈل سے رابطہ کر کے اسے بھی اس معاملے سے آگاہ کر دیا ہے۔
پاکستان سے کینیڈا تک 22 سے 70 سال کی عمر کے افراد نشانہ بنے
پولیس کے مطابق پون کمار نے پولیس اہلکاروں، لیکچرارز، سرکاری ملازمین، افسران، سافٹ ویئر انجینیئرز اور ڈاکٹروں سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً ایک ہزار افراد کو جنسی نوعیت کی چیٹ کے ذریعے اپنے جال میں پھنسایا۔
ڈپٹی کمشنر پولیس کرن کھرے نے بتایا کہ ان افراد کی عمریں 22 سے 70 سال کے درمیان ہیں۔ ان کے مطابق پولیس کو 82 افراد کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز ملی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ’دھوکہ دہی کا شکار ہونے والوں میں انڈیا کی ریاستوں تلنگانہ، آندھرا پردیش، کیرالہ، تمل ناڈو اور پنجاب کے علاوہ سعودی عرب، ترکی، پاکستان اور کینیڈا میں رہنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق پون کمار اب تک ان افراد سے مجموعی طور پر 25 لاکھ 16 ہزار انڈین روپے ہتھیا چکے ہیں۔
انسٹاگرام اور فیس بک پر 27 جعلی اکاؤنٹس
پولیس کی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ پون کمار نے انسٹاگرام پر 13 جعلی آئی ڈیز اور فیس بک پر 14 جعلی پیجز بنائے تھے۔
بی بی سی نے اس معاملے پر پون کمار سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن انھیں عدالتی حراست میں بھیجے جانے کے باعث رابطہ نہیں ہو سکا۔
جب پولیس نے پون کمار کو میڈیا کے سامنے پیش کیا تو اس وقت بھی انھوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔ بی بی سی نے پون کمار کے اہلِ خانہ سے بھی رابطہ کیا، لیکن انھوں نے بھی بات کرنے سے انکار کر دیا۔
دوست کو فرینڈ ریکویسٹ ملنے پر راز کھلنے لگا
پولیس کے مطابق پون کمار نے اپنے ایک دوست کو بھی دھوکہ دے کر اس سے چار لاکھ روپے وصول کیے تھے۔ اسی کے بعد یہ پورا معاملہ سامنے آیا۔
مبینہ فراڈ کا شکار ہونے والے پون کے دوست رمیش (فرضی نام) نے پولیس میں شکایت درج کروائی۔
رمیش نے بتایا کہ سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹول ڈیزائن میں ڈپلومہ کی تعلیم کے دوران ان کی پون کمار سے جان پہچان ہوئی تھی۔
ستمبر سنہ 2021 میں رمیش کو انسٹاگرام پر ’مون بیبی 5973‘ نامی اکاؤنٹ سے فرینڈ ریکویسٹ موصول ہوئی۔
رمیش نے پولیس کو اپنی شکایت میں کہا کہ ’مجھے اس اکاؤنٹ پر شک ہوا۔ اسے دیکھ کر لگا کہ یہ پون کمار نے بنایا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میں نے فوراً اس سے سوال کیا تو اس نے تسلیم کر لیا کہ جعلی اکاؤنٹ اسی نے بنایا تھا۔ اس کے بعد میں نے اس سے دوستی ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔‘
رمیش کے مطابق بعد میں وہ دوسرے ہاسٹل میں رہنے لگے۔ اس کے باوجود پون وہاں آیا اور ان کے ساتھ رہنے کی بات کی۔
رمیش کے مطابق اسی دوران دونوں کے درمیان جسمانی تعلقات قائم ہوئے۔ رمیش کا الزام ہے کہ پون ان پر جسمانی تعلقات قائم کرنے کے لیے بہت دباؤ ڈالتا تھا اور انھیں بلیک میل بھی کرتا تھا۔
رمیش نے اپنی شکایت میں الزام لگایا کہ پون نے ویڈیو بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے انھیں دھمکایا۔ ان کے مطابق پون نے جسمانی تعلقات قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ ان سے ڈیڑھ لاکھ روپے آن لائن اور ڈھائی لاکھ روپے نقد وصول کیے۔
سعیدآباد پولیس نے 17 اکتوبر کو اس معاملے میں مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کیں۔ اسی تفتیش کے دوران ہنی ٹریپ کا معاملہ سامنے آیا۔
’اپنی نازیبا تصاویر کسی کو نہ بھیجیں‘
ڈپٹی کمشنر پولیس کرن کھرے نے کہا ہے کہ ’سوشل میڈیا پر کسی اکاؤنٹ سے فرینڈ ریکویسٹ موصول ہونے پر اس اکاؤنٹ کے بارے میں تسلی کر جائے تو بہت سے مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر کسی نامعلوم اکاؤنٹ سے پیغام آنے پر محتاط ہو جانا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایسے لوگ ابتدا میں دوستی کے انداز میں بات کرتے ہیں۔ اس کے بعد نازیبا تصاویر اور ویڈیوز حاصل کرکے لوگوں کو بلیک میل کرنا اور ان سے پیسے بٹورنا شروع کر دیتے ہیں۔‘
پولیس ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ اگر کسی کے ساتھ دھوکہ ہو جائے یا وہ کسی فراڈ کا شکار ہوں تو فوری طور پر پولیس سے رابطہ کریں۔