کیا خلیجی معیشتیں جنگ اور جغرافیائی چیلنجوں کے سامنے ڈٹ سکیں گی؟

    • مصنف, سارہ فیاض
    • عہدہ, بی بی سی نیوز عربی کی نامہ نگار برائے اقتصادی امور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 15 منٹ

گذشتہ پچاس برسوں کے دوران خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کی معیشتوں کو سکڑاؤ کی تین بڑی لہروں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جنہوں نے بیشتر رکن ممالک کو متاثر کیا۔

پہلی لہر 1980 کی دہائی کے آغاز میں تیل کی عالمی منڈی کے بحران کے دوران آئی۔ سنہ 1982 میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت کی معیشتیں سکڑ گئیں، جبکہ 1985 میں یہی چار ممالک دوبارہ منفی شرح نمو کا شکار ہوئے اور بحرین بھی اس فہرست میں شامل ہو گیا۔ اس کی بنیادی وجوہات میں تیل کی عالمی طلب میں کمی، قیمتوں کو سہارا دینے کے لیے پیداوار میں کٹوتی، اور بعض ممالک میں پرانے تیل کے ذخائر کے باعث پیداوار کا گھٹ جانا شامل تھا۔

دوسری بڑی لہر 2020 میں کورونا وبا کے دوران دیکھی گئی، جب عالمی معاشی سرگرمیوں میں تعطل اور تیل کی مانگ میں شدید گراوٹ کے باعث خلیج کی تمام چھ معیشتیں سکڑ گئیں۔

اب خلیجی ممالک ایک تیسرے معاشی چیلنج سے دوچار ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع اور اس کے معاشی اثرات کے نتیجے میں رواں سال پانچ خلیجی معیشتوں کے سکڑنے کا امکان ہے، جبکہ عمان واحد ملک ہو سکتا ہے جو مثبت نمو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔

آئی ایم ایف کے اندازوں کے مطابق سعودی عرب کی معیشت 3.3 فیصد، متحدہ عرب امارات 3.9 فیصد، قطر 15.6 فیصد، کویت 16.7 فیصد اور بحرین 11.3 فیصد سکڑ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، عمانی معیشت کے 4.1 فیصد ترقی کرنے کی توقع ہے۔

اگر یہ پیش گوئیاں درست ثابت ہوتی ہیں تو نصف صدی سے زائد عرصے کے دستیاب ریکارڈ میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ تین خلیجی معیشتیں ایک ہی سال میں 10 فیصد سے زیادہ سکڑ جائیں گی۔

آکسفورڈ اکنامکس میں خلیجی ممالک کے لیے میکرو اکنامک تجزیے کے سربراہ آزاد زنگانا کے مطابق اس بار معاشی سکڑاؤ کی سب سے بڑی وجہ تیل اور گیس کی برآمدات میں کمی ہے، جو جنگ کے باعث بحری نقل و حمل میں رکاوٹوں کا نتیجہ ہے۔

ان کے بقول، سلامتی کی صورت حال اور حملوں کے خطرات کے باعث سیاحت اور فضائی سفر بھی متاثر ہوئے ہیں۔ حالانکہ گذشتہ دو دہائیوں میں یہی شعبے کئی خلیجی ممالک کی معیشتوں کے لیے تیل کے بعد اہم ترین آمدنی کے ذرائع بن چکے تھے۔

سعودی عرب: دباؤ کے باوجود مضبوطی

آئی ایم ایف کی پیش گوئیوں کے مطابق جنگ سے متاثر ہونے والی خلیجی معیشتوں میں سعودی عرب نسبتاً زیادہ مضبوط پوزیشن میں دکھائی دیتا ہے۔

فنڈ کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ وژن 2030 کے تحت معاشی تنوع کی پالیسیوں، مضبوط مالی و بیرونی ذخائر، توانائی اور لاجسٹکس کے متنوع ڈھانچے، اور بحرانوں سے نمٹنے کی بہتر صلاحیت ہے۔

واشنگٹن میں عرب خلیجی ریاستوں کے ادارے کے وزٹنگ فیلو اور آئی ایم ایف میں سعودی عرب و خلیجی ممالک کے سابق ذمہ دار ٹِم کیلن کے مطابق مشرق۔مغرب پائپ لائن سعودی تیل کو بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع بندرگاہ تک پہنچاتی ہے، جہاں سے اسے برآمد کیا جا سکتا ہے۔ اس سے سعودی عرب کا آبنائے ہرمز پر انحصار کم ہو جاتا ہے اور اسے دیگر خلیجی ممالک کے مقابلے میں برآمدات کے زیادہ متبادل راستے میسر آتے ہیں۔

کسی حد تک یہی صورتِ حال متحدہ عرب امارات میں بھی پائی جاتی ہے، جہاں حبشان۔فجیرہ پائپ لائن تیل کی ترسیل کے لیے متبادل راستہ فراہم کرتی ہے، جبکہ عمان کی اہم بندرگاہیں بھی آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہیں۔

اس کے برعکس قطر، کویت اور بحرین توانائی کی برآمدات، اشیائے ضروریہ کی درآمد اور صنعتی خام مال کی رسد کے لیے آبنائے ہرمز پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، جس کے باعث وہ موجودہ بحران سے نسبتاً زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق سعودی عرب کی مضبوطی کا سبب صرف متبادل تیل برآمدی راستے نہیں ہیں۔ ٹِم کیلن کا کہنا ہے کہ ملک کی بڑی مقامی منڈی اور نوجوان آبادی معاشی سرگرمیوں کو سہارا دیتی ہے، جبکہ سعودی عرب کا بیرونی سرمایہ اور غیر ملکی مالی بہاؤ پر انحصار بھی متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر کے مقابلے میں کم ہے۔

آکسفورڈ اکنامکس کے ماہر آزاد زنگانا کے مطابق سعودی عرب میں غیر ملکی آبادی کا تناسب بعض پڑوسی ممالک کے مقابلے میں کم ہے، جس سے معیشت کو جنگی جھٹکے سہنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ان کے بقول ملک کا وسیع جغرافیہ بھی بعض حملوں کے اثرات کو محدود علاقوں تک رکھنے میں مدد دیتا ہے، جس کے باعث باقی ملک میں معاشی اور روزمرہ سرگرمیاں نسبتاً کم متاثر ہوتی ہیں۔

تاہم وہ اس جانب بھی توجہ دلاتے ہیں کہ تنازع کے ابتدائی مرحلے میں سعودی عرب کو متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر کے مقابلے میں کم حملوں کا سامنا تھا۔

جولائی میں حوثیوں نے باب المندب سے گزرنے والے سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں پر ’بحری محاصرہ‘ نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ ستمبر میں مشرق۔مغرب پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں یہ کچھ عرصے کے لیے بند رہی اور سعودی عرب کو دوبارہ مشرقی ساحل کی بندرگاہوں پر زیادہ انحصار کرنا پڑا۔

اس کے باوجود عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق اگست میں نمایاں کمی کے بعد سعودی تیل کی پیداوار ستمبر میں بحال ہو کر تقریباً 83 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی، جبکہ اس سے ایک ماہ قبل یہ تقریباً 60 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔

اسی دوران مجموعی خلیجی خام تیل کی برآمدات بھی بتدریج سنبھلتی رہیں اور ستمبر میں جنگ سے پہلے کی سطح کے 75 فیصد سے زیادہ تک پہنچ گئیں۔

تاہم حالیہ حملوں نے اس بحالی کے عمل کو ایک بار پھر غیر یقینی بنا دیا ہے۔

حوثی گروپ نے گذشتہ دنوں ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ہلاکتیں اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ فضائی آپریشن بھی متاثر ہوا۔ اس سے چند روز قبل ابہا ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں بھی جانی نقصان ہوا تھا۔

مشرقی سعودی شہر ظہران میں آرامکو کے ایک انتظامی کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ سعودی وزارتِ توانائی نے تاہم اس واقعے کو محدود نوعیت کا قرار دیا۔

دوسری جانب حوثیوں نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب کی مزید توانائی تنصیبات بھی ان کے حملوں کا ہدف بن سکتی ہیں، جس سے خطے میں معاشی اور سلامتی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

آکسفورڈ اکنامکس کے ماہر آزاد زنگانا کے مطابق اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ روزمرہ معاشی سرگرمیوں اور کاروباری لاگت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ان کے بقول ریاض کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے کی عارضی بندش اور فاصلاتی تعلیم جیسے اقدامات اس بات کی مثال ہیں کہ جاری تنازع عام زندگی اور اقتصادی سرگرمیوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

صرف تیل نہیں: جنگ سے خلیجی معیشت کے دیگر شعبے بھی متاثر

جنگ کے اثرات خلیجی خطے میں صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہے بلکہ ہوا بازی، سیاحت، تجارت اور لاجسٹکس سمیت متعدد اقتصادی شعبوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔

آئی ایم ایف کے مطابق غیر تیل شعبوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے بعض خلیجی معیشتوں کو جھٹکے کے اثرات کم کرنے میں مدد دی ہے۔ اگرچہ ان شعبوں میں بھی سست روی دیکھی گئی، لیکن یہ کمی تیل کے شعبے میں آنے والی گراوٹ جتنی شدید نہیں تھی۔

تاہم اس بحران کے اثرات تمام ممالک میں یکساں نہیں رہے۔ وہ ممالک جن کی آمدنی کا بڑا حصہ سیاحت، تفریحی سرگرمیوں اور ریزورٹس سے وابستہ ہے، زیادہ متاثر ہوئے، جبکہ سعودی عرب میں اثرات نسبتاً محدود رہے کیونکہ وہاں مذہبی سیاحت زائرین کی آمد کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

رواں سال حج کے دوران معمولات بڑی حد تک برقرار رہے، تاہم آکسفورڈ اکنامکس کے ماہر آزاد زنگانا خبردار کرتے ہیں کہ اگر علاقائی کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات اگلے حج سیزن میں زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب تنازع کے باعث ہزاروں پروازیں منسوخ یا معطل کی گئیں، جبکہ بعض فضائی حدود کی بندش کے بعد ایئر لائنز کو اپنی پرواز کے راستے تبدیل کرنا پڑے۔ اگرچہ اکتوبر تک بڑی خلیجی ایئر لائنز کی آپریشنل سرگرمیاں تقریباً جنگ سے قبل کی سطح کے قریب پہنچ گئی تھیں، لیکن مسافروں کی آمد و رفت اب بھی متاثر ہے۔

مثال کے طور پر دبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران مسافروں کی تعداد 31.3 فیصد کم ہو کر تین کروڑ 15 لاکھ رہ گئی، جبکہ گذشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد چار کروڑ 60 لاکھ تھی۔

ہوا بازی کی صنعت کو درپیش چیلنجز کی عکاسی انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کے اندازوں سے بھی ہوتی ہے، جس کے مطابق مشرق وسطیٰ کی ایئر لائنز 2025 میں 7.2 ارب ڈالر کے خالص منافع کے مقابلے میں 2026 میں 4.3 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا کر سکتی ہیں۔

یوں ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات صرف تیل کی پیداوار اور برآمدات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ سیاحت، فضائی سفر، تجارتی سرگرمیوں اور مجموعی معاشی نمو پر بھی مزید دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

بحرانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مالی امداد

کویت، قطر اور بحرین بھی جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے۔ چونکہ ان کی اہم بندرگاہیں آبنائے ہرمز کے راستے پر واقع ہیں، اس لیے بحری آمدورفت متاثر ہونے کے بعد انھیں آبنائے ہرمز سے باہر موجود متبادل بندرگاہوں یا سعودی عرب کے ذریعے زمینی راستوں پر انحصار کرنا پڑا۔ تاہم یہ متبادل راستے نہ صرف زیادہ مہنگے ہیں بلکہ ان پر دباؤ اور رش بھی زیادہ ہے۔

جنگ کے اثرات خلیجی سٹاک مارکیٹوں میں بھی واضح طور پر دیکھے گئے۔ ایم ایس سی آئی جی سی سی کمپوزٹ انڈیکس کے تجزیے کے مطابق جنگ کے ابتدائی تین ہفتوں میں، 20 مارچ تک، رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں تقریباً 22 فیصد، انفارمیشن ٹیکنالوجی میں 12 فیصد اور صنعتی شعبے میں 10 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔

اگرچہ بعد کے مہینوں میں بعض مارکیٹوں اور انڈیکسز میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی، لیکن بیشتر مارکیٹیں اپنے ابتدائی نقصانات کا مکمل ازالہ نہ کر سکیں۔ ستمبر کے اختتام تک خلیج کے سات بڑے سٹاک انڈیکسز میں سے پانچ، یعنی سعودی عرب، قطر، بحرین، کویت اور دبئی کی مارکیٹیں سال کے آغاز کے مقابلے میں نیچے تھیں۔

اس کے برعکس عمان اور ابوظہبی کے سٹاک انڈیکسز نے مثبت کارکردگی دکھائی اور سال کے دوران مجموعی طور پر اضافہ ریکارڈ کیا۔

یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ جاری کشیدگی کے اثرات صرف توانائی، تجارت اور نقل و حمل تک محدود نہیں رہے بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مالیاتی منڈیوں پر بھی نمایاں دباؤ ڈال رہے ہیں۔

خلیجی ممالک کی ترجیحات میں ممکنہ تبدیلی

اس نئی صورتِ حال نے خلیجی ممالک کو اپنی ترجیحات ازسرِنو ترتیب دینے پر مجبور کر دیا ہے، تاہم یہ عمل جنگ شروع ہونے کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔

مثال کے طور پر سعودی عرب جنگ سے قبل ہی ویژن 2030 کے تحت بعض منصوبوں پر نظرثانی کا آغاز کر چکا تھا۔ تجزیہ کار زنغانا کے مطابق جنگ کے اثرات اس رجحان کو مزید تیز کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں توجہ بڑے ترقیاتی منصوبوں سے ہٹ کر صحت، تعلیم اور معیارِ زندگی بہتر بنانے جیسے شعبوں کی جانب منتقل ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب کالان کا کہنا ہے کہ فضائی دفاع، اہم تنصیبات کے تحفظ اور مقامی دفاعی صنعت کی ترقی پر بڑھتے ہوئے اخراجات دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص سرمایہ کاری کو متاثر کر سکتے ہیں۔

یہ نظرثانی خلیجی ممالک کی بیرونِ ملک مالی وابستگیوں اور سرمایہ کاری تک بھی پھیل سکتی ہے۔ فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق مالی دباؤ کے باعث بعض خلیجی حکومتیں اپنی بیرونی سرمایہ کاریوں اور مالی وعدوں کا جائزہ لے رہی ہیں۔ کالان کے مطابق اس کا مطلب موجودہ شراکت داریوں کا خاتمہ نہیں، بلکہ ممکن ہے کہ ممالک اپنے مالی وعدوں کو زیادہ مرکوز کریں یا ان کا حجم کم کر دیں۔

تاہم کالان اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض منصوبے بدستور ترجیحی حیثیت برقرار رکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر فرانس کے قریب تفریحی منصوبوں میں سعودی سرمایہ کاری، جس کا اعلان ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اگست 2026 میں فرانس کے دورے کے دوران کیا، اس بات کا اشارہ ہے کہ کچھ اہم بین الاقوامی منصوبوں پر کام جاری رہ سکتا ہے۔

خلیجی سرمایہ کاری اور امداد کی اہمیت صرف مالی فوائد تک محدود نہیں۔ 2023 میں انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ خلیجی مالی امدادی پیکجوں نے خطے کے ممالک کے اثر و رسوخ کو بڑھانے میں مدد دی اور بعض ممالک کی پالیسی ترجیحات پر اثرانداز ہونے کا موقع فراہم کیا۔

اسی طرح 2026 میں جرمن انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل اینڈ سیکیورٹی افیئرز کی ایک تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے خودمختار مالیاتی فنڈز ان ممالک کی خارجہ پالیسی کے اختیارات کو وسعت دیتے ہیں، جبکہ ان سرمایہ کاریوں میں معاشی اور سیاسی مقاصد کو ایک دوسرے سے الگ کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے۔

اسی لیے اگر خلیجی ممالک اپنی بیرونی سرمایہ کاریوں یا مالی وعدوں میں کمی کرتے ہیں یا انہیں مؤخر کرتے ہیں تو بعض حلقوں میں ان کے بین الاقوامی اثر و رسوخ میں کمی کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم زنغانا کے خیال میں خلیجی ممالک طویل المدتی تزویراتی شراکت داریاں قائم کرنے میں کامیاب رہے ہیں، اور چونکہ ان کی بہت سی بیرونی سرمایہ کاریاں باہمی مفادات پر مبنی ہیں، اس لیے سرمایہ کاری کی رفتار یا طریقۂ کار میں تبدیلی کے باوجود یہ تعلقات برقرار رہنے کا امکان ہے۔

خلیجی ممالک کی بیرونی سرمایہ کاری اور مالی امداد کی اہمیت صرف مالی منافع تک محدود نہیں۔ ان سرمایہ کاریوں نے گذشتہ برسوں میں خطے سے باہر خلیجی ریاستوں کے سیاسی اور سفارتی اثر و رسوخ کو بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کی 2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک کے مالی امدادی پیکجز اور بچاؤ پروگراموں نے مختلف خطوں میں ان کی موجودگی اور اثر کو مضبوط کیا، جبکہ بعض امداد حاصل کرنے والے ممالک کی پالیسی ترجیحات اور انتخاب پر بھی اثر ڈالنے میں مدد دی۔

اسی طرح جرمن انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی اور سلامتی کے امور کی جانب سے 2026 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے خودمختار دولت فنڈز کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق ان فنڈز کی سرمایہ کاریوں میں معاشی اور سیاسی مقاصد کو مکمل طور پر الگ کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے، اور یہ فنڈز اپنے مالک ممالک کی خارجہ پالیسی کے لیے اضافی گنجائش اور اثر و رسوخ پیدا کرتے ہیں۔

اسی لیے اگر جنگ یا معاشی دباؤ کے باعث خلیجی ممالک اپنی بیرونی سرمایہ کاریوں اور مالی وعدوں کو کم یا مؤخر کرتے ہیں تو بعض ماہرین کے نزدیک ان کے علاقائی اور عالمی اثر و رسوخ میں کمی آنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

تاہم آکسفورڈ اکنامکس کے ماہر آزاد زنگانا اس بارے میں نسبتاً پُراعتماد ہیں۔ ان کے مطابق خلیجی ممالک گذشتہ برسوں میں طویل المدت اور مضبوط سٹریٹجک شراکت داریاں قائم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کی زیادہ تر بیرونی سرمایہ کاری باہمی مفادات پر مبنی ہے، اس لیے اگر منصوبوں کی رفتار یا طریقۂ کار میں عارضی تبدیلی بھی آ جائے تو ان شراکت داریوں کے مکمل طور پر متاثر ہونے کا امکان کم ہے۔

ان کے بقول، موجودہ بحران کچھ سرمایہ کاری منصوبوں میں تاخیر یا نظرثانی کا سبب بن سکتا ہے، لیکن خلیجی ممالک اور ان کے بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان موجود طویل المدت معاشی مفادات مستقبل میں بھی تعاون کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے رہیں گے۔

جغرافیہ: معاشی تنوع کی حدود

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو توقع ہے کہ 2027 میں خلیجی معیشتیں دوبارہ مضبوط شرح نمو کی طرف لوٹ آئیں گی۔ اس پیش گوئی کی بنیاد اس مفروضے پر ہے کہ سمندری تجارت اور جہاز رانی کی سرگرمیاں بتدریج معمول پر آ جائیں گی۔ فنڈ کے مطابق مارچ سے شپنگ کی بحالی شروع ہو سکتی ہے اور اکتوبر تک یہ جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ سکتی ہے۔

تاہم آکسفورڈ اکنامکس کے ماہر آزاد زنگانا اس اندازے کو قدرے پُرامید قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق حالات کا فوری طور پر سابقہ سطح پر واپس آنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ وہ اس امکان کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایسے انتظامات ہو سکتے ہیں جن کے تحت جہازوں کو گزرنے اور تیل و گیس کی برآمد کی اجازت مل جائے، ممکنہ طور پر ایران کو بعض فیسوں یا مراعات کے عوض۔ ایسی صورت میں اگلے سال جزوی بحالی تو ممکن ہے، لیکن عالمی تجارت فوری طور پر مکمل بحال نہیں ہوگی۔

دوسری طرف توانائی کی سپلائی کی واپسی خود خلیجی معیشتوں کے لیے ایک چیلنج بھی بن سکتی ہے۔ ٹِم کیلن کے مطابق اگر خلیجی تیل تیزی سے عالمی منڈی میں واپس آتا ہے تو منڈی، جو اس وقت رسد کی کمی کا شکار ہے، اضافی سپلائی کی طرف جا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکی پیداوار بڑھ رہی ہے اور وینزویلا کی کچھ سپلائی بھی دوبارہ مارکیٹ میں آ رہی ہے۔

تاہم فی الحال ایسا منظرنامہ قریب دکھائی نہیں دیتا۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق عالمی تیل منڈی میں 2026 کے اختتام تک رسد کی کمی برقرار رہنے کا امکان ہے، بالخصوص اس لیے کہ عالمی ذخائر کم ہو چکے ہیں۔ ایجنسی کا اندازہ ہے کہ 2027 میں تیل کی عالمی سپلائی میں 77 لاکھ بیرل یومیہ اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ طلب میں تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ کا جزوی اضافہ متوقع ہے۔ دوسری جانب اوپیک طلب میں زیادہ تیز رفتار نمو کی پیش گوئی کرتی ہے اور اس کے مطابق طلب میں 25 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ تک اضافہ ہو سکتا ہے، جزوی طور پر اس لیے کہ ختم ہوتے ذخائر کو دوبارہ بھرنا ہوگا۔ اسی لیے اضافی سپلائی کا امکان موجود ضرور ہے، لیکن یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ توانائی کی رسد کتنی تیزی سے بحال ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ ختم بھی ہو جائے تو کاروباری سرگرمیاں فوری طور پر پرانی سطح پر واپس نہیں آئیں گی۔ فضائی اور بحری نقل و حمل میں تعطل کے باعث بہت سی کمپنیوں نے اپنے تجارتی راستے تبدیل کیے ہیں اور سپلائی چینز کا ازسرِنو جائزہ لیا ہے۔

ٹِم کیلن کے مطابق جنگ کے اثرات توانائی کے شعبے کی بحالی کے بعد بھی برقرار رہ سکتے ہیں۔ ان کے بقول ہوا بازی، سیاحت اور لاجسٹکس جیسے شعبوں کو سنبھلنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے کیونکہ کمپنیاں مستقبل کے ممکنہ بحرانوں سے بچنے کے لیے متبادل انتظامات تلاش کریں گی، جب تک کہ ایسی قابلِ اعتماد سکیورٹی ضمانتیں فراہم نہ کی جائیں جو سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کو یقین دلا سکیں کہ حملوں اور تنازعات کی نئی لہر دوبارہ نہیں آئے گی۔

آزاد زنگانا بھی اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سرمایہ کار آئندہ زیادہ ضمانتیں، محفوظ انخلا کے منصوبے یا بڑھتے ہوئے خطرات کے بدلے زیادہ منافع کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ اس کے اثرات غیر ملکی ماہر افرادی قوت پر بھی پڑ سکتے ہیں، کیونکہ ملازمین اور ان کے خاندانوں کی سلامتی مستقبل میں خلیجی ممالک میں کام کرنے کے فیصلے کا اہم عنصر بن سکتی ہے۔ نتیجتاً انشورنس اور کاروبار کرنے کی لاگت دونوں بڑھنے کا امکان ہے۔

ماہرین کے مطابق خلیجی معیشتیں ان اضافی اخراجات کو برداشت کرتے ہوئے ترقی کا سفر جاری رکھ سکتی ہیں، لیکن یہ اخراجات سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوں گے اور خطے کے معاشی مستقبل کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

ان کے نزدیک آج خلیجی ممالک کو درپیش چیلنج صرف معیشتوں میں تنوع پیدا کرنے یا ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے تک محدود نہیں۔ اصل مسئلہ جغرافیے کا ہے، اور جغرافیے کو سادہ الفاظ میں "متنوع" نہیں بنایا جا سکتا۔

اسی لیے ٹِم کیلن کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کو معاشی تنوع کے ساتھ ساتھ تیل اور تجارتی نقل و حمل کے راستوں میں بھی تنوع لانے، فضائی دفاع پر زیادہ سرمایہ کاری کرنے اور اہم تنصیبات کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب آزاد زنگانا کے مطابق ان چیلنجز میں سے بعض ایسے ہیں جن سے کوئی ایک ملک تنہا نہیں نمٹ سکتا۔ ان کے خیال میں خلیجی ممالک کو دفاعی اور لاجسٹک تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ ان کے بقول مستقبل میں یہی علاقائی ہم آہنگی نہ صرف جنگ کے اثرات کم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے بلکہ جنگ کے بعد معاشی بحالی اور ترقی کی رفتار کو تیز کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔