گدی نشین کا شاہانہ ڈولی میں آخری سفر: ماتو رام کون تھے جن کی میت مٹھی کی گلیوں سے گزری

،تصویر کا ذریعہIjaz Bajeer
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
ایک شاہانہ ڈولی، آگے شنکھ اور گھنٹیوں کی آوازیں، ساتھ بھجن اور کیرتن گاتے بھگت۔
سندھ کے صحرائی ضلع تھر پارکر کے صدر مقام مٹھی کی گلیوں سے گزرنے والا یہ جلوس کسی شادی یا مذہبی تہوار کا نہیں، بلکہ ماتو رام بھگت نامی شخص کی موت کے بعد اُن کی میت کا آخری سفر تھا۔
ماتو رام کی میت کسی پلنگ پر موجود نہیں تھی بلکہ اُسے ایک سجی سجائی ’وینکٹھی‘ میں بٹھایا گیا تھا۔
وینکٹھی پالکی کی طرح ہوتی ہے جس میں میت کو لٹایا نہیں بلکہ عام انسانوں کی طرح بٹھایا جاتا ہے اور اِس طرح محسوس ہوتا ہے جیسے مردہ شخص کُرسی پر براجمان ہے۔
تو ماتو رام بھگت کون تھے، مٹھی کی گلیوں میں اُن کا آخری سفر اتنا غیر معمولی کیوں تھا، اُن کی میت کو ’وینکٹھی‘ میں کیوں بٹھایا گیا تھا اور اس روایت کی ابتدا کب ہوئی؟
ماتو رام کون تھے؟
ماتو رام بھگت مٹھی شہر کی قدیم گدی ’بھگت ہرداس‘ کے گدی نشین تھے۔ وہ مٹھی کی ایک معروف سماجی شخصیت تھے اور ماضی میں شہر کے ناظم بھی رہ چکے تھے۔
اُن کے آخری سفر کے موقع پر مٹھی شہر کی دکانیں اور بازار بند رہیں۔ جلوس میں شنکھ بجانے والے، بھجن، کیرتن گانے والے اور موسیقی کے مختلف آلات بجاتے بھگت بھی شامل تھے۔
اس موقع پر لوک گلوکار راجب فقیر نے ماتو رام کو خراج عقیدت بھی پیش کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس جلوس کی ایک نمایاں بات یہ تھی کہ اِس میں صرف ہندو برادری کے لوگ نہیں تھے بلکہ مسلمان بھی شریک ہوئے۔
خواتین بھی بڑی تعداد میں موجود تھیں جبکہ جلوس شہر میں واقع مندروں اور امام بارگاہوں سمیت مختلف مذہبی مقامات سے ہوتا ہوا اختتام پذیر ہوا۔

،تصویر کا ذریعہIjaz Bajeer
وینکٹھی کیا ہے؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ماتو رام کی میت کو پہلے بھگت ہرداس کی گدی سے اٹھایا گیا اور پھر وینکٹھی میں بٹھا کر شہر کی گلیوں سے گزارا گیا۔ وینکٹھی یا بیکنٹھی کا تعلق سنسکرت کے لفظ ویکنٹھ سے جوڑا جاتا ہے۔
ہندو مذہبی تصور میں ویکنٹھ بھگوان وشنو کا مقدس دھام (مقام) ہے، جہاں دُکھ، پریشانی اور جینے مرنے کے چکر سے نجات کا تصور پایا جاتا ہے۔ اسی لیے کسی روحانی یا مذہبی شخصیت کی وفات پر اِسے ’ویکنٹھ واسی‘ ہونے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
تھر کے محقق اور لکھاری معصوم تھری کے مطابق ویکنٹھ سے اُس شاہانہ سواری کا تصور بھی جڑا ہے، جو روح کو اپنے ساتھ لے کر روانہ ہوتی ہے۔
وقت کے ساتھ یہ تصور ایک ایسی رسم میں تبدیل ہوا جس میں کسی مذہبی یا روحانی شخصیت کی میت کو سجائی ہوئی ڈولی میں بٹھا کر آخری سفر کرایا جاتا ہے۔
ماتو رام بھگت کی وینکٹھی مٹھی شہر میں اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ بھارو مل امرانی کے مطابق تھرپارکر میں اس سے پہلے بھی کئی معروف شخصیات کی وینکٹھی نکالی جا چکی ہے۔
ان میں مہیشوری برادری کے بھیکھٹ مل، مصنف اور بھگت کھیم چند، بھگت ہرداس کے سلسلے سے تعلق رکھنے والے سردارو بھگت شامل ہیں۔ سردارو بھگت، ماتو رام بھگت کے بھائی تھے۔
تھر کے دوسرے شہروں میں بھی اس روایت کی مثالیں ملتی ہیں۔
ماضی میں چیلھار میں بجلال نامی شخص کی وینکٹھی نکالی گئی تھی، عمرکوٹ میں رانا چندر سنگھ کی جبکہ نیو چھور میں ٹھاکر ہٹھے سنگھ کی وینکٹھی نکالی گئی۔
وینکٹھی صرف صوبہ سندھ، انڈین گجرات اور راجستھان کے پڑوسی ضلع تھر تک محدود روایت نہیں ہے۔
سماجی علوم کے ماہر اور آئی بی اے کراچی کے شعبۂ سوشل سائنسز اینڈ لبرل آرٹس کے اسسٹنٹ پروفیسر عبدالحق چانگ کے مطابق، وینکٹھی کی روایت صرف سندھ یا سندھی ہندو برادری تک محدود نہیں۔
اُن کے مطابق اِس رسم کی جڑیں مغربی ہندوستان کے وسیع مذہبی اور سماجی ماحول میں بھی ملتی ہیں، خصوصاً راجستھان اور گجرات میں۔ ہندو برادریوں کے ساتھ بعض جین برادریوں میں بھی مذہبی شخصیات کے آخری سفر کے لیے اس طرح کی پالکی یا سواری استعمال ہونے کے شواہد ملتے ہیں۔
بقول ان کے ایک ہی رسم مختلف علاقوں اور برادریوں میں مختلف مذہبی معنی اختیار کر سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہIjaz Bajeer
عام جنازے سے مختلف سفر
وینکٹھی میں جسد کو لٹایا نہیں جاتا بلکہ بٹھایا جاتا ہے، اسے پھولوں اور دیگر سجاوٹی اشیا سے سجایا جاتا ہے اور پھر لوگ اسے کندھوں پر اٹھا کر شہر میں لے جاتے ہیں۔
ماتو رام کے معاملے میں بھی اُن کا جسم اسی انداز میں سجایا گیا، مگر یہ جلوس سیدھا شمشان گھاٹ کی طرف نہیں گیا بلکہ یہ مٹھی کے چوکوں اور گلیوں سے گزرا، مختلف مذہبی مقامات کے قریب سے ہوتا ہوا آگے بڑھا۔
مندروں کے ساتھ ساتھ درگاہوں، مزارات اور امام بارگاہوں کی طرف بھی اِس سفر کا رُخ ہوا اور آخری سفر کا یہ راستہ خود ایک پیغام بن گیا۔
مٹھی میں انھیں صرف ایک گدی نشین کے طور پر نہیں دیکھا جاتا تھا بلکہ اُن کی شناخت شہر کی اجتماعی زندگی، ثقافت اور مقامی روایت سے بھی جڑی ہوئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہIjaz Bajeer
ماتم کے بجائے عقیدت اور یاد
وینکٹھی کے جلوس میں ماحول روایتی جنازے جیسا نہیں ہوتا۔ رونے اور سوگ منانے کے بجائے بھجن، کیرتن اور مذہبی گیت گائے جاتے ہیں۔
تھر میں لوک ادب پر کئی کتابوں کے مصنف بھارو مل آمرانی کہتے ہیں کہ اس روایت میں یہ تصور شامل ہے کہ جس شخص کو وینکٹھی میں لے جایا جا رہا ہے، وہ اپنی زندگی مکمل کرنے کے بعد اب ایک بہتر روحانی مقام کی طرف روانہ ہو رہا ہے۔
اسی لیے ایسے شخص کے لیے ’ست پرش‘ جیسے الفاظ بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ بعض علاقوں میں خواتین اپنے دوپٹے کے پلو سے راستہ یا صحن صاف کرنے کی علامتی رسم بھی ادا کرتی ہیں، جیسے وہ رخصت ہونے والے کے لیے راستہ تیار کر رہی ہوں۔

،تصویر کا ذریعہIjaz Bajeer
وینکٹھی کے بعد کیا ہوتا ہے؟
وینکٹھی کے سفر کے بعد آخری رسومات کا طریقہ ہر شخص کی مذہبی روایت اور عقیدے کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔
بھارو مل کے مطابق کسی کی شمشان گھاٹ میں اگنی سنسکار کی جاتی ہے، جبکہ بعض مذہبی شخصیات کو سمادھی دی جاتی ہے، جس میں میت کو عام تدفین کی طرح لٹایا نہیں جاتا بلکہ بیٹھنے والی پوزیشن میں رکھا جاتا ہے۔ بعض اوقات یوگ آسن کی حالت میں دفن کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ خاص طور پر جوگیوں، سامیوں، شیوادھاری افراد اور بعض بھگتوں کے لیے اختیار کیے جانے کا ذکر ملتا ہے۔
بعض صورتوں میں کسی شخص کی وصیت بھی اس رسم کی وجہ بنتی ہے، اس کا مطلب وینکٹھی کے بعد آخری منزل ایک جیسی نہیں ہوتی، اس کا انحصار مرنے والے کی مذہبی حیثیت، روایت اور ذاتی عقیدے پر ہو سکتا ہے۔
عبدالحق چانگ کہتے ہیں کہ ماتو رام بھگت کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے بھگت کی روایت کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
ان کے مطابق سندھ میں بھگت صرف مذہبی شخصیت کا نام نہیں۔ یہ ایک ایسی ثقافتی روایت بھی ہے جس میں مذہب موسیقی، کہانی، شاعری، اداکاری اور عوامی اجتماع کے ذریعے لوگوں تک پہنچتا ہے۔
جب ماتو رام کی سجی ہوئی وینکٹھی مٹھی کی گلیوں سے گزری تو اس میں صرف ایک مردہ جسم نہیں تھا، اس کے ساتھ ایک گدی کی روایت تھی، بھگتوں کی موسیقی تھی، شہر کی یادیں تھیں، لوگوں کے ذاتی تعلقات تھے اور تھر کی وہ مقامی ثقافت تھی جس میں مذہب اور روزمرہ سماجی زندگی ایک دوسرے سے الگ نہیں رہتے۔



















