ماچس جو دو سو سال قبل حادثاتی طور پر ایجاد ہوئی، گمنام موجد کی حیران کن کہانی

    • مصنف, سوامی ناتھن نٹراجن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

تقریباً دو سو سال قبل سنہ 1826 میں انسانیت کو ایک اتفاقی دریافت سے فائدہ ہوا جس نے آگ پیدا کرنے اور روشنی حاصل کرنے کے طریقے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

یہ وہ وقت تھا جب ایک تجرباتی مگر غیر معروف برطانوی فارماسسٹ جان واکر اپنی لیبارٹری میں مختلف کیمیکل پر تجربات کر رہے تھے اور غیر ارادی طور پر ماچس ایجاد کر بیٹھے۔

یہ تاریخ میں پہلی بار ہونے والا واقعہ تھا جس نے انسانوں کے لیے آگ کے استعمال کو نہایت آسان بنا دیا۔

اس کارنامے کا سہرا برطانیہ کے تجرباتی فارماسسٹ جان واکر کے سر جاتا ہے۔ وہ ایک تجربے کے دوران دھماکہ خیز مرکب تیار کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ لکڑی کے ایک ٹکڑے پر لگی ہوئی کیمیکل مکسچر غلطی سے چمنی کے پتھر سے ٹکرا گیا اور آگ بھڑک اٹھی۔

ماچس کا تجارتی استعمال سنہ 1827 میں شروع ہوا۔

واکر کی ماچس نے بھاپ کے انجن کی رفتار کو کیسے تیز کیا؟

واکر سنہ 1781 میں برطانیہ کے علاقے سٹاکٹن آن ٹییز میں پیدا ہوئے جو درہم کا ایک ساحلی شہر تھا۔ اس وقت صنعتی انقلاب اپنے عروج پر تھا۔ اس انقلاب کا ایک اہم محرک جیمز واٹ کا ’سٹیم انجن‘ یعنی بھاپ والا انجن تھا۔ بعد ازاں واکر کی ماچس کی ایجاد نے بھاپ کے انجن کو جلائے رکھنے کے عمل کو آسان بنا دیا۔

جیمز واٹ کے بھاپ والے انجن کا تجارتی استعمال سنہ 1776 میں شروع ہو چکا تھا، تاہم اس پر مبنی پہلی عوامی ریلوے کو واکر کے آبائی شہر سٹاکٹن تک پہنچنے میں 49 سال لگے جو سنہ 1825 میں وہاں پہنچی۔

اس کے چار سال بعد سنہ 1829 میں جارج سٹیفنسن کے بھاپ والے انجن سے ’راکٹ‘ نامی لوکوموٹیو تیار کیا گیا۔ اس ایجاد نے ثابت کیا کہ بھاپ والے ٹرین کا انجن مسافر ٹرینوں کو 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے کھینچ سکتے ہیں۔ اس سے سفر آسان ہو گیا اور جو سفر پہلے گھوڑے پر 12 دن میں طے ہوتا تھا وہ اب صرف آٹھ گھنٹوں میں ممکن ہو گیا۔

تاہم بھاپ والے انجن کو چلانے کے لیے آگ جلانا اب بھی ایک مشکل مرحلہ تھا۔ لوگ چنگاری پیدا کرنے والے پتھر اور فولاد استعمال کرتے تھے یا مسلسل جلتے ہوئے انگارے محفوظ رکھتے تھے۔ یہ صورتحال اس وقت بدل گئی جب واکر کی اتفاقی دریافت نے آگ جلانے، اس کے استعمال اور ترسیل کے طریقے میں انقلاب برپا کر دیا۔

واکر نے ماچس کیسے ایجاد کی

ماچس کے موجد جان واکر پیشے کے اعتبار سے تربیت یافتہ سرجن تھے تاہم 18ویں صدی کے خونریز دور میں انھوں نے اپنا پیشہ بدل کر فارماسسٹ بننے کا فیصلہ کیا۔

مصنف ایلن مڈلٹن اپنی کتاب ’آ ٹیل آف ہوپ اینڈ ڈیسپائر: نارتھ آف انگلینڈ میچ کمپنی، ویسٹ ہیٹرپول (1954-1932) میں جان واکر کا ذکر کرتے ہیں۔

"A Tale of Hope and Despair: North of England Match Company, West Hartlepool (1932–1954)"

کتاب کے مطابق واکر نے سنہ 1826 میں اپنا زیادہ تر وقت انسانوں کے لیے ادویات کی تیاری اور تحقیق کے ساتھ ساتھ مویشیوں اور یہاں تک کہ مرغیوں کے علاج کے لیے ادویات تیار کرنے میں صرف کرنا شروع کیا اور اسی دوران وہ کیمیکل پر تجربات بھی کرتے رہے۔

ایلن مڈلٹن کے مطابق ’واکر ایک ذہین اور نہایت مہربان انسان تھے تاہم کچھ لوگ انھیں قدرے عجیب مزاج بھی سمجھتے تھے۔ انھیں کیمسٹری میں خاص دلچسپی تھی اور وہ اپنے کسان دوستوں کے لیے پرسیشن کیپس یعنی بارود جلانے والی کیپس بنانے کے لیے مختلف کیمیکل مکس کیا کرتے تھے۔‘

ایک دن وہ ایک کیمیائی آمیزہ تیار کر رہے تھے اور اسے خشک ہونے کے لیے چھوڑ دیا۔

جب وہ خشک ہو گیا تو لوگوں نے اسے صرف لکڑی کے ایک ٹکڑے پر رگڑا تو وہ فوراً جل اٹھا۔

مصنف کے مطابق ’یہ ایک حیرت انگیز لمحہ تھا، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔‘

ماچس کی فروخت شروع کر دی مگر اس کی قانونی ملکیت کا حق حاصل نہیں کیا

مڈلٹن نے مزید لکھا ہے کہ ’واکر نے سنہ 1826 کے دوران کسی وقت اس اگنیشن ایجاد کی تجارتی اہمیت کو سمجھ لیا تھا اگرچہ اس کی درست تاریخ معلوم نہیں ہے۔ پہلی فروخت اپریل سنہ 1827 میں شروع ہوئی۔

مضمون کے مطابق ’واکر نے اسے ’فرکشن میچ‘ (رگڑ سے جلنے والی ماچس) کا نام دیا اور ابتدا میں اسے ڈبوں میں سینکڑوں کی تعداد میں فروخت کیا۔‘

واکر کی یہ ’فرکشن لائٹس‘ باریک لکڑی کی تیلیاں تھیں جن کے ایک سرے کو پوٹاشیم کلوریٹ، اینٹیمونی سلفائیڈ اور پانی کے آمیزے میں ڈبویا جاتا تھا۔ جب انھیں سینڈ پیپر پر رگڑا جاتا تو وہ فوراً جل اٹھتیں۔

واکر نے اپنے فارمولے کو خفیہ رکھا تاہم اس کا پیٹنٹ یعنی قانونی ملکیت کا حق اپنے نام نہیں کروایا۔ ان کی ماچس سستی تھیں اور وہ سٹاکٹن کے مقامی علاقے میں اس کی طلب پوری کرنے کے قابل تھے۔

تاہم فارماسیوٹیکل جرنل کے مطابق ’واکر کی ماچس مکمل طور پر محفوظ یا بہتر نہیں تھیں۔ جلتا ہوا سلفر بعض اوقات لکڑی سے گر جاتا تھا، جس سے ماچس جلانے والے شخص یا اس کے کپڑوں اور فرش کو نقصان پہنچنے کا خطرہ رہتا تھا۔‘

واکر کی نقل پر مبنی ماچس کے ڈبے مارکیٹ میں آ کر مقبول ہو گئے

سنہ 1829 تک لندن کے سیموئل جونز نے ’لوسیفرز‘ کے نام سے ماچس متعارف کروائیں، جو واکر کی ’فرکشن لائٹس‘ کی بالکل نقل تھیں۔ یہ وہ پہلی ماچس تھیں جن کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع ہوئی۔

برطانوی میچ باکس لیبل اینڈ بک میچ سوسائٹی کے صدر ڈیرک جڈ نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ بعد میں دیگر افراد نے اس فارمولے میں مزید بہتریاں کیں اور ماچس کے ڈبوں کی شکل و ڈیزائن بھی تبدیل ہوتا گیا۔

ان کے مطابق سنہ 1844 میں سویڈن میں ماچس کی ایک نئی قسم سامنے آئی جہاں سے ماچس کی جدید شکل کو عالمی مقبولیت حاصل ہوئی۔

ڈیرک جڈ وضاحت کرتے ہیں کہ کئی علاقوں میں ماچس سازی گھریلو صنعت بن گئی تھی۔ خاندان اپنے گھروں میں یہ کام کرتے تھے جو اگرچہ خطرناک تھا لیکن اضافی آمدنی کا ایک منافع بخش ذریعہ تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ’خواتین اور بچے فیکٹریوں کے اردگرد گھروں میں ماچس کے ڈبے تیار کرتے تھے اور پیداوار کے حساب سے معاوضہ حاصل کرتے تھے۔ بعد ازاں مشینری کے آنے سے یہ ایک بڑی صنعت بن گئی۔‘

لائٹر نے ماچس کے کاروبار کو متاثر کیا

بعد ازاں سگریٹ لائٹر کی ایجاد نے ماچس کے استعمال پر نمایاں اثر ڈالا۔ ڈیرک جڈ کے مطابق ’وقت کے ساتھ یہ کاروبار سکڑتا گیا اور متعدد کمپنیاں بند ہو گئیں۔‘

مڈلٹن کے مطابق ماچس آج بھی دنیا بھر میں ایک عام اور ضروری شے ہے تاہم اب یہ فیشن آئٹم کی صورت بھی اختیار کر چکی ہے اور خصوصی ڈیزائن والے پیکٹس بعض اوقات 250 ڈالر تک میں فروخت ہوتے ہیں۔

تاہم اس کے موجد جان واکر نسبتاً گمنام رہے ہیں۔ مڈلٹن اور جڈ دونوں کے مطابق دو سو سال بعد بھی انھیں مناسب پہچان ملنی چاہیے۔

ڈیرک جڈ کہتے ہیں ’واکر ایسے شخص تھے جنھوں نے اپنی ایجاد کو فروغ دینے کی کوشش نہیں کی لیکن اگر وہ ایسا کرتے تو وہ بہت مشہور ہو سکتے تھے۔‘

واکر کی 200ویں سالگرہ کی تقریبات 29 مئی سے سٹاکٹن میں شروع ہوتی ہیں۔

مقامی افراد کی امید ہے کہ ان تقریبات کے ذریعے زیادہ لوگ واکر کی خدمات کے بارے میں جان سکیں گے۔

کونسل لیڈر لیزا ایونز نے کہا ’فرکشن ماچس کی ایجاد نے آگ کو تیزی سے اور آسانی سے پیدا کرنا ممکن بنایا۔ اس نے صنعتی اور گھریلو دونوں ضروریات کو بہت تیزی سے آگے بڑھایا۔ ان کے پیدا کیے گئے یہ چنگاریاں آج بھی لوگوں کو متاثر کرتی ہیں۔‘