آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’ڈاکٹروں کو سی سیکشن کے دوران پتا چلا کہ خاتون حاملہ نہیں‘: کراچی میں زچگی کا معمہ
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
یہ زچگی کا ایسا غیر معمولی کیس ہے جس میں ڈاکٹروں کو دوران آپریشن پتا چلا کہ خاتون کے رحم میں کوئی بچہ تھا ہی نہیں۔
دراصل بچے کی ڈیلیوری کے لیے یہ آپریشن 27 اگست کو پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ہو رہا تھا۔ ناظم آباد کے ہمدرد ہسپتال میں لائی جانے والی خاتون کے خاندان کا خیال تھا کہ ان کے حمل کو ٹھہرے ہوئے نو مہینے ہو چکے ہیں۔
اہل خانہ کے پاس الٹراساؤنڈ کی رپورٹ میں بھی 38 ہفتوں کا حمل ظاہر ہو رہا تھا۔
لیکن جب آپریشن کے بعد خاندان کو معلوم ہوا کہ خاتون کی کوکھ میں بچہ موجود نہیں تو وہ مشتعل ہو گئے اور ہسپتال پر بچے کو غائب کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔
ہسپتال میں ہونے والے ہنگامے کے بعد پولیس بھی وہاں پہنچ گئی۔ مگر پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق خاتون نے مبینہ طور پر اپنا حمل ٹھہر جانے کے حوالے سے جھوٹ بولا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کی شادی کو تین برس گزر چکے تھے اور ان کے خاندان کی دیگر خواتین مائیں بن چکی تھیں اور اسی وجہ سے انھوں نے بھی حمل ٹھہرنے کے بارے میں کہا تھا۔
اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ سوال بھی اُٹھ رہا ہے کہ ہسپتال نے حمل کی آزادانہ تصدیق کیے بغیر خاتون کا آپریشن کیوں کیا؟
ہمدرد ہسپتال کی گائنی ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر انجم آرا حسن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ خاتون 27 اگست کو ہسپتال آئیں اور ایک الٹراساؤنڈ رپورٹ پیش کی جس کی بنیاد پر ڈیوٹی ڈاکٹر نے طبی معائنے اور دیگر ٹیسٹوں کے بعد آپریشن کا فیصلہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر انجم آرا کے مطابق ان ٹیسٹوں میں کارڈیوٹوکوگرافی (سی ٹی جی) بھی شامل تھی۔
بی بی سی نے اس واقعے پر ہسپتال انتظامیہ سے مزید وضاحت مانگی تو اس نے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے فیصلے کا انتظار کرنے کا مشورہ دیا۔
تاہم ماہرینِ طب اس بات پر متفق ہیں کہ زچگی کی باقاعدہ تصدیق کے بغیر آپریشن نہیں کیا جا سکتا اور ڈاکٹروں کی پہلی ترجیح ہمیشہ نارمل ڈیلیوری ہوتی ہے۔
کراچی میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کا سوال ہے کہ ’خاتون کی مبینہ غلط کلامی آپریشن سے قبل کیوں سامنے نہ آ سکی؟‘
خاتون کو سماجی دباؤ کا سامنا تھا: پولیس
اس واقعے کی تفتیش ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس نے کی اور تحقیقات کی ذمہ داری انسپیکٹر خالد رفیق کو سونپی گئی تھی۔
پولیس کے مطابق جب آپریشن کے دوران طبی عملے کو پتا چلا کہ خاتون کے رحم میں بچہ موجود ہی نہیں تو اس وقت خاتون اور ان کا خاندان یہ بات قبول کرنے کو تیار نہیں تھے، جس پر ہسپتال میں ہنگامہ آرائی ہوئی۔
انسپیکٹر خالد رفیق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ خاتون کے شوہر نے ایک تحریری شکایت درج کروائی اور ہسپتال سے رابطہ کرنے پر مؤقف سامنے آیا کہ ’آپریشن کے دوران بچہ خاتون کے رحم میں موجود ہی نہیں تھا۔‘
پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ ان کے لیے حیرانی کی بات تھی اور اسی سبب تفتیش کے لیے جدید سائنسی طریقے سے سہارا لیا گیا۔
’خاتون کا فوری طور پر حکومتی ہسپتال میں طبی معائنہ اور ٹیسٹ کروائے گئے، جہاں سے رپورٹ موصول ہوئی کہ خاتون کبھی بھی حاملہ نہیں تھیں۔‘
’ہسپتال کی رپورٹ کے بعد بھی خاتون اور ان کا خاندان یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھا، جس پر فیصلہ ہوا کہ تمام ٹیسٹوں کی جانچ آغا خان ہسپتال سے کروائی جائے گی۔‘
انسپیکٹر خالد رفیق مزید بتاتے ہیں: ’ہم نے ہمدرد ہسپتال سے تمام ریکارڈ اپنی تحویل میں لے لیا تھا اور تمام عملے کے بیانات بھی ریکارڈ کر لیے تھے۔‘
’جب پولیس نے تمام ٹیسٹ اور دیگر شواہد جانچ کے لیے آغا خان ہسپتال بھجوا دیے تو اس وقت خاتون نے اقرار کیا کہ وہ کبھی بھی حاملہ نہیں تھیں اور انھوں نے غلط بیانی کی تھی۔‘
پولیس کا دعویٰ ہے کہ خاتون نے انھیں بتایا کہ اس کی وجہ ’سماجی دباؤ‘ تھا۔
پولیس کے مطابق خاتون نے انھیں مزید بتایا کہ ’شادی کے تین سال بعد بھی ان کے گھر اولاد نہیں ہو رہی تھی جبکہ ان کے ساتھ اور ہم عمر خواتین مائیں بن چکی تھیں۔ یہ بات انھیں اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی، اسی لیے انھوں نے خاندان کو بتا دیا کہ وہ حاملہ ہیں۔‘
انسپیکٹر خالد رفیق کے مطابق خاتون کو توقع تھی کہ وہ حاملہ ہو جائیں گی، مگر ایسا نہیں ہو سکا اور وہ وقت بھی آ پہنچا جب ان کی ڈیلیوری متوقع تھی۔
تاہم پولیس کے مطابق بیوی کے ’اظہار ندامت‘ کے بعد شوہر اس واقعے کو فراموش کر کے اب آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
تاہم انسپیکٹر خالد رفیق کہتے ہیں کہ خاندان نے سوال اُٹھایا ہے کہ ’اگر خاتون نے غلط بیانی کی تھی تب بھی حقیقت کسی ڈاکٹر کی نظروں سے کیسے اوجھل رہ سکتی ہے اور ہسپتال نے تصدیق کیے بغیر آپریشن کیوں کیا؟‘
خاتون کے شوہر نے ہسپتال کے خلاف کارروائی کی درخواست دی ہے، جس پر تفتیش ہو رہی ہے۔
انسپیکٹر خالد رفیق کے مطابق ’مناسب کارروائی سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کر سکتا ہے۔ پولیس اپنی تمام تفتیش، تحقیق اور حاصل شدہ ثبوت سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کو بھجوا دے گی۔‘
ہسپتال کا موقف
ہمدرد ہسپتال کے گائنی ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر انجم آرا حسن نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا ہے اور ہسپتال کے ترجمان نے بھی اس ویڈیو بیان کی تصدیق کی ہے۔
ڈاکٹر انجم آرا کے مطابق خاتون کے میڈیکل ریکارڈ میں موجود بعض اندراجات بھی مشکوک تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ خاتون نے بعد میں ایک دوسرے ہسپتال کی الٹراساؤنڈ رپورٹ پیش کی، جس میں حمل ظاہر کیا گیا تھا لیکن ہسپتال کے مطابق یہ رپورٹ بھی مبینہ طور پر جعلی تھی۔
ڈاکٹر انجم آرا کے مطابق 27 اگست کو خاتون ایمرجنسی میں آئیں اور اسی رپورٹ کی بنیاد پر ڈیوٹی ڈاکٹر نے طبی معائنہ اور ضروری ٹیسٹ کیے، جن میں سی ٹی جی بھی شامل تھا، جس کے بعد آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔
ڈاکٹر انجم آرا کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران معلوم ہوا کہ خاتون حاملہ نہیں تھیں اور رحم میں بچہ موجود نہیں تھا۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپریشن سے پہلے ہسپتال نے خاتون کے حمل کی آزادانہ تصدیق کیوں نہیں کی؟
آپریشن سے پہلے کیا اقدامات ضروری ہوتے ہیں؟
بی بی سی نے طبی ماہرین سے بات کر کے اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔
اسلام آباد میں پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر فضل ربی کہتے ہیں کہ ’کسی بھی سرجری سے قبل عام طور پر مریض کا کلینیکل معائنہ کیا جاتا ہے اور اس کی میڈیکل ہسٹری لی جاتی ہے۔ اس کے بعد سرجری کی ضرورت اور تشخیص کی تصدیق کے لیے مریض کی حالت کے مطابق متعلقہ ٹیسٹ اور تحقیقات کی جاتی ہیں، جن میں خون کے ٹیسٹ، امیجنگ یا دیگر ضروری معائنے شامل ہو سکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سرجری سے پہلے اینستھیزیا کے لیے بھی مریض کی طبی حالت کا جائزہ لیا جاتا ہے، جبکہ بلڈ پریشر، نبض، آکسیجن لیول اور دیگر اہم علامات چیک کی جاتی ہیں۔
ڈاکٹر فضل ربی نے مزید کہا کہ تمام ضروری جائزوں کے بعد مریض سے سرجری کے لیے رضامندی بھی لی جاتی ہے۔
’کسی بھی زچگی میں پہلے تو نارمل ڈیلیوری کو ترجیح دی جاتی ہے، مگر کچھ انتہائی حالات میں آپریشن کی طرف جایا جاتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ عموماً ڈاکٹر کو مریضہ کے معائنے سے پتا چل جاتا ہے کہ نارمل ڈیلیوری ممکن ہے یا نہیں اور پھر وہ اپنی تسلی کے لیے الٹراساؤنڈ کرواتے ہیں۔
’کسی بھی سی سیکشن یعنی بچے کی پیدائش کے لیے آپریشن کرنے سے پہلے ڈاکٹر خاتون کا مکمل طبی معائنہ کرتا ہے۔ یہ طبی معائنہ ڈاکٹر کو زچہ و بچہ کے بارے میں بہت کچھ بتا دیتا ہے۔‘
’ڈاکٹر خاتون کے پیٹ کا معائنہ بھی کرتا ہے۔ اس معائنے سے رحم کی جسامت، بچے کی ممکنہ پوزیشن اور حمل کی مجموعی کیفیت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ بچے کی موجودگی اور حالت جانچنے کے لیے بچے کے دل کی دھڑکن بھی دیکھی جاتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر طبی معائنے یا پہلے سے موجود طبی ریکارڈ سے حمل، بچے کی حالت یا کسی پیچیدگی کے بارے میں شک ہو تو ڈاکٹر ضرورت کے مطابق الٹراساؤنڈ یا دوسرے متعلقہ طبی ٹیسٹ کروا سکتا ہے۔
’ہمارے طبی نظام کی حقیقت سامنے آ گئی‘
کراچی میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ان کی تشویش یہ نہیں کہ خاتون نے اپنے حمل کے بارے میں غلط بیانی کیوں کی بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ’خاتون کا مبینہ جھوٹ سی سیکشن کا عمل مکمل ہونے تک کیسے اور کیوں سامنے نہیں آیا؟‘
انھوں نے کہا کہ ’طب میں مریض کو نقصان نہ پہنچانے کا بنیادی اصول موجود ہے، لیکن اس معاملے میں ایک بار پھر ہمارے طبی نظام کی حقیقت سامنے آ گئی ہے۔‘
ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق سی سیکشن کوئی ایسا عمل نہیں جس کے لیے صرف ایک رپورٹ دیکھ کر فیصلہ کر لیا جائے۔ ان کے بقول اس کے لیے کئی مراحل مکمل کرنا پڑتے ہیں، جن میں متعدد دستاویزات کی تیاری، مریضہ کا طبی معائنہ اور مختلف ٹیسٹوں کے نتائج کا جائزہ شامل ہوتا ہے۔