نیپال اور تبت میں امدادی کاروائیاں جاری، سیلاب کے نتیجے میں بننے والی جھیل کے پھٹنے کا خطرہ
ہم نیپال اور تبت کی سرحدی علاقوں کی صورتحال پر آج بھی گہری نظر رکھی ہوئے ہیں کیونکہ اس بات کا خدشہ برقرار ہے کہ بدھ کے روز لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بننے والی جھیل پھٹنے کے نتیجے میں مزید سیلاب آ سکتے ہیں۔
خطے سے موصول ہونے والی تازہ ترین معلومات کا خلاصہ:
- چینی سرکاری میڈیا کی جانب سے اس اطلاع کے بعد کہ دی تھی کہ لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بننے والی جھیل سے پانی کا اخراج شروع ہو گیا ہے تبت میں امدادی کارروائیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھیں۔ تاہم بعد میں حکام نے بتایا کہ پانی کا اخراج رک گیا ہے اور امدادی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔
- چینی سرکاری میڈیا کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں میں جھیل کی صورتحال کی نگرانی کے لیے وہاں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں۔
- نیپال پولیس کا کہنا ہے کہ ملک میں ہلاکتوں کی تعداد اب 475 ہو گئی ہے، جبکہ 900 سے زیادہ افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
- حکام کی جانب سے537 غیر ملکی شہریوں کی فہرست جاری کی گئی ہے جن کے بارے میں سیلاب کے بعد اب تک کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔ ان میں 178 انڈین، 65 امریکی، 53 یوکرینی، 51 ملائیشین، 33 آسٹریلوی اور 33 برطانوی شہری شامل ہیں۔
- نیپالی فوج کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں سے900 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے، جن میں 119 سیاح بھی شامل ہیں۔
- فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ بارش اور غیر متوقع موسمی حالات کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ان کے بقول ’میں نے اپنی زندگی میں اس نوعیت کی تباہی نہیں دیکھی۔‘
- تبت میں اب تک تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 558 افراد لاپتہ ہیں۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 55 سیاحوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا یہ اعداد و شمار نیپال کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار میں شامل ہیں یا ان سے الگ ہیں۔