آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
40 سال سے کم عمر اور بظاہر صحتمند افراد ہارٹ اٹیک کا شکار کیوں ہو رہے ہیں؟
- مصنف, آسیہ انصر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
ماضی میں جب ہارٹ اٹیک یعنی دل کے دورے کے نتیجے میں کسی کی موت کی خبر ملتی تھی تو عموماً سُننے والوں کے ذہن میں کسی عمر رسیدہ شخص کی تصویر اُبھرتی تھی، مگر اب یہ صورتحال کچھ بدل رہی ہے۔
پاکستان میں حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا پر اس نوعیت کی ویڈیوز وائرل ہوتی رہی ہیں جن میں اپنے روزمرہ کام میں مصروف اور بظاہر صحتمند نظر آنے والا کوئی نوجوان دیکھتے ہی دیکھتے ہارٹ اٹیک کا شکار ہو گیا۔
اگرچہ پاکستان میں اس حوالے سے کوئی مستند اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں مگر اس شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے میں 40 سال یا اس سے کم عمر افراد میں ہارٹ اٹیک کی شرح بڑھتی دکھائی دی ہے۔
بی بی سی اُردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں آغا خان یونیورسٹی ہسپتال سے وابستہ محقق اور ماہر امراض قلب پروفیسر ڈاکٹر سلیم ویرانی نے امریکہ کی نیشنل لائبریری آف میڈیسن کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جنوبی ایشیا (جس میں پاکستان بھی شامل ہے) میں ہر سال ہارٹ اٹیک کا شکار ہونے والے افراد میں 10 سے 12 فیصد کی عمریں 40 سال سے کم ہوتی ہیں۔
یاد رہے کہ برطانیہ میں ہر سال 35 برس سے کم عمر کے 600 نوجوان اچانک دل بند ہو جانے (یعنی سڈن کارڈیک اریسٹ) کے باعث موت کے منھ میں جا رہے ہیں۔
ڈاکٹر سلیم ویرانی کے مطابق پوری دنیا میں ہارٹ اٹیک کا شکار ہونے والے پانچ سے چھ فیصد افراد کی عمریں 40 سال سے کم ہوتی ہیں مگر جنوبی ایشیا میں یہی شرح 10 سے 12 فیصد ہے۔
طبی زبان میں 40 سال یا اس سے کم عمر افراد میں دل کے دورے کو ’پری میچیور ہارٹ اٹیک‘ کہا جاتا ہے۔
ڈاکٹر سلیم ویرانی کہتے ہیں کہ اگرچہ ایسا سمجھا جاتا ہے مگر حقیقت میں یہ سب اچانک نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے ایسی بیماریاں ہوتی ہیں جن کی بروقت تشخیص نہ ہو سکی ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں یہ اعداد و شمار دستیاب ہی نہیں ہیں جو ظاہر کریں کہ 40 سال سے کم عمر افراد میں دل کی بیماریاں بڑھنے کا رجحان کس حد تک بڑھا ہے، لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ گذشتہ برسوں میں اس کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔‘
ڈاکٹر ویرانی نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ باقاعدگی سے اپنا بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول چیک کروائیں اور اپنے طرز زندگی اور خوراک پر توجہ دیں تاکہ 'پری میچیور ہارٹ اٹیک' کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
مگر اہم سوال یہ ہے کہ کم عمری میں دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کی وجوہات کیا ہیں اور ان سے بچاؤ کیسے ممکن ہے اور آیا کچھ ایسے ٹیسٹ موجود ہیں جن کی مدد سے پیشگی خطرے کا اندازہ لگایا جا سکے؟
40 سال سے کم عمر افراد میں ہارٹ اٹیک کے بڑھتے کیسز
ڈاکٹر سلیم ویرانی کہتے ہیں کہ ’گذشتہ چند برسوں میں ہم صورتحال بہت خراب ہوتی دیکھ رہے ہیں۔ کبھی کبھار 25 سے 30 سال کے لوگ ہارٹ اٹیک کے ساتھ ہسپتال آتے ہیں۔ ہارٹ اٹیک کے لیے یہ عمر بہت کم ہے۔‘
اُن کے مطابق جوانوں میں ہارٹ اٹیک کی کچھ وجوہات معلوم ہیں جن میں سٹریس، فزیکل ایکٹیویٹی (جسمانی سرگرمیوں) کا کم ہونا، ناقص غذا، غیرصحتمند طرز زندگی اور ایئر کوالٹی (اس فضا کا خراب ہونا جس میں ہم سانس لیتے ہیں) وغیرہ شامل ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہماری غذا کے بہت سے مسائل ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ذیابیطس کی دنیا بھر میں سب سے زیادہ شرح میں پاکستانیوں میں پائی جاتی ہے۔‘
’ہم سمجھتے تھے کہ ایئر کوالٹی خراب ہو گی تو اِس سے ہمیں صرف پھیپھڑوں کی بیماریاں ہوں گی، تاہم اگر پوری دنیا میں دیکھیں تو 25 فیصد ہارٹ اٹیکس کا تعلق ہوا کے ناقص معیار سے ہے۔‘
اُن کے مطابق ’اگر ہم پاکستان میں دیکھیں تو ایک عام دن میں لاہور اور کراچی میں ہوا کا معیار اس درجہ بندی سے 15 فیصد زیادہ خراب ہوتا ہے جو خراب ایئر کوالٹی کے لیے مختص کی گئی ہے۔ یہ ساری چیزیں ہمارے ملک اور پورے خطے میں ہارٹ اٹیکس اور سٹروکس (فالج) کے خطرے کو بڑھا رہی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں بچوں اور نوجوانوں میں فاسٹ فوڈ اور شوگر سے بھرپور ڈرنکس کا روزمرہ زندگی میں استعمال بے تحاشہ بڑھا ہے جس کے باعث ناصرف نوجوانوں بلکہ بچوں میں بھی کولیسٹرول بڑھنے کے مسائل پیدا ہوئے ہیں جو آگے چل کر دل کے بیماریوں کے خطرات کو بڑھاتے ہیں۔
ڈاکٹر سلیم کے مطابق ’ہم نے 10 سے 19 سال کے بچوں کا سروے کیا تو اس میں 19 فیصد بچے پری ڈائبیٹک تھے جبکہ 50 فیصد بچوں کا کولیسٹرول لیول معمول سے ہٹ کر تھا۔ اس کی بنیادی وجہ ہماری غذا ہے۔ پری ذیابیطس کے باعث دل کے امراض کا رسک بڑھ جاتا ہے اور اسے معمولی سمجھنا انتہائی غلط ہے۔‘
ڈاکٹر سلیم ویرانی کے مطابق نوجوانوں میں دل کے امراض کا تعلق جسمانی سرگرمیوں کی کمی اور واک یا ورزش کے نہ ہونے سے بھی ہے۔
کیا نوجوانوں میں دل کا دورہ پڑنے سے پہلے کوئی ابتدائی علامات ظاہر ہوتی ہیں؟
اسی موضوع پر نمائندہ بی بی سی پنجابی پریانکا دھیمن نے چند روز قبل ماہر امراض قلب ڈاکٹر کیول کشن سے بات کی تھی جن کا کہنا تھا جوان افراد میں اکثر کوئی پیشگی انتباہی علامات موجود نہیں ہوتیں اور انھیں اچانک دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔
اُن کے مطابق بڑی عمر کے افراد میں دل کے دورے سے پہلے کئی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں، مثلاً چلتے وقت سانس پھولنا، سیڑھیاں چڑھتے ہوئے سانس میں دشواری محسوس ہونا اور سینے میں بوجھ یا دباؤ کا احساس۔
تاہم ڈاکٹر کیول کشن کا کہنا ہے کہ اُن کے تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ جہاں تک نوجوانوں کا تعلق ہے، ان میں عموماً یہ علامات نظر نہیں آتیں۔
ڈاکٹر ویرانی کے مطابق اگرچہ ہارٹ اٹیک کی کچھ عام علامات ہیں، مثلاً سینے میں درد یا دباؤ، سانس لینے میں تکلیف، بہت زیادہ پسینہ آنا وغیرہ تاہم ہر فرد میں ہارٹ اٹیک کی علامات مختلف انداز میں ظاہر ہوتی ہیں۔
وہ مشورہ دیتے ہیں کہ ’کبھی سوشل میڈیا سے دیکھ کر اور گھر بیٹھ کر اپنے آپ کو ہارٹ اٹیک کی تشخیص نہ کریں بلکہ کوئی بھی علامت ظاہر ہونے کی صورت میں فی الفور قریبی ہسپتال پہنچیں جہاں ماہر ڈاکٹر ہی بتا سکتا ہے کہ کون سی علامات دل کی بیماری کا اشارہ دے رہی ہیں۔‘
ڈاکٹر ویرانی نے کہا کہ نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک کا بڑھنے کا سبب جاننے کے لیے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال نے ’لائف گارڈ‘ کے عنوان سے ایک سٹڈی‘ کا آغاز کیا ہے جس میں بچوں سمیت 4000 افراد کو شامل کیا جا رہا ہے تاکہ اسباب کا پتہ چلایا جا سکے۔
کیا ایسے ٹیسٹ موجود ہیں جو دل کے امراض کی پیشگی آگاہی دے سکیں؟
ڈاکٹر سلیم ویرانی کے مطابق جوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنا کولیسٹرول، شوگر ٹیسٹ اور بلڈ پریشر باقاعدگی سے چیک کریں۔
ان کے مطابق ماہر ڈاکٹر سے رجوع کر کے ایسے ٹیسٹ کروائے جا سکتے ہیں جن کی مدد سے یہ پتا چلایا جا سکتا ہے کہ کسی شخص میں ہارٹ اٹیک اور سٹروک کا کتنا رسک موجود ہے۔
ماہر امراض قلب ڈاکٹر کیول کشن اس حوالے سے کہتے ہیں کہ بلڈ پریشر باقاعدگی سے چیک کرتے رہنا چاہیے جبکہ شوگر، کولیسٹرول اور یورک ایسڈ وغیرہ سمیت دیگر ٹیسٹ موجود ہیں جو ڈاکٹر کے مشورے سے کروائے جا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر کیول کے مطابق اس کے علاوہ آج کل سی آر پی ٹیسٹ بھی تجویز کیا جاتا ہے، تاہم اُن کی رائے میں سی آر پی کی سطح مختلف وجوہات کی بنا پر بڑھ سکتی ہے اور جسم میں کسی انفیکشن کے باعث بھی سی آر پی بلند ہو سکتا ہے، جس سے بعض اوقات الجھن پیدا ہو جاتی ہے۔
وہ مشورہ دیتے ہیں کہ اس نوعیت کا کوئی بھی ٹیسٹ ڈاکٹر کسی بھی شخص کی علامات، حالت اور طرز زندگی جاننے کے بعد تجویز کرتے ہیں۔
بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
دل کی بیماریوں کا خطرہ کم کرنے کے لیے کیا تبدیلیاں اپنائی جائیں؟ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر سلیم ویرانی نے کہا کہ والدین کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کو پھل اور سبزیاں مناسب مقدار میں دیں اور ان کی فزیکل ایکٹیویٹی میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ جوانی میں دل کی بیماریوں سمیت دیگر بیماریوں سے بچا جا سکے۔
انھوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنا بنیادی چیک اپ کروائیں، اپنے طرز زندگی کو صحتمند بنائیں، جسمانی سرگرمیوں، واک، ورزش اور غذا پر توجہ دیں۔
سلیم ویرانی نے کہا کہ سگریٹ، ویپنگ اور تمباکو کے استعمال کو ترک کرنا ضروری ہے تاکہ رسک کم سے کم کیا جا سکے۔
ڈاکٹر سلیم ویرانی کے مطابق ’ہمارے نوجوانوں اور درمیانی عمر کے افراد میں توند نکلنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، تاہم نارمل وزن ہونے کے باوجود پیٹ کا نکلنا مستقبل کی بیماریوں کے لیے خطرے کی علامت ہے۔‘
ان کے مطابق ’پیٹ کا باہر نکلنا اس بات کی نشاندہی ہے کہ اندرونی اعضا کے گرد چربی جمع ہو رہی ہے جو ایک رسک فیکٹر ہے۔ بڑھے ہوئے پیٹ پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ رسک کم ہو۔‘
دوسری جانب ڈاکٹر کیول نے ایک اہم مسئلے کی نشاندہی کی۔
بی بی سی پنجابی کی پریانکا دھیمن سے بات کرتے ہوئے ماہر امراض قلب ڈاکٹر کیول کشن نے کہا کہ جِم یا ورزش انسانی جسم کے لیے نہایت مفید ہے اور یہ کئی بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دیتی ہے، تاہم اگر کوئی شخص جوانی میں کبھی ورزش نہ کرتا رہا ہو اور 30 یا 40 سال کے بعد اچانک بہت زیادہ وزن اٹھانا یا مشقت والی ورزش شروع کر دے تو فائدے کے بجائے نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
وہ مشورہ دیتے ہیں کہ ورزش کا آغاز کرتے وقت خود پر یکدم زیادہ زور نہیں ڈالنا چاہیے بلکہ جسم کو بتدریج اس کا عادی بنانا چاہیے اور جم یا ورزش کی شدت اور دورانیہ آہستہ آہستہ بڑھانا بہتر ہوتا ہے۔
کیا خواتین بھی خطرے کی زد میں ہیں؟
پاکستان میں عام طور پر خیال کیا جانا ہے کہ ہارٹ اٹیک سے خواتین کے مقابلے میں مرد زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
تاہم ڈاکٹر ویرانی اس کی نفی کرتے ہیں۔
ان کے مطابق ’خواتین میں ہارٹ اٹیک اور سٹروکس(فالج) مردوں کے برابر ہی ہوتے ہیں، لیکن عموماً خواتین میں اس نوعیت کے مسائل مردوں کی نسبت تھوڑی بڑی عمر میں شروع ہوتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’خاص طور پر جن خواتین کو دورانِ حمل ہائی بلڈ پریشر یا ذیابیطس کا سامنا ہوتا ہے، اُن خواتین میں آگے کی زندگی میں ہارٹ اٹیک یا سٹروکس کا رسک بڑھ جاتا ہے۔‘