آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جاپان میں شاہی جانشینی کے قواعد میں نرمی مگر خاتون شہنشاہ پر پابندی برقرار
جاپان میں شاہی خاندان کے سکڑتے ہوئے حجم پر پائی جانے والی تشویش کے بعد جاپانی پارلیمان نے شاہی جانشینی کے قواعد میں نرمی کے ایک مسودۂ قانون کی منظوری دی ہے۔
ایوانِ بالا سے جمعے کو منظور ہونے والا یہ بل نہ صرف شاہی خاندان کو 15 سال سے زیادہ عمر کے ایسے دور پرے کے مرد رشتہ داروں کو خاندان میں شامل کرنے بلکہ خواتین کو خاندان سے باہر شادی کرنے کے بعد بھی اپنا شاہی رتبہ برقرار رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔
تاہم یہ رائج قانون میں موجود اس پابندی کو تبدیل نہیں کرتا جو خواتین کو تخت نشین ہونے سے روکتی ہے۔
جاپان میں خاتون شہنشاہ کے حق میں عوامی حمایت وسیع پیمانے پر موجود ہے تاہم موجودہ شہنشاہ کی واحد اولاد، شہزادی آئیکو، قواعد میں تبدیلیوں کے باوجود اب بھی تخت سنبھالنے کی اہل نہیں ہیں۔
یہ بل گزشتہ ہفتے ایوانِ زیریں سے بھی منظور ہو چکا ہے اور تبدیلیوں کے نافذ ہونے سے پہلے حتمی قانونی مراحل سے گزرے گا۔
جاپان دنیا کی قدیم ترین مسلسل موروثی بادشاہت رکھتا ہے، جس کا سلسلہ نسب تقریباً 2600 سال پر پھیلا ہوا ہے۔
اس وقت تخت سنبھالنے کے لیے پہلی ترجیح 60 سالہ فومی ہیتو ہیں، جو موجودہ شہنشاہ کے چھوٹے بھائی ہیں۔
فومی ہیتو کے 19 سالہ بیٹے شہزادہ ہیساہیتو جانشینی کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ تیسرے نمبر پر اور تخت کے لیے آخری اہل امیدوار، شہنشاہ کے 90 سالہ چچا ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قانون میں کسی ترمیم کے بغیر جانشینی کا سلسلہ اس صورت میں ختم ہو جائے گا اگر شہزادہ ہیساہیتو کا کوئی بیٹا نہ ہوا۔
تاہم، نئے بل کے تحت سابق شاہی شاخوں کے 11 خاندانوں کے مرد وارثوں کو دوبارہ شاہی خاندان میں شامل کیا جا سکے گا۔
یہ خاندانی شاخیں دوسری عالمی جنگ کے بعد شاہی خاندان سے الگ کر دی گئی تھیں۔
قانون میں تبدیلی کے بعد اب شاہی خاندان کی خواتین ارکان بھی عام شہریوں سے شادی کرنے کی صورت میں اپنا شاہی رتبہ برقرار رکھ سکیں گی۔
اس سے قبل انھیں اپنے القابات ترک کرنے اور خاندان سے الگ ہونا پڑتا تھا جیسا کہ شہزادی ماکو نے 2021 میں اپنے کالج کے زمانے کے دوست سے شادی کے لیے کیا تھا۔
یہ بل، جو 1949 کے بعد امپیریل ہاؤس لا کے بنیادی متن میں پہلی ترمیم ہے، جاپان کے شاہی نظام میں کئی دہائیوں کے دوران سب سے بڑی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔
شاہی خاندان میں مرد جانشینوں کی کمی کے بارے میں طویل عرصے سے عوامی تشویش موجود رہی ہے، اور ساتھ ہی اس بات پر بھی بحث جاری رہی ہے کہ آیا خواتین کو تخت نشین ہونے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
وزیرِاعظم سانائے تاکائیچی اور دیگر قدامت پسند سیاسی رہنماؤں نے صرف مردوں پر مشتمل جانشینی کے قواعد کی حمایت کی ہے اور ان کا مؤقف ہے کہ یہ شاہی ادارے کی قانونی حیثیت کے لیے اہم ہے۔
تاہم، رائے عامہ کے جائزے ایک خاتون فرمانروا کے حق میں بڑے پیمانے پرعوامی حمایت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
جون میں اخبار مینی چی شمبن کی جانب سے کیے گئے ایک سروے میں، جس میں دو ہزار سے زیادہ افراد نے حصہ لیا، 70 فیصد سے زائد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ خاتون شہنشاہ کی حمایت کرتے ہیں۔
کیودو نیوز کے ایک اور سروے میں معلوم ہوا کہ 83 فیصد جواب دہندگان خواتین کو تخت نشین ہونے کی اجازت دینے کے حق میں تھے۔