وائٹ ہاؤس اہلکار پر ٹرمپ کی تقاریر پر شرطیں لگا کر تقریباً ایک لاکھ ڈالر کمانے کا الزام, فرانسسکو ویلاسکیز، بزنس رپورٹر، بی بی سی نیوز
وائٹ ہاؤس کے ایک ٹیلی پرومپٹر آپریٹر کے خلاف اس الزام پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں کہ انھوں نے اندرونی معلومات کو اپنے استعمال میں لا کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقاریر پر شرطیں لگائیں اور اس سے تقریباً ایک لاکھ ڈالر کمائے۔
گیبریل پیریز 2016 سے وائٹ ہاؤس میں کام کر رہے تھے اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے صدر کی بڑی عوامی تقاریر بشمول سٹیٹ آف دی یونین کے خطاب میں استعمال ہونے والے الفاظ پر شرطیں لگائیں۔
یہ لین دین کالشی (Kalshi) نامی ایک ایسے مارکیٹس پلیٹ فارم پر کیا گیا جہاں صارفین حقیقی دنیا کے واقعات پر شرط لگا سکتے ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو ٹیلی پرومپٹر آپریٹر کے بارے میں آگاہی تھی اور یہ ملازم فی الحال بغیر تنخواہ کی رخصت پر ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ پیریز اب وائٹ ہاؤس میں کام نہیں کریں گے۔
کالشی نامی کمپنی نے تصدیق کی کہ اس نے اس سرگرمی کی اطلاع کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن کو دی جو اس پلیٹ فارم کو ریگولیٹ کرتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کالشی نے پیریز کا اکاؤنٹ کسی بھی منافع کی رقم نکالے جانے سے پہلے ہی منجمد کر دیا تھا۔
اس پلیٹ فارم نے بی بی سی کو بتایا کہ مارچ میں اس کے تجزیہ کاروں نے ’مینشن مارکیٹس‘ میں غیر معمولی شرطیں لگتی دیکھیں۔
یہ ایسے معاہدے ہوتے ہیں جن میں صارفین پیش گوئی کرتے ہیں کہ آیا کوئی مقرر عام طور پر استعمال ہونے والی اصطلاحات، مثلاً مخصوص ممالک کے نام، معاشی الفاظ یا انتخابی نعروں کا ذکر کرے گا یا نہیں۔
کالشی کا کہنا ہے کہ ’صدور اور فیڈرل ریزرو کے سربراہان جیسے سیاسی رہنماؤں کے الفاظ فارن ایکسچینج مارکیٹس، تیل کے فیوچرز اور سٹاک مارکیٹ میں اربوں ڈالر کی نقل و حرکت کا سبب بنتے ہیں۔‘
کمپنی نے جب اکاؤنٹ کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے معلومات لیں تو ان کے علم میں آیا کہ یہ صارف ایک وفاقی ملازم تھا جو وائٹ ہاؤس میں ٹیلی پرومپٹر چلاتا تھا۔
ایکسچینج نے 90 ہزار ڈالر سے زیادہ کی رقم کو نکالے جانے سے پہلے ہی منجمد کر دیا۔
کالشی سے وابستہ رابرٹ ڈینالٹ کا کہنا ہے کہ کمپنی نے اس لین دین کی نشاندہی کی تھی اور شواہد ریگولیٹرز کے حوالے کر دیے تھے۔