آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کی وزارت ثقافت کی موئن جو دڑو پر پوسٹ اور سوشل میڈیا بحث: ’اس منطق سے ہمیں تاج محل پر دعویٰ کرنا چاہیے‘
’بے شک قدیم کھندڑات دور جدید کی سرحدوں کی دوسری جانب ہیں لیکن اس ورثے کا اصل نگہبان انڈیا ہی ہے۔‘
انڈیا کی وزارت برائے ثقافت کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی جانے والی اس پوسٹ نے ایک بار پھر انڈیا اور پاکستان کے درمیان یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ موئن جو دڑو کا تاریخی اثاثہ دراصل کس کی ملکیت ہے۔
واضح رہے کہ ماہرین اور تاریخ دانوں کے مطابق موئن جو دڑو اور وادیٔ سندھ کی تہذیب برصغیر کا مشترکہ تاریخی اثاثہ ہے لیکن یہ قدیم شہر اب موجودہ پاکستان کی حدود میں آتا ہے۔
سنہ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے وقت موئن جو دڑو اور ہڑپہ سے دریافت ہونے والی نایاب نوادرات کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان تقسیم کیا گیا تھا لیکن پھر بھی اس کی ملکیت کے حوالے سے اکثر بحث ہوتی رہتی ہے۔
یہ پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں دریائے سندھ کے کنارے واقع وادیٔ سندھ کی تہذیب کا 4500 سال قدیم تاریخی مقام ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے سنہ 1980 میں اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا تھا۔
موئن جو دڑو کے بارے میں مزید تفصیلات آگے چل کر پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ انڈیا کی وزارت برائے ثقافت نے اپنے حالیہ بیان میں کیا کہا جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر پاکستان اور انڈیا کے صارفین آمنے سامنے آ گئے۔
انڈیا کی وزارت برائے ثقافت نے کیا کہا؟
انڈیا کی وزارت برائے ثقافت نے بدھ کے روز ایک قدیم مہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’انڈیا کی مسلسل جاری تہذیبی روایات کی سب سے طاقتور علامتوں میں سے ایک! موئن جو دڑو (جو تقسیم سے قبل کے ہندوستان میں واقع تھا) سے دریافت ہونے والی یہ تقریباً 4300 سال قدیم اسٹیٹائٹ پتھر سے بنی مہر ایک ایسی شخصیت کو دکھاتی ہے جو یوگ کے آسن، ملابندھاسن میں بیٹھی ہوئی ہے (جسے عموماً شِوا پشوپتی سمجھا جاتا ہے) اور جانوروں سے گھری ہوئی ہے۔
’بے شک قدیم کھندڑات دور جدید کی سرحدوں کی دوسری جانب ہوں لیکن اس ورثے کا اصل نگہبان انڈیا ہی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید لکھا کہ ’پشو پتی مہر میں نظر آنے والی یوگ کی حالت، شیوا سے متعلق علامات اور روحانی فکر آج بھی انڈیا کے مندروں، شیوا کی روزمرہ کی عبادت، یوگا کی روایات اور ثقافتی زندگی میں زندہ اور فعال ہیں۔ ویدک دور سے لے کر موجودہ بھارت تک یہ تہذیبی سلسلہ برقرار اور مربوط رہا ہے، جو ہماری فلسفیانہ سوچ، رسومات اور اجتماعی شعور میں گہرائی سے پیوست ہے۔‘
سوشل میڈیا پر ردعمل
انڈیا کی وزارت برائے ثقافت کی جانب سے اس پوسٹ کو جہاں انڈین صارفین سراہنے لگے وہیں پاکستان سے صارفین نے اس بیان کی مذمت کی۔
پاکستانی صحافی مہوش اعجاز نے لکھا کہ ’موہن جو دڑو پاکستان میں ہے۔ کسی ایسی چیز کا دعویٰ کرنے کی دیدہ دلیری جو اس وقت پاکستان میں موجود ہے۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’اس منطق سے تو ہمیں تاج محل کا دعویٰ کرنا چاہیے۔‘
سینیئر صحافی رضا رومی نے لکھا کہ ’یہ وادی سندھ کی تہذیب کا ورثہ ہے۔ درحقیقت موئن جو دڑو پاکستان میں واقع ہے۔‘
حیدر نامی پاکستانی صارف نے لکھا کہ ’یہ پاکستان کی تاریخ ہے۔ تاریخ کا تعلق اس جگہ سے ہوتا ہے، جہاں یہ رونما ہوتی ہے۔ جو کچھ جرمنی میں ہوا، وہ فرانس کا نہیں بلکہ جرمن تاریخ کا حصہ ہے۔ جوکچھ پاکستان میں ہوا وہ انڈین نہیں بلکہ پاکستانی تاریخ کا حصہ ہے۔‘
ایک صارف نے لکھا کہ ’اس کا ہندو مت یا شیو سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ وادی سندھ کی تہذیب سے ہے، جو ہندو نہیں تھی اور اب تقریباً مکمل طور پر پاکستان میں ہے۔‘
ایک اور صارف نے طنزیہ انداز میں انڈین وزارت سے سوال کیا کہ ’کیا آپ کی ثقافتی علامت پاکستان سے ہے؟‘
ایک انڈین صارف سریش وگیلا نے لکھا کہ ’یہ ہمیں ہماری قدیم جڑوں کی یاد دلاتا ہے جس کے بارے میں کسی کو بھی کوئی سوال یا شک نہیں کرنا چاہیے۔‘
بہت سے انڈین صارف ایسے بھی تھے جنھوں نے موئن جو دڑو کے پاکستان یا انڈیا سے تعلق کو نظر انداز کرتے ہوئے اس پر سوال اٹھایا کہ یہ مہر شیوا کی نہیں۔
پاکستان میں واقع ’40 ہزار کی آبادی والا شہر‘
موئن جو دڑو، جس کا سندھی زبان میں مطلب ’مردوں کا ٹیلہ‘ ہے، ایک زمانے میں پھلنے پھولنے والی وادی سندھ کی تہذیب (جسے ہڑپہ کی تہذیب بھی کہا جاتا ہے) کا سب سے بڑا شہر تھا جس نے کانسی کے دور میں شمال مشرقی افغانستان سے شمال مغربی ہندوستان تک اپنا عروج دیکھا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ موئن جو دڑو میں کم از کم 40,000 لوگ آباد تھے، اس شہر نے 2500 قبل مسیح سے 1700 قبل مسیح تک ترقی کی۔
لیکن قدیم مصر اور میسوپوٹیمیا کے شہروں کے مقابلے میں، جنھوں نے ایک ہی وقت میں ترقی کی تھی، موئن جو دڑو کا نام پاکستان سے باہر بہت کم لوگوں نے سُنا ہے۔ یہ 1700 قبل مسیح میں ختم ہو گیا تھ اور آج تک کسی کو قطعی طور پر یقین نہیں کہ اس شہر کے باشندے یہاں سے کیوں نقل مکانی کر گئے یا وہ کہاں گئے۔
آثار قدیمہ کے ماہرین پہلی بار 1911 میں اس علاقے میں اینٹوں کے کام کی اطلاعات سننے کے بعد آئے تھے تاہم آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے یہاں سے برآمد ہونے والی اینٹوں کے بارے اس خیال کو ابتدا میں مسترد کر دیا کہ یہ قدیم دور کی ہو سکتی ہیں اور نتیجتاً یہ جگہ مزید کئی برسوں تک غیر محفوظ رہی۔
1922 میں ایک اے ایس آئی افسر آر ڈی بینرجی کی یہاں تعیناتی تک اس کی اہمیت کو کسی نے محسوس نہیں کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اُنھوں نے اس جگہ ایک مدفون گنبد دیکھا، ایک ٹیلے جیسا ڈھانچہ جہاں بودھ مت کے پیروکار عموماً مراقبے کے لیے بیٹھتے تھے۔
ان کی اس رائے کی وجہ سے اس علاقے میں کھدائی کے کام کا آغاز ہوا اور 1980 میں یونیسکو نے موئن جو دڑو کا نام عالمی ثقافتی ورثوں کی فہرست میں شامل کیا۔ اس قدیم شہر کی جو باقیات خاص طور پر برطانوی ماہر آثار قدیمہ کے ماہ سر جان مارشل نے دریافت کیں ان سے اس کے شہری زندگی کے معیار کا اندازہ ہوتا ہے، جس کی تاریخ میں اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔
یونیسکو نے موئن جو دڑو کو وادی سندھ کے ’بہترین محفوظ‘ کھنڈر کے طور پر سراہا۔
شہر کی سب سے حیران کن خصوصیت صفائی کا نظام تھا جو اس کے ہم عصروں سے کہیں زیادہ جدید تھا جبکہ مصر اور میسوپوٹیمیا میں نکاسی آب اور نجی بیت الخلا دیکھے گئے، لیکن وہ محض امیروں کی عیش و عشرت کے لیے تھے۔
موئن جو دڑو میں جگہ جگہ چھپے ہوئے بیت الخلا اور ڈھکے ہوئے نالے اور نالیاں بنی ہوئی تھیں۔ جب سے کھدائی شروع ہوئی ہے، اجتماعی استعمال کے لیے 12 میٹر ضرب 7 میٹر کے ایک بہت بڑے 'عظیم حمام' سمیت نجی حماموں کے نظام کے علاوہ 700 سے زیادہ کنویں برآمد کیے جا چکے ہیں۔
حیرت انگیز طور پر بہت سی نجی رہائش گاہوں میں بیت الخلا پائے گئے اور کچرے کو ایک جدید ترین سیوریج کے نظام کے ذریعے خفیہ طور پر ٹھکانے لگایا جاتا تھا۔
آج اس قدیم شہر کے کھنڈرات کو پکنک ٹیبلز اور سایہ دار درختوں اور سرسبز باغات کے ساتھ ایک مقامی پارک میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ تاہم پاکستان کے دوسرے حصوں سے سیاح شاذ و نادر ہی اس دور دراز مقام پر آتے ہیں اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد تو بہت ہی کم آتی ہے۔