آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
باس کی طرف سے آنے والا پیغام جو آپ کو کنگال بنا سکتا ہے: ’باس سکیم‘ جس کے میسج پر اکاؤنٹنٹ نے ڈیڑھ کروڑ روپیہ ٹرانسفر کر دیا
- مصنف, روکسی گادگیکر چھارا
- مقام, بی بی سی نامہ نگار
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
واٹس ایپ پر باس کا پیغام آیا: ’فوری طور پر ڈیڑھ کروڑ روپیہ کپڑے تیار کرنے والی کلکتہ کی کمپنی کو بھیج دیں۔‘
کمپنی کے اکاؤنٹنٹ نے ہدایات پر عمل کر دیا گیا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ پیغام بھیجنے والا فرد باس نہیں بلکہ ہیکر تھا۔
23 جون 2026 کو انڈین ریاست گجرات کے مرکزی شہر احمد آباد میں پروین ناگجی بھائی بوالیا کو ایک نامعلوم موبائل نمبر سے واٹس ایپ پیغام موصول ہوا۔
پیغام بھیجنے والے نے خود کو انڈین ریزرو بینک (آر بی آئی) کے ’رسک کنٹرول‘ شعبے کا اہلکار بتایا۔
پیغام میں کہا گیا تھا کہ ان کی کمپنی کے بینک اکاؤنٹ میں ’غیر معمولی مالیاتی سرگرمیاں‘ دیکھی گئی ہیں اور اکاؤنٹ کو بند یا معطل کیا جا سکتا ہے۔ پیغام کے ساتھ ایک زِپ فائل بھی بھیجی گئی تھی۔
بی بی سی گجراتی سے گفتگو کرتے ہوئے پروین ناگجی نے کہا: ’مجھے گذشتہ چھ ماہ سے مسلسل ایسے پیغامات موصول ہو رہے تھے۔ میں نے ابتدا میں ان پر توجہ نہیں دی، لیکن چونکہ ایسے لنکس بار بار آ رہے تھے، اس لیے میں نے سوچا کہ شاید یہ واقعی آر بی آئی کی جانب سے ہوں۔‘
خود کو آر بی آئی کا اہلکار کہنے والے شخص نے پروین ناگجی کو واٹس ایپ پر جو لنک بھیجا تھا، وہی لنک انھوں نے اپنی رئیل سٹیٹ کمپنی کے اکاؤنٹنٹ کو بھیج دیا اور ان سے کہا کہ ’مزید معلومات حاصل کریں تاکہ معلوم ہو سکے کہ کہیں اکاؤنٹ منجمد تو نہیں کیا گیا۔‘
ان کے مطابق: ’اکاؤنٹنٹ نے اپنے ڈیسک ٹاپ پر لنک کھولا اور فائل ڈاؤن لوڈ کر لی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن اس فائل کے ذریعے ہیکر اس کمپیوٹر تک رسائی حاصل کر چکے تھے۔
’فائل ڈاؤن لوڈ ہونے کے بعد ہیکر میرے ڈیسک ٹاپ سے میرے واٹس ایپ رابطے اور پیغامات دیکھنے لگا۔‘
پروین ناگجی کے مطابق یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب وہ ادے پور میں ایک شادی میں شرکت کے لیے گئے ہوئے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہیکر کو ان کی موجودہ صورتحال کا بھی علم تھا۔ اگلی صبح ہیکر نے ان کے نام سے اکاؤنٹنٹ کو پیغام بھیجا اور کولکتہ کی ایک گارمنٹس کمپنی میں فوری طور پر ڈیڑھ کروڑ روپے منتقل کرنے کی ہدایت کی۔
اکاؤنٹنٹ نے سمجھا کہ یہ ہدایات ان کے باس پروین ناگجی کی طرف سے آئی ہیں، اور انھوں نے رقم منتقل کر دی۔
جب پروین ناگجی کو اس لین دین کا علم ہوا تو انھوں نے سائبر کرائم حکام سے رابطہ کیا۔
پولیس کے مطابق ہیلپ لائن پر شکایت درج کرائے جانے کے بعد فراڈ سے حاصل کی گئی ایک کروڑ 13 لاکھ 53 ہزار 700 روپے کی رقم واپس حاصل کر لی گئی، جبکہ تقریباً 25 لاکھ روپے بیرونِ ملک منتقل کیے جا چکے تھے۔
پولیس نے اس مبینہ فراڈ میں ملوث ہونے کے الزام میں مغربی بنگال سے دو ملزموں، ارم علی پیادا اور انزامل ملا کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
بی بی سی نے دونوں ملزمان کے وکلا یا اہلِ خانہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، تاہم خبر شائع ہونے تک ان سے رابطہ نہیں ہو سکا تھا۔
احمد آباد پولیس نے اس جرم کی تہہ تک پہنچنے کا دعویٰ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سائبر مجرموں نے کمپنی کے سربراہ کی شناخت استعمال کر کے ملازمین سے بڑی رقوم منتقل کروائیں۔
اس قسم کے فراڈ میں کمپنی کے سربراہ کے نام اور پروفائل تصویر کا استعمال کرتے ہوئے اکاؤنٹنٹ یا مالیاتی شعبے کے کسی ملازم کو واٹس ایپ پر پیغام بھیجا جاتا ہے۔
پیغام میں ہدایت دی جاتی ہے کہ فوری طور پر ایک مخصوص اکاؤنٹ میں رقم منتقل کی جائے۔ اس قسم کے سائبر فراڈ کو ’باس سکیم (scam)‘ کہا جاتا ہے۔
اگرچہ پیغام باس کے اصل نمبر سے نہیں آتا، لیکن ملازم کے فون پر وہ باس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے۔
احمد آباد سائبر کرائم پولیس کی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ اس قسم کی دھوکہ دہی کے پیچھے ایک منظم گروہ کام کر رہا ہے، جو جعلی سم کارڈ، او ٹی پی، واٹس ایپ اکاؤنٹس اور میل ویئر (ہیکنگ سافٹ ویئر) استعمال کرتا ہے۔
پولیس نے انڈیا کی 26 ریاستوں میں درج 251 شکایات کی جانچ کی، جن میں تقریباً 4500 سم کارڈز سے متعلق معلومات شامل تھیں۔
ان میں ’باس سکیم‘ سے متعلق بھی تین شکایات شامل تھیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں ملنے والی ابتدائی معلومات کے مطابق اس نیٹ ورک کے روابط انڈیا کے علاوہ چین، پاکستان اور ہانگ کانگ سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
باس سکیم کیسے کام کرتا ہے؟
بی بی سی نے احمد آباد سائبر کرائم برانچ کی ڈی ایس پی لوینا سنہا سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ فراڈ کیسے کیا گیا۔
ان کے مطابق سائبر مجرم ابتدا میں خود کو آر بی آئی یا کسی سرکاری ادارے کا اہلکار ظاہر کرتے ہیں اور کمپنی کے سی ای او، ڈائریکٹر یا ملازم کو واٹس ایپ یا ای میل کے ذریعے ایک زِپ فائل بھیجتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں: ’اس زِپ فائل میں ایسا نقصان پہنچانے والا سافٹ ویئر ہوتا ہے جس کی ایکٹینشن exe یا dll ہوتی ہے۔ اگر ایسی فائل واٹس ایپ ویب کے ذریعے کمپنی کے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ پر چلائی جائے تو مجرم واٹس ایپ ویب سیشن کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔
’اس کے بعد وہ کمپنی کے سی ای او یا ڈائریکٹر کی شناخت اور پروفائل تصویر کا استعمال کرتے ہوئے اپنا موبائل نمبر باس کے نام سے محفوظ کر لیتے ہیں۔ نمبر محفوظ ہونے کے بعد اکاؤنٹس یا مالیاتی شعبے کے ملازم کو فوری ادائیگی کا پیغام بھیجا جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں جعلی سم کارڈ اور او ٹی پی بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔‘
پولیس کے مطابق لوگوں کی معلومات کے بغیر ان کے نام پر سم کارڈز جاری کرائے گئے۔ پھر انھی نمبروں پر واٹس ایپ اکاؤنٹس بنائے گئے۔
پولیس نے اس کیس میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں سے ایک فرد سائبر فراڈ میں ملوث افراد کے رابطے میں تھے اور انھیں سم کارڈ اور موبائل نمبر فراہم کرتے تھے اور واٹس ایپ پر کنٹرول حاصل کرنے میں مدد کرتے تھے۔
دوسرے ملزم ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیوں کے لیے سیلز نمائندے کے طور پر کام کر رہے تھے۔
پولیس کا الزام ہے کہ وہ صارفین کے بائیومیٹرک فنگر پرنٹس اور ٹیلی کام کمپنیوں کی ایپلی کیشنز استعمال کر کے ان کے نام پر سم کارڈ حاصل کرتے اور ان کے علم میں لائے بغیر موبائل نمبر کو فعال کر دیتے۔
ڈیجیٹل جرم کے لیے سہولیات
سائبر جرائم کی دنیا میں اب ہر مجرم کے لیے مکمل تکنیکی انفراسٹرکچر خود بنانا ضروری نہیں رہا۔
کوئی جعلی سم فراہم کرتا ہے، کوئی او ٹی پی مہیا کرتا ہے، کوئی واٹس ایپ اکاؤنٹ بناتا ہے اور کوئی دوسرا متاثرہ شخص سے رابطہ کر کے رقم منتقل کرواتا ہے۔
احمد آباد پولیس کی ایک پریس ریلیز میں اس قسم کی تیار ڈیجیٹل سہولیات، گروپس اور وسائل کو ’سائبر کرائم ایز اے سروس‘ یا سی اے اے ایس کی مثال قرار دیا گیا ہے۔
یعنی سائبر جرم کے لیے درکار آلات اور خدمات بھی آسانی سے دستیاب ہو سکتی ہیں۔
تحقیقات کے دوران ملنے والے تقریباً 4500 سم کارڈز کی معلومات کی بنیاد پر پولیس نے 26 ریاستوں میں درج 251 شکایات کا جائزہ لیا۔
ان میں 194 آن لائن مالیاتی فراڈ، تین باس سکیم، اور 29 آن لائن و سوشل میڈیا سے متعلق جرائم شامل تھے۔
اس کے علاوہ ہیکنگ، فحش مواد اور بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق شکایات بھی اس ڈیٹا کا حصہ تھیں۔
پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران 10 ہزار سے زائد ایسے آلات برآمد ہوئے جن میں میل ویئر موجود تھا۔
ملزمان سے سات موبائل فون اور ایک ایئرٹیل راؤٹر بھی قبضے میں لیا گیا ہے۔
ضبط شدہ آلات میں موجود واٹس ایپ چیٹس، گروپس، موبائل نمبرز اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی مدد سے مزید ملزمان اور نیٹ ورک کے مرکزی کرداروں کی شناخت کی جا رہی ہے۔
احمد آباد سائبر کرائم برانچ کے تکنیکی تجزیے کے مطابق اس کیس میں استعمال ہونے والا میل ویئر چین سے وابستہ سائبر مجرموں نے تیار کیا ہے۔
باس سکیم سے کیسے بچا جائے؟
احمد آباد پولیس نے اس قسم کے فراڈ سے بچنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
نا معلوم موبائل نمبروں یا ای میلز سے موصول ہونے والی ZIP، exe، dll یا apk فائلوں کو ڈاؤن لوڈ کرنے یا کھولنے سے گریز کریں۔
لوینا سنہا کہتی ہیں: ’اگر واٹس ایپ یا ای میل کے ذریعے رقم منتقل کرنے کا کوئی پیغام موصول ہو تو تصدیق کے بغیر رقم منتقل نہ کریں۔
’اگر باس یا سی ای او فوری ادائیگی کا کہیں تو انھیں فون، ویڈیو کال یا ان کے متبادل نمبر پر رابطہ کرکے تصدیق ضرور کریں۔‘
ان کے مطابق واٹس ایپ سے منسلک آلات کو باقاعدگی سے چیک کرنا چاہیے اور کسی نا معلوم ڈیوائس کے نظر آنے پر فوراً لاگ آؤٹ کر دینا چاہیے۔ واٹس ایپ پر ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن بھی فعال رکھنا چاہیے۔
کمپنیوں کو ایسی پالیسیاں نافذ کرنی چاہییں جو نا معلوم exe اور dll فائلوں کو چلانے سے روکیں، جبکہ ونڈوز، اینٹی وائرس اور اینڈ پوائنٹ سکیورٹی کو مسلسل اپ ڈیٹ رکھا جائے۔
پولیس کے مطابق ایسے فراڈ میں وقت انتہائی اہم ہوتا ہے۔ متاثرہ افراد کو فوری طور پر متعلقہ ادارے کو شکایت درج کرانی چاہیے۔
پروین ناگجی بھائی کے معاملے میں بھی فراڈ کا پتہ چلتے ہی شکایت درج کرا دی گئی تھی، جس کے نتیجے میں بڑی مقدار میں رقم واپس حاصل کر لی گئی۔