خاتون پر بوائے فرینڈ کو جلا کر قتل کرنے کا الزام: ’بانڈیج سیکس‘ کیا ہے اور اسے غیر محفوظ کیوں سمجھا جاتا ہے؟

بی ڈی ایس ایم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عمران قریشی
    • عہدہ, بی بی سی ہندی
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

(انتباہ: اس تحریر میں درج کچھ تفصیلات پڑھنے والوں کے لیے پریشان کن ہوسکتی ہیں۔)

ایک عورت پر الزام ہے کہ اس نے اپنے بوائے فرینڈ کو ’اچھا وقت‘ گزارنے کے وعدے کے ساتھ گھر بلایا اور پھر اس پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہو گئی۔

یہ واقعہ انڈین ریاست کرناٹک کے شہر بنگلورو کا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزمہ اور مقتول ایک ساتھ موبائل سروس کمپنی میں کام کرتے تھے جہاں ان کے درمیان دوستی ہو گئی اور تقریباً ایک سال تک ان کے رومانوی تعلقات رہے تاہم گذشتہ چند ماہ سے ان کے تعلقات خراب ہو گئے تھے۔

بنگلورو (نارتھ ویسٹ) کے ڈپٹی پولیس کمشنر ناگیش ڈی ایل نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’ملزمہ نے محسوس کیا کہ مقتول اس سے کترا رہا ہے تاہم اصل وجہ تفصیلی تفتیش کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔‘

پولیس کے مطابق ملزمہ نے مبینہ طور پر مقتول کو اس وقت اپنے گھر بلایا جب اس کی ماں اور بھائی کام پر جا چکے تھے۔

پولیس نے بتایا کہ مقتول کے آتے ہی ملزمہ نے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی، اس کے ہاتھ باندھ دیے اور اس کے کپڑے اتار دیے اور پھر اس پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔

کیس کی تفتیش کے دوران پولیس نے یہ شبہ ظاہر کیا ہے کہ اس قتل کا تعلق بی ڈی ایس ایم یا ’بانڈیج سیکس‘ سے ہو سکتا ہے۔

بی ڈی ایس ایم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپولیس نے بتایا کہ مقتول کے آتے ہی ملزمہ نے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی، اس کے ہاتھ باندھ دیے اور اس کے کپڑے اتار دیے اور پھر اس پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی

جب ڈپٹی کمشنر سے پوچھا گیا کہ کیا خاتون نے اس قتل کو اپنے موبائل فون پر ریکارڈ کیا تھا تو ناگیش ڈی ایل نے وضاحت کی کہ ’اس واقعہ کی کوئی ویڈیو نہیں۔‘

عمارت کی دوسری منزل پر واقع گھر میں جب آگ لگی تو پڑوسیوں نے بالٹیوں کی مدد سے پانی ڈال کر اسے بجھانے کی کوشش کی لیکن جب آگ پر قابو نہ پایا جا سکا تو انھوں نے فائر فائٹرز اور پولیس کو اطلاع دی۔

ابتدائی طور پر پولیس کو بتایا گیا کہ مقتول نے خودکشی کی کوشش کی تھی تاہم ملزمہ سے پوچھ گچھ کے دوران پولیس کو معلوم پڑا کہ یہ قتل کا معاملہ ہے۔

اس واقعے سے متعلق درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مقدمہ اس لیے تاخیر سے درج ہوا کیونکہ مقتول کے والد بنگلورو سے تقریباً 130 کلومیٹر دور ٹمکور ضلع کے چکنایاکناہلی میں واقع گاؤں میں رہتے ہیں جہاں سے انھیں آنے میں وقت لگا۔

ایف آئی آر میں دعوی کیا گیا ہے کہ ملزمہ نے مقتول کو اس لیے ’قتل‘ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ ان سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔

جس ہسپتال میں مقتول کا پوسٹ مارٹم کیا گیا وہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کے والد کا کہنا تھا کہ انھوں نے بڑی محبت سے اپنے بیٹے کی پرورش کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اسے کبھی نہیں مارا۔ ہم نے اسے بنگلور اس امید پر بھیجا تھا کہ وہ وہاں اپنا مستقبل بہتر بنا سکے۔‘

بی ڈی ایس ایم کیا ہے اور اسے غیر محفوظ کیوں سمجھا جاتا ہے؟

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ وہ اسے ایک ’سوچے سمجھے قتل‘ کے طور پر دیکھ رہی ہے تاہم انھوں نے شبہ ظاہر کیا کہ اس واردات کا تعلق بی ڈی ایس ایم یا ’بانڈیج سیکس‘ سے ہو سکتا ہے۔

بی ڈی ایس ایم سے مراد ایسا جنسی عمل ہوتا ہے جس کے دوران مرد یا عورت اپنے پارٹنر کو باندھتے ہیں، ان پر اپنا تسلط قائم کرتے ہیں، انھیں اپنا حکم ماننے یا تابعداری پر مجبور کرتے ہیں اور انھیں سزا دیتے ہیں۔

اس جنسی عمل میں شامل لوگ رضامندی سے ایک دوسرے کے ساتھ اپنی خواہشات کے مطابق رول پلے یا کردار ادا کرتے ہیں۔

2015 میں ہالی ووڈ کی فلم ’ففٹی شیڈز آف گرے‘ کی ریلیز کے بعد سے یہ موضوع زیادہ زیر بحث رہا۔

گذشتہ برس انڈیا کی ریاست تمل ناڈو میں ایک کیس میں ایک جم ٹرینر نے پولیس کو بتایا کہ اس کی بیوی کی ناک سے ’بانڈیج سیکس‘ کے دوران خون بہنے لگا جس کے بعد اسے ہسپتال لے جانا پڑا۔

بی ڈی ایس ایم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لیکن پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ اس نے اپنی بیوی کے ہاتھ پاؤں باندھ کر کپڑے سے اس کا گلا گھونٹا تھا۔ بعد ازاں اس شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔

مقتولہ کے والد نے الزام لگایا تھا کہ ان کا داماد اپنی بیوی کو جہیز کے لیے ہراساں کرتا تھا جس سے دونوں کے درمیان اکثر لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں۔ ان کے دو بچے بھی تھے۔

دنیا بھر سے ایسے کئی معاملات سامنے آئے ہیں جن میں قتل کے شبے میں گرفتار افراد نے دعویٰ کیا کہ ان کے پارٹنر کی موت بی ڈی ایس ایم کے دوران ہوئی تاہم بعد ازاں پولیس تفتیش کے دوران یہ دعوے اکثر غلط ثابت ہوتے۔

دماغی صحت کے ماہرین کا خیال ہے کہ بی ڈی ایس ایم ’غیر محفوظ اور غیر معمولی‘ عمل ہے۔