آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
میسی کا ریٹائرمنٹ کا اعلان: ’میرے پاس دینے کے لیے اب کچھ باقی نہیں رہا‘
- مصنف, لورین میک کینا
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
ارجنٹینا کے عظیم فٹبالر لیونل میسی نے بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ ان کے لیے ’انتہائی تکلیف دہ‘ ہے، تاہم اب اس کا ’وقت آ چکا ہے‘۔
39 سالہ میسی، جنھوں نے 2022 کے قطر ورلڈ کپ میں ارجنٹینا کو عالمی چیمپیئن بنایا تھا، قومی ٹیم کی جانب سے 207 میچوں میں 125 گول کر چکے ہیں۔ وہ ارجنٹینا کی تاریخ میں سب سے زیادہ میچ کھیلنے اور سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں۔
اپنے بیان میں میسی نے کہا کہ انھوں نے قومی ٹیم کے لیے اپنا سب کچھ دے دیا اور اب ان کے پاس مزید دینے کے لیے کچھ باقی نہیں رہا۔ انھوں نے کہا، ’وقت بہت تیزی سے گزرتا ہے۔ ہر باب کا ایک دن اختتام ہوتا ہے اور یہ وہ باب ہے جس کے ختم ہونے کا مجھے گہرا دکھ ہے۔‘
میسی کا کہنا تھا کہ ’میں قومی ٹیم کا حصہ بننے سے محبت کرتا ہوں، ماضی میں بھی کرتا تھا اور ہمیشہ کرتا رہوں گا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’میں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں اور توانائیاں قومی ٹیم کے لیے وقف کیں۔ اب میرے بعد بے حد باصلاحیت نوجوان کھلاڑی آ رہے ہیں جو اپنے مواقع کے مستحق ہیں۔‘
لیونل میسی نے اپنے طویل بین الاقوامی کیریئر کے دوران ارجنٹینا کو متعدد اعزازات دلائے، جن میں 2022 کا فیفا ورلڈ کپ، دو کوپا امریکہ ٹائٹلز اور فائنالیسما شامل ہیں۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ عالمی فٹبال کے ایک یادگار دور کا اختتام ہو گیا ہے۔
اگست کے آغاز میں میسی نے اپنے والد جارجے میسی کی وفات کے بعد اپنے فٹبالی مستقبل پر غور کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ جارجے میسی 68 برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد فوت ہو گئے تھے۔
آٹھ بار بیلن ڈی آور جیتنے والے لیونل میسی نے بتایا کہ انھوں نے ریٹائرمنٹ سے متعلق اپنا پیغام 21 جولائی کو لکھا تھا، یعنی اس ورلڈ کپ فائنل کے دو روز بعد جس میں ارجنٹینا کو سپین کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پیر کے روز انسٹاگرام پر جاری اپنے پیغام میں میسی نے کہا کہ ’آج، اپنے والد کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد میں اپنے فیصلے کے بارے میں پہلے سے بھی زیادہ مطمئن ہوں۔‘
میسی اگرچہ بین الاقوامی فٹبال کو خیرباد کہہ رہے ہیں، تاہم ان کا کلب کریئر بدستور جاری رہے گا۔ وہ میجر لیگ سوکر (ایم ایل ایس) کی ٹیم انٹر میامی کے لیے کھیلتے رہیں گے، جہاں ان کا معاہدہ 2028 کے سیزن کے اختتام تک برقرار ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میسی نے 2005 میں ہنگری کے خلاف ایک دوستانہ میچ میں ارجنٹینا کے لیے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا تھا۔ وہ اس میچ میں 63ویں منٹ میں متبادل کھلاڑی کے طور پر میدان میں آئے، تاہم ایک منٹ سے بھی کم وقت بعد انھیں براہِ راست ریڈ کارڈ دکھا دیا گیا۔ ان کی کہنی ہنگری کے دفاعی کھلاڑی ولموش وانچاک سے ٹکرا گئی تھی، جس پر ریفری نے انھیں میدان سے باہر بھیج دیا۔
بین الاقوامی کریئر کی یہ مایوس کن شروعات بعد میں ایک غیر معمولی داستان میں بدل گئی۔ میسی نے ارجنٹینا کو 2022 کا ورلڈ کپ جتوایا اور دو مرتبہ کوپا امریکہ کا ٹائٹل بھی اپنے نام کیا۔
اعداد و شمار کے لحاظ سے بھی وہ عالمی فٹبال کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ورلڈ کپ کی تاریخ میں 21 گولوں کے ساتھ وہ دوسرے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں، جبکہ ان سے آگے صرف فرانس کے کیلیان ایمباپے ہیں جن کے 22 گول ہیں۔
اسی طرح 125 بین الاقوامی گولوں کے ساتھ میسی مردوں کی بین الاقوامی فٹبال میں دوسرے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں۔ اس فہرست میں پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو 146 گولوں کے ساتھ سرفہرست ہیں۔
میسی کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ارجنٹینا اور عالمی فٹبال کے ایک سنہری دور کا اختتام ہو رہا ہے، جس میں وہ محض ایک عظیم کھلاڑی ہی نہیں بلکہ اپنی نسل کے سب سے بااثر فٹبالرز میں سے ایک بن کر ابھرے۔
میسی پہلی بار 2016 میں بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائر ہوئے تھے، لیکن بعد میں اپنے فیصلے سے رجوع کر لیا تھا۔
یہ فیصلہ چلی کے ہاتھوں کوپا امریکہ فائنل میں شکست کے بعد سامنے آیا تھا، جہاں پنالٹی شوٹ آؤٹ میں میسی پنالٹی ضائع کر بیٹھے تھے اور ارجنٹینا نو برس میں اپنا چوتھا بڑا فائنل ہار گیا تھا۔
اس موسمِ گرما کے ورلڈ کپ میں میسی نے آٹھ گول کیے اور چار اسسٹ بھی فراہم کیے۔
ورلڈ کپ میں ان کے اسسٹ کی مجموعی تعداد 12 ہو گئی، جن میں سے 10 ناک آؤٹ مرحلے میں آئے۔ ریکارڈ کے مطابق کسی دوسرے کھلاڑی نے مجموعی طور پر آٹھ سے زیادہ اسسٹ نہیں کیے۔
حامیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ 20 برسوں میں ملنے والی تمام محبت کا شکریہ۔ مجھے میدان سے آپ کی آوازیں سننا بہت یاد آئے گا۔ اب میں بھی آپ ہی میں سے ایک ہوں گا، ہمیشہ سائیڈ لائن سے حوصلہ افزائی اور حمایت کرتا رہوں گا۔ میں اس اطمینان اور فخر کے ساتھ جا رہا ہوں کہ میں نے اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر آپ کو وہ لمحات دیے جن کا ہم نے صرف خواب دیکھا تھا۔ آپ سب کے ساتھ یہ تجربہ ناقابلِ یقین تھا۔ میں آپ سب سے محبت کرتا ہوں!‘
تجزیہ: ’کھلاڑی اور وقت کی دوڑ میں ہمیشہ ایک ہی فاتح ہوتا ہے‘
کھلاڑی اور وقت کی دوڑ میں آخرکار ہمیشہ وقت ہی جیتتا ہے۔
لیونل میسی نے اس لمحے کو بہت طویل عرصے تک ٹالے رکھا، لیکن میرے خیال میں دو عوامل نے شاید اس فیصلے کو تیز کر دیا۔ ایک ان کے والد کی حالیہ وفات، اور دوسرا ورلڈ کپ فائنل میں سپین کے ہاتھوں شکست۔
اگرچہ فائنل کا نتیجہ صرف 1-0 تھا، لیکن میدان میں دونوں ٹیموں کے درمیان فرق اس سے کہیں زیادہ محسوس ہو رہا تھا۔ میسی کو سٹیڈیم میں دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے وہ خود سے یہ سوال کر رہے ہوں کہ آیا وہ دوبارہ اس تمام سفر سے گزرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔
میسی نے ہمیں بے شمار یادیں دی ہیں۔ یہ چھوٹے قد کا جادوگر 21 سال اور چھ ماہ سے میری زندگی کا حصہ رہا ہے۔ تاہم ہر عظیم سفر کا ایک اختتام ہوتا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ وہ لمحہ اب آ پہنچا ہے۔
کیا میسی اپنے کریئر کے اختتام پر ارجنٹائن کے کلب نیویلز اولڈ بوائز واپس جا سکتے ہیں؟
میرے خیال میں اس راستے میں دو بڑی رکاوٹیں ہیں۔
پہلی، اپنے خاندان کو دوبارہ روزاریو منتقل کرنا۔ یہ نسبتاً چھوٹا شہر ہے اور گذشتہ برسوں میں وہاں سکیورٹی اور تشدد کے مسائل بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ اگرچہ ان کے قریبی دوست اینخل دی ماریا روزاریو سینٹرل واپس آئے اور انھیں کوئی خاص مسئلہ پیش نہیں آیا، لیکن میسی شاید اپنے خاندان کو دوبارہ شدید عوامی توجہ اور دباؤ کے ماحول میں لے جانے کے بارے میں محتاط ہوں۔
دوسری رکاوٹ فٹبال کا معیار ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے ارجنٹائن میں واپسی صرف چند میچوں یا ایک جذباتی اور رومانوی اختتام تک محدود ہو، کیونکہ میسی ماضی میں کئی مرتبہ اس خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔
تاہم میرا اندازہ ہے کہ انٹر میامی ہی ان کے کریئر کا آخری کلب ثابت ہوگا۔
باقی، فٹبال میں کچھ بھی یقینی نہیں۔ میسی جب چاہیں کھیل چھوڑ سکتے ہیں۔ اگر انھیں محسوس ہوا کہ وہ 2028 تک کھیل جاری نہیں رکھنا چاہتے تو وہ اس سے پہلے بھی ریٹائرمنٹ کا اعلان کر سکتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔
البتہ ایک بات طے ہے: انٹر میامی کے مداح خوش قسمت ہیں کہ انھیں فٹبال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک کے کریئر کے آخری لمحات قریب سے دیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔