آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایرانی فوج کا اردن کے بعد متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایک اور کارروائی کے دوران اردن کے بعد ’متحدہ عرب امارات میں المنہاد ائیر بیس پر امریکی ہیلی کاپٹروں اور فوجی اہلکاروں کی موجودگی کے مقام کو نشانہ بنایا ہے۔‘ ایران کے صدر پزشکیان نے کہا کہ ’خطے میں عدم استحکام اور بدامنی کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں اور یہ سب کے لیے مشکلات پیدا کرے گی۔‘

خلاصہ

  • ایرانی فوج کا اردن کے بعد متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
  • امریکی حکام کے مطابق امریکی افواج نے جزیرہ لارک پر موجود دو ایرانی لانچرز کو نشانہ بنایا ہے
  • جزیرہ لارک پر حملے کے نتائج امریکہ کو معاشی اور عسکری میدان میں بھگتنا پڑیں گے: ترجمان پاسدارانِ انقلاب
  • نیپال کی قومی ڈیزاسٹر اتھارٹی کے مطابق ملک میں تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 903 ہو گئی ہے جبکہ 4,200 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
  • مغربی کنارے میں آبادکاروں کا قُصرہ پر حملہ ’جرائم پر مبنی تشدد‘ قرار: نیتن یاہو کی مذمت

لائیو کوریج

  1. متحدہ عرب امارات نے المنہاد ائیربیس پر حملے کی تردید کر دی

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے المنہاد ائیربیس کو نشانہ بنائے جانے کے پاسدارانِ انقلاب کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس حوالے سے میڈیا میں آنے والی اطلاعات درست نہیں ہیں۔‘

    چند گھنٹے قبل ایرانی فوج نے ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ’اس نے گذشتہ رات امریکی فورسز کی جانب سے لارک جزیرے پر کیے گئے حملے کے جواب میں متحدہ عرب امارات میں المنہاد ائیربیس پر موجود ’امریکی ہیلی کاپٹروں اور فورسز کے مقام‘ کو درجنوں تباہ کن ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔‘

    تاہم متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے بتایا ہے کہ ’ملک کے دفاعی نظام نے اپنی حدود میں داخل ہونے والے ایک ڈرون کو روک لیا گیا ہے۔‘

    متحدہ عرب امارات نے ڈرون کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کیں اور یہ بھی واضح نہیں کیا کہ اسے مار گرایا گیا یا وہ اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔

    وزارتِ دفاع نے تاہم زور دیا کہ وہ ’کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار‘ ہے۔

    متحدہ عرب امارات نے اپنے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ’صرف سرکاری ذرائع سے خبریں حاصل کریں اور افواہوں اور غلط معلومات سے گریز کریں۔‘

  2. شمالی قبرص کے قریب مسافر کشتی الٹنے سے آٹھ افراد ہلاک، 18 لاپتہ

    شمالی قبرص کے قریب ایک مسافر کشتی الٹنے کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک جبکہ 18 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

    قبرص میں خود ساختہ ترک جمہوریہ کے وزیرِ اعظم اونال اوسٹل کے مطابق کشتی میں 259 مسافر اور عملے کے آٹھ ارکان سوار تھے۔ کشتی میں اتوار کو ساحلی شہر کیرینیا سے روانگی کے بعد پانی بھرنا شروع ہو گیا تھا۔

    اونال اوسٹل نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ’کشتی کے کپتان اور عملے کے سات ارکان کو اس بات کی تحقیقات کے سلسلے میں حراست میں لے لیا گیا ہے کہ یہ سانحہ کیسے پیش آیا۔‘

    حکام کے مطابق کشتی میں سوار بیشتر افراد کو بچا لیا گیا ہے جبکہ ترک حکام کے تعاون سے تلاش اور امدادی کارروائی جاری ہے۔

    کشتی کے ڈوب جانے کے بعد حکام واقعے کی اصل وجہ جاننے کے لیے اس کا بلیک باکس ریکارڈر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    نجی ملکیت کی یہ مسافر کشتی مقبول سیاحتی مقام کیرینیا سے مقامی وقت کے مطابق تقریباً 12 بج کر 30 منٹ پر روانہ ہوئی تھی۔

    اونال اوسٹل نے بتایا کہ ’کشتی کو سنیچر کے روز ترکی روانہ ہونا تھا تاہم خراب موسمی حالات کے باعث روانگی میں تاخیر ہوئی۔‘

    انھوں نے ترک خبر رساں ادارے ٹی آر ٹی کو بتایا کہ ’کشتی الٹنے سے قبل اسے دو بڑی لہروں کا سامنا کرنا پڑا۔‘ ان کے مطابق ’کپتان پہلی لہر کے بعد کشتی کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھے کہ دوسری لہر نے اسے آ لیا اور کشتی میں پانی بھرنا شروع ہو گیا۔‘

    حادثے کے مقام پر ہیلی کاپٹر اور کوسٹ گارڈ کی کشتیاں روانہ کر دی گئی ہیں جبکہ ساحل پر ایمبولینسیں بھی موجود ہیں تاکہ بچائے جانے والے مسافروں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

  3. نیپال میں سیلاب کے بعد امدادی کارروائیاں جاری اور اپنے پیاروں کے غم میں نڈھال خاندان

    نیپال میں امدادی کارکنان اور فوجی اہلکار لاپتہ افراد کی تلاش میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے سامنے آنے والی تصاویر تباہی کا اندازہ لگانے کے لیے بھی ناکافی معلوم ہوتی ہیں۔

    متاثرہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے خاندان اپنے پیاروں کی ہلاکت پر سوگ منا رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ نیپال کی قومی ڈیزاسٹر اتھارٹی کے مطابق ملک میں تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 903 ہو گئی ہے جبکہ 4,200 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی چند تازہ تصاویر

  4. آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد تیل بردار جہاز میں آگ بھڑک اُٹھی: پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

    پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک غیر قانونی راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے ایک بڑے تیل بردار جہاز میں دو بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ بھڑک اٹھی ہے۔‘

    ایرانی میڈیا پر جاری کیے گئے ایک بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز کے سکیورٹی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کا انجام اس سے مختلف نہیں ہوگا۔‘

    تاہم یہ واضح نہیں کہ مذکورہ تیل بردار جہاز کا نام کیا تھا یا اس کا تعلق کس ملک سے تھا۔

    پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی مالک کمپنیوں سے کہا ہے کہ ’اس آبی گزرگاہ کو استعمال کرنے کے لیے ایرانی بحریہ کی جانب سے جاری کردہ ضوابط پر عمل کرنا لازمی ہے۔‘

    پاسدارانِ انقلاب نے بحری جہازوں کی مالک کمپنیوں کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ امریکہ کے کہنے پر کسی دوسرے راستے سے گزرنے کی کوشش کرکے ’دھوکا نہ کھائیں‘ اور اپنے جہازوں کے سامان اور عملے کی جانوں کو بلاوجہ تباہی کے خطرے میں نہ ڈالیں۔‘

  5. نیپال میں لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد اور اب تک سامنے آنے والی تفصیل

    نیپال میں ریسکیو آپریشن چھٹے روز میں داخل ہونے کے ساتھ لاپتہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

    ملک کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق لاپتہ افراد کی تعداد 4,247 ہو گئی ہے، جو اتوار کو 2,502 تھی۔

    لاپتہ افراد میں:

    • 3,655 نیپالی شہری
    • 592 غیر ملکی شامل ہیں۔

    ان میں 933 پن بجلی منصوبوں کے کارکن جبکہ 102 نیپالی فوجی، پولیس اہلکار اور کسٹمز افسران بھی شامل ہیں۔

    ہر روز درجنوں لاشیں مل رہی ہیں اور نیپال میں تصدیق شدہ ہلاکتوں کی تعداد اب 903 ہو گئی ہے، جو اتوار کو 781 تھی۔

    تاہم چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق تبت میں ہلاکتوں کی تعداد فی الحال 16 ہے جبکہ 546 افراد لاپتہ ہیں۔

  6. مجتبیٰ خامنہ ای کا نیا ’تحریری پیغام‘: ایرانی رہبر اعلیٰ ابھی تک منظرِ عام پر کیوں نہیں آئے؟

    ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اسلامی ممالک، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف متحد ہوں۔ یہ اپیل انھوں نے ایک تحریری پیغام میں کی، جسے ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے شائع کیا۔

    یہ پیغام ان امریکی اور اسرائیلی حملوں کے چھ ماہ بعد سامنے آیا ہے جن میں ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے تھے۔ ان کے قریبی حلقوں کے ذرائع نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ ان کی چوٹیں شدید نوعیت کی تھیں۔

    ارنا کے مطابق، ہفتۂ وحدتِ اسلامی کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں خامنہ ای نے کہا کہ خطے کے رہنماؤں کو ’حقیقی دشمن کو پہچاننا، اس کی سازشوں کو سمجھنا اور ان کا مقابلہ کرنا‘ چاہیے، اور ان کا اشارہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب تھا۔

  7. بریکنگ, ایرانی فوج کا اردن کے بعد متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایک کارروائی کے دوران ’متحدہ عرب امارات میں المنہاد ائیر بیس پر امریکی ہیلی کاپٹروں اور فوجی اہلکاروں کی موجودگی کے مقام کو نشانہ بنایا ہے۔‘

    ایرانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق ’یہ حملے گذشتہ رات امریکی فورسز کی جانب سے لارک جزیرے پر کیے گئے حملے کے جواب میں کیے گئے۔‘

    واضح رہے کہ گذشتہ رات امریکی فورسز نے لارک جزیرے پر ایران کے دو میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ اس نے جوابی کارروائی میں اردن میں دو امریکی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔

    ایرانی فوج کے بیان میں آخر میں لارک جزیرے کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جو خلیج فارس میں ایران کے اہم ترین تیل برآمدی مراکز میں سے ایک ہے اور جہاں قائم ٹرمینلز سے ملک کی خام تیل کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ کیا جاتا ہے۔

  8. نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی، 4000 سے زائد افراد تاحال لاپتہ

    نیپال کی قومی ڈیزاسٹر اتھارٹی کے مطابق ملک میں تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 903 ہو گئی ہے جبکہ 4,200 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

    انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے مطابق نیپال میں 275 انڈین شہری تاحال لاپتہ ہیں، جبکہ انڈین نژاد مزید 128 افراد بھی لاپتہ ہیں۔

    وزارت کے مطابق 403 انڈین شہری چین سے نیپال میں داخل ہوئے جبکہ مزید 500 انڈین شہری چین میں محفوظ ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر 149 افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔

    انڈیا نے نیپال میں امدادی کارروائیوں کے لیے اپنی مدد بھی بڑھا دی ہے۔ 19 رکنی خصوصی فرانزک ٹیم نے کھٹمنڈو میں کام شروع کر دیا ہے جو ڈی این اے نمونوں کے تجزیے اور ہلاک ہونے والوں کی شناخت میں مدد کر رہی ہے۔

    تاہم انڈیا کی ایک سرنگوں میں ریسکیو کی ماہر ٹیم چلیمے اور لانگ ٹانگ کے پن بجلی منصوبوں میں نیپالی فوج کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

    ادھر اس تباہی کے بعد لاپتہ آسٹریلوی شہریوں کی سرکاری تعداد میں بھی روزانہ معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ آسٹریلوی حکومت نے آج بتایا ہے کہ 43 آسٹریلوی شہری لاپتہ ہیں۔

    آسٹریلیا کے نائب وزیرِ خارجہ میٹ تھیسٹلوائٹ نے اے بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’ہم نے ان آسٹریلوی شہریوں کو صحیح سلامت تلاش کرنے کی امید نہیں چھوڑی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم لاپتہ آسٹریلوی شہریوں کا سراغ لگانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔‘

    دوسری جانب چین کے زیرِ انتظام تبت میں سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد 16 بتائی گئی ہے، جبکہ 546 افراد لاپتہ ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں تقریباً نصف غیر ملکی شہری ہیں۔

  9. پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز میں امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    ایرانی میڈیا نے پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے اوپر ایک امریکی ’ایم کیو-9‘ ڈرون مار گرایا گیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے مزید تفصیلات بتائے بغیر کہا ہے کہ ’ڈرون کو پاسدارانِ انقلاب کے جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔‘

    فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ڈرون خلیج فارس کے پانیوں میں گر کر تباہ ہوا ہے۔

  10. ایران جنگ کا خواہاں نہیں، مگر کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے گا: ایرانی صدر

    تہران سے کرغزستان روانہ ہونے سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ’اسلامی جمہوریہ جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم کسی بھی جارحیت کے مقابلے میں خاموش نہیں بیٹھے گا اور اس کا فیصلہ کن جواب دے گا۔‘

    صدر پزشکیان نے کہا کہ ’ایران پہلے ہی دنیا کو یہ پیغام پہنچا چکا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’خطے میں عدم استحکام اور بدامنی کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں اور یہ سب کے لیے مشکلات پیدا کرے گی۔‘

    ایرانی صدر کے یہ بیانات امریکی فورسز کی جانب سے لارک جزیرے پر حملے کے ایک دون بعد سامنے آئے ہیں۔ یاد رہے کہ ایان کی جانب سے امریکی حملوں کے جواب میں ایک کارروائی کے دوران اردن میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    مسعود پزشکیان شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک روانہ ہو گئے ہیں۔

  11. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے چار اضلاع میں انٹرنیٹ سروس کی جزوی بحالی کا نوٹیفیکیشن جاری, تابندہ کوکب، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے نو منتخب وزیر اعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کے حکم پر چار اضلاع میں مکمل جبکہ چار میں جزوی انٹرنیٹ سروس بحالی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    تاہم فی الحال کشیدگی کے شکار علاقوں سدھنوتی و پونچھ میں انٹرنیٹ سروسز مکمل بند رہیں گی۔ یاد رہے کہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں مظاہرین نے دھرنا دے رکھا ہے۔

    ریاست کے محکمہ داخلہ سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مظفرآباد، جہلم ویلی، باغ، کوٹلی میں براڈ بینڈ اور وائی فائی انٹرنیٹ سروس صرف تعلیمی اداروں (سکول، کالجز، یونیورسٹیوں) کے لیے بحال کی جائے گی۔

    ساتھ ہی تعلیمی اداروں کے سربراہان اور بینک برانچز کے ذمہ داران کو حلف نامہ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے جن کے مطابق یقینی بنایا جائے گا کہ انٹرنیٹ کنکشن کے ریاستی مفادات اور قومی سلامتی کے خلاف استعمال نہیں ہو گا۔ ا سکے علاوہ انٹرنیٹ کنکشنز کو عوامی نظم کے خلاف استعمال کرنے کی اجازی نہیں ہوگی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق میرپور، بھمبر، حویلی اور نیلم ویلی میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بحال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    لیپا ویلی کو بھی مکمل سروس مل گئی جبکہ سدھنوتی،اور راولاکوٹ کی انٹرنیٹ سروس مکمل بند رکھی گئیں۔

  12. نیپال میں تعلیمی اداروں کے 200 سے زائد طلبہ لاپتہ ہیں: وزارتِ تعلیم

    نیپال کی وزارتِ تعلیم کے مطابق سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ تین اضلاع میں کم از کم 19 سکول متاثر ہوئے ہیں۔

    وزارت کے مطابق کم از کم نو سکول مکمل طور پر تباہ اور سات دیگر کو جزوی نقصان پہنچا ہے، جبکہ کئی تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور طلبہ کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    وزارتِ تعلیم و کھیل کی تازہ ترین جائزہ رپورٹ کے مطابق 200 سے زائد طلبہ لاپتہ ہیں جبکہ تقریباً 20 طلبہ سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں۔

    شدید متاثر ہونے والے بیشتر سکول رسوا اور نواکوٹ اضلاع میں ہیں۔

    ان دونوں اضلاع کے کئی سکول، جہاں 2425 طلبہ زیرِ تعلیم تھے، یا تو وہ سیلابی پانی میں ڈوب گئے یا ملبے تلے دب گئے ہیں۔

    ایک سکول کی انتظامیہ میں سے ایک فرد نے بتایا کہ ’سیلاب ان کے سکول کی ایک بس بھی بہا لے گیا۔‘

    بی بی سی کی جنوبی ایشیا کی ویژول جرنلزم ٹیم نے سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے ان علاقوں کا نقشہ تیار کیا ہے جہاں سکول سیلاب سے متاثر ہوئے۔

  13. نیپال اور تبت میں سیلاب: ریسکیو آپریشن چھٹے روز بھی جاری، ہلاکتیں 800 کے قریب

    نیپال اور تبت کی سرحدی علاقے میں اچانک آنے والے سیلاب سے تباہی کے بعد ریسکیو آپریشن چھٹے روز بھی جاری ہے اور ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 800 تک پہنچ گئی ہے۔

    کھٹمنڈو میں بی بی سی نیپالی نے ایسے افراد سے بات کی ہے جو اپنے لاپتہ عزیزوں کی تصاویر اس امید پر ہسپتال کی دیوار پر لگا رہے ہیں کہ شاید ان کا کوئی سراغ مل جائے۔

    دوسری جانب تریشولی 3 اے پن بجلی منصوبے میں امدادی کارکنوں نے اتنا بڑا سوراخ بنانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے جس کے ذریعے اندر داخل ہو کر زندہ بچ جانے والوں کی تلاش شروع کی جا سکتی ہے، تاہم اب تک اندر سے کوئی جواب نہیں ملا۔

    2500 سے زیادہ افراد تاحال لاپتہ ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں سینکڑوں افراد نیپال کے پن بجلی منصوبوں میں کام کرنے والے کارکن ہیں۔

    لاپتہ افراد میں دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔

    تباہی اور جانی نقصان کے درمیان کچھ افراد کے بچائے جانے اور امید کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔

    چین کے زیرِ انتظام تبت میں سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد 16 بتائی گئی ہے، جبکہ 546 افراد لاپتہ ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں تقریباً نصف غیر ملکی شہری ہیں۔

    شگاتسے کے حکام کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیموں کو اب تک کوئی شخص زندہ نہیں ملا۔

  14. امریکی صدر نے ’ایرانی لارک جزیرے‘ پر حملے کی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو جاری کر دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے، جس میں تیل کی ایک بڑی تنصیب کو دھماکے کے بعد جلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا ہے کہ ’لارک جزیرے کو مکمل طور پر زمین بوس کیا جا رہا ہے!!!‘

    یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔

    امریکی فورسز اس سے قبل لارک جزیرے پر ایرانی میزائل لانچ کرنے والے دو مقامات کو نشانہ بنا چکی ہیں، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن میں دو امریکی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    لارک جزیرہ خلیج فارس میں ایران کے اہم ترین تیل برآمدی مراکز میں سے ایک ہے اور ملک کی خام تیل کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ جزیرے پر قائم ٹرمینلز کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

  15. پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش روکنے کے لیے حملہ کیا گیا: سینٹکام

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے سے روکنے کے لیے پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں کے خلاف امریکی فورسز کی حالیہ کارروائی ’محدود اور انتہائی درست‘ تھی اور اسے جہاز رانی کے لیے موجود ’فوری خطرے‘ کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا۔‘

    سینٹکام نے پاسدارانِ انقلاب کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ یہ کارروائی ’جارحیت‘ تھی۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ ’ایرانی فورسز نے خود یہ خطرہ پیدا کیا تھا اور امریکی فوج نے شہری ملاحوں، تجارتی جہازوں اور عالمی تجارت کے آزادانہ بہاؤ کے تحفظ کے لیے اسے ختم کیا۔‘

    تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹم ہاکنز نے کہا ہے کہ ’امریکی فورسز نے گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کی گزرگاہوں سے بحری بارودی سرنگیں صاف کرنے کا کام مکمل کر لیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’امریکی فورسز علاقے کی نگرانی کر رہی ہیں اور آبنائے ہرمز میں ’تجارت کے آزادانہ بہاؤ‘ کے تحفظ کے لیے تیار ہیں۔‘

    دوسری جانب جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان اور قطر سمیت مختلف ممالک کی ثالثی میں ہونے والی سفارتی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں۔

    امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی بھی جاری رکھی ہوئی ہے، جس کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ اس سے ایران میں پیٹرول کی فراہمی پر دباؤ بڑھا ہے، جبکہ ملک میں مقامی پیداوار کی کمی بھی موجود ہے۔

  16. واشنگٹن ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے ممکنہ طور پر ہر ہفتے نئی ثانوی پابندیوں کا اعلان کرے گا: امریکی وزیرِ خزانہ

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ’واشنگٹن ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے ممکنہ طور پر ہر ہفتے نئی ثانوی پابندیوں کا اعلان کرے گا، جن کا ابتدائی ہدف بینک ہوں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کے باعث چین کی جانب سے ایرانی تیل کی درآمد کم ہوئی ہے۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اس تجزیے سے اتفاق نہیں کرتے کہ ایران پر معاشی دباؤ کی مہم کی کامیابی کا انحصار چینی کمپنیوں پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے پر ہے۔‘

    سکاٹ بیسنٹ نے روئٹرز کو بتایا کہ ’جمعے کو متحدہ عرب امارات میں بینک آف مصر کی شاخوں کے خلاف کارروائی کے بعد اگلا قدم کسی مالیاتی ادارے کی ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام تک رسائی مکمل طور پر ختم کرنا ہو سکتا ہے۔ ان شاخوں پر ایران کے ساتھ مبینہ مالی روابط کا الزام ہے۔‘

    انھوں نے کہا ’آپ ہر ہفتے اس طرح کی مزید کارروائیاں دیکھیں گے۔ ہم بینکوں سے آغاز کر رہے ہیں اور انھیں بتا رہے ہیں کہ ایرانی رقم رکھنا اور ایرانی حکومت کی مدد کرنا قابلِ قبول نہیں ہے۔‘

    امریکی وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ ’گروپ 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنرز کے اجلاس میں وہ دیگر ممالک سے بھی ایران کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کم کرنے کا مطالبہ کریں گے، بصورتِ دیگر انھیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

  17. ایران کی ناکہ بندی کے دوران 83 تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑا گیا: سینٹکام

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’30 اگست تک ایران کی ناکہ بندی کے دوران اُن کی فورسز نے 83 تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑا، تین کو ناکارہ بنایا اور دو جہازوں کی تلاشی لی۔‘

    سینٹکام نے یہ اعداد و شمار ایک تصویر کے ساتھ جاری کیے، جس میں ایک امریکی ملاح کو ’ایم ایچ 60 ایس‘ سی ہاک ہیلی کاپٹر کو یو ایس ایس ڈیلبرٹ ڈی بلیک پر اترنے کے لیے رہنمائی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    سینٹکام کے مطابق یہ جنگی جہاز بحیرۂ عرب میں ایران کی امریکی ناکہ بندی پر عمل درآمد کر رہا ہے۔

  18. پاسدارانِ انقلاب کا اردن میں دو امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کا دعویٰ

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی ایرو سپیس فورس نے امریکہ کی جانب سے لارک جزیرے پر کیے گئے حملے کے جواب میں اردن میں کنگ حسین اور الازرق ایئربیسز کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔‘

    تاہم اردن کی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے پیر کی صبح اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ میزائلوں کو روک لیا۔

    پاسدارانِ انقلاب کے مطابق دونوں اڈوں پر تکنیکی اور مرمتی تنصیبات کے ساتھ ساتھ جنگی طیاروں کی تعیناتی کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ’شدید نقصان‘ پہنچا۔

    آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئے حملے کا جواب ’مزید تباہ کن کارروائیوں‘ سے دیا جائے گا۔ مزید یہ کہ ’لارک جزیرے پر امریکی حملہ اسلامی جمہوریہ ایران کی آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو کمزور نہیں کر سکے گا۔‘

    اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے فاکس نیوز کے ایک رپورٹر اور ایک امریکی ذریعے کے حوالے سے بتایا تھا کہ ’ایران نے اردن میں امریکی فورسز کو نشانہ بنایا، تاہم اب تک کسی ’اہم نقصان‘ کی اطلاع نہیں ملی اور تقریباً تمام آنے والے میزائلوں کو روک لیا گیا ہے۔

  19. جزیرہ لارک پر حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا: ابراہیم عزیزی

    ایران کی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے جزیرہ لارک پر حملے کے ردعمل میں کہا ہے کہ اس کارروائی کا جواب لازمی دیا جائے گا۔

    انھوں نے ایکس پر اپنے بیان میں لکھا کہ ’ہماری قوتِ ارادی کو دوبارہ آزمانے‘ کی کوشش امریکہ اور اسرائیل کی ناکامیوں کی قیمت مزید بھاری کر دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس کا ’تباہ کن، تکلیف دہ اور سبق آموز‘ جواب دے گا۔

    یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاسدارانِ انقلاب نے جزیرہ لارک پر حملے میں اپنے متعدد اہلکاروں اور شہریوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔

  20. جولائی کے اواخر کے بعد سے ایران پر امریکہ کا پہلا براہ راست حملہ: روئٹرز

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کی شب امریکی افواج کی جانب سے جزیرہ لارک پر ایران کے دو لانچرز کو نشانہ بنانا جولائی کے اواخر کے بعد سے ایران پر امریکہ کا پہلا براہ راست حملہ ہے۔

    یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب حالیہ ہفتوں کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم کی شدت میں کمی آئی تھی اور جنگ ایک طرح کے تعطل کی کیفیت اختیار کر چکی تھی۔

    ایک امریکی عہدیدار کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار آبنائے ہرمز کی جانب بحری بارودی سرنگیں لے جانے والے راکٹ داغنے کی تیاری کر رہے تھے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں موجود تمام بارودی سرنگیں یا تو ناکارہ بنا دی گئی ہیں یا قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا تھا کہ کوئی بھی جہاز یا کشتی جو نئی بارودی سرنگ بچھانے کی کوشش کرے گی، اسے تباہ کر دیا جائے گا۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کو شروع ہوئے اب چھ ماہ ہو چکے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور اسے بحری آمد و رفت کے لیے کھلا رکھنے کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان تنازع بدستور جاری ہے۔