اسلام ترک کرنے والے متنازع انڈین یوٹیوبر 26 سال بعد قتل کے معاملے میں دوبارہ کیسے گرفتار ہوئے؟

،تصویر کا ذریعہDelhi Police
- مصنف, دلنواز پاشا
- عہدہ, بی بی سی ہندی، دلی
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
انڈیا میں مسلمانوں اور قرآن کے خلاف متنازع بیانات دینے والے سلیم خان، ایک عرصے تک سلیم واستِک بن کر دنیا کے سامنے موجود ہونے کے باوجود ’لاپتہ‘ رہے۔
وہ کئی برسوں سے ٹی وی مباحثوں، پوڈکاسٹ میں بولتے نظر آ رہے تھے اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز بنا کر پیش کر رہے تھے لیکن پولیس کے ریکارڈ میں ’مفرور‘ درج تھے۔
جب دہلی پولیس نے 24 اپریل کو دارالحکومت سے ملحق اترپردیش کے غازی آباد کے لونی علاقے سے انھیں گرفتار کیا تو مارشل آرٹ میں براؤن بیلٹ 54 سالہ سلیم خان نہایت کمزور نظر آ رہے تھے۔
ان کی کمر سے پیشاب کی تھیلی بندھی ہوئی تھی۔
گذشتہ چند برسوں میں سلیم خان نے اسلام ترک کر کے خود کو سابق-مسلم کے طور پر نئی شناخت دی تھی۔
اس دوران وہ اسلام کے بارے میں متنازع تبصرے کر کے ہندوتوا تنظیموں کے قریب ہو گئے۔
فروری سنہ 2026 میں سلیم خان پر ایک حملہ بھی ہوا جس کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں لیکن ہسپتال سے چھٹی ملنے کے بعد وہ چند روز پہلے ہی لونی کے اشوک وہار میں اپنے نئے مکان میں منتقل ہوئے تھے جہاں سے دلی پولیس کی کرائم برانچ کی اینٹی رابری اینڈ سنیچنگ سیل کی ٹیم نے انھیں گرفتار کیا۔
سلیم خان کو 1995 میں ایک 13 سالہ سکول طالب علم کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں عدالت سے عمر قید کی سزا ملی تھی۔ نومبر سنہ 2000 میں وہ ضمانت پر جیل سے باہر آئے اور اس کے بعد سے ’فرار‘ تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس ریکارڈ کے مطابق، سلیم خان دہلی کے دریا گنج میں واقع رامجس سکول میں مارشل آرٹ ٹرینر تھے اور اسی سکول کے ایک طالب علم کو اغوا کے بعد قتل کیا تھا۔
ان پر جنوری 1995 میں اغوا اور قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا اور عدالت نے 1997 میں انھیں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
دہلی ہائی کورٹ نے نومبر 2000 میں انھیں عبوری ضمانت دی جس کے بعد وہ ’لاپتہ‘ ہو گئے۔
اب انھیں دوبارہ تہاڑ جیل بھیج دیا گیا ہے۔

پولیس نے کیسے پکڑا؟
کرائم برانچ کی اینٹی رابری اینڈ سنیچنگ سیل نہ صرف لوٹ مار اور چھین جھپٹ جیسے جرائم پر کام کرتی ہے بلکہ ضمانت یا پیرول پر فرار ہونے والے مجرموں کو بھی ٹریک کرتی ہے۔
ڈی سی پی سنجیو یادو نے بتایا: ’ہماری ٹیم مطلوبہ مجرموں اور پیرول پر فرار ہونے والوں پر مسلسل کام کرتی ہے۔ اسی دوران سلیم خان کے بارے میں پتا چلا کہ یہ مجرم پیرول پر فرار ہے۔‘
مارچ کے وسط میں ٹیم نے سلیم خان کے آبائی گاؤں نانُوپورہ (ضلع شاملی، یوپی) کا دورہ کیا۔ وہاں ان کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ وہ فوت ہو چکے ہیں۔ لیکن پولیس کو موت کے شواہد نہیں ملے۔
اسی دوران ذرائع نے پولیس کو اطلاع دی کہ لونی میں رہنے والا سلیم واستِک ہی اصل میں مطلوبہ مجرم سلیم خان ہے۔
شواہد اور شناخت
1995 میں گرفتاری کے وقت سلیم خان کے فنگر پرنٹس لیے گئے تھے۔ جب ان کا موازنہ سلیم واستِک کے فنگر پرنٹس سے کیا گیا تو دونوں یکساں نکلے۔
سلیم واستِک کے آدھار کارڈ پر والد کا نام نور حسن درج تھا، جو سلیم خان کے والد کا نام بھی تھا۔ یہ ایک اہم کڑی تھی۔
عدالتی فائلوں سے پتہ چلا کہ سلیم خان کی بیوی کا نام افسانہ ہے اور سلیم واستک کی بیوی کا نام بھی افسانہ ہے۔ پولیس کو افسانہ کا ایک پرانی تحریر ملی جس میں انھوں نے اپنے شوہر کو ’کسٹڈی پیرول‘ پر رہا کرنے کی درخواست کی تھی۔
مزید تحقیقات میں شاملی کے ایک جُوڈو-کراٹے ادارے کا شناختی کارڈ ملا جس پر نوجوان سلیم خان کی تصویر تھی۔ یہ تصویر سلیم واستک کی موجودہ تصاویر سے ملتی جلتی تھی۔
پولیس نے انسانی ذرائع، تکنیکی تحقیقات اور ایک ماہ کی کڑی محنت کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ در اصل سلیم واستک ہی سلیم خان ہیں۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ سلیم واستِک نے اپنی آبائی جائیداد بیچنے کی کوشش کی تھی۔
پولیس نے ان کے گذشتہ دو تین برسوں کے درجنوں انٹرویوز دیکھے۔ ان میں وہ بار بار اسلام چھوڑنے کا ذکر کرتے تھے، لیکن 1995 سے 2000 کے عرصے پر کبھی بات نہیں کرتے تھے۔
اس خاموشی نے بھی پولیس کو یقین دلایا کہ سلیم واستِک ہی اصل میں مطلوبہ مجرم سلیم خان ہیں۔

،تصویر کا ذریعہDelhi Police
جب پولیس گرفتاری کے لیے پہنچی تو سلیم واستِک نے کیا کیا؟
سلیم واستِک کو گرفتار کرنے والی پولیس ٹیم کے مطابق، جب پولیس لونی میں ان کے گھر پہنچی تو انھوں نے ابتدا میں سلیم خان ہونے سے انکار کر دیا۔
وہ بالکل پُرسکون تھے اور بھاگنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ دہلی پولیس مقامی لونی پولیس کو ساتھ لے کر اور شواہد کی مکمل فائل کے ساتھ وہاں پہنچی تھی۔
تحقیقات کے مطابق، جب انھیں ان کا پرانا شناختی کارڈ دکھایا گیا تب بھی انھوں نے سلیم واستِک ہونے پر اصرار کیا۔
پولیس ٹیم کے مطابق، جب ان کے سامنے ایک کے بعد ایک شواہد رکھے گئے تو ان کا چہرہ اترتا چلا گیا اور انھوں نے مان لیا کہ وہی سلیم خان ہیں۔
گرفتاری میں شامل ایک پولیس اہلکار کے مطابق، جب سلیم کو بتایا گیا کہ انھیں گرفتار کیا جا رہا ہے تو انھوں نے کہا: ’جو کرم کیے ہیں وہ بھگتنے تو پڑیں گے ہی۔‘

،تصویر کا ذریعہArranged
سلیم خان سے کیسے بنے سلیم واستِک؟
پولیس کے مطابق، پوچھ گچھ کے دوران سلیم خان نے بتایا کہ ضمانت پر فرار ہونے کے بعد وہ کئی برس تک اپنے گاؤں نہیں لوٹے۔ انھوں نے ایک مدرسے سے اسلامی تعلیم حاصل کی اور پھر تقریباً دس برس پہلے لونی کی کالونی میں خواتین کے کپڑوں کی ایک دکان کھولی۔
ایک انٹرویو میں سلیم خان نے کہا تھا: ’میں نے قرآن کا مطالعہ کیا ہے، اسلامی تعلیم حاصل کی ہے اور میں ہریانہ کے امبالہ میں ایک مزار پر پانچ-چھ برس تک رہا۔‘
تاہم، سلیم خان نے اپنی شناخت سرکاری طور پر کبھی نہیں بدلی۔
انھوں نے جو نئے دستاویزات بنوائے ان میں ان کی بیوی اور والد کا نام اصلی ہی تھا البتہ اپنے نام کے ساتھ انھوں نے ’خان‘ ہٹا کر ’واستِک‘ جوڑ لیا تھا۔
ایک ٹی وی شو میں اپنے نام کے ساتھ ’واستِک‘ لکھنے کے بارے میں سلیم خان نے کہا تھا کہ ’مجھے زندگی کی حقیقت کا ادراک ہوا اور میں حقیقت پر چلنے لگا، اس لیے اپنے نام کے ساتھ واستِک لگا لیا۔‘

،تصویر کا ذریعہDelhi Police
گرفتاری سے چند روز پہلے
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سلیم خان کی گرفتاری سے کچھ دن پہلے ہی ان کی بیوی اپنے بچوں کے ساتھ گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی۔
پڑوس کی ایک خاتون نے بتایا: ’یہ مکان پچھلے ایک سال سے تعمیر ہو رہا ہے۔ پہلے سلیم کبھی کبھار تعمیراتی کام دیکھنے آتے تھے۔ ان کی بیوی پچھلے مہینے ہی ان کے ساتھ یہاں رہنے آئی تھی۔‘
ایک اور خاتون نے بتایا: ’کبھی کبھار وہ گھر سے نکلتی تو دعا سلام کرتی۔ شوہر کے اسلام کے خلاف بولنے سے وہ بہت خوش نہیں تھی۔ وہ خود نماز پڑھتی تھی اور اسلام پر عمل پیرا تھی۔‘
سلیم خان کا جوان بیٹا بھی ان کے ساتھ رہ رہا تھا۔ وہاں رہنے والے ایک نوجوان کے مطابق ان کا لڑکا ’جمعہ کی نماز کے لیے قریبی مسجد جاتا تھا اور کبھی کبھی ٹوپی پہن کر بھی نکلتا تھا۔‘
سلیم واستِک کے گھر کی تعمیر کے دوران راج مستری (معمار) رحیم الدین نے کچھ دن کام کیا۔ وہ کہتے ہیں: ’حملے سے پہلے، وہ صحت مند تھے، وہ کبھی کبھار آتے تھے، کئی بار، وہ (ہندو) کارکنوں کے ساتھ ہوتے تھے۔‘
’ایک دن، تین یا چار مہینے پہلے، جب وہ آئے، تو ان کے ساتھ کچھ یوٹیوبرز مائیکروفون کے ساتھ تھے۔ وہ اسلام اور قرآن کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ اس وقت مجھے پتا چلا کہ یہ یوٹیوبرز ہیں اور اسلام کے خلاف بولتے رہتے ہیں۔‘
’حملے کے بعد، جب سلیم واستک رہنے آئے تو کئی ہندوتوا کارکنان اور مقامی رہنما ان سے ملنے آتے تھے۔‘
رئیس الدین کہتے ہیں: ’جب یہاں بڑی بڑی کاریں آنے لگیں، بہت سے مذہبی رہنما یہاں آئے اور ان کے گھر کے باہر پولیس اہلکار تعینات ہونے لگے تو ہمیں لگا کہ کوئی بڑا آدمی یہاں رہنے آیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہSaleem Wastik Facebook
متاثرہ خاندان کی حالت
پہلے سلیم خان کا مکان دہلی کے کھجوری علاقے میں شیرپور چوک کے قریب تھا لیکن 31 سال قبل ہونے والے اغوا اور قتل کے معاملے نے ان کے اہل خانہ کو اس علاقے اور مکان کو چھوڑنے پر مجبور کیا۔
اب ان کے مکان میں متاثرہ سیتا رام کی ہارڈ ویئر کی دکان ہے۔
سلیم کے نام کے ذکر پر وہ کہتے ہیں: ’گذشتہ 31 سالوں میں ان آنکھوں سے آنسو نہیں بلکہ خون بہتا رہا ہے، میرا 13 سالہ بیٹا مارا گیا، اگر وہ آج زندہ ہوتا تو مجھے بڑھاپے میں دکان پر کھڑا نہ ہونا پڑتا، کیا میں سلیم کا چہرہ کبھی بھول سکتا ہوں؟‘
سلیم کی دوبارہ گرفتاری پر پر ان کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ سلیم ضمانت ملنے کے بعد فرار ہو گیا تھا۔
سلیم کی دوبارہ گرفتاری پر ان کے چہرے کے تاثرات خوشی یا اطمینان کی جگہ خوف کو ظاہر کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’میں روتا رہا، میرا 31 سال پرانا زخم تازہ ہوگیا، میں نے کسی طرح اپنا وقت گزار لیا، اب میں کہاں روؤں گا اور کہاں جاؤں گا۔‘
اسی کے ساتھ انھوں نے خدشہ ظاہر کیا: ’وہ بڑا آدمی بن گیا ہے۔ وہ 26 سال سے جیل سے باہر ہے، اور پولیس اسے پکڑ نہیں سکی۔ حکومت اسے تحفظ فراہم کر رہی ہے، اور ہندوتوا کے سرکردہ کارکن اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ اور اسی لیے اب پھر سے ہم خوفزدہ ہیں۔‘

























