’پیلٹ گن‘: دہلی میں مظاہرین کے خلاف مبینہ طور پر استعمال ہونے والے ہتھیار پر کیا تنازع ہے؟

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

جب پیر کے روز کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین پارلیمنٹ کی طرف مارچ کے لیے روانہ ہوئے تو جنتر منتر اور اس کے اطراف میں سکیورٹی اہلکاروں نے ان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا۔ ایک طرف اس کارروائی میں کئی مظاہرین زخمی ہوئے جبکہ دوسری طرف دلی پولیس کے مطابق مظاہرین کے تشدد سے کئی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

اسی واقعے میں شدید زخمی ہونے والا 21 سالہ ایک طالب علم دلی کے آر ایم ایل ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔

اسے وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا لیکن دو روز قبل ہٹا دیا گیا۔

میڈیکل بلیٹن کے مطابق اسے ہوش آ گیا ہے اور اس کی حالت مستحکم ہے۔ لیکن اسے اب بھی انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہے۔

اس کریک ڈاؤن کے دوران بعض مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن استعمال کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

یہ معاملہ راہل گاندھی نے بھی اٹھایا ہے

جمعے کو لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے ساحل نامی ایک نوجوان کو میڈیا کے سامنے پیش کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’20 جولائی کو 19 سالہ ساحل کے چہرے پر دلی پولیس نے پیلٹ گن سے حملہ کیا جب وہ دہلی میں پُرامن احتجاج کر رہا تھا۔‘

’ساحل دہلی یونیورسٹی کا طالب علم ہے۔ لیکن اپنے خاندان کی مدد کے لیے جز وقتی طور پر گاڑی بھی چلاتا ہے۔ وہ خود 2025 میں ایس ایس سی دہلی کانسٹیبل بھرتی کے امتحان کے پرچہ لیک ہونے سے متاثر ہوا ہے۔‘

راہل گاندھی نے کہا کہ ’ہم ساحل کے ساتھ ہیں۔ ہم جوابدہی کا مطالبہ کرنے والے ہر طالب علم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

’مودی جی، اس گناہ پر ملک کے بچوں سے معافی مانگیں، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کریں اور دھرمیندر پردھان کو فوری طور پر برطرف کریں۔‘

پیلٹ گن کیا ہے؟

کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان سورَو داس نے 20 جولائی کی رات ایک زخمی شخص کی ویڈیو ایکس پر پوسٹ کی۔

انھوں نے لکھا کہ ’دہلی پولیس کی غنڈہ گردی! پُرامن مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن استعمال کی گئی۔‘

سورَو داس کے جواب میں ڈی سی پی (نئی دہلی) نے ایکس پر لکھا کہ ’پُرامن مظاہرین کے خلاف پولیس فورس کی جانب سے پیلٹ گن کے استعمال سے متعلق اطلاعات مکمل طور پر جھوٹی اور گمراہ کن ہیں۔‘

’عام لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ غیر مصدقہ مواد پھیلانے سے گریز کریں۔ کوئی بھی چیز پوسٹ کرنے یا معلومات آگے بھیجنے سے پہلے سرکاری ذریعے سے اس کی تصدیق کریں۔‘

تاہم اب میڈیا میں ایسی خبریں ہیں کہ پیر کو جنتر منتر پر احتجاج کے دوران پیلٹ گنز استعمال کی گئیں۔ جبکہ دہلی کے ہسپتالوں میں کم از کم تین افراد زیرِ علاج ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انھیں پیلٹ گن سے زخم آئے ہیں۔

لیکن یہ پیلٹ گن کیا ہے اور اس پر اتنا تنازع کیوں ہے؟

پیلٹ گنز ان غیر جان لیوا طریقوں میں شامل ہیں جو دنیا بھر میں پولیس اور فوج مشتعل ہجوم کو قابو کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

دیگر اقدامات میں آنسو گیس، واٹر کینن، پیپر سپرے اور ٹیزر گن شامل ہیں۔

پیلٹ گن دراصل ہوا سے چلنے والا ہتھیار ہے جو دھات یا پلاسٹک کے چھوٹے ذرات فائر کرتا ہے۔

بعض صورتوں میں سکیورٹی اہلکار ہجوم کو قابو کرنے کے لیے ان کا استعمال کرتے ہیں۔

عام طور پر ان کا استعمال کھیلوں میں اور جانوروں کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

عمومی طور پر پیلٹ گن کی تین اقسام ہوتی ہیں۔

پہلی ایئر پسٹل ہے جو کہ ایک ہینڈ گن ہوتی ہے۔ یہ سپرنگ، گیس یا کاربن ڈائی آکسائیڈ استعمال کرتی ہے اور نشانہ بازی کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

دوسری قسم ایئر رائفل ہے جو لمبی نالی والی بندوقیں ہوتی ہیں۔ یہ زیادہ درست نشانہ لگاتی ہیں اور چھوٹے شکار یا دیگر کھیلوں میں استعمال ہوتی ہیں۔

اور تیسری ہجوم کو قابو کرنے والی شاٹ گن ہے۔ یہ 12 گیج پمپ ایکشن ہتھیار ہوتے ہیں جو سکیورٹی فورسز استعمال کرتی ہیں۔ ان میں چھوٹے ذرات سے بھرے کارتوس فائر کیے جاتے ہیں۔

یہ عام آتشیں اسلحے سے اس لیے مختلف ہیں کہ ان میں بارود کے دھماکے کے بجائے کمپریسڈ ایئر استعمال ہوتی ہے۔

یہ تبدیل شدہ پمپ ایکشن ہتھیار ایسے کارتوس فائر کرتے ہیں جن میں سیسے، دھات یا ربڑ کے چھوٹے پیلٹ ہوتے ہیں۔

ٹکرانے پر یہ تیزی سے بکھر جاتے ہیں اور شدید چوٹوں کا سبب بن سکتے ہیں۔

پیلٹ گن کا نشانہ بننے کی صورت میں بینائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

یہ 500 گز تک کے مختصر فاصلے پر مؤثر ہوتی ہیں لیکن بہت قریب سے چلائی جائیں تو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں، خاص طور پر آنکھ جیسے حساس اعضا متاثر ہو سکتے ہیں۔

پیلٹ جسم کے نرم ٹشو میں داخل ہو سکتے ہیں۔

انڈین ایکسپریس نے خبر دی ہے کہ سی آر پی ایف نے یہ جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دیا ہے کہ 20 جولائی کو کیا ہوا تھا۔

اس بات کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا اس کے ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) اہلکاروں نے مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن استعمال کی تھیں۔

آر اے ایف سی آر پی ایف کی ایک خصوصی یونٹ ہے جو 1992 میں فسادات سے نمٹنے کے لیے قائم کی گئی تھی۔

پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے لوگ

20 جولائی کے مظاہرے اور سکیورٹی اہلکاروں کی کارروائی کے بعد پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے تین افراد کی معلومات سامنے آئی ہیں۔

ہسپتال میں زیرِ علاج 25 سالہ ارشاد شیخ گروگرام میں کام کرتے ہیں، 19 سالہ ساحل لوچھب دہلی یونیورسٹی کے طالب علم ہیں اور تیسرے 28 سالہ شخص آؤٹ لک میگزین کے صحافی ہیں۔

دہلی پولیس نے مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن کے استعمال کی دوٹوک تردید کی ہے، لیکن پیلٹ گن اور شاک بیٹن ریپڈ ایکشن فورس کے سازوسامان کا حصہ ہیں۔

20 جولائی کو پولیس اہلکاروں کے ساتھ سی آر پی ایف کی یہ یونٹ بھی تعینات تھی اور جنتر منتر پر اب بھی ان کی موجودگی دیکھی جا سکتی ہے۔

دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق پیر کو پالیکا بازار کے قریب ارشاد آر اے ایف کے ایک اہلکار کی کارروائی سے زخمی ہوئے۔

ان کے دوست نے کہا کہ ان کے چہرے اور جسم پر تقریباً 30 سے 40 زخم آئے تھے۔

ان میں گردن سمیت چار زخم اتنے گہرے تھے کہ سرجری کی ضرورت پڑی۔

دی ہندو کی ایک اور رپورٹ کے مطابق پیلٹ گن آخری مرتبہ 2024 میں پنجاب اور ہریانہ کی سرحد پر خانوری اور شمبھو بارڈر پر کسانوں کی تحریک کے دوران استعمال کی گئی تھیں۔

اگرچہ اس وقت بھی پولیس نے پیلٹ گن کے استعمال کی تردید کی تھی، لیکن کسان رہنماؤں نے الزام لگایا تھا کہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔

2023 میں نسلی تشدد سے متاثرہ منی پور میں مظاہرین کے خلاف بھی یہ گنز استعمال کی گئی تھیں، جس کے نتیجے میں لوگوں میں شدید غصہ پیدا ہوا تھا۔

اس سے قبل 2016 میں جموں و کشمیر میں بھی پیلٹ گن استعمال کی گئی تھیں، جس سے کئی افراد شدید زخمی ہوئے تھے۔

ساحل کی حالت کیسی ہے؟

دہلی میں پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے دوسرے شخص کا نام ساحل لوچھب ہے۔

انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ایمس ٹراما سینٹر میں زیرِ علاج ساحل لوچھب کو بتایا گیا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہو سکتی ہے۔

منگل کو ان کا آپریشن کیا گیا۔

ایمس کے ایک سینئر اہلکار نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ لوچھب کے جسم کی دائیں جانب ’پیلٹ سے ہونے والی چوٹیں‘ ہیں۔

’مریض کی حالت اب مستحکم ہے اور اسے درد کم کرنے کی ادویات دی جا رہی ہیں۔ جہاں تک بینائی کا تعلق ہے تو اس وقت ان کا علاج جاری ہے اور اس مرحلے پر کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہو گا۔ انھیں بہترین ممکنہ علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔‘

دہلی یونیورسٹی کے سکول آف اوپن لرننگ کے طالب علم لوچھب نے کہا کہ وہ 20 جولائی کے احتجاج میں اس لیے شامل ہوئے کیونکہ 2024 میں دہلی پولیس بھرتی امتحان میں شرکت کے بعد وہ ’مایوس‘ تھے، جسے پرچہ لیک ہونے کے باعث منسوخ کر دیا گیا تھا۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق پیلٹ لگنے سے زخمی ہونے والا تیسرا شخص ’آؤٹ لک‘ کا ایک صحافی ہے۔

22 جولائی کی صفدر جنگ ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق وہ جنتر منتر میں پیلٹ گن حملے میں زخمی ہوئے تھے۔

رپورٹ میں ان کے دائیں بازو، سینے اور کمر پر چھوٹے زخموں کا ذکر کیا گیا اور ڈاکٹروں نے ان چوٹوں کو ’پیلٹ جیسی چوٹیں‘ قرار دیا۔