پاکستان میں پانچ سال سے زیادہ پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت: کیا صارفین کے لیے استعمال شدہ گاڑیوں کی قیمت کم ہو پائے گی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
وفاقی حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے متعلق ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے تجارتی بنیادوں پر امپورٹ کی جانے والی گاڑیوں کے لیے پانچ سال کی حد ختم کر دی ہے جس کے بعد اب پانچ سال سے زیادہ پرانی استعمال شدہ گاڑیاں بھی بیرون ممالک سے درآمد کی جا سکیں گی۔ لیکن کیا اب پرانی گاڑیوں کی قیمت میں کمی ہو گی؟
وزارتِ تجارت نے حال ہی میں ایک وضاحتی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 30 اکتوبر 2026 سے استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد پر عائد پانچ سال کی پابندی ختم کر دی گئی ہے، جس کے بعد یہ شرط مزید لاگو نہیں رہے گی۔
اس سے قبل زیادہ سے زیادہ پانچ سال تک پرانی گاڑی ہی درآمد کی جا سکتی تھی۔ وزارت تجارت نے اس پانچ سال کی پابندی کی شرط کا خاتمہ کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ، درآمدی پالیسی تقاضوں سے مشروط ہو گی اور اس حوالے سے ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات پر عملدرآمد لازمی ہو گا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں کے شعبے میں اٹھایا جانے والے اس نئے اقدام سے قبل وزیراعظم شہباز شریف ملک میں نئی آٹو پالسی کی بھی منظوری دے چکے ہیں، جس کے بعد اب اسے حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جانا ہے۔
اس نئی آٹو پالیسی میں پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری میں مسابقت کو فروغ دینے، الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنے اور ملکی سطح پر گاڑیوں کی تیاری کے شعبے کی برآمدی صلاحیت بڑھانے سمیت مختلف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
آٹو سیکٹر کے ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر پانچ سال کی پابندی ختم کرنے سے فی الحال گاڑیوں کی قیمتوں میں فوری بڑی کمی کا امکان کم ہے، تاہم خریداروں کو اتنی ہی قیمت میں مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑی کے مقابلے میں ایک بہتر، معیاری اور زیادہ آرام دہ درآمدی گاڑی دستیاب ہو سکے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف درآمدات بڑھانے کے بجائے حکومت کو ملک کے اپنی آٹو انڈسٹری کی ترقی پر بھی توجہ دینی چاہیے، جس کی مدد سے نہ صرف روزگار کے مواقع بڑھیں گے بلکہ صارفین کو بھی بہتر اور سستی گاڑیاں مل سکیں گی۔
استعمال شدہ پرانی گاڑیوں کے حوالے سے پالیسی کیا تھی اور اب کیا تبدیل ہوا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے بی بی سی اُردو کو بتایا ماضی میں بیرون ملک مقیم پاکستانی بیگیج، ٹرانسفر آف ریزیڈنس اور گفٹ سکیم کے تحت زیادہ سے زیادہ پانچ سال پرانی استعمال شدہ گاڑیاں پاکستان درآمد کر سکتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تاہم سنہ 2025 میں حکومت نے بیگیج سکیم کے تحت گاڑیوں کی درآمد پر پابندی عائد کر دی تھی، جبکہ ٹرانسفر آف ریزیڈنس اور گفٹ اسکیم کو برقرار رکھا گیا تھا۔
ایچ ایم شہزاد کے مطابق ٹرانسفر آف ریزیڈنس سکیم کے تحت گاڑیاں درآمد کرنے میں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی اکثریت مشرق وسطیٰ میں رہائش پذیر ہے، جہاں لیفٹ ہینڈ ڈرائیو ہوتی ہیں، جبکہ پاکستان میں رائٹ ہینڈ ڈرائیو والی گاڑیاں رائج ہیں اور اسی وجہ سے بہت سے پاکستانی اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے تھے۔
حکومت نے مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت دی تھی، لیکن اس کے لیے عائد کی گئی سخت شرائط کے باعث گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران عملی طور پر کوئی گاڑی درآمد نہیں ہو سکی۔
اب حکومت کی جانب سے جاری کردہ نئے نوٹیفکیشن میں کمرشل امپورٹ کے حوالے سے بعض شرائط میں نرمی کی گئی ہے اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال پرانی گاڑی درآمد کرنے کی شرط کا بھی خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
ایچ ایم شہزاد نے بتایا کہ ’نئی پالیسی میں گفٹ سکیم کے حوالے سے بھی ایک اہم شرط برقرار رکھی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان پہنچنے کے بعد اس سکیم کے تحت آنے والی گاڑی ایک سال تک کسی دوسرے شخص کے نام منتقل نہیں کی جا سکے گی۔‘
اس شعبے سے وابستہ افراد کی جانب سے حکومت سے اس پالیسی پر بھی نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اب کون سی گاڑیاں درآمد کی جا سکیں گی اور کیا استعمال شدہ درآمدی گاڑیاں سستی ہو پائیں گی؟
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے آل پاکستان کار ڈیلرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین کامران خان نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ اب اگرچہ پانچ سال سے زیادہ پرانی گاڑیاں بھی درآمد ہو سکیں گی مگر انھوں نے امپورٹرز (درآمدکندگان) کو کہا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دس سال پرانی گاڑی تک پاکستان میں امپورٹ کریں، تاکہ اس کی پری انسپکشن اور دیگر شرائط کو باآسانی پورا کیا جا سکے۔
ایچ ایم شہزاد کے مطابق نئی پالیسی کے تحت درآمد کی جانے والی گاڑی زیادہ پرانی گاڑی حادثہ زدہ یا چوری شدہ نہیں ہونی چاہیے اور اس کے علاوہ گاڑی کی درآمد سے پہلے معائنہ اور پاکستان پہنچنے کے بعد دوبارہ معائنہ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ کمرشل امپورٹ کرنے والے اداروں کے لیے انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن کے ساتھ انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ میں رجسٹریشن بھی ضروری ہو گی اور اگر کسی درآمد کنندہ کے پاس اپنی ورکشاپ اور سپیئر پارٹس کی سہولت موجود نہیں تو وہ ایسی سہولیات رکھنے والے کسی دوسرے ادارے کے ساتھ معاہدہ کر سکتا ہے۔
دوسری جانب نئی پالیسی کے باوجود کمرشل امپورٹ کے ذریعے آنے والی گاڑیوں کے فوری طور پر سستا ہونے کے امکان کو ایچ ایم شہزاد نے مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے کمرشل امپورٹ پر ریگولیٹری ڈیوٹی 50 فیصد مقرر کی ہے۔
مثال کے طور پر اگر گفٹ سکیم کے تحت کسی گاڑی پر ریگولیٹری ڈیوٹی 20 فیصد عائد ہوتی ہے تو کمرشل امپورٹ کے تحت یہی ڈیوٹی 50 فیصد ہو گی۔ اس شرح میں ہر سال 10 فیصد کمی کی جائے گی، جس کے بعد آئندہ پانچ سال کے دوران درآمدی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب کامران خان نے صارفین کے لیے سہولت پیدا ہونے کے امکان کا اظہار کیا۔
اُن کے مطابق یہ اُس صورت میں ہو گا کہ پاکستان میں بننے والی ایک چھوٹی گاڑی کی قیمت میں درآمد کی جانے والی ایک زیادہ بڑی گاڑی صارفین کو مل سکتی ہے ۔ مثال کے طور پر پاکستان میں 660 سی سی کی قیمت میں صارفین کو دس سال پرانی مگر آرام دہ بڑے انجن والی درآمد شدہ گاڑی مل سکتی ہے ۔
نئی پالیسی سے کس کو فائدہ ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہReuters
گاڑیوں کی تجارتی بنیاد پر درآمد کی پالیسی سے کیا صرف امپورٹرز کو فائدہ ہو گا یا عام صارفین کو بھی اس سے کوئی فائدہ حاصل ہو گا؟
اس بارے میں کامران خان نے کہا امپورٹرز کا ایک کاروبار ہے اور وہ بھی پیسا کمانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا ’بے شک امپورٹرز بھی اس سے فائدہ اٹھائیں گے تاہم صارفین بھی اس سے فائدے میں رہیں گے کہ انھیں بہتراور آرام دہ مگر قدرے پرانی درآمدی گاڑی حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔‘
پاکستان میں آٹو سیکٹر شعبے کے ماہر مشہود علی خان کے مطابق حکومت کا خیال ہے کہ آٹو موبائل سیکٹر میں مسابقت بڑھنے سے صارفین کو مناسب اور کم قیمت پر گاڑیاں دستیاب ہوں گی، تاہم اس پالیسی کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے تحفظات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان میں اس وقت پہلے ہی گاڑیوں کے متعدد ماڈلز اور اقسام دستیاب ہیں، جبکہ بہت سی اصل سازوسامان تیار کرنے والی کمپنیاں (او ای ایمز) مقامی سطح پر گاڑیاں اسمبل کر رہی ہیں۔
اور اگر ان حالات میں استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں کی عمر کی حد میں مزید اضافہ کیا جاتا ہے تو پاکستانی صارفین کو گاڑیوں کے مزید ماڈلز اور اقسام دستیاب ہوں گی، اور اس کے نتیجے میں زیادہ گاڑیاں مارکیٹ میں دستیاب ہوں گی۔
مشہود کا کہنا ہے کہ ’مجوزہ پالیسی میں مارکیٹ کی مجموعی گنجائش یا درآمدی گاڑیوں کی تعداد کو محدود کرنے کا کوئی واضح طریقہ کار نظر نہیں آتا۔ اس صورتحال میں مارکیٹ میں گاڑیوں کی ضرورت سے زیادہ فراہمی پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جس سے مقامی اسمبلرز اور استعمال شدہ گاڑیوں کے درآمد کنندگان دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔‘
اس پالیسی کا ایک اہم پہلو گاڑیوں کی فروخت کے بعد فراہم کی جانے والی سہولیات بھی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر مختلف اقسام اور ماڈلز کی گاڑیاں بڑی تعداد میں پاکستان آتی ہیں تو مستقبل میں اُن کے سپیئر پارٹس کی دستیابی اور مرمت کی سہولیات ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہیں۔‘
ان کے مطابق ’تین سال بعد صارفین کو گاڑیوں کی سروسنگ، مرمت اور پرزہ جات کی تبدیلی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بعض گاڑیوں کے سپیئر پارٹس مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہوں گے، جبکہ کچھ کے پرزے انتہائی مہنگے داموں ملنے کا خدشہ ہے۔‘




















