آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز ڈوبنے کے بعد ’تیرتے آئی فونز‘ اور حکام کی وارننگ

Ship
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

آبنائے ہرمز میں ایک کنٹینر بردار جہاز کے ڈوبنے اور اس کے سامان کے سمندر میں گر جانے کے بعد ایران کی سائبر پولیس (فتا) نے ’سمندری آئی فون‘ کی فروخت کے نام پر ممکنہ دھوکہ دہی کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

ایرانی پولیس کی یہ وارننگ ان تصاویر کے منظرعام پر آنے کے بعد جاری کی گئی جن میں ایک گروہ کو سنگاپور کے پرچم تلے رجسٹرڈ ایک کنٹینر بردار جہاز کے ڈوبنے کے بعد اس کا سامان پانی سے جمع کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس جہاز کے سامان میں ’آئی فون 18 سمیت پرتعیش اشیا‘ موجود تھیں۔

اس کے بعد آن لائن خرید و فروخت کے پلیٹ فارمز پر مارکیٹ کی قیمت سے کم نرخوں پر نام نہاد ’سمندری آئی فون‘ فروخت کرنے کے اشتہارات بھی سامنے آنے لگے۔

بی بی سی فارسی کے فیکٹ چیکنگ یونٹ نے رپورٹ شائع ہونے تک آئی فون 18 سے متعلق شائع ہونے والی کسی بھی تصویر کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

جائزوں کے مطابق ان میں سے بہت سی تصاویر مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنائی یا تبدیل کی گئی ہیں۔

فتا پولیس نے کہا ہے کہ اگرچہ ممکن ہے کہ ’مارکیٹ میں پیش کیے جانے والے بعض آئی فون واقعی موجود ہوں،‘ لیکن سمندر کے نمکین پانی اور شدید نمی سے رابطے میں آنے کے باعث اس کے اندرونی پرزوں میں زنگ لگ سکتا ہے۔

الیکٹرانک بورڈز، بیٹری اور ڈسپلے کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور فون کی کارکردگی میں پوشیدہ خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ مسائل خریداری کے کچھ عرصے بعد ظاہر ہو سکتے ہیں اور خریداروں کو مالی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

social media
،تصویر کا کیپشنمصنوعی ذہانت سے تیار یا تبدیل کی گئی تصاویر کو مجموعی طور پر ایک کروڑ سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سنگا پور میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی نے اس سے قبل کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ’جی ایف ایس پرائیڈ‘ نامی کنٹینر بردار جہاز ایک میزائل نما شے سے ٹکرانے کے بعد آگ لگنے سے ڈوب گیا ہے۔

ادارے کے مطابق جہاز کے تمام 21 ارکانِ عملہ کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔

ایرانی بحریہ نے بھی کہا تھا کہ ’خلاف ورزی کرنے والا ایک کنٹینر بردار جہاز‘ آبنائے ہرمز میں ایک بحری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آیا اور ’ڈوب گیا۔‘

سنگا پور میں میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی کے مطابق ’جی ایف ایس‘ نامی ایک اور جہاز جو سنگا پور کے پرچم تلے رجسٹرد تھا، 12 اکتوبر کو ایک نامعلوم میزائل نما شے کا نشانہ بنا اور اس کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا، تاہم وہ محفوظ مقام تک پہنچنے میں کامیاب رہا اور اس کے تمام 22 ارکانِ عملہ بھی محفوظ رہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھی جی ایف ایس پرائیڈ کے ڈوبنے اور اس کے عملے کے بچائے جانے کی خبر دی تھی۔

تاہم حادثے کی وجہ کے بارے میں مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے کہا تھا کہ ایک ’خلاف ورزی کرنے والا کنٹینر بردار جہاز‘ ایک ایسے راستے میں داخل ہونے کے بعد، جسے اس نے غیر مجاز قرار دیا، بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا اور آبنائے ہرمز میں آگ لگنے کے بعد ’ڈوب گیا۔‘

’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ نے بھی متضاد بیانات کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا تھا کہ رپورٹ شائع ہونے کے وقت یہ واضح نہیں تھا کہ آیا ایران جس جہاز کا ذکر کر رہا تھا وہی سنگاپور کا ڈوبا ہوا جہاز تھا یا نہیں۔

اگرچہ جہاز کے ڈوبنے اور عملے کے بچائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں اور سنگاپور میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی نے جہاز کے ڈوبنے اور تمام 21 ارکانِ عملہ کے بچائے جانے کی تصدیق بھی کی ہے۔ تاہم جانچی گئی رپورٹس میں کارگو کی مکمل تفصیلات شائع نہیں کی گئیں، جن سے یہ معلوم ہو سکے کہ جہاز میں کس قسم کا سامان موجود تھا۔

حادثے کے بعد پانی میں تیرتے ہوئے کنٹینرز اور دیگر سامان، اور انھیں جمع کرنے والے افراد کی تصاویر شائع ہوئیں۔

ان تصاویر پر سوشل میڈیا میں وسیع ردِعمل سامنے آیا، لیکن یہ واضح نہیں کہ ان ویڈیوز میں نظر آنے والی تصاویر یا اشیا واقعی ’جی ایف ایس پرائیڈ‘ سے تعلق رکھتی تھیں یا نہیں اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ فون کس ماڈل کے تھے۔

اسی طرح اب تک اس ڈوبے ہوئے جہاز کے کارگو کی کوئی معتبر دستاویز شائع نہیں کی گئی، جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ جہاز میں کیا سامان موجود تھا۔

ادھر عمان کی وزارتِ ٹرانسپورٹ، مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ماہی گیروں اور دیگر افراد کو خبردار کیا ہے کہ وہ مسندم صوبے کے قریب پانیوں میں تیرتے ہوئے کنٹینرز کے قریب نہ جائیں کیونکہ ان میں سے بعض میں خطرناک مواد موجود ہو سکتا ہے۔

یہ وارننگ ظاہر کرتی ہے کہ سمندر سے سامان جمع کرنا، ملکیت اور جہاز رانی کی سلامتی سے متعلق مسائل کے علاوہ افراد کے لیے خطرات بھی پیدا کر سکتا ہے۔

Strait of hormuz

’سمندری آئی فونز؛‘ سوشل میڈیا پر ردِعمل

ان رپورٹس کی اشاعت کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ردِعمل کی ایک لہر بھی دیکھنے میں آئی۔

کچھ صارفین نے ’مچھلی کے بجائے آئی فون کا شکار‘ ہونے کی بات کی، جبکہ بعض دیگر نے کارگو کی حقیقت پر شک کا اظہار کیا۔

اس کے برعکس کچھ افراد نے ڈوبے ہوئے جہاز سے سامان اٹھانے کے اخلاقی اور قانونی پہلوؤں کی طرف توجہ دلائی۔

اسی دوران ’دیوار‘ جیسے آن لائن فروخت کے پلیٹ فارمز پر متعدد اشتہارات نظر آئے۔

کچھ فروخت کنندگان آئی فون 18 کی تصاویر استعمال کرتے ہوئے، جسے وہ ’سمندری آئی فون‘ کہتے ہیں، ان مہنگے فونز کی فروخت کی پیشکش کر رہے ہیں۔

ان میں سے بعض اشتہارات دیوار کی ویب سائٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں۔

اس حوالے سے فتا پولیس کے سماجی اور ثقافتی امور کے نائب سربراہ جواد مختاررضایی نے خبر رساں ادارے تسنیم سے گفتگو میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’دھوکہ باز سستی اشیا خریدنے کی عوامی خواہش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی اشتہارات شائع کرتے ہیں۔ وہ بیعانہ، ترسیل کے اخراجات یا پیشگی ادائیگی کے نام پر رقم وصول کرتے ہیں اور پھر خریدار سے رابطہ منقطع کر دیتے ہیں۔‘