سعودی عرب اور حوثی ایک دوسرے کے خلاف کون سے ہتھیار استعمال کر رہے ہیں؟

- مصنف, لميس الطالبي، أحمد منعم، دلال جبرائيل، مارک ایليسن
- عہدہ, بی بی سی فیکٹ چیک
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
یمن کی حوثی تحریک انصار اللہ اور سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور لڑاکا طیاروں کا استعمال دیکھا جا رہا ہے۔
بی بی سی کی فیکٹ چیکنگ ٹیم نے تنازعات کی نگرانی کرنے والی تنظیم ’ایکلڈ‘ (ACLED) کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کشیدگی میں اضافے کے بعد ریکارڈ کی جانے والی کارروائیوں میں کن ہتھیاروں کا زیادہ استعمال ہوا۔
ان ہتھیاروں میں دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ مار کرنے والے بیلسٹک میزائل، حملوں اور نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے ڈرونز، اور امریکہ و یورپ میں تیار کردہ لڑاکا طیارے شامل ہیں۔
حوثی کون سے ہتھیار استعمال کر رہے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہمكتب الإعلام الحربي للحوثيين
حوثیوں کے اسلحہ خانے میں درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے متعدد بیلسٹک میزائل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے پاس ایسے ڈرونز بھی موجود ہیں جو نگرانی اور حملوں دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
ان میزائلوں اور ڈرونز کی صلاحیتیں، مثلاً ان کی مار، رفتار اور ہتھیار لے جانے کی صلاحیت، ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
تحقیقی رپورٹس، جن میں امریکی تحقیقاتی ادارے سینچری فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ بھی شامل ہے، کے مطابق حوثیوں کے زیرِ استعمال بعض جدید میزائل اور ڈرون ایرانی ڈیزائن پر مبنی ہیں۔ یہ مقامی سطح پر ایسے پرزوں کو جوڑ کر تیار کیے جاتے ہیں جن میں کچھ ایران جبکہ دیگر مختلف ممالک سے حاصل کیے جاتے ہیں۔
تاہم ایران حوثیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے الزام کی تردید کرتا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ محض حوثیوں کی سیاسی حمایت کرتا ہے۔

حوثیوں کے اسلحہ خانے میں شامل نمایاں بیلسٹک میزائلوں میں ’فلسطین 2‘ بھی شامل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ تقریباً 2,150 کلومیٹر کے فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کی رفتار تقریباً 19 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس دعوے کی بنیاد پر حوثی اسے ہائپرسانک (آواز سے کئی گنا زیادہ رفتار سے اڑنے والا) میزائل قرار دیتے ہیں۔ یہ تقریباً 500 کلوگرام دھماکا خیز مواد لے جا سکتا ہے۔ اس میزائل پر فلسطین کا نام، اس کا نقشہ اور فلسطینی کوفیہ کی علامت بھی بنائی گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی صلاحیتیں ایرانی ’فاتح‘ میزائلوں سے ملتی جلتی ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اگست میں یمن کے مغربی ساحل پر واقع مخا بندرگاہ کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں میں بھی اس میزائل کا استعمال کیا گیا تھا۔
حوثیوں کے زیر استعمال دیگر میزائلوں میں ’ذوالفقار‘ شامل ہے، جسے ’برکان 3‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ میزائل 1,200 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے جبکہ اس کی رفتار تقریباً چھ ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ یہ تقریباً 250 کلوگرام دھماکا خیز مواد لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ایرانی ’قیام‘ میزائل کا ایک تبدیل شدہ ورژن ہو سکتا ہے۔

امریکی ادارے ایکلڈ کے اعداد و شمار کے مطابق حوثیوں کے زیرِ استعمال ڈرونز میں ’رجوم‘ نامی قلیل فاصلے تک پرواز کرنے والا ڈرون بھی شامل ہے۔ یہ چھ پروں والا ڈرون ہے جس کی پرواز کی حد 10 سے 30 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے، جبکہ اس کی رفتار 200 سے 250 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ڈرون تقریباً چھ مارٹر گولے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ حوثیوں کے پاس نگرانی کے لیے استعمال ہونے والا ڈرون ’صماد 1‘ بھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ڈرون 500 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتا ہے اور اس کی رفتار 200 سے 250 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان ہے۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون سے وابستہ انٹیگریٹڈ آپریشنل ڈیٹا نیٹ ورک کے مطابق امکان ہے کہ حوثی اس ڈرون میں تبدیلیاں کر کے اسے دھماکہ خیز مواد لے جانے کے قابل بنا سکتے ہیں، تاکہ اسے دیگر ڈرونز کی طرح یک طرفہ حملوں کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
سعودی عرب کون سے ہتھیار استعمال کرتا ہے؟
یمن کے اندر کارروائیوں کے لیے سعودی عرب بنیادی طور پر اپنی فضائی قوت استعمال کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ امریکہ اور یورپ میں تیار کردہ لڑاکا طیاروں کے علاوہ حملہ آور ہیلی کاپٹر بھی استعمال کرتا ہے۔
ان میں سب سے نمایاں امریکی ساختہ ایف-15 لڑاکا طیارہ ہے۔ دو انجنوں والے اس طیارے کی رفتار تقریباً تین ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ یہ ایک خودکار توپ سے بھی لیس ہوتا ہے جس کے لیے 940 گولیوں تک کا ذخیرہ رکھا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سعودی عرب یوروفائٹر ٹائفون لڑاکا طیارے بھی استعمال کرتا ہے۔ یورپ میں تیار کیے جانے والے اس طیارے کی رفتار تقریباً 2495 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے اور یہ 3790 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے زمینی اہداف پر حملوں اور دیگر فوجی کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ سعودی اسلحہ خانے میں امریکی ساختہ اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں۔ آپریشنل حالات میں ان کی زیادہ سے زیادہ رفتار تقریباً 330 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے اور ان کی پرواز کی حد لگ بھگ 300 کلومیٹر ہے۔ ان ہیلی کاپٹروں کو فضا سے زمین پر مار کرنے والے زیادہ سے زیادہ 16 میزائلوں کے علاوہ ایک خودکار توپ سے بھی لیس کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے 1200 گولیوں تک کا ذخیرہ رکھا جا سکتا ہے۔
یمن میں کارروائیوں میں استعمال کیے جانے والے ڈرونز میں سکائی واسپ بھی شامل ہے، جسے ایک امریکی اور ایک سعودی کمپنی نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ اس ڈرون کی پرواز کی حد تقریباً 1500 کلومیٹر بتائی جاتی ہے، جبکہ اس کی رفتار 150 سے 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان ہے۔
’ایکلڈ‘ کے مطابق یمن میں اس ڈرون کو پہلی مرتبہ 18 ستمبر 2026 کو استعمال کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
سعودی فضائی دفاعی نظام
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں سعودی عرب نے دفاعی نظاموں پر تقریباً 83.2 ارب ڈالر خرچ کیے تھے۔ اس کے ساتھ سعودی عرب دفاعی اخراجات کے لحاظ سے دنیا میں آٹھویں اور مشرقِ وسطیٰ میں پہلے نمبر پر آتا ہے۔
ریاض اپنے دفاعی پروگرام میں مختلف ممالک کے تیار کردہ نظام استعمال کرتا ہے، تاہم امریکی ساختہ تھاڈ اور پیٹریاٹ سسٹم ان میں سب سے زیادہ نمایاں ہیں۔
اس حوالے سے کنگز کالج لندن کے شعبۂ وار سٹڈیز سے وابستہ وزٹنگ سینیئر ریسرچ فیلو نواف عبید کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے بعض حملوں کا سعودی دفاعی نظام کو عبور کر لینا اس بات کا ثبوت نہیں کہ یہ نظاموں غیر مؤثر ہیں۔
بی بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے اندازے مطابق سعودی دفاعی نظام حوثیوں کی جانب سے داغے جانے والے تقریباً 89 سے 90 فیصد میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کو تباہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ان کے مطابق تمام اہداف کو روکا نہ جا سکنے کا مطلب یہ نہیں کہ دفاعی نظام ناکام ہو گیا ہے۔
نواف عبید کا کہنا تھا کہ فضائی دفاع کو مؤثر بنانا کئی وجوہات کی بنا پر ایک پیچیدہ کام ہے۔ ان عوامل میں سعودی عرب کا وسیع جغرافیائی رقبہ بھی شامل ہے، جو ان کے بقول پورے مغربی یورپ کے رقبے کے برابر ہے۔
اس کے علاوہ سعودی عرب بھر میں توانائی کی تنصیبات، ہوائی اڈے اور دیگر اہم تزویراتی مقامات پھیلے ہوئے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایسے حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جن میں بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرونز بیک وقت استعمال کیے جاتے ہیں۔




















