نئے حملے، پاکستان کی پیچیدہ سفارت کاری اور ٹرمپ کی مشکل: امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ ہونے جا رہا ہے یا دوبارہ جنگ چھڑ سکتی ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس کے دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ وہ ایران کے ساتھ زیرِ غور معاہدے کی شرائط سے ابھی ’مطمئن نہیں‘ ہیں۔
    • مصنف, پال ایڈمز
    • عہدہ, نامہ نگار برائے سفارتی امور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

ایک جنگ بندی جو ’دھاگے سے لٹکی‘ ہے، ایک سفارتی عمل جو ’آگے بڑھ رہا ہے‘، ایک صدر جو ’مطمئن نہیں‘ اور دھماکے ہیں جن کی آواز خلیج کے اطراف گونج رہی ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کی موجودہ، الجھی ہوئی کیفیت کو کیسے سمجھا جائے؟ کیا ہم امن کے قریب ہیں یا دوبارہ جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں؟

پہلے وائٹ ہاؤس نے اطلاع دی کہ دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں نے جنگ بندی میں 60 روزہ توسیع کے ایک فریم ورک پر اتفاق کر لیا ہے تاکہ مزید بات چیت کے لیے گنجائش پیدا ہو سکے۔

اور پھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہہ دیا کہ ’ابھی معاہدہ ہوا نہیں لیکن ہم اس کے بہت قریب ہیں اور اس پر کام جاری رکھیں گے۔‘

یوں ایک ایسے ہفتے کا اختتام ہو رہا ہے جس کے دوران آٹھ اپریل سے نافذ جنگ بندی کئی بار امتحان میں پڑی۔

امریکہ نے تین دن میں دو بار ایران پر حملے کیے اور ایران نے ’جارحیت کا جواب دینے‘ کا اعلان کیا۔

اس کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ یہ بات پاسداران انقلاب نے تو نہیں بتائی کہ انھوں نے کون سے امریکی اڈے کو نشانہ بنایا، تاہم بعد میں امریکہ کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے کہا کہ کویت کے اوپر ایک بیلسٹک میزائل کو روک لیا گیا۔ یہاں امریکہ کے کئی اڈے موجود ہیں۔

تہران کی ہی زبان استعمال کرتے ہوئے سینٹکام نے اس حملے کو ’جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہ سب کچھ خطرناک محسوس ہوتا ہے، لیکن اس تنازع کے ابتدائی ساڑھے پانچ ہفتوں میں اس سے بھی شدید حملے اور جوابی حملے کیے گئے تھے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران بھر میں ہزاروں مقامات کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا، جواب میں ایران نے اسرائیل، خلیجی ممالک، اور وہاں موجود امریکی اڈوں پر ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کی بارش کی۔

جمعرات کے روز امریکہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے پانچ ایرانی ڈرونز مار گرائے ہیں جو ’آبنائے ہرمز کے اطراف خطرہ بن رہے تھے۔‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحری جہاز رانی، چاہے اس کی نوعیت تجارتی ہو یا عسکری، ایک بار پھر خدشات کا مرکز بن رہی ہے۔

تاہم ایسا معلوم نہیں ہوتا کہ فریقین میں سے کوئی بھی اس ہفتے ہونے والے حملوں اور جوابی حملوں کو جنگ کی طرف مکمل واپسی کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

اس دوران، پس منظر میں ایک پیچیدہ سفارتی عمل بھی جاری ہے جس میں متعدد فریق شامل ہیں۔ اس سفارتی عمل کی جھلکیاں ہمیں وقتاً فوقتاً ملتی ہیں، تاہم وہ جزوی اور مختصر ہوتی ہیں۔

بدھ کے روز ایرانی سرکاری میڈیا نے معاہدے کے بعض حصوں کا ذکر کیا جو اس کے مطابق 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے غیر سرکاری مسودے میں شامل ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹ میں وہ سب کچھ شامل تھا جو تہران دیکھنا چاہتا ہے: واشنگٹن کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ’ایران کے گرد و نواح‘ سے امریکی افواج کا انخلا اور آبنائے ہرمز کے ذریعے غیر فوجی آمد و رفت کی بحالی، جبکہ جہازوں کی نگرانی اور راستہ طے کرنے کا انتظام ایران اور عمان کے پاس ہو۔

اس کے جواب میں ایران کیا کرے گا اور یورینیم افزودگی روکنے کے مطالبات پر کیا طے پایا؟ رپورٹ میں اس بات کا کوئی ذکر نہ تھا۔

تہران کا ایک منظر

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

وائٹ ہاؤس نے ایک مختصر بیان جاری کر کے مبینہ مسودے کو ’مکمل من گھڑت‘ قرار دیا۔ بعد میں وائٹ ہاؤس میں کابینہ کا اجلاس ہوا جس کی کارروائی ٹیلی وژن پر بھی نشر کی گئی۔ اس میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ کسی معاہدے کی تجاویز سے ابھی مطمئن نہیں ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ’ہمیں وہ چیزیں دینا شروع کر دی ہیں جو اسے دینی چاہییں۔‘ انھوں نے مزید وضاحت نہیں کی اور خبردار کیا کہ اگر تہران تعمیل میں ناکام رہا تو دوبارہ جنگ شروع ہو جائے گی۔

انھوں نے کہا: ’اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو میرے بائیں طرف بیٹھا شخص انھیں ختم کر دے گا،‘ یہ کہتے ہوئے امریکی صدر وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی طرف مڑے۔

بے صبری کی نمایاں علامات بھی سامنے آئیں۔ جب ان اطلاعات کے بارے میں پوچھا گیا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں تو ٹرمپ نے ایک روایتی امریکی اتحادی کے لیے سخت تنبیہی الفاظ استعمال کیے۔

انھوں نے کہا: ’عمان بھی سب کی طرح برتاؤ کرے گا، ورنہ ہمیں انھیں تباہ کرنا پڑے گا۔‘

اس دوران امریکی وزارت خزانہ نے بدھ کے روز ایران کی نئی قائم کردہ ’آبنائے خلیج فارس اتھارٹی‘ پر پابندیاں عائد کیں، جو تہران نے آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی نگرانی کے لیے قائم کی ہے۔

غیر ملکی اثاثہ جات کو کنٹرول کرنے والے وزارت خزانہ کے دفتر (او ایف اے سی) نے اس منصوبے کو ’ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کی مہم سے مالی فائدہ اٹھانے کی پاسداران انقلاب کی نئی کوشش‘ قرار دیا۔

ہمیشہ کی طرح، ٹرمپ نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جنگ منصوبے کے مطابق چل رہی ہے اور اس تاثر کو مسترد کیا کہ انھیں تیل کی منڈیوں میں مزید اتار چڑھاؤ یا نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں سیاسی ردعمل سے بچنے کے لیے جلدی معاہدہ کرنے کی ضرورت ہے۔

لیکن یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ وہ ایک مشکل صورتحال میں ہیں۔

ایک قابلِ اطمینان معاہدہ ابھی تک دسترس میں نہیں ہے اور ان کی اپنی جماعت میں بھی کچھ عناصر چاہیں گے کہ کام مکمل کرنے کے لیے دوبارہ جنگ کا راستہ اختیار کیا جائے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا تو ذکر ہی نہیں کرتے۔

اسی طرح کا دباؤ تہران میں بھی موجود ہے، جہاں ملک کے کچھ سخت گیر حلقے زیادہ سے زیادہ اہداف حاصل کرنے پر زور دے رہے ہیں اور یہ دلیل دے رہے ہیں کہ ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ اسے زیر نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان کی قیادت میں جاری سفارتی کوشش نہایت پیچیدہ ہے۔

پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

وہ مسائل جو دونوں فریقوں کو تقسیم کرتے ہیں، نہایت گہرے ہیں: ایران کا جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز کے مستقبل کا انتظام، پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد اثاثوں کی بحالی۔

فوری ہدف ایک ایسی مفاہمتی یاد داشت ہے جو جنگ کا خاتمہ کرے اور بعد میں ہونے والے پیچیدہ سفارتی مذاکرات کے لیے ایک راستہ متعین کرے۔ اس ہدف کا حصول مشکل ثابت ہوا ہے۔

بدھ کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ آنے والے گھنٹے یا دن بتائیں گے کہ آیا پیش رفت ممکن ہے۔

دونوں جانب اندرونی دباؤ اور خلیج کے اندر و اطراف کی کشیدہ ماحول کے باوجود، لگتا ہے ایران اور امریکہ دونوں ہی کو دوبارہ جنگ میں دلچسپی نہیں۔

جنگ بندی کو سات ہفتوں سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے اور تمام تر ظاہری صورتحال کے باوجود یہ ابھی تک برقرار ہے۔