آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ماہرہ خان کے لیے ’اللہ کا پلان‘: کیا 35 سال کی عمر کے بعد ماں بننا مشکل ہو جاتا ہے؟
پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے اپنے حاملہ ہونے کی خبر سوشل میڈیا پر اِن الفاظ کے ساتھ شیئر کی ہے کہ ’ہم منصوبے بناتے ہیں اور پھر ایک منصوبہ اللہ کا ہوتا ہے۔‘
ان مختصر الفاظ کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’انسٹاگرام‘ پر انھوں نے اپنی ایک تصویر شیئر کی جس میں وہ سفید رنگ کے ڈھیلے ڈھالے لباس میں ملبوس ہیں اور اپنے اُبھرتے ہوئے پیٹ پر ہاتھ رکھے نظر آ رہی ہیں۔
41 سالہ ماہرہ خان نے یہ خبر اپنے مداحوں کے ساتھ ایسے وقت میں شیئر کی ہے جب وہ پہلی بار ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (ٹی آئی ایف ایف) میں شریک ہیں۔
ان کی جانب سے یہ پوسٹ شیئر کرنے کے بعد شوبز اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والوں اور اُن کے مداحوں کی جانب سے تہنیتی پیغامات سامنے آ رہے ہیں۔
پاکستانی اداکارہ صبور علی نے ان کی پوسٹ پر کمنٹ کیا کہ ’اللہ کا بنایا ہوا منصوبہ وہ ہوتا ہے، جو ہمیں آخر میں سب سے زیادہ پسند آتا ہے۔‘
شاید ہی کوئی پاکستانی فنکار ایسا رہا ہو جس نے ماہرہ خان کو اس خبر پر مبارکباد نہ دی ہو۔
ماہرہ خان نے سنہ 2023 میں ایک کاروباری شخصیت سے دوسری شادی کی تھی۔ اُن کا پہلی شادی سے ایک بیٹا ہے۔
انسٹاگرام پر ماہرہ خان کے کئی مداحوں اور ساتھی فنکاروں نے اُن کی تصویر کو اب تک کی ’سیلبریٹی پریگنیسنی‘ تصاویر میں سب سے ’باوقار‘ تصویر قرار دیا، جبکہ اُن کے حاملہ ہونے کی خبر کو پاکستان اور انڈیا کے متعدد ذرائع ابلاغ نے کوریج دی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ماہرہ خان کی چند حالیہ تقریبات میں شرکت کی ایسی ویڈیوز بھی وائرل ہو رہی ہیں، جہاں وہ حاملہ نظر آتی ہیں۔
’ماں بننا چالیس سال کی عمر میں بھی ممکن ہے‘
ایک طرف تو مبارکبادیں ہیں لیکن دوسری طرف سوشل میڈیا اور خواتین کے گروپس میں یہ بات بھی زیر بحث ہے کہ اس عمر میں ماں بننا کتنا محفوظ ہوتا ہے؟
کچھ صارفین اس خبر کو اُس عمومی رویے کے خلاف ایک دلیل قرار دے رہے کہ 30 سال سے زیادہ کی عمر میں کسی عورت کے لیے بچے پیدا کرنا نسبتاً مشکل ہوتا ہے، کیونکہ اس عمر کے بعد تولیدی صلاحیت کم ہو سکتی ہے۔
ایک صارف نے لکھا ’دیسی مرد اور ان کے خاندان اکثر تیس کی دہائی میں موجود خواتین کو ’زیادہ عمر‘ قرار دے کر مسترد کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے ’بیالوجیکل کلاک‘ (حیاتیاتی گھڑی) کی دلیل استعمال کرتے ہیں۔ ماہرہ خان کی حمل کی خبر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ماں بننا چالیس سال کی عمر میں بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ صحیح ساتھی کے ساتھ، جب آپ خود کو تیار محسوس کریں، تب شادی کریں۔‘
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ماہرہ خان کے لیے اس عمر میں ماں بننا اس لیے بھی آسان ہے کہ وہ طبی پیچیدگیوں سے نمٹنے یا صحت کوبہت بنانے کے اخراجات اٹھا سکتی ہے۔
توکین نامی صارف نے ایکس پر لکھا ’وہ موجودہ دور میں ایک استثنائی مثال ہیں، کیونکہ وہ طویل عرصے تک ادویات اور غذائی ضروریات کے اخراجات برداشت کرنے اور انھیں برقرار رکھنے کی استطاعت رکھتی ہیں۔ براہِ کرم ان کی مثال کو اس بڑی آبادی پر لاگو نہ کریں جو محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے اور معیاری ادویات تک رسائی یا ان کے اخراجات برداشت کرنے کی مالی استطاعت نہیں رکھتی۔‘
حجاب نامی صارف نے لکھا ’ماہرہ نے اپنے پہلے بچے کو اپنی بیس کی دہائی میں جنم دیا تھا، پھر ایک سنگل ماں کے طور پر اس کی پرورش کی، پاکستان کی سپر سٹار بنیں، بین الاقوامی شہرت حاصل کی اور بے پناہ کامیابی سمیٹیں۔ بعد ازاں انھیں اپنی حقیقی محبت ملی اور چالیس کی دہائی میں حاملہ ہو کر انھوں نے بہت سے روایتی تصورات کو غلط ثابت کر دیا۔‘
40 برس کے بعد حاملہ ہونے کے حوالے سے ممکنہ خدشات کا اطہار کرنے والوں میں ایک ڈاکٹر سعدیہ نامی صارف بھی تھیں۔
ان کا کہنا تھا ماہرہ خان نے اپنی حمل کی خبر کا اعلان کر دیا ہے۔ ’چالیس کی دہائی میں حمل کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی آتے ہیں۔ جسمانی کمزوری، عمر کے ساتھ جسم میں آنے والی تبدیلیوں اور ہڈیوں کی کثافت میں کمی کے باعث تھکن محسوس ہونا، ایک متوقع بات ہے۔ تاہم، ایک اچھی اور صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ ایک عورت اس مرحلے کو بخوبی طے کر سکتی ہے۔ اُن کے لیے نیک تمنائیں۔‘
کیا واقعی 40 سال کے بعد حمل مشکل ہوتا ہے؟
یاد رہے کہ لگ بھگ ایک سال قبل، یعنی ستمبر 2025 میں 42 سالہ انڈین اداکارہ کترینہ کیف نے اپنے حاملہ ہونے کی خبر سنائی تھی۔
یہ خبر سامنے آنے کے بعد بھی بڑی عمر میں حمل سے متعلق پیچیدگیوں اور متعلقہ معاملات پر کافی بحث ہوئی تھی۔بی بی سی ہندی کے لیے سمندیپ کور نے اس معاملے پر ماہر ڈاکٹروں سے بات کی تھی۔
اس بارے میں ماہرین کا کہنا تھا کہ اگرچہ عمر سے جُڑے خطرات کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن بروقت سکریننگ اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانے سے اس ضمن میں درپیش پیچیدگیوں کو کم بھی کیا جا سکتا ہے اور ان سے بچا بھی جا سکتا ہے۔
بی بی سی کی اس رپورٹ کے لیے ڈاکٹر ایس این باسو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بڑی عمر میں حمل سے متعلق خطرات ابتدائی اور قبل از پیدائش نگہداشت، بلڈ پریشر اور شوگر کی نگرانی، صحت مند وزن کو برقرار رکھنے، قبل از پیدائش وٹامنز (خصوصاً فولک ایسڈ) لینے اور سگریٹ یا الکحل سے پرہیز کے ذریعے قابو میں رکھے جا سکتے ہیں۔‘
ڈاکٹر باسو کا کہنا تھا کہ ’صحت مند طرزِ زندگی کی مدد سے تولیدی نظام کو بہتر رکھا جا سکتا ہے۔‘
اس عمر میں حمل کو محفوظ رکھنے کے لیے انھوں نے ایسی متوازن غذائیں تجویز کیں جن میں پروٹین، ہول گرینز، پھل، سبزیاں اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز شامل ہوں اور ساتھ ہی انھوں نے غیر پیسچرائزڈ پنیر، کچا سی فوڈ، زیادہ کیفین اور پراسیسڈ فوڈ سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا۔
ڈاکٹر باسو کے مطابق '40 سال کے بعد بچے پیدا کرنے کی صلاحیت تیزی سے کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اوسطاً 40 سال کی عمر میں ہر حیض کے دوران قدرتی طور پر حاملہ ہونے کے امکانات صرف 5 فیصد رہ جاتے ہیں اور اس کے بعد یہ مزید کم ہوتے جاتے ہیں۔'
ڈاکٹر شوانی بھی اس بات سے اتفاق کرتی ہیں اور اُن کا کہنا تھا کہ 'اووریئن ریزرو ٹیسٹ، جسے سیرم اے ایم ایچ یعنی 'اینٹی مولیرین ہارمون' ٹیسٹ بھی کہا جاتا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب بھی یہ ٹیسٹ 40 سال کے بعد کیا جائے تو اس کی مقدار عام حد سے نمایاں طور پر کم ہوتی ہے اور جسم مینوپاز کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔ یہ ٹیسٹ خواتین میں انڈوں کے معیار کو جانچنے کے لیے کیا جاتا ہے۔'
ڈاکٹر شوانی کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ سب کچھ طرزِ زندگی پر بھی منحصر ہے۔ بعض اوقات 30 کی دہائی میں بھی اے ایم ایچ کی مقدار بہت کم ہو سکتی ہے اور بعض اوقات 40 کی دہائی میں بھی یہ بہتر رہ سکتی ہے۔‘
مدد لینے کے حوالے سے ڈاکٹر باسو تجویز کرتی ہیں کہ 'اگر آپ کی عمر 40 سال یا اس سے زیادہ ہے اور آپ نے 6 ماہ تک کوشش کے باوجود حمل نہیں ٹھہرا تو فوراً کسی فَرٹیلیٹی سپیشلسٹ سے رجوع کریں۔'
ڈاکٹر شوانی کا کہنا تھا کہ اگر آپ اپنی 40 کی دہائی میں ماں بننا چاہتی ہیں تو آپ کو اپنے تمام میڈیکل ٹیسٹ کروانے چاہییں۔ ان میں مکمل خون کا ٹیسٹ، کے ایف ٹی یعنی گردوں کا ٹیسٹ، ایل ایف ٹی یعنی جگر کا ٹیسٹ، بلڈ شوگر، تھائیرائیڈ ٹیسٹ، سیرم اے ایم ایچ یعنی انڈوں کا معیار جانچنے کے لیے ہونے والا ٹیسٹ، بچہ دانی اور بیضہ دانی کا الٹراساؤنڈ شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق سائنسی ترقی کی بدولت آج بہت سی ممکنہ مشکلات کا پہلے ہی پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف ٹیسٹ اور سکریننگ کی سہولیات موجود ہیں۔
30 سال کے بعد حاملہ ہونا مشکل کیوں ہوتا ہے؟
عورتوں کی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت سے متعلق بی بی سی اُردو کی 2021 کی ایک رپورٹ کے مطابق اس ضمن میں زیادہ تر ذکر ڈیوڈ ڈنسن کی تحقیق کا کیا جاتا ہے جو سنہ 2004 میں شائع کی گئی تھی۔ ڈنسن تحقیق سے جو نتیجہ سامنے آیا تھا وہ یہ تھا کہ تولیدی صلاحیت عمر کے ساتھ کم ہوتی ہے لیکن اُس رفتار سے نہیں جو ہم سمجھتے رہے ہیں۔
اس تحقیق کے مطابق 27 سے 34 سال کی عمر کی خواتین میں 82 فیصد کے حاملہ ہونے کا تناسب 35 سے 39 سال کی عمر کی خواتین میں 82 فیصد کے تناسب سے کچھ ہی زیادہ ہے۔
لیکن خواتین میں یہ کمی اصل میں کب شروع ہوتی ہے؟ اور اس کمی کی وجہ سے بچہ پیدا کرنے کی فطری صلاحیت ختم کب ہوتی ہے؟
کئی دہائیوں سے سائنسدانوں کا یہ کہنا رہا ہے کہ عمر کے ساتھ ساتھ خواتین میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کی کمی کی وجہ بیضہ دانی میں موجود بیضوں میں وقت کے ساتھ پیش آنے والی کمی ہوتی ہے۔ ہر بیضے میں ایک بچہ بننے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
مردوں کے برعکس، جن کے تولیدی اعضا ہر دن کروڑوں کی تعداد میں تازہ سپرم پیدا کرتے ہیں، عورتیں اپنے تمام بیضوں کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں۔ یہ ہی نہیں عمر کے ساتھ ساتھ یہ تعداد مسلسل کم ہوتی جاتی ہے: پیدائش کے وقت یہ تعداد 10 لاکھ ہوتی ہے، تاہم نو عمری تک پہنچتے پہنچتے تین لاکھ، 37 سال کی عمر تک 25,000 اور 51 سال کی عمر تک یہ تعداد گھٹ کر 1,000 رہ جاتی ہے۔
یہاں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ان سب بیضوں میں سے صرف تین سے چار سو ہی آخر کار بیضہ دانی سے نکل کر باہر آتے ہیں۔ عام طور پر ہر ماہ ایک بیضہ خارج ہوتا ہے۔ باقی تمام بیضے قدرتی طور پر ضائع ہو جاتے ہیں اور کبھی بیضہ دانی سے خارج ہی نہیں ہوتے۔ اس کے پیچھے کی وجوہات واضح نہیں ہیں۔
زیادہ تر لڑکیوں میں نو سے 13 برس کی عمر میں حیض آنا شروع ہو جاتا ہے، لیکن ان کی بیضہ دانیاں اگلے ایک دو سال بعد ہی بیضے خارج کرنا شروع کرتی ہیں۔
یعنی اگر حساب لگایا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ ایک عورت کے بیضے، اوسطاً 33 سال میں ختم ہو جائیں گے۔ اور زیادہ تر خواتین میں ایسا ہی ہوتا ہے، یعنی ماہواری کے بند ہونے سے تقریباً آٹھ سال پہلے بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت میں واضح کمی واقع ہوتی ہے۔
فیمیل فرٹِلِٹی یا خواتین میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت میں اہم صرف بیضوں کی تعداد ہی نہیں۔ کوالٹی، یا ان بیضوں کا معیار بھی اہم ہے اور تکنیکی طور پر اس کا اندازہ لگانا تعداد کا اندازہ لگانے سے زیادہ مشکل ہے۔ عمر کے ساتھ ساتھ بیضوں کی تعداد کے علاوہ ہر بیضے میں موجود کروموزومز اور ڈی این اے کا میعار بھی متاثر ہوتا ہے۔
بیس سے 30 سال کی عمر تک خواتین کے 25 فیصد بیضوں میں اس طرح کے کروموزومل نقص ہو سکتے ہیں، تیس سے 35 سال کی عمر آتے آتے یہ شرح بڑھ کر 40 فیصد ہو جاتی ہے اور اس کے بعد یہ بہت ہی تیزی سے بڑھتی ہے۔
پینتیس سال کی عمر کے بعد اس طرح کے بیضوں کی تعداد میں ہر ماہ 0.5 فیصد اضافہ ہوتا ہے، یعنی 40 سال سے زیادہ عمر کی عورت کے تین چوتھائی بیضوں میں کروموزومل نقوص ہوتے ہیں۔
اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ یہ خواتین بانجھ ہیں، ہاں یہ بات ضرور سچ ہے کہ ان کے زیادہ تر بیضوں سے ایک قابل عمل حمل نہیں ٹھہر سکتا۔
یہاں یہ واضح کرنا بھی اہم ہے کہ ایسا صرف خواتین کے ساتھ ہی نہیں ہوتا۔ تحقیق کے مطابق مردوں میں سپرم کا میعار بھی 20 سال کی عمر سے ہی کم ہوتا جاتا ہے۔ سپرم موٹلِٹی، یعنی سپرم کی تیرنے کی صلاحیت ہر سال 0.7 فصد کم ہوتی ہے، اور بڑی عمر کے مردوں کے ڈی این اے میں تبدیلیاں بھی دیکھی گئی ہیں۔ بڑی عمر کے مردوں سے ماؤں کے مقابلے میں زیادہ تغیرات بچوں کو منتقل ہوتے ہیں۔
عمر کے ساتھ ساتھ خواتین کو صرف بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت سے متعلق ہی چیلینجز کا سامنا نہیں کرنا پڑتا بلکہ حمل اور پیدائش کے دوران پیش آنے والے خطرات میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق 40 برس سے زیادہ کی خواتین حمل کے دوران صحت کے مسائل جیسے کہ شوگر اور بلڈ پریشر سے دو سے تین گنا زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پیدائش کے دوران آنول نال سے خون بہنے، ان کے بچے کی پیدائش آپریشن کے ذریعے ہونے اور حمل کے آخری مراحل میں بچہ ضائع ہونے کے خطرات دو گنا بڑھ جاتے ہیں۔
یہی نہیں، بلکہ جن خواتین کی پہلی اولاد 40 برس کے بعد پیدا ہوتی ہے، ان بچوں میں بھی مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جیسے کہ پیدائش کے وقت کم وزن، اور پیدائشی نقوص۔ ان میں وقت سے پہلے پیدا ہونے کا خطرہ بھی 50 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
کیا خواتین کے بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کے دورانیے کو بڑھایا جا سکتا ہے؟
اکثر اوقات جہاں قدرت ناانصافی کرتی ہے، سائنس اسے بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
ستمبر 2020 میں جنوبی انڈیا کی 74 سالہ ایراماٹی مانگماں ماں بننے والی دنیا کی معمر ترین خاتون بن گئیں جب اُنھوں نے اِن وٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) کے ذریعے حاملہ ہونے کے بعد جڑواں بیٹیوں کو جنم دیا۔ وہ گذشتہ 57 سال سے بانجھ تھیں۔
جبکہ 2018 سال قبل شمالی انڈیا کی دلجندر کور نے 72 سال کی عمر میں بیٹے کو جنم دیا۔
پچھلی کچھ دہائیوں میں تولیدی میڈیسن کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کی وجہ سے مصنوعی تولیدی طریقوں کی حفاظت، کامیابی، ان تک رسائی اور استعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
برطانیہ میں ہر سال 50 سال سے زیادہ عمر کی خواتین کے ہاں تقریباً 230 بچے پیدا ہوتے ہیں، اور سنہ 2014 میں امریکہ میں پہلی بار ماں بننے والی خواتین میں سے نو فیصد کی عمر 35 سال سے زیادہ تھی۔
لیکن ان جدید طریقوں کی کامیابی اب بھی کسی حد تک بیضے کی عمر پر منحصر ہوتی ہے۔ بیضے میں موجود ڈی این اے پر وقت کے ساتھ ساتھ اثر پڑتا ہی ہے، اس کے علاوہ ماحولیاتی حالات بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ’بڑی عمر کی خواتین کے لیے بچے پیدا کرنے سے متعلق مسائل بچہ دانی کے نہیں، بلکہ بیضے کے ہوتے ہیں۔‘