کسی سیاسی جماعت کو سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں: پی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ مارچ سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیر کے روز ایک شہری کی جانب پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے ممکنہ لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست پر مختصر فیصلہ سُناتے ہوئے کہا ہے کہ کسی سیاسی جماعت یا پبلک آفس ہولڈر (عوامی عہدیدار) کو سڑکیں بند کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سرکاری وسائل سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہوں۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔

شہری وقاص احمد، نے اِس مجوزہ احتجاج کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس ممکنہ احتجاج سے وفاقی دارالحکومت میں معمولاتِ زندگی، ٹریفک کی روانی اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں اور شہریوں کے آئینی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔

پیر کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس درخواست پر مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کسی سیاسی جماعت یا عوامی عہدیدار کو سڑکیں بند کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ کوئی سرکاری افسر یا اہلکار کسی سیاسی اجتماع میں زبردستی شرکت کرنے کے احکامات کو تسلیم نہ کرے اور اگر ایسا ہو تو اس ضمن میں فوری طور پر صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو آگاہ کیا جائے۔

عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ اس ضمن میں چاروں صوبوں کے چیف سکریٹریز اور آئی جیز ہیلپ لائن قائم کریں جبکہ اسلام آباد کے چیف کمشنر اور پولیس کے سربراہ کو حکم دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ شہریوں کے روزمرہ کے معاملات متاثر نہ ہوں۔

عدالت نے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی کو ہدایت بھی کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سرکاری مشینری اور فنڈز سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہوں۔

سماعت کا احوال

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے فیصلہ محفوظ کیے جانے سے قبل اس درخواست پر سماعت ہوئی۔

ایک موقع پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ اگر کوئی غیر قانونی اور غیر آئینی اجتماع ہوتا ہے تو اسے روکیں۔

کیس کی سماعت چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں قائم لارجر بینچ نے کی، جس میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس آصف بھی شامل تھے۔

سماعت کے دوران خیبر پختونخوا کے آئی جی ذوالفقار حمید اور چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کی ہدایت کے مطابق اپنے بیاناتِ حلفی جمع کرائے۔

اس سے قبل خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اپنے دلائل میں کہہ چکے ہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا دائرۂ اختیار صرف وفاقی دارالحکومت تک محدود ہے اور عدالت دیگر صوبوں کے حکام کو ہدایات جاری نہیں کر سکتی۔

اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل نوید حیات ملک نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے 2022 اور 2024 میں ہونے والے پی ٹی آئی احتجاج کی ویڈیوز عدالت میں پیش کرنے کے لیے درخواست دائر کی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ویڈیوز چلانا عدالت کی روایت نہیں، تاہم بعدازاں عدالت نے ایک مرتبہ ویڈیوز چلانے کی اجازت دے دی۔

اجازت ملنے پر پی ٹی آئی کے 2022 اور 2024 کے احتجاج کی ویڈیوز چلائی گئیں اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے مؤقف اپنایا کہ 2022 کے احتجاج میں سرکاری مشینری استعمال کی گئی، انتظامیہ کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹیں کرینوں کے ذریعے ہٹائی گئیں، اسلام آباد کے ڈی چوک میں آگ لگائی گئی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور ایک پولیس اہلکار کمال کو ہلاک کیا گیا۔

نوید حیات ملک نے مزید کہا کہ 2024 کے احتجاج میں بھی اسلام آباد میں توڑ پھوڑ، سکیورٹی اہلکاروں پر حملے، گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے اور رینجرز اہلکاروں کو گاڑی تلے کچلنے کی کوشش جیسے واقعات پیش آئے، اس لیے ان مظاہروں کو پُرامن قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق اسلام آباد میں جلسے یا ریلی کے لیے ضلعی مجسٹریٹ سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہے اور مجسٹریٹ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اجازت دینے یا مسترد کرنے کے مجاز ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کنٹینرز لگانا حکومت کا اختیار ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل نوید حیات ملک نے کہا کہ پی ٹی آئی پورے وسائل کے ساتھ اسلام آباد آنا چاہتی ہے اور ’ہمارے پاس انھیں روکنے کی صلاحیت نہیں، ہم صرف پیشگی انتظامات کر سکتے ہیں، اس ضمن میں دفعہ 144 نافذ کرسکتے ہیں اور کنٹینرز لگا سکتے ہیں۔‘

نوید حیات کا کہنا تھا کہ بطور ریاست ہم اپنے شہریوں پر گولیاں نہیں چلا سکتے، ان کی جانیں نہیں لے سکتے، اس لیے ’پانی سر سے گزرنے سے پہلے اقدامات کرنا ہوں گے۔‘

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا حکومتی نمائندوں یا وزرائے اعلیٰ کو اشتعال انگیز تقاریر کا حق حاصل ہے؟ اس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ آئین کسی شخص کو اشتعال انگیز تقریر کی اجازت نہیں دیتا۔

درخواست گزار کے وکیل اختر چھینہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے درخواست کو قبل از وقت قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئین کے تحت ان کی زندگی اور بچوں کی تعلیم بنیادی حقوق ہیں، اگر زندگی کو خطرہ ہو تو نقصان پہنچنے کے بعد عدالت سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔

درخواست گزار کے وکیل نے مزید کہا کہ غیر آئینی مطالبے کے لیے احتجاج نہیں کیا جا سکتا جبکہ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے واضح طور پر تسلیم کیا ہے کہ حکومت کے پاس لاکھوں لوگوں کو روکنے کی صلاحیت نہیں۔

عدالت نے خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیا تھا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران سرکاری مشینری استعمال نہیں ہو گی۔

سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ نے آئی جی خیبر پختونخوا کو روسٹرم پر طلب کیا اور انھیں عدالت میں جمع کرایا گیا بیان حلفی پڑھنے کی ہدایت کی۔

آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے اپنا بیان حلفی عدالت میں پڑھ کر سنایا۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ آئی جی کو صرف سرکاری مشینری کے استعمال سے روکنے کے بجائے غیرقانونی لانگ مارچ کو بھی روکنا چاہیے۔

چیف جسٹس نے آئی جی سے استفسار کیا کہ اگر کوئی غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام ہوتا ہے تو کیا وہ اسے نہیں روکیں گے؟

آئی جی خیبر پختونخوا نے جواب دیا کہ عدالت کی جانب سے دی گئی ہدایات کے مطابق بیان حلفی جمع کرایا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کو بیان حلفی میں یہ بھی لکھنا چاہیے تھا کہ آپ غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام کو روکیں گے۔

آئی جی نے جواب دیا کہ اگر کوئی غیر قانونی کام ہوا تو اسے روکیں گے۔

چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے آئی جی خیبر پختونخوا کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی غیر قانونی اور غیر آئینی اجتماع ہوتا ہے تو اسے روکیں اور مظاہرین کو منتشر بھی کریں۔ عدالت نے درخواست پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

وفاقی آئینی عدالت میں سہیل آفریدی کی نااہلی کے لیے درخواست

پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی بطور وزیر اعلیٰ نااہلی کے لیے دائر درخواست کو باضابطہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے، صوبائی حکومت اور سہیل آفریدی کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی نااہلی سے متعلق درخواست رکنِ قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے دائر کی تھی۔

اس درخواست کی سماعت چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی اور سماعت کے دوران بینچ کے رکن جسٹس عامر فاروق نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ اس درخواست میں آئینی نکتہ کیا ہے؟ جس پر شیر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ صوبہ خیبر پختون خوا کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے استعفیٰ رضاکارانہ طور پر نہیں دیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ آئین کی منشا ہے کہ عوامی عہدیدار رضاکارانہ طور پر ہی مستعفی ہو سکتا ہے۔

شیر افضل مروت نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے لکھا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہدایت پر مستعفی ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ خیبر پختون خوا کے گورنر نے علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور نہیں کیا تھا۔

بینچ میں شامل جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دو دن بعد ایک اور استعفیٰ دیا گیا تھا اور دوسرا استعفیٰ بھی شاید منظور نہیں کیا گیا تھا۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ گورنر کا استعفیٰ منظور کرنا ضروری ہے تاکہ وزیر اعلیٰ ڈی نوٹیفائی ہو سکے۔

شیر افضل مروت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پارٹی صدارت کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ نااہل شخص پراکسی کے ذریعے ریاست نہیں چلا سکتا اور جب عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو مستعفی ہونے کی ہدایت کی تھی تو اس وقت وہ نااہل تھے۔

انھوں نے کہا کہ پراکسی کے ذریعے ریاست چلانا آئین کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ عدالت نے شیر افضل مروت کی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔