پانچ ارب ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والے انڈین بحریہ کے نئے جنگی جہازوں میں خاص کیا ہے؟

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اُردو، نئی دہلی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

انڈیا کی وزارتِ دفاع نے اپنے بحری بیڑے میں مزید آٹھ جدید جنگی بحری جہاز ’نیکسٹ جنریشن کارویٹ‘ شامل کرنے کے لیے ملک میں بحری جہاز بنانے والی دو کمپنیوں کے ساتھ پانچ ارب ڈالرز سے زائد مالیت کا معاہدہ کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بحرِ ہند میں بڑھتے ہوئے سٹریٹیجک خطرات اور انڈین نیوی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ تاہم بعض ماہرین اسے چین اور پاکستان کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات کا شاخسانہ بھی قرار دے رہے ہیں۔

انڈین وزارتِ دفاع نے یہ معاہدہ گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز (جی آر ایس ای) کولکتہ اور گوا شپ یارڈ کے ساتھ کیا ہے جن کا شمار انڈیا کی معروف سرکاری دفاعی جہاز ساز کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ یہ کمپنیاں آٹھ جدید ’نیکسٹ جنریشن کارویٹ‘ جنگی جہاز تیار کریں گی۔

درمیانی رینج اور دو سے چار ہزار ٹن کے یہ جدید تیز رفتار جنگی جہاز ملک میں بحری جہاز بنانے والی سرکاری کمپنیاں بنائیں گی۔ اسے بحر ہند خطے میں ابھرتے ہوئے نئے خطرات کا سامنا کرنے کے لیے بحریہ کی جدید کاری اور توسیعی منصوبے کے ایک قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس منصوبے کو 28 اکتوبر کو وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں ہونے والی سلامتی سے متعلق کابینہ کی کمیٹی کی ایک میٹنگ میں منظور کیا گیا تھا۔

انڈین نیوی کے مطابق اس منصوبے کے تحت پہلا جہاز سنہ 2030 تک انڈین نیوی کے بیڑے میں شامل کیے جانے کی توقع ہے۔

بحری بیڑے میں کارویٹ بحری جہازوں کے مقابلے زیادہ بڑے فریگیٹ اور ڈسٹرائر جہاز شامل ہیں۔ ان جہازوں کا استعمال سمندر میں دور دراز کے آپریشن کے لیے ہوتا ہے۔

اس میں فضائی دفاع کے لیے ریڈار اور میزائل کا نظام نصب ہوتا ہے اور یہ بحری جہازوں اور آبدوزوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان جنگی جہازوں کے ذریعے انڈین بحریہ مغرب میں گجرات سے لے کر مشرق میں کولکتہ تک انڈیا کی تقریباً سات ہزار کلومیٹر طویل ساحلی لائن پر اپنے دفاع کو مضبوط کر سکے گی۔

’کارویٹ تیز رفتار بحری جنگی جہاز ہیں‘

دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی کہتے ہیں کہ کارویٹ چھوٹے جہاز ہوتے ہیں اور ان کی رفتار بڑے بحری جہازوں کے مقابلے بہت تیز ہوتی ہے۔

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ان جہازوں پر مختلف حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہتھیار اور آلات نصب ہوتے ہیں۔

’یہ دوسرے جہازوں اور آبدوزوں کی سرگرمیوں پر بھی اپنے آلات کے ذریعے نظر رکھتے ہیں۔ اسے ساحلی علاقوں میں 200 سے 300 میل تک سمندر میں نگرانی کے لیے بہت مؤثر تصور کیا جاتا ہے۔ بحریہ کی یہ کوشش رہی ہے کہ اس طرح کے زیادہ جہاز حاصل کیے جائیں۔‘

انڈین بحریہ کے کموڈور (ر) اودے بھاسکر نے بی بی سی نیوز اُردو کو بتایا کہ نئے سمندری خطرات اور بحرِ ہند میں اپنی موجودگی کو مستحکم کرنے کے لیے ہر سال نئے جہاز اور آبدوزیں شامل کرنا ضروری ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ جدید بحری جنگی جہاز سٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس ہوں گے جس سے دُشمن کو یہ جاننے میں مشکل ہو گی کہ یہ کس نوعیت کا جہاز ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس جہاز کا ڈیزائن خود بحریہ نے تیار کیا ہے اس لیے یہ جہاز انڈیا میں خود انحصاری کے مقصد کے حصول کے لیے بھی اہم ہے۔

کموڈور (ر) اودے بھاسکر کہتے ہیں کہ انڈیا تین طرف سے سمندر سے گھرا ہوا ہے اور اس کی ’علاقائی پوزیشن بہت موزوں ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ انڈیا نے کئی برسوں تک اپنے بحری فائدے کو نظر انداز کیا ہے اور اس کی بحریہ کا بجٹ مجموعی دفاعی بجٹ کا صرف 10 سے 15 فیصد ہوتا ہے اور مودی حکومت کے تیسرے دور میں یہ بڑھ کر اب 20 فیصد تک پہنچا ہے۔

’جب تک آپ فنڈنگ نہیں دیں گے تب تک بحریہ اس معیار پر نہیں پہنچ سکتی جس کی ضرورت ہے۔ فنڈنگ کی کمی کی وجہ سے بحریہ کے بہت سے پروگرام رک گئے تھے۔‘

کموڈور (ر) اودے بھاسکر کہتے ہیں کہ بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے انڈین نیوی کا آبدوز پروگرام متاثر ہوا جبکہ انڈیا کے طیارہ بردار بحری بیڑے کے لیے جہاز حاصل کرنے میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ لہذا مناسب فنڈنگ سے انڈین نیوی کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

انڈین نیوی کے سربراہ ایڈمرل دنیش کے ترپاٹھی نے حال ہی میں بحریہ کے توسیعی پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انڈین بحریہ ہر 40 دن میں ملک میں بنا ہوا کوئی جہاز یا آبدوز اپنے بیڑے میں شامل کر رہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ بحریہ 2035 تک اپنے بحری بیڑے کی طاقت 200 جہازوں تک پہنچانے کے لیے کام کر رہی ہے اور اس وقت انڈین بحری بیڑے میں مختلف نوعیت اور ساخت کے 145 جہاز شامل ہیں۔

راہل بیدی کہتے ہیں کہ بحریہ نے ملک کے اندر جہاز بنانے کی صلاحیت میں خاصی کامیابی حاصل کی ہے۔

اُن کے بقول یہ خود انحصاری کے معاملے پر انڈیا کی بری اور فضائی فوج سے آگے ہے۔

’حالیہ مہینوں میں بحریہ نے تقریباً ہر مہینے ایک جہاز سمندر میں اتارا ہے۔ اس وقت کم از کم 45 چھوٹے، بڑے اور کارویٹ جہاز اور آبدوزیں مقامی شپ یارڈوں میں بن رہی ہیں۔ اس کے علاوہ 78 دیگر جہازوں کی تیاری کی بھی ابتدائی منظوری دی جا چکی ہے۔‘

لیکن کموڈور اودے بھاسکر کا کہنا ہے کہ ’انڈیا میں جہاز بنانے کی رفتار اب بھی عالمی معیار کے مقابلے میں کم ہے۔

اُن کے بقول بحری جہاز بنانے کی صنعت میں چین، جاپان اور جنوبی کوریا سب سے آگے ہیں، انڈیا ابھی اس سطح پر نہیں پہنچا، لیکن وہ اس جانب بڑھ رہا ہے۔

کیا اس کا تعلق چین اور پاکستان سے ہے؟

بحرِ ہند میں پاکستانی اور چینی بحری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ چین اس وقت دنیا کی سب سے بڑی بحریہ رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے اور اس نے حالیہ برسوں میں اپنے بحری بیڑے میں جدید جنگی جہازوں کا اضافہ کیا ہے۔

چین پاکستان کو جدید آبدوزیں بھی فراہم کر رہا ہے، جبکہ بحرالکاہل سے لے کر بحرِ ہند اور سری لنکا کے ساحلی علاقوں تک اس کے بحری جہازوں کی موجودگی دیکھی جاتی ہے۔

ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا انڈیا اپنی بحریہ کو چین اور پاکستان سے درپیش ممکنہ چیلنجز کے تناظر میں وسعت دے رہا ہے؟

تاہم سابق کموڈور اودے بھاسکر اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق، ’دنیا کی کوئی بھی بحریہ کسی ایک مخصوص خطرے کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کی جاتی۔ اگر یہ کہا جائے کہ انڈیا صرف چین اور پاکستان کے خطرے کا سامنا کرنے کے لیے اپنی بحری صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے تو یہ درست نہیں ہوگا۔‘

ان کے بقول انڈیا کی اپنی سمندری ذمہ داریاں ہیں۔ انڈیا کی تقریباً 70 فیصد تجارت بحری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے اور اس کا بڑا حصہ بحرِ ہند سے گزرتا ہے۔ ان تجارتی راستوں اور سمندری مفادات کا تحفظ بھی انڈین بحریہ کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔

نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔