آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو , حوثیوں کا ریاض ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ: ایران پر نئے حملے کے نتائج زیادہ سنگین ہوں گے، اسماعیل بقائی

یمن کے حوثیوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملے کی صورت میں اس کے نتائج پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہوں گے۔

خلاصہ

  • اپنے موبائل فون یا ٹیبلٹ پر بی بی سی اردو تک براہِ راست رسائی کے لیے BBC WORLD SERVICE ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے BBC News اردو ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں
  • ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ’جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکی سیاست میں تبدیلی سے ایران کے خلاف واشنگٹن کے رویے میں بھی تبدیلی آئے گی، وہ سخت غلطی پر ہیں۔‘
  • اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہینِ مذہب کیس میں سزا پانے والے شخص کی ضمانت منظور کر لی
  • انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی بڑی سیاسی قوت، نیشنل کانفرنس (این سی)، جو کچھ عرصہ قبل ہی بھاری اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی، آج کل اپنی تاریخ کے گہرے داخلی سیاسی بحران سے گزر رہی ہے۔
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی: برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدے 0.25 فیصد کمی کے ساتھ 103.34 ڈالر فی بیرل پر آ گئے

لائیو کوریج

  1. امریکی وزیر خزانہ کی ایران کے حامیوں کو نئی پابندیوں کی وارننگ

    امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایران کی حمایت جاری رکھنے والوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا جو ایرانی حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔

    یہ انتباہ امریکہ کی جانب سے ایک وسیع مبینہ مجرمانہ نیٹ ورک پر نئی پابندیوں کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق یہ نیٹ ورک ایران کے آئل ٹینکرز کے نام نہاد ’شیڈو فلیٹ‘ کی معاونت کرتا ہے، جس کے ذریعے ایران تیل کی ترسیل اور تجارت جاری رکھتا ہے۔

    سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ نئی پابندیاں ایران کے خلاف امریکہ کی ’اقتصادی کارروائی‘ کا حصہ ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکہ نے گذشتہ چند ماہ کے دوران ایران کے خلاف پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد ایران کے عالمی مالیاتی مفادات، کاروباری روابط اور مالیاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنا کر اس پر معاشی دباؤ بڑھانا ہے۔

  2. قطر کے وزیرِاعظم کی سعودی عرب اور کویت سے خطے کی صورتحال پر مشاورت

    قطر کے وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے سعودی عرب اور کویت کے وزرائے خارجہ کے ساتھ الگ الگ ٹیلیفونک رابطے کر کے خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق گفتگو میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں اور علاقائی امن و استحکام کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر بات چیت کی گئی۔

    بیان میں کہا گیا کہ فریقین نے موجودہ علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا اور ایسے اقدامات پر زور دیا جو خطے میں سلامتی اور استحکام کو فروغ دے سکیں۔

    قطر کے وزیرِاعظم نے اس موقع پر تنازعات کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ قطر تمام سفارتی اقدامات اور مذاکراتی کوششوں کی پشت پناہی کرتا ہے۔

    یہ روابط ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں علاقائی ممالک سفارتی رابطوں اور بات چیت کے ذریعے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  3. ویانا میں ایرانی وفد کی رافیل گروسی پر تنقید، جوہری تنصیبات پر حملوں پر خاموشی کا الزام

    ویانا میں ایرانی وفد نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے معاملے میں خاموش رہے ہیں۔

    ایرانی وفد نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’رافیل گروسی نے ایک بار پھر ایران کے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کے ذخائر پر تشویش کا اظہار کیا ہے، لیکن نگرانی میں موجود ’پرامن جوہری تنصیبات پر غیرقانونی بمباری‘ کا ذکر نہیں کیا۔

    بیان میں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس معاہدے کے تحت یورینیم افزودگی کی سطح کے لیے کوئی مخصوص حد مقرر نہیں کی گئی اور کسی کو بھی اس حوالے سے ’مصنوعی حد‘ مقرر کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔

    ایرانی وفد نے یہ بھی کہا کہ رافیل گروسی کی رپورٹوں میں کبھی یہ نہیں کہا گیا کہ ایران نے جوہری مواد کو عسکری مقاصد کے لیے منتقل کیا ہے۔ بیان کے ساتھ گروسی کے ایک حالیہ انٹرویو کا حوالہ بھی دیا گیا۔

    کولمبیا کے ریڈیو کاراکول کو دیے گئے انٹرویو میں رافیل گروسی نے کہا تھا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود نہیں ہیں، تاہم انھوں نے ایران کے جوہری پروگرام میں شفافیت اور 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخائر کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا۔

    ایران کا یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس کے جوہری پروگرام اور بین الاقوامی نگرانی کے حوالے سے بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔

  4. طویل محاصرے کے بعد تعز کے لیے طبی امداد کی پہلی کھیپ روانہ

    بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس (آئی سی آر سی) نے اعلان کیا ہے کہ یمن کے شہر تعز کے لیے ضروری طبی سامان پر مشتمل امدادی کھیپ روانہ کر دی گئی ہے، جو حوثی محاصرے کے آغاز کے بعد پہلی بار شہر تک پہنچائی جا رہی ہے۔

    بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس کے مطابق چار ٹرکوں پر مشتمل یہ امدادی کھیپ ضروری طبی سامان لے کر تعز روانہ کی گئی ہے تاکہ شہر کے ہسپتالوں کو درپیش قلت کو کم کیا جا سکے۔

    بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس کے ترجمان ہاشم عثمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ 23 ستمبر کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ تنظیم کی جانب سے طبی امداد تعز شہر کے ہسپتالوں تک پہنچائی جا رہی ہے۔

    حوثی فورسز ایک ماہ سے زائد عرصے سے تعز کا محاصرہ کیے ہوئے ہیں، جس کے باعث شہر میں انسانی اور طبی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔

    اقوامِ متحدہ بھی متعدد بار تعز میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکی ہے اور خبردار کر چکی ہے کہ امدادی رسائی میں رکاوٹوں کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

  5. حکومت کا پیٹرول کی قیمت میں سات روپے چھ پیسے فی لیٹر کمی کا اعلان

    حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں سات روپے چھ پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تین روپے 71 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے۔

    قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 362 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جو اس سے قبل 369 روپے چھ پیسے فی لیٹر تھی۔

    اسی طرح ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 391 روپے 52 پیسے سے کم ہو کر 387 روپے 81 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

    آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق جمعرات پانچ نومبر سے ہوگا۔

    واضح رہے کہ حکومت نے ایک روز قبل بھی پیٹرول کی قیمت میں پانچ روپے 45 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں تین روپے 68 پیسے فی لیٹر کمی کی تھی۔

  6. ایرانی قوم نے ٹرمپ کو سیاسی شکست سے دوچار کر دیا: محسن رضائی

    ایرانی میڈیا اور حکام نے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکنز کی شکست کو ایران سے جوڑنا شروع کر دیا ہے۔

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی قوم نے میدانِ جنگ اور آبنائے ہرمز میں ٹرمپ کو سٹریٹجک شکست سے دوچار کیا، جبکہ واشنگٹن میں بھی انھیں سیاسی شکست دی۔ اس دوران جنگ کی قیمت خود امریکی عوام کو چکانا پڑی۔

    محسن رضائی نے مزید کہا کہ ’جو کوئی بھی ایران کے ساتھ الجھنے کی کوشش کرے گا، اسے اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی، خواہ میدانِ جنگ ہو یا اس کے اپنے گھر کی دہلیز۔‘

    دوسری جانب امریکہ میں ریپبلکن پارٹی سے ووٹرز کی دوری کی ایک بڑی وجہ ایران جنگ اور توانائی کی قیمتوں میں ہونے والا شدید اضافہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے باعث عام شہریوں کے لیے زندگی گزارنے کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس بھی ریپبلکنز کی انتخابی شکست کی وجوہات میں ایران جنگ کو شامل قرار دے چکے ہیں۔

  7. حوثیوں کا ریاض ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

    یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع ایئرپورٹ کو میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اس سے قبل سعودی عرب کی سول ڈیفنس فورسز نے ریاض کے علاقے میں ممکنہ خطرے سے متعلق مختصر وارننگ جاری کیے جانے کے بعد اسے منسوخ کر دیا تھا۔

    حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل کے ذریعے نشانہ بنانے کی کارروائی کی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق گذشتہ ماہ حوثیوں کے خطرناک اور مہلک حملوں کے باعث ایئرپورٹ دو ہفتوں تک بند رہا تھا، جبکہ اب بھی اس کی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی ہیں۔

    دوسری جانب عالمی ادارہ برائے ریڈ کراس نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ گذشتہ کئی ہفتوں کے دوران پہلی مرتبہ یمن کے شہر تعز میں طبی امداد پہنچانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

    تعز ایک اہم سٹریٹیجک شہر ہے، جو کئی ہفتوں سے ایران کے اتحادی حوثی جنگجوؤں کے محاصرے میں ہے۔

  8. ایران پر کسی بھی نئے حملے کے نتائج پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہوں گے: اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملے کی صورت میں اس کے نتائج ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین ہوں گے۔

    ایکس پر اپنے بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’اگر آپ حقائق کو نظر انداز کرتے رہے، تاریخ کے اسباق سے آنکھیں چراتے رہے اور اسی خطرناک راستے پر چلنے پر اصرار کیا تو اس سنگین غلط اندازے کے نتائج اب تک دیکھے گئے نتائج سے کہیں زیادہ ہوں گے۔‘

    اسی نوعیت کے بیان میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بری فوج کے کمانڈر محمد کرمی نے بھی خبردار کیا ہے کہ ’کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا غلط اندازے کو دہرانے سے گریز کیا جائے۔‘

    دوسری جانب، تقریباً ایک گھنٹہ قبل اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر نے اپنے پیغام میں چالیس روزہ جنگ کے دوران ایران کے علاقائی ردعمل کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو اس کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ وسیع دائرہ اختیار رکھے گا۔

  9. ’امریکہ کے ساتھ ایران کی دشمنی میں تبدیلی کی توقع رکھنے والے سخت غلطی پر ہیں: مجتبیٰ خامنہ ای

    ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ایک بیان میں امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکی سیاست میں تبدیلی سے ایران کے خلاف واشنگٹن کے رویے میں بھی تبدیلی آئے گی، وہ سخت غلطی پر ہیں۔‘

    مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے جاری ایک تحریری پیغام میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ ایران پر حملہ کیا تو تہران کا ردِعمل ’اس سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر‘ ہوگا۔

    مجتبیٰ خامنہ ای، جنھوں نے اپنے والد علی خامنہ ای کی جگہ عہدہ سنبھالا تھا، کئی ماہ سے عوامی سطح پر دکھائی نہیں دیے۔ علی خامنہ ای رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔

    مجتبی خامنہ ای کا یہ بیان 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کی برسی کے موقع پر جاری کیے گئے چھ صفحات پر مشتمل پیغام میں دیا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اپنے بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ ایران کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی کی تو تہران کا جواب کہیں زیادہ شدید ہوگا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ خطے میں امریکی اڈوں کو تباہ کرنا اور آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا ایران کی اُس مہم کا حصہ تھا جس کا مقصد امریکی بالادستی کو چیلنج کرنا ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’امریکہ اپنی بالادستی کے خاتمے کو ابھی دور سمجھتا ہے، جبکہ ہم اسے بہت قریب دیکھتے ہیں۔‘

  10. اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہینِ مذہب کیس میں سزا پانے والے شخص کی ضمانت منظور کر لی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے توہین مذہب میں سزا یافتہ اسلام آباد کے ایک شخص کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سزا یافتہ شخص کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کی۔

    مجرم کے وکیل نے ضمانت کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کو ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 15 سال قید کی سزا سنائی تھی اور انھوں نے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی لیکن کافی عرصے سے ان کی اپیل کو سماعت کے لیے مقرر ہی نہیں کیا جارہا۔

    انھوں نے کہا کہ اپیل کو سماعت کے لیے منظور نہ کرنا نہ صرف خلاف قانون ہے بلکہ اس سے قیدی کے حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں۔

    وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت توہین عدالت کے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ مدعی مقدمہ نے ان کے موکل کی اجازت کے بغیر ان کے ویڈیو ریکارڈ کی اور اس ویڈیو کو حقائق سے ہٹ کر ایڈیٹ کرکے اسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ ان کے موکل نے ٹرائل کورٹ میں ضابطہ فوجداری کے سکیشن 342 کے تحت دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ انھوں نے قران کی تشریح شاعر جوش ملیح آبادی کی زبان میں سمجھا رہے تھے جسے توہین مذہب کا رنگ دیا گیا۔

    بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم کو چاہیے تھا کہ وہ تمام حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اس مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچاتے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں کیا گیا۔

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق کا کہنا تھا کہ توہین مذہب کے مقدمات کےانداراج کے حوالے سے انھوں نے جن درخواستوں کی سماعت کی تھی اس میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اور نجی افراد کا گٹھ جوڑ بھی سامنے آیا تھا۔

    مجرم کے وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے جاوید ہاشمی کے مقدمے میں یہ طے کیا ہے کہ اگر کوئی مجرم اپنی آدھی سزا کاٹ چکا ہو اور اس کی اپیل سماعت کے لیے منظور نہ کی جارہی ہو تو وہ ضمانت کا حقدار ہو جاتا ہے۔

    عدالت نے مجرم کی ضمانت کی درخواست منظور کرلی اور اس مقدمے کے مدعی، جو کہ کمرہ عدالت میں موجود تھے، نے اس درخواست کی مخالفت کی اور کہا کہ انھیں سنا ہی نہیں گیا۔

    جس پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کچھ مقدمات ایسے ہوتے ہیں جن میں پانچ دن تک وکلا سے دلائل طلب کیے جاتے ہیں جبکہ کچھ مقدمات ایسے ہوتے ہیں جن میں وکیل پانچ منٹ تک بھی دلائل دیتے ہیں تاہم یہ کسی بھی جج کی صوابدید ہے کہ وہ کس وکیل کو کتنا سنتا ہے۔

    واضح رہے کہ اس شخص کو ایف ائی اے کے سائبر کرائم ونگ نے 2017 میں توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف توہین مذہب اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    ٹرائل کورٹ نے توہین مذہب کے مقدمے میں دس سال جبکہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت پانچ سال سزا سنائی تھی۔

  11. انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی حکمراں جماعت میں سیاسی بحران: آغا روح اللہ کا استعفیٰ، ناراض اراکین اسمبلی کی بغاوت, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی بڑی سیاسی قوت، نیشنل کانفرنس (این سی)، جو کچھ عرصہ قبل ہی بھاری اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی، آج کل اپنی تاریخ کے گہرے داخلی سیاسی بحران سے گزر رہی ہے۔

    پارٹی کے دیرینہ اور نظریاتی رہنما آغا سید روح اللہ مہدی کا انڈین پارلیمنٹ کی رکنیت اور پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ، پارٹی کے 25 کے قریب ناراض اراکین اسمبلی کی جانب سے حکومت ک14 دن کا الٹی میٹم، اور حزبِ اختلاف کی جانب سے تیکھے حملوں نے عمر عبداللہ حکومت کی بنیادیں گویا ہلا کر رکھ دی ہیں۔

    یہ صورتحال محض ایک تنظیمی دباؤ نہیں، بلکہ مبصرین کے مطابق کشمیر کی سیاست میں ایک بڑا ’سیاسی زلزلہ‘ ہے، جو حکومت کے گرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

    آغا روح اللہ کا استعفیٰ، ایک بڑا نظریاتی دھچکا

    اس بحران کا سب سے بڑا مرکز سرینگر، بڈگام سے نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان، آغا سید روح اللہ مہدی کا استعفیٰ ہے۔

    آغا روح اللہ نے 3 نومبر 2026 کو اپنے والد آغا سید مہدی کی 26 ویں برسی کے موقع پر بڈگام کے بہشتِ زہرا پارک میں ایک بڑے عوامی اجتماع کے دوران نیشنل کانفرنس اور پارلیمنٹ کی رکنیت چھوڑنے کا باقاعدہ اعلان کیا۔

    آغا روح اللہ طویل عرصے سے پارٹی قیادت کی پالیسیوں سے نالاں تھے۔ ان کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت اپنے انتخابی منشور اور آرٹیکل 370 کی بحالی کے وعدوں سے مکمل طور پر منحرف ہو چکی ہے۔

    عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے اپنے استعفے کے کاغذات لہرائے اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں ’نااہل‘ قرار دیا۔

    آغا روح اللہ کا کہنا تھا کہ ’نیشنل کانفرنس نے عوام کے منڈیٹ کے ساتھ غداری کی ہے۔ جو پارٹی آرٹیکل 370، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور کوٹہ و ریزرویشن پالیسی میں اصلاحات کے وعدے پر ووٹ لے کر آئی تھی، وہ آج طاقتوروں کے سامنے غلاموں کی طرح جھک گئی ہے، جبکہ ریزرویشن کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے معصوم طلبہ پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔‘

    آغا روح اللہ نے پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کو بتائیں کہ اس نے ایک غلط انسان کے جذبات کے ساتھ کھیل کیا ہے۔

    صحافی اور تجزیہ نگار ہارون ریشی کہتے ہیں کہ ’ان کا استعفیٰ نیشنل کانفرنس کے لیے نہ صرف ایک تنظیمی نقصان ہے بلکہ جماعت کے جمہوریت پسند اور نظریاتی تشخص کے لیے ایک کاری ضرب بھی ثابت ہوا ہے۔‘

    ناراض اراکینِ اسمبلی کا الٹی میٹم اور داخلی بغاوت

    آغا روح اللہ کے استعفے کے متوازی، پارٹی کے اندر منتخب ارکانِ اسمبلی کا ایک بہت بڑا دھڑا بغاوت پر آمادہ ہو چکا ہے۔ اس بحران کا فوری سبب 27 اکتوبر 2026 کو عمر عبداللہ کی جانب سے کی جانے والی کابینہ کی توسیع اور محکموں کا رد و بدل بنا۔

    کابینہ میں نئے چہروں کی شمولیت اور پرانے و سینیئر رہنماؤں کو نظرانداز کیے جانے پر کم از کم 25 ارکانِ اسمبلی نے کھلے عام شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

    شمالی کشمیر کے حلقہ لولاب سے دو بار منتخب ہونے والے رکن اسمبلی قیصر جمشید لون کی رہائش گاہ پر ایک چار گھنٹے طویل خفیہ اور ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں حسنین مسعودی، مبارک گل، نذیر گُریزی، اور عبدالمجید بٹ لارمی جیسے این سی کے سینیئر ترین چہرے شامل تھے۔

    عبدالمجید لارمی میڈیا کے سامنے رو پڑے اور کہا کہ ان کے خاندان کی قربانیوں کو یکسر نظرانداز کر کے جونیئرز کو نوازا گیا ہے۔

    نذیر گُریزی، جو چار بار رکن اسمبلی رہ چکے ہیں، وہ بھی اس ناانصافی پر شدید نالاں ہیں۔ ناراض دھڑے نے عمر عبداللہ حکومت کو 14 دن کا حتمی الٹی میٹم دیا ہے۔

    ان مطالبہ ہے کہ کابینہ کو مکمل طور پر اوور ہال کیا جائے اور موجودہ وزرا سے محکمے واپس لے کر سینیارٹی اور میرٹ کی بنیاد پر کابینہ تشکیل دی جائے۔

    ناراض اراکین نے وزیراعلیٰ کے دو مشیروں ناصر اسلم اور شمی سنگھ اوبرائے کی برطرفی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے دونوں مشیر وزیراعلیٰ کے قریبی اور دیرینہ دوست ہیں۔ مطالبات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت ریاستی درجہ کی بحال تک محدود نہ رہے بلکہ آرٹیکل 370 اور کشمیر کے خصوصی آئینی حقوق کی بحالی کے لیے جارحانہ انداز اپنائے۔ اگر یہ 14 روزہ مہلت ختم ہونے تک مطالبات تسلیم نہ کیے گئے، تو باغی اراکین نے دھمکی دی ہے کہ وہ گورنر آفس جا کر عمر عبداللہ حکومت سے اپنی حمایت باقاعدہ واپس لے لیں گے۔

    تجزیہ نگار ہارون ریشی کے مطابق 90 رکنی اسمبلی میں نیشنل کانفرنس کے پاس 41 نشستیں ہیں۔ اگر ان 25 ناراض ارکان میں سے 21 بھی الگ ہو جاتے ہیں، تو حکومت فوری طور پر اکثریت کھو دے گی اور گر جائے گی۔

    اپوزیشن کا شدید حملہ: ’تاش کے پتوں کی طرح بکھرتی حکومت‘

    اس سنگین داخلی انتشار کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں، بالخصوص بی جے پی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے نیشنل کانفرنس پر جارحانہ حملے کرنے کا آغاز کردیا ہے۔

    جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف اور بی جے پی کے سینیئر رہنما سنیل شرما نے اس بحران کو نیشنل کانفرنس کے ’خاتمے کی شروعات‘ قرار دیا ہے۔

    انھوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ جیسے ہی کابینہ کی توسیع ہوگی، نیشنل کانفرنس تاش کے پتوں کے محل کی طرح بکھر جائے گی۔ پارٹی کے اندر خاندانی راج اور موروثی سیاست کے خلاف شدید غصہ ہے، یہ حکومت خود اپنے بوجھ اور بدعنوانی سے گرے گی۔‘

    دوسری طرف پی ڈی پی بھی اس صورتحال کا سیاسی فائدہ اٹھا رہی ہے۔ بڈگام کے ضمنی انتخاب میں پی ڈی پی کی جیت اور آغا روح اللہ کا احتجاجی طرزِ عمل نیشنل کانفرنس کے اس بیانیے کو کمزور کر رہا ہے کہ وہ وادی کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔

    قیادت کی بے حسی اور فائر فائٹنگ موڈ اس ہمہ جہت بحران کے باوجود پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اب تک میڈیا کے سامنے کھل کر کیمرے پر کوئی بڑا بیان نہیں دیا ہے۔

    عمر عبداللہ نے سرینگر میں میڈیا کے سوالات کو نظرانداز کیا، البتہ انھوں نے نجی سطح پر آغا روح اللہ کے بارے میں کہا کہ وہ ’غلط فہمیوں کا شکار‘ ہو گئے ہیں۔

    ہارون ریشی کہتے ہیں کہ ’بحران کو ٹالنے کے لیے نیشنل کانفرنس کی اعلیٰ قیادت اب ’فائر فائٹنگ‘ کے عمل میں مصروف ہے۔

    آغا روح اللہ کا علیحدہ ہونا پارٹی کے نظریاتی کارکنوں اور نوجوان ووٹروں کو مایوس کر رہا ہے، کیونکہ وادی میں انھیں آرٹیکل 370 پر ایک بیباک آواز مانا جاتا تھا۔

    ہارون ریشی کہتے ہیں ’اگر عمر عبداللہ اگلے چند دنوں میں اپنے 25 ناراض ارکانِ اسمبلی کے تحفظات دور کرنے اور مشیروں کی من مانی کو روکنے میں ناکام رہے، تو جموں و کشمیر ایک بار پھر شدید سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے، جہاں حکومت کا گرنا یا پارٹی کا دو دھڑوں میں تقسیم ہونا اب خارج از امکان نہیں رہا۔‘

  12. عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی

    امریکہ میں وسط مدتی انتخابات اور مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات کے تناظر میں بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ صورتحال اس کے باوجود سامنے آئی ہے کہ گذشتہ ہفتے امریکہ میں خام تیل کے ذخائر غیر متوقع طور پر کم ہوئے ہیں۔

    خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کے فیوچر (مستقبل کے) معاہدے 0.25 فیصد کمی کے ساتھ 103.34 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کے فیوچر 53 سینٹ یا 0.55 فیصد گر کر 95.56 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ کاروباری سیشن میں برینٹ کی قیمت میں ایک فیصد سے زیادہ کمی ہوئی تھی اور یہ تقریباً چار ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئی تھی، کیونکہ تاجر یوکرین اور ایران میں جاری جنگوں کے خاتمے سے متعلق مذاکرات کا جائزہ لے رہے تھے۔

    ادھر تیل کی منڈیوں اور تاجروں کی نظریں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات پر بھی مرکوز ہیں، جبکہ قطر نے امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ممکنہ کشیدگی اور حملوں میں اضافے کو روکنے کے لیے ثالثی کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

  13. امریکی عوام نے ووٹ کے ذریعے جنگ کو مسترد کر دیا ہے: باقر قالیباف

    ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ریپبلکنز کی ممکنہ شکست کے تناظر میں کہا ہے کہ ووٹ کے ذریعے امریکی عوام نے ’جنگ کو مسترد‘ کر دیا ہے۔

    قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’ضمیر کی آواز ہو یا بڑھتی ہوئی مہنگائی، امریکیوں نے جنگ کو ’نہ‘ کہا ہے، اور ہم اس پیغام کی تائید کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی حکومت عوامی خواہشات کے برخلاف ’بین الاقوامی سرپرستوں اور بلیک میل کرنے والوں‘ کی خدمت کرے گی تو اسے عوامی انکار کا سامنا کرنا ہو گا۔

  14. فی الحال ایران پر نئے حملے کا کوئی منصوبہ نہیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے پاس اس وقت ایران پر کسی نئے حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں۔

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو منگل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ جاری صورتحال سے مطمئن ہیں، تاہم انھوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ جنگ جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔

    چھ منٹ دورانیے کے اس ٹیلی فونک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا: ’ایسا لگتا ہے کہ ہم وہ سب کچھ حاصل کر رہے ہیں جو ہم چاہتے ہیں۔‘

    دوسری جانب امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے فوری بعد ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی کے امکان پر خدشات برقرار ہیں، خصوصاً اس کے بعد جب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ تہران اپنے مجوزہ منصوبے پر واشنگٹن کے ردعمل سے مطمئن نہیں۔

    منگل کو مصر اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کو بھی ان خدشات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس گفتگو میں مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے تہران پر زور دیا کہ وہ مذاکرات میں مزید لچک کا مظاہرہ کرے۔

  15. سپین میں ٹرین حادثے کے بعد وزیرِ ٹرانسپورٹ نے استعفیٰ دے دیا

    سپین کے وزیرِ ٹرانسپورٹ اوسکار پوئنٹے نے ٹرین حادثے میں کم از کم 69 افراد کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے کے چھ روز بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    پارلیمان میں اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’ایک سال سے بھی کم عرصے میں اس نوعیت کے دو سنگین حادثات کے بعد ملک کا وزیر ٹرانسپورٹ اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتا۔‘

    سپین میں جنوری میں بھی ایک ٹرین حادثہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں 46 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

  16. ایران جنگ کے باعث یورپ کو اب تک 127 ارب یورو کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے: صدر یورپی کمیشن

    یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیئن نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں یورپی ممالک کو فوسل فیولز کی درآمد پر اب تک 127 ارب یورو کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے ہیں۔

    منگل کو مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے معاشی اثرات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یورپ کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بہت زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

    ارسلا وان ڈر لیئن نے زور دے کر کہا کہ اس صورتحال نے ایک بار پھر بیرونی توانائی کے ذرائع پر انحصار کے حوالے سے یورپ کی کمزوری کو نمایاں کر دیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ برِّ اعظم کو توانائی کے شعبے میں اپنی خود مختاری اور سلامتی مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

  17. پاکستان کا مقامی سطح پر تیار کردہ پہلے فضا سے فضا میں مار کرنے والے ’فاز‘ میزائل کا کامیاب تجربہ کرنے کا دعویٰ

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے اپنے پہلے مقامی سطح پر تیار کردہ فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل ’فَاز‘ کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

    پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ جدید ٹرمینل گائیڈنس سسٹم سے لیس یہ میزائل طویل فاصلے پر فضائی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے پاکستان فضائیہ کی عملی اور آپریشنل استعداد میں اضافہ ہو گا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے اسے قومی دفاعی صلاحیتوں اور خود انحصاری کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔

  18. ہسپانوی فٹبالر میچ کے دوران گول کیپر سے ٹکرانے کے بعد ہلاک

    ہسپانوی فٹبال ٹیم ٹینیرائف کے سٹرائیکر خیسوس دے میگیل ایک میچ کے دوران زخمی ہونے کے بعد وفات پا گئے ہیں۔ ان کی عمر 30 برس تھی اور وہ سپین کے دوسرے درجے کی ایک لیگ کے میچ کے دوران شدید زخمی ہوئے تھے۔

    سوموار کے روز کھیلے جانے والے میچ کے دوران ٹینیرائف ایف سی اینڈورا کے خلاف میچ میں گول کیپر خیسوس اووونو کے ساتھ ٹکر کے نتیجے میں ان کے سر اور سینے پر چوٹیں آئی تھیں۔

    گذشتہ روز میگیل کی حالت کو ’مستحکم لیکن تشویشناک‘ قرار دیا گیا تھا، تاہم منگل کی صبح ان کی طبیعت مزید بگڑ گئی اور ہسپانوی کھلاڑی وفات پا گئے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، ہسپانوی پولیس نے دے میگیل کی وفات کے بعد ممکنہ غیر ارادی قتلِ خطا کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    ہسپانوی قانون کے تحت، ایسی ہر موت جسے غیر طبعی قرار دیا جائے، خودکار طور پر عدالتی تحقیقات کا باعث بنتی ہے۔

  19. لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی معاہدے کا بنیادی نکتہ ہے: اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی معاہدے کا بنیادی نکتہ ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران قطری ثالثوں کے ذریعے مذاکرات اور امریکہ کے ساتھ پیغامات کے تبادلے کی پیش رفت سے متعلق ایک سوال کا انھوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے مطالبات واضح ہیں۔ جب تک ہمارے مطالبات، جو مکمل طور پر جائز اور معقول ہیں، پورے نہیں کیے جاتے، ہم خطے میں سلامتی کی بحالی کے بارے میں بات نہیں کر سکتے۔ ہم یہ تصور نہیں کر سکتے کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ روکنے کے عزم کے بغیر کسی مفاہمت تک پہنچا جا سکتا ہے۔‘

    ’اسلام آباد مفاہمت کے پہلے نکتے کے مطابق، جس کی امریکہ نے بدقسمتی سے خلاف ورزی کی، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کا معاملہ کسی بھی سفارتی عمل کے اہم نکات میں شامل ہو گا۔‘

  20. ایران کے مطالبات پر امریکہ کا جواب ’قابلِ اطمینان‘ نہیں، محسن رضائی

    ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ایران کے مطالبات پر امریکہ کا جواب ’قابلِ اطمینان‘ نہیں تھا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق محسن رضائی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ’ایران کے حقوق اور مطالبات کے بارے میں امریکہ کا جواب قابلِ اطمینان نہیں تھا، اور انھیں ایران کی ساتوں شرائط کا مکمل اور واضح جواب دینا اور ان پر عمل کرنا چاہیے۔ صرف اسی صورت میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جائے گی۔‘

    یاد رہے کہ گذشتہ چند روز میں ایران اور امریکہ کے درمیان قطری ثالثوں کے ذریعے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے مذاکرات ہوئے ہیں، تاہم ان کا نتیجہ تاحال واضح نہیں۔

    گذشتہ ہفتے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے محسن رضائی کو ایک خط لکھا تھا۔

    تاحال یہ معلوم نہیں کہ آیا محسن رضائی نے اس خط کا جواب دے دیا ہے یا نہیں۔ تاہم عباس عراقچی نے اس سے پہلے کہا تھا کہ چونکہ یہ خط قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری کے نام لکھا گیا تھا، اس لیے اس کا جواب دینے یا نہ دینے کا فیصلہ بھی انہی کے اختیار میں ہے۔