انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی بڑی سیاسی قوت، نیشنل کانفرنس (این سی)، جو کچھ عرصہ قبل ہی بھاری اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی، آج کل اپنی تاریخ کے گہرے داخلی سیاسی بحران سے گزر رہی ہے۔
پارٹی کے دیرینہ اور نظریاتی رہنما آغا سید روح اللہ مہدی کا انڈین پارلیمنٹ کی رکنیت اور پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ، پارٹی کے 25 کے قریب ناراض اراکین اسمبلی کی جانب سے حکومت ک14 دن کا الٹی میٹم، اور حزبِ اختلاف کی جانب سے تیکھے حملوں نے عمر عبداللہ حکومت کی بنیادیں گویا ہلا کر رکھ دی ہیں۔
یہ صورتحال محض ایک تنظیمی دباؤ نہیں، بلکہ مبصرین کے مطابق کشمیر کی سیاست میں ایک بڑا ’سیاسی زلزلہ‘ ہے، جو حکومت کے گرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
آغا روح اللہ کا استعفیٰ، ایک بڑا نظریاتی دھچکا
اس بحران کا سب سے بڑا مرکز سرینگر، بڈگام سے نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان، آغا سید روح اللہ مہدی کا استعفیٰ ہے۔
آغا روح اللہ نے 3 نومبر 2026 کو اپنے والد آغا سید مہدی کی 26 ویں برسی کے موقع پر بڈگام کے بہشتِ زہرا پارک میں ایک بڑے عوامی اجتماع کے دوران نیشنل کانفرنس اور پارلیمنٹ کی رکنیت چھوڑنے کا باقاعدہ اعلان کیا۔
آغا روح اللہ طویل عرصے سے پارٹی قیادت کی پالیسیوں سے نالاں تھے۔ ان کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت اپنے انتخابی منشور اور آرٹیکل 370 کی بحالی کے وعدوں سے مکمل طور پر منحرف ہو چکی ہے۔
عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے اپنے استعفے کے کاغذات لہرائے اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں ’نااہل‘ قرار دیا۔
آغا روح اللہ کا کہنا تھا کہ ’نیشنل کانفرنس نے عوام کے منڈیٹ کے ساتھ غداری کی ہے۔ جو پارٹی آرٹیکل 370، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور کوٹہ و ریزرویشن پالیسی میں اصلاحات کے وعدے پر ووٹ لے کر آئی تھی، وہ آج طاقتوروں کے سامنے غلاموں کی طرح جھک گئی ہے، جبکہ ریزرویشن کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے معصوم طلبہ پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔‘
آغا روح اللہ نے پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کو بتائیں کہ اس نے ایک غلط انسان کے جذبات کے ساتھ کھیل کیا ہے۔
صحافی اور تجزیہ نگار ہارون ریشی کہتے ہیں کہ ’ان کا استعفیٰ نیشنل کانفرنس کے لیے نہ صرف ایک تنظیمی نقصان ہے بلکہ جماعت کے جمہوریت پسند اور نظریاتی تشخص کے لیے ایک کاری ضرب بھی ثابت ہوا ہے۔‘
ناراض اراکینِ اسمبلی کا الٹی میٹم اور داخلی بغاوت
آغا روح اللہ کے استعفے کے متوازی، پارٹی کے اندر منتخب ارکانِ اسمبلی کا ایک بہت بڑا دھڑا بغاوت پر آمادہ ہو چکا ہے۔ اس بحران کا فوری سبب 27 اکتوبر 2026 کو عمر عبداللہ کی جانب سے کی جانے والی کابینہ کی توسیع اور محکموں کا رد و بدل بنا۔
کابینہ میں نئے چہروں کی شمولیت اور پرانے و سینیئر رہنماؤں کو نظرانداز کیے جانے پر کم از کم 25 ارکانِ اسمبلی نے کھلے عام شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
شمالی کشمیر کے حلقہ لولاب سے دو بار منتخب ہونے والے رکن اسمبلی قیصر جمشید لون کی رہائش گاہ پر ایک چار گھنٹے طویل خفیہ اور ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں حسنین مسعودی، مبارک گل، نذیر گُریزی، اور عبدالمجید بٹ لارمی جیسے این سی کے سینیئر ترین چہرے شامل تھے۔
عبدالمجید لارمی میڈیا کے سامنے رو پڑے اور کہا کہ ان کے خاندان کی قربانیوں کو یکسر نظرانداز کر کے جونیئرز کو نوازا گیا ہے۔
نذیر گُریزی، جو چار بار رکن اسمبلی رہ چکے ہیں، وہ بھی اس ناانصافی پر شدید نالاں ہیں۔ ناراض دھڑے نے عمر عبداللہ حکومت کو 14 دن کا حتمی الٹی میٹم دیا ہے۔
ان مطالبہ ہے کہ کابینہ کو مکمل طور پر اوور ہال کیا جائے اور موجودہ وزرا سے محکمے واپس لے کر سینیارٹی اور میرٹ کی بنیاد پر کابینہ تشکیل دی جائے۔
ناراض اراکین نے وزیراعلیٰ کے دو مشیروں ناصر اسلم اور شمی سنگھ اوبرائے کی برطرفی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے دونوں مشیر وزیراعلیٰ کے قریبی اور دیرینہ دوست ہیں۔ مطالبات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت ریاستی درجہ کی بحال تک محدود نہ رہے بلکہ آرٹیکل 370 اور کشمیر کے خصوصی آئینی حقوق کی بحالی کے لیے جارحانہ انداز اپنائے۔ اگر یہ 14 روزہ مہلت ختم ہونے تک مطالبات تسلیم نہ کیے گئے، تو باغی اراکین نے دھمکی دی ہے کہ وہ گورنر آفس جا کر عمر عبداللہ حکومت سے اپنی حمایت باقاعدہ واپس لے لیں گے۔
تجزیہ نگار ہارون ریشی کے مطابق 90 رکنی اسمبلی میں نیشنل کانفرنس کے پاس 41 نشستیں ہیں۔ اگر ان 25 ناراض ارکان میں سے 21 بھی الگ ہو جاتے ہیں، تو حکومت فوری طور پر اکثریت کھو دے گی اور گر جائے گی۔
اپوزیشن کا شدید حملہ: ’تاش کے پتوں کی طرح بکھرتی حکومت‘
اس سنگین داخلی انتشار کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں، بالخصوص بی جے پی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے نیشنل کانفرنس پر جارحانہ حملے کرنے کا آغاز کردیا ہے۔
جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف اور بی جے پی کے سینیئر رہنما سنیل شرما نے اس بحران کو نیشنل کانفرنس کے ’خاتمے کی شروعات‘ قرار دیا ہے۔
انھوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ جیسے ہی کابینہ کی توسیع ہوگی، نیشنل کانفرنس تاش کے پتوں کے محل کی طرح بکھر جائے گی۔ پارٹی کے اندر خاندانی راج اور موروثی سیاست کے خلاف شدید غصہ ہے، یہ حکومت خود اپنے بوجھ اور بدعنوانی سے گرے گی۔‘
دوسری طرف پی ڈی پی بھی اس صورتحال کا سیاسی فائدہ اٹھا رہی ہے۔ بڈگام کے ضمنی انتخاب میں پی ڈی پی کی جیت اور آغا روح اللہ کا احتجاجی طرزِ عمل نیشنل کانفرنس کے اس بیانیے کو کمزور کر رہا ہے کہ وہ وادی کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔
قیادت کی بے حسی اور فائر فائٹنگ موڈ اس ہمہ جہت بحران کے باوجود پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اب تک میڈیا کے سامنے کھل کر کیمرے پر کوئی بڑا بیان نہیں دیا ہے۔
عمر عبداللہ نے سرینگر میں میڈیا کے سوالات کو نظرانداز کیا، البتہ انھوں نے نجی سطح پر آغا روح اللہ کے بارے میں کہا کہ وہ ’غلط فہمیوں کا شکار‘ ہو گئے ہیں۔
ہارون ریشی کہتے ہیں کہ ’بحران کو ٹالنے کے لیے نیشنل کانفرنس کی اعلیٰ قیادت اب ’فائر فائٹنگ‘ کے عمل میں مصروف ہے۔
آغا روح اللہ کا علیحدہ ہونا پارٹی کے نظریاتی کارکنوں اور نوجوان ووٹروں کو مایوس کر رہا ہے، کیونکہ وادی میں انھیں آرٹیکل 370 پر ایک بیباک آواز مانا جاتا تھا۔
ہارون ریشی کہتے ہیں ’اگر عمر عبداللہ اگلے چند دنوں میں اپنے 25 ناراض ارکانِ اسمبلی کے تحفظات دور کرنے اور مشیروں کی من مانی کو روکنے میں ناکام رہے، تو جموں و کشمیر ایک بار پھر شدید سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے، جہاں حکومت کا گرنا یا پارٹی کا دو دھڑوں میں تقسیم ہونا اب خارج از امکان نہیں رہا۔‘