آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’تکنیکی مسائل، احتیاطی اقدامات اور پابندیوں کی تلوار‘: پاکستان نے ایران کے ساتھ تجارت کیوں معطل کر رکھی ہے؟
- مصنف, محمد کاظم، تنویر ملک
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
پاکستان کی ایران کے ساتھ اہم سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے ہونے والی تجارت بدستور چوتھے روز بھی معطل ہے، جس کے نتیجے میں بلوچستان کے راستے دونوں ہمسایہ ممالک میں ہونے والی تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں اور سرحد کے دونوں اطراف سینکڑوں مال بردار کنٹینرز پھنس گئے ہیں۔
اسلام آباد اور تہران کے حکام نے 17 اکتوبر (سنیچر) کو سرحدی گزرگاہوں کی بندش کی تصدیق کی تھی تاہم بظاہر اچانک کیے گئے اس فیصلے کی وجوہات کے حوالے سے دونوں جانب سے مختلف مؤقف پیش کیا گیا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ دونوں ممالک نے اِس بات پر زور دیا ہے کہ یہ معطلی ’عارضی‘ نوعیت کی ہے۔
17 اکتوبر کو ’ایکس‘ پر جاری بیان میں حکومتِ بلوچستان کے ترجمان اور وزیرِ اعلیٰ کے مشیر شاہد رند نے کہا کہ سرحدی گزرگاہوں کی بندش کا مقصد ’سکیورٹی خدشات کا ازالہ، سمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی نظام کو مزید مؤثر بنانا‘ ہے۔ شاہد رند کے مطابق یہ اقدام سرحد کے دونوں جانب سکیورٹی اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے ضروری تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ سرحد سے متعلق انتظامی مسائل کے حل کے لیے دونوں ممالک کے درمیان ’مثبت پیش رفت‘ جاری ہے اور امکان ہے کہ گزرگاہیں جلد دوبارہ کھول دی جائیں گی۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تجارت کی معطلی کو بعض غیر واضح ’تکنیکی مسائل‘ کا نتیجہ قرار دیا، جن کے باعث ’فوری احتیاطی اقدامات‘ کرنا ضروری تھے۔
سرحدی گزرگاہوں کی یہ بندش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے ایران کے ساتھ تجارت سے متعلق درآمدی سہولت کا ایک اہم اقدام واپس لے لیا تھا۔
16 اکتوبر (جمعہ) کو پاکستان کی وزارتِ تجارت نے وہ حکمنامہ منسوخ کر دیا تھا جس کے تحت ایران سے درآمدات کے لیے الیکٹرانک امپورٹ فارم (ای آئی ایف) سے استثنیٰ میں توسیع دی گئی تھی۔ یہ حکمنامہ پاکستانی وزارت کامرس کی جانب سے اپنی منسوخی سے محض 13 دن قبل یعنی تین اکتوبر کو جاری کیا گیا تھا۔
پاکستان کی وزارت تجارت نے بی بی سی اُردو کو الیکٹرانک امپورٹ فارم (ای آئی ایف) سے استثنی کی منسوخی کی تصدیق کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کچھ عرصہ قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دورہ پاکستان کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کی قیادت باہمی تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک لے جانے کی خواہاں ہے۔
’پاکستانی تاجروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے‘
بلوچستان کے ضلع گوادر سے تعلق رکھنے والے بارڈر ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر عبدالغفور ہوت کا کہنا ہے کہ سرحدی تجارت کی اچانک معطلی نے تاجر برادری کو پریشانی اور مشکلات سے دوچار کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں متعلقہ سرکاری حکام کی جانب سے سنیچر کو بتایا گیا تھا کہ سرحدی تجارت دوبارہ بہت جلد کھل جائے گی، جس پر تاجر برادری کو امید تھی کہ نئے ہفتے کے آغاز پر سرگرمیاں بحال ہو جائیں گی مگر پیر کے روز تیسرے دن بھی یہ سلسلہ بحال نہیں ہو سکا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ سرحد کی دوسری جانب سے بتایا گیا تھا کہ وہاں سے بندش نہیں ہے اور اسی لیے ’ہم نے سرحدی حکام سے اپیل کی کہ ایران کی جانب سے جب بندش نہیں تو آپ لوگ کم از کم تازہ پھلوں اور خشک میوہ جات کی گاڑیوں کے علاوہ اُن گاڑیوں کو چھوڑ دیں جن میں جلدی خراب ہونے والی اشیا لدی ہوئی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہماری درخواست پر یہاں بعض اہلکاروں نے اتفاق کیا تھا لیکن بعد میں انھوں نے اجازت نہیں دی۔
انھوں نے کہا کہ پہلے یہ بتایا جا رہا تھا کہ کسٹمز کے ٹیکسز اور دوسرے تکنیکی مسائل کی وجہ سے سرحد عارضی بند ہوئی لیکن اب یہ لگتا ہے ایران کے حوالے سے شاید کوئی دباؤ ہے جس کی وجہ سے سرحد کو بند کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے سوشل میڈیا پر بھی گذشتہ تین روز سے اس معاملے پر بحث جاری ہے، جہاں متعدد صارفین نے سرحد کی بندش سے متعلق پاکستان کے سرکاری مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے اس فیصلے کے پسِ پردہ وسیع تر جغرافیائی و سیاسی عوامل کی نشاندہی کی ہے۔
تاہم معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سرحد کی بندش کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہوں میں صداقت نہیں ہے اور یہ کہ ’عوام غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں پر کان نہ دھریں۔‘
عبدالغفور ہوت کا کہنا تھا کہ اگر سرحدی تجارت کو کھولنے میں تاخیر کی گئی تو پاکستانی تاجروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو گا۔
اس وقت سرحد پر کیا صورتحال ہے؟
بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق تجارتی سرگرمیاں معطل ہونے کے بعد سے سینکڑوں کنٹینرز، جن میں ضروری اشیائے خورونوش اور مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) شامل ہے، سرحد کے دونوں اطراف پھنس کر رہ گئے ہیں۔
سرحدی تجارت سے وابستہ اور گوادر چیمبر آف کامرس کے سابق صدر شمس الحق نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ اُن کو متعلقہ تاجر برادری کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اِس وقت گبد ریمدان بارڈر کراسنگ پر پاکستان کی جانب 1500 کے لگ بھگ گاڑیاں کھڑی ہیں، جن میں سے چھ سے سات سو گاڑیاں وہ ہیں جن کو ایران کے راستے آگے وسطی ایشائی ریاستوں تک جانا ہے۔
اُن کے مطابق پاکستان کی جانب کھڑے زیادہ تر کنٹینرز میں چاول جبکہ متعدد دیگر گاڑیوں میں آلو اور کیلے ہیں۔
شمس الحق نے بتایا کہ ایران کی جانب ایل پی جی سے لدی گاڑیاں بھی کھڑی ہیں اور وہاں پھنس جانے والے کنٹینرز کی تعداد تین ہزار کے لگ بھگ ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسی طرح دیگر سرحدی کراسنگ پر بھی بڑی تعداد میں گاڑیاں کھڑی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام سامان پاکستانی تاجروں کا ہے، اور ایران کی جانب بھی پھنسا سامان وہ ہے جس کی ادائیگی کر دی گئی تھی۔ ان کے مطابق اس صورتحال پر تاجر بہت پریشان ہیں۔
الیکٹرانک امپورٹ فارم سے استثنیٰ کی منسوخی: مطلب کیا ہے؟
سرحدی تجارت کی معطلی سے ایک روز قبل پاکستانی وزارت تجارت نے ایک آفس میمورنڈم جاری کرتے ہوئے اپنے ایک سابقہ حکمنامے کو واپس لیا جس کے تحت ایران سے درآمدات کے لیے الیکٹرانک امپورٹ فارم کے استثنیٰ میں توسیع کی گئی تھی۔
پاکستان میں بیرونی تجارت کے ماہر اقبال تابش کے مطابق ’ای آئی ایف‘ بنیادی طور درآمدی ادائیگیوں اور بینکنگ دستاویزات سے متعلق فارم تھا اور ایران سے زمینی راستے کے ذریعے تجارت کے لیے اِس چھوٹ کا مقصد تاجروں کو درآمدی سامان منگوانے اور کلیئر کروانے میں سہولت فراہم کرنا تھا۔
تابش کے مطابق اب حکومت کی جانب سے اس سہولت کو واپس لے لیا گیا ہے جس کا بظاہر مقصد بنیادی طور پر ریونیو کلیکشن ہے۔
انھوں نے بظاہر اس اقدام کا مقصد ایران سے درآمد کی جانے والی اشیا کو ریگولر شیڈول میں ڈالنا ہو سکتا ہے جس کے ذریعے ریونیو اکٹھا کیا جائے گا، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بہت زیادہ ایرانی چیزوں کی آمد کو بھی روکنا ہے کیونکہ اُن کے مطابق اب پاکستان میں ایرانی لسی تک درآمد ہو رہی ہے۔
معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر اکرام الحق نے بتایا کہ کہ اس سہولت کے تحت ٹیکس نہ لگنے کی وجہ سے پاکستان میں کچھ صنعتوں کے نقصان پہنچ رہا تھا جس کی وجہ ایران سے سستے مال کا آنا تھا۔
انھوں نے کہا مثال کے طور پر پاکستان میں ایران سے بہت سارے الیکٹرانکس آئٹم بھی آ رہے تھے جس کی وجہ سے یہاں مقامی الیکٹرانکس صنعت کے لوگ بھی پریشان تھے۔
بدرالدین کاکڑ کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینیئر نائب صدر رہے ہیں اور اُن کے مطابق دنیا میں جہاں بھی بین الاقوامی بارڈرز ہیں وہاں سرحدی تجارت ہوتی ہے، اور جنس کے بدلے جنس، یا رقم کی ادائیگی کے ذریعے تجارت کی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا چونکہ ایران پر بین الاقوامی پابندیاں ہیں، تو اس لیے بظاہر یہ دباؤ ہے کہ تجارت بینکنگ چینلز کے ذریعے ہو۔
انھوں نے کہا کہ جب ایران پر پابندیاں ہیں تو ایرانی بینکوں کے ذریعے تجارت ممکن نہیں ہے اور اسی صورتحال کے پیش نظر ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کے حوالے سے تاجروں کو بعض رعایتیں دی گئی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پابندیوں کی یہ تلوار ہر وقت تاجروں پر لٹکی رہتی ہے۔
بدر الدین کاکڑ کے مطابق جہاں بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کے حوالے سے مشکلات ہیں وہیں پاکستان کے بڑے شہروں میں تاجروں کا بھی دباؤ ہے۔
اُن کے بقول وہ بھی اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے سرحدی تجارت کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے اب ایران کے ساتھ سرحدی تجارت میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
سرحدی گزرگاہیں اور تجارت
بلوچستان کے پانچ اضلاع کی ایران کے ساتھ سرحدیں ملتی ہیں، جن میں چاغی ، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر شامل ہیں۔
ان پانچوں اضلاع میں پاکستان اور ایران کے درمیان متعدد گزرگاہیں ہیں، لیکن اِن میں سے چار گزرگاہوں سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تجارت ہوتی ہے۔ اِن میں گوادر سے گبد ریمدان ،کیچ سے مند ردیگ، پنجگور سے چیدگی اور چاغی سے تفتان گزرگاہ شامل ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان زیادہ سرحدی تجارت گبد ریمدان اور تفتان بارڈر کے ذریعے ہوتی ہے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان ہونے والی تجارت کے مستند اور مکمل اعداد و شمار اس طرح دستیاب نہیں ہیں جیسے پاکستان کی دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کے اعداد و شمار ہوتے ہیں۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق سنہ 2023-24 کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم تقریباً 2.8 ارب امریکی ڈالر رہا، جس میں پاکستان کی برآمدات 684 ملین ڈالر جبکہ درآمدات 2.1 ارب ڈالر رہیں۔
اس باقاعدہ تجارت کے علاوہ غیر رسمی شعبے کے ذریعے ایران سے بڑی مقدار میں پٹرول اور ڈیزل بھی بڑی مقدار میں سمگل ہو کر پاکستان پہنچتا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ایران سے اہم درآمدات میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی)، تارکول، کھجوریں، لوہے یا غیر مرکب فولاد کی راڈز ، ٹماٹر، پیاز، خشک میوہ جات، ایتھائلین پولیمرز اور ایسی کلک ہائیڈروکاربنز شامل ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کی ایران کو اہم برآمدات میں چاول، تل کے بیج، آم، کیلے، ترش پھل، مویشی (لائیو سٹاک)، کپڑے، جراحی اور دندان سازی میں استعمال ہونے والے آلات، جیلاٹن اور گوشت سمیت دیگر اشیا شامل ہیں۔
کاروباری حلقوں کے اس تجارت کے اعداد و شمار اس لیے سرکاری ریکارڈ میں واضح نظر نہیں آتے کیونکہ ایران جانے والے سامان کی گڈز ڈیکلریشن میں اکثر وسطی ایشیائی ریاستوں کا نام درج کیا جاتا ہے، حالانکہ وہ مال درحقیقت ایران میں ہی استعمال ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ سرحدی تجارت کا لین دین عموماً پاکستانی روپے میں بھی ہوتا ہے، جو سرکاری تجارتی ڈیٹا میں شامل نہیں ہو پاتا۔
’واضح پالیسی سامنے آنے تک تاجر محتاط رہیں‘
سرحد پر تجارتی سرگرمیاں بند ہونے کے بعد کوئٹہ چیمبر آف کامرس نے تاجروں کو ہدایت کی ہے وہ فی الحال ایران سے نئی خریداری اور مال کی بکنگ کو روک دیں۔
چیمبر آف کامرس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تاجر برادری ممکنہ مالی نقصان اور کسٹمز کلیئرنس کے مسائل سے بچنے کے لیے استثنیٰ کی بحالی اور اس میں توسیع تک ایران سے خریداری نہ کریں۔
ایران سے تجارت کرنے والے تمام تاجروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں اور متعلقہ حکام کی جانب سے واضح پالیسی سامنے آنے تک محتاط رہیں۔