خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت، وفاقی حکومت کو نوٹس جاری
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے خلاف پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواست پر پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سمات 10 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔
صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے خلاف درخواست پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل بینچ نے کی۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنی درخواست میں استدعا کی ہے کہ صوبے میں تحریک انصاف کے خلاف انتقامی اقدامات روکے جائیں اور اس درخواست کی جلد سماعت کی استدعا کی تھی۔
تاہم عدالت نے اٹارنی جنرل، وفاق سمیت فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کردی ہے۔
درخواست گزار نے وفاقی حکومت کے اس اقدام کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم کرنے اور صوبے میں منتخب حکومت کے آئینی اختیارات بحال کرنے کی استدعا کی ہے۔
درخواست کب اور کیسے دائر ہوئی؟
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے 14 اکتوبر 2026 کو پشاور ہائی کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت درخواست دائر کی۔ درخواست ایڈووکیٹ شاہ فیصل الیاس کے ذریعے جمع کروائی گئی۔
یاد رہے کہ صدر علی زرداری نے 11 اکتوبر کو وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی حکومت کی سفارش پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی تھی۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کا جواز صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مبینہ عدم تعاون اور صوبے کی سکیورٹی صورت حال کو قرار دیا تھا۔
وفاقی حکومت کے اس فیصلے کے نتیجے میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے کے انتظامی معاملات کی ذمہ داری سنبھال لی ہے، جبکہ ان کی معاونت کے لیے 11 رکنی خیبر پختونخوا ایڈوائزری کونسل قائم کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت نے صوبے میں سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے فوج کی تعیناتی کا حکم بھی جاری کیا۔
بیرسٹر گوہر نے اپنی درخواست میں 11 اکتوبر کے صدارتی اعلان، فوج کی تعیناتی کے حکم اور ان اقدامات کے نتیجے میں جاری ہونے والے انتظامی احکامات اور نوٹیفکیشنز کو چیلنج کیا ہے۔ درخواست میں وفاقِ پاکستان، متعلقہ وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومت، گورنر خیبر پختونخوا، سپیکر صوبائی اسمبلی اور محکمہ داخلہ کے متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی درخواست میں فریق کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے۔