آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت، وفاقی حکومت کو نوٹس جاری

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے خلاف پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواست پر پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سمات 10 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت، وفاقی حکومت کو نوٹس جاری

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے خلاف پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواست پر پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سمات 10 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

    صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے خلاف درخواست پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل بینچ نے کی۔

    بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنی درخواست میں استدعا کی ہے کہ صوبے میں تحریک انصاف کے خلاف انتقامی اقدامات روکے جائیں اور اس درخواست کی جلد سماعت کی استدعا کی تھی۔

    تاہم عدالت نے اٹارنی جنرل، وفاق سمیت فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کردی ہے۔

    درخواست گزار نے وفاقی حکومت کے اس اقدام کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم کرنے اور صوبے میں منتخب حکومت کے آئینی اختیارات بحال کرنے کی استدعا کی ہے۔

    درخواست کب اور کیسے دائر ہوئی؟

    پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے 14 اکتوبر 2026 کو پشاور ہائی کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت درخواست دائر کی۔ درخواست ایڈووکیٹ شاہ فیصل الیاس کے ذریعے جمع کروائی گئی۔

    یاد رہے کہ صدر علی زرداری نے 11 اکتوبر کو وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی حکومت کی سفارش پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی تھی۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کا جواز صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مبینہ عدم تعاون اور صوبے کی سکیورٹی صورت حال کو قرار دیا تھا۔

    وفاقی حکومت کے اس فیصلے کے نتیجے میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے کے انتظامی معاملات کی ذمہ داری سنبھال لی ہے، جبکہ ان کی معاونت کے لیے 11 رکنی خیبر پختونخوا ایڈوائزری کونسل قائم کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت نے صوبے میں سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے فوج کی تعیناتی کا حکم بھی جاری کیا۔

    بیرسٹر گوہر نے اپنی درخواست میں 11 اکتوبر کے صدارتی اعلان، فوج کی تعیناتی کے حکم اور ان اقدامات کے نتیجے میں جاری ہونے والے انتظامی احکامات اور نوٹیفکیشنز کو چیلنج کیا ہے۔ درخواست میں وفاقِ پاکستان، متعلقہ وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومت، گورنر خیبر پختونخوا، سپیکر صوبائی اسمبلی اور محکمہ داخلہ کے متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی درخواست میں فریق کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے۔

  2. مالدیپ کے صدر پاکستان کے تین روزہ سرکاری دورے پر آج اسلام آباد پہنچیں گے

    پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو پاکستان کے تین روزہ سرکاری دورے پر آج اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

    ریڈیو پاکستان پر شائع خبر کے اس دورے کے دوران صدر محمد معیزو اپنے پاکستانی ہم منصب آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے جو ان کے اعزاز میں عشائیہ دیں گے۔

    مالدیپ کے صدر وزیراعظم شہباز شریف سے معاونین کے بغیر اور وفود کی سطح پر مذاکرات بھی کریں گے۔

    دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے اور مختلف شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کے امکانات تلاش کریں گے۔

    دورے کے دوران دوطرفہ تعاون کے مختلف شعبوں سے متعلق متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔

  3. پاسدارانِ انقلاب کا امریکی فوج کا ایک ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے امریکی فوج کا ایک ڈرون مار گرایا ہے۔

    منگل 19 اکتوبر کی صبح پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) کا ایک ایم کیو-9 ڈرون آبنائے ہرمز کی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔

    بیان میں کہا گیا ہے ملک کے مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کی نگرانی میں کام کرنے والے ’پاسدارانِ انقلاب کے نئے جدید ایرو سپیس دفاعی نظام‘ نے اس ڈرون کو تباہ کر دیا ہے۔

    تاہم سینٹکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

  4. امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اسرائیل کا غیر اعلانیہ دورہ کیا اور نتن یاہو سے ملاقات کی: ایگزیوز کا دعویٰ

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوز نے دو ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ امریکہ کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سوموار کے روز اسرائیل کا ایک غیر اعلانیہ دورہ کیا اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو سے ملاقات کی۔

    تاہم بی بی سی فارسی کے مطابق بین الاقوامی خبر روئٹرز کا کہنا ہے کہ وہ تاحال اس دورے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔ امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا جبکہ واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے نے بھی روئٹرز کی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

    اس دورے کی خبر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آئندہ ہفتے ہونے والے اسرائیلی پارلیمانی انتخابات میں نتن یاہو کی حمایت کے اعلان کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔

    یہ انتخابات سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل میں ہونے والے پہلے ملک گیر انتخابات ہیں۔ اس حملے نے اسرائیل کو گہرے طور پر متاثر کیا تھا اور مشرقِ وسطیٰ کو بدامنی کے ایک نئے دور میں دھکیل دیا تھا۔ اس کے بعد سے اسرائیل غزہ، لبنان اور ایران سے متعلق تنازعات اور جنگوں میں الجھا ہوا ہے۔

    دوسری جانب امریکہ میں بھی اگلے ماہ کے آغاز میں وسط مدتی انتخابات ہو رہے ہیں۔

    ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات کو جواز بنا کر ایران کے خلاف کسی نئے حملے کی تیاری نہ کریں۔

    ایران کے فوجی حکام گذشتہ چند روز کے دوران متعدد بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی نئے فوجی تصادم کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کا کوئی نیا مرحلہ شروع ہوتا ہے تو ایران ’نئے فوجی اہداف اور مختلف ہتھیاروں‘ پر غور کر سکتا ہے۔

  5. پاکستانی وزیرِ داخلہ کی دوحہ میں قطری ہم منصب سے ملاقات، سکیورٹی پارنٹر شپ بڑھانے پر اتفاق

    پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دوحہ میں قطری ہم منصب و داخلی سلامتی فورس (لخویہ) کے کمانڈر شیخ خلیفہ بن حمد بن خلیفہ آل ثانی سے ملاقات کی ہے۔

    وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں داخلی سکیورٹی سے متعلقہ شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور دونوں وزرائے داخلہ نے سکیورٹی پارنٹر شپ بڑھانے پر اتفاق کیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتحال اور علاقائی امن واستحکام کے امور پر بھی گفتگو ہوئی۔

    ملاقات میں فیصلہ ہوا کہ داخلی سکیورٹی سے متعلق باہمی تعاون اور شراکت داری کو مضبوط بنایا جائے گا۔

    وزارتِ داخلہ کے مطابق محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور قطر علاقائی امن و استحکام کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔

    بیان کے مطابق قطری وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دوحہ اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

  6. سعودی سفیر کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کے تحت ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار

    پاکستان میں نئے تعینات ہونے والے سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی نے راولپنڈی میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔

    پاکستان میں سعودی عرب کے سفارتخانے نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دونوں برادر ممالک کے مابین تعلقات کی گہرائی، باہمی اعتماد اور سٹریٹجک شراکت داری پر زور دیا۔

    بیان کے مطابق فیلڈ مارشل نے دونوں ممالک کے لیے ترقی و خوشحالی کے حصول کی خاطر ان روابط کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان می٘ں کہا گیا ہے کہ جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دونوں شخصیات نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کے تحت ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور دفاعی تعاون، ادارہ جاتی روابط اور تزویراتی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

    سعودی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سعودی سفیر نے نے ’سعودی عرب کے لیے برادر ملک پاکستان کی حکومت، افواج اور عوام کے برادرانہ موقف پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا۔‘

    سعودی سفیر نے دونوں برادر ممالک کے درمیان گہرے اور اسٹریٹجک تعلقات کا اعادہ کیا اور تمام شعبوں میں ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

    یاد رہے کہ انڈپینڈنٹ العربیہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کو ضروری فوجی معاونت فراہم کر رہا ہے اور اس کے خلاف کسی بھی حملے کو روکنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔

    حوثیوں کے نام ایک انتباہی پیغام میں پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے تصدیق کی کہ سعودی عرب پر حملوں کا جواب ’مکہ اتحاد‘ کے رکن ممالک کی جانب سے اجتماعی سطح پر دیا جائے گا۔

  7. 10 روز میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 17 روپے سے زائد کی کمی، پیٹرول 381 روپے 14 پیسے میں فروخت ہو گا

    پاکستان کی وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں سات روپے 69 پیسے تک کمی کردی ہے۔

    پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ملک بھر میں ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 69 پیسے فی لیٹر جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 16 پیسے فی لیٹر کمی کی ہے۔

    قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد ڈیزل کی فی قیمت 389 روپے 27 پیسے فی لیٹر ہو گئی جبکہ پیٹرول کی نئی قیمت میں 381 روپے 14 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔

    گذشتہ 10 روز کے دوران پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں 17 روپے سے زائد کی کمی دیکھی گئی ہے۔

    10 اکتوبر کو اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ملک میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 398 روپے 30 پیسے تھی جو پچھلے 10 دنوں میں 17 روپے 16 پیسے کمی کے بعد 381.14 روپے ہو گئی ہے۔

    خیال رہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل پر بندش کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خوا اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں نے بھی تیل کی قیمتوں پر منفی اثر ڈالا ہے۔

  8. بلوچستان کے دو مختلف علاقوں سے چھ افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے دو مختلف علاقوں سے چھ افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئیں جن میں سے دو کا تعلق سندھ سے ہے۔

    ان میں سے چار افراد کی لاشیں ضلع گوادر کے علاقے پسنی سے برآمد ہوئیں جن کی موت گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔

    پسنی میں پولیس کے ایک سینیئر اہلکار حیات بلوچ نے بتایا کہ پسنی سے چار افراد کی لاشیں دو مختلف علاقوں سے برآمد ہوئیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے دو افراد کی لاشیں صبح کے وقت چکلی کے علاقے سے ملیں جبکہ دو دیگر لاشیں شام کو کوکو نٹ فارم کے قریب سے ملیں۔

    انھوں نے بتایا کہ چاروں افراد کی موت گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ تاحال ان افراد کی ہلاکت کے محرکات معلوم نہیں ہوسکے۔

    انھوں نے بتایا کہ جن دو افراد کی لاشیں چکلی کے علاقے سے برآمد ہوئیں ان کی شناخت ہوئی ہے اور ان دونوں افراد کا تعلق پسنی سے تھا جبکہ دوسرے دو افراد کی تاحال شناخت نہیں ہوئی ہے۔

    ادھر بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع واشک سے بھی دو افراد کی لاشیں ملیں۔ واشک میں پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دونوں افراد کی لاشیں ضلع کے علاقے حُرماگئے سے ملیں جنھیں نامعلوم مسلح افراد نے اتوار کے روز فائرنگ کرکے ہلاک کیا تھا۔

    پولیس اہلکار کے مطابق ان افراد کی شناخت فہیم اور مجید کے ناموں سے ہوئی جن کا تعلق پاکستان کے صوبہ سندھ سے بتایا جاتا ہے پولیس اہلکار نے بتایا اس واقعے کے بھی تاحال محرکات معلوم نہیں ہوسکے پیں۔

  9. پاکستان کے بیرونی قرضے 106.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئے: وزارتِ خزانہ, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستان کے حکومتی بیرونی قرضے مالی سال 2026 کے اختتام پر بڑھ کر 106.8 ارب ڈالر ہو گئے تاہم وزارتِ خزانہ کا دعویٰ ہے کہ قرضوں میں اضافے کی رفتار ماضی کے مقابلے میں کم ہوئی ہے اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے مقابلے میں قرضوں کا تناسب بھی کم ہوا ہے۔

    وزارتِ خزانہ نے سوموار کے روز جاری وضاحت میں کہا کہ حکومتی قرضوں میں روزانہ 20 ارب روپے اضافے سے متعلق خبر ملک کے عوامی قرضوں کی مکمل اور درست تصویر پیش نہیں کرتی۔ وزارت کے مطابق قرضوں کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ان کا موازنہ معیشت کے حجم سے کرنا ضروری ہے۔

    وزارتِ خزانہ کے مطابق پاکستان کے مجموعی حکومتی قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب مالی سال 2023 کے اختتام پر 75 فیصد سے کم تھا، جو مالی سال 2026 کے اختتام پر مزید کم ہو کر 68 فیصد رہ گیا۔

    اسی طرح قرضوں میں اضافے کی سالانہ شرح مالی سال 2023 میں تقریباً 26 فیصد تھی، جو مالی سال 2026 میں کم ہو کر 7.7 فیصد رہ گئی۔

    وزارت کا کہنا ہے کہ مالی سال 2026 میں حکومتی قرضوں میں اضافے کی شرح گزشتہ دو دہائیوں کی کم ترین سطح پر رہی، جبکہ مالی سال 2007 سے 2026 کے دوران یہ اوسطاً 16.7 فیصد سالانہ تھی۔

    بیرونی قرضوں کے حوالے سے وزارت نے بتایا کہ مالی سال 2022 کے اختتام پر حکومتی بیرونی قرضے 100 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2026 کے اختتام پر 106.8 ارب ڈالر ہوئے۔

    وزارت نے مزید بتایا کہ اگست 2026 کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مرکزی حکومت کے قرضے جون 2026 کے مقابلے میں تقریباً 689 ارب روپے کم ہوئے۔ قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    وزارت کے مطابق یہ اخراجات مالی سال 2025 میں تقریباً 8,900 ارب روپے تھے، جو مالی سال 2026 میں کم ہو کر تقریباً 6,900 ارب روپے رہ گئے۔ مجموعی وفاقی محصولات کے مقابلے میں قرضوں کی ادائیگی کا تناسب بھی مالی سال 2023 کے 64 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2026 میں 38 فیصد رہ گیا۔

    وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے مالی سال 2025، مالی سال 2026 اور مالی سال 2027 کے ابتدائی عرصے میں تقریباً 5,920 ارب روپے سے زائد کے مہنگے قرضے مقررہ مدت سے پہلے واپس کیے۔

    وزارت کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر ستمبر 2026 تک بڑھ کر 21.5 ارب ڈالر ہو گئے، جبکہ ماضی میں یہ کم ترین سطح پر 2.9 ارب ڈالر رہ گئے تھے۔

  10. روس اور ایران کے وزرائے خارجہ کی ملاقات، خطے کے مسائل کا سفارتی حل ضروری ہے: عباس عراقچی

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خلیج اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ 28 فروری کے بعد ایران کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائیوں اور حملوں نے خطے کی سلامتی کی صورتحال کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق خطے کے مسائل کا فوجی نہیں، سفارتی حل ضروری ہے۔

    عباس عراقچی نے یہ بات 19 اکتوبر کو تہران میں روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ یہ پریس کانفرنس سرکاری خبر رساں چینل آئی آر آئی این این ٹو پر براہِ راست نشر کی گئی۔

    دونوں وزرائے خارجہ نے بحیرہ کیسپین میں ایرانی اور روسی جہازوں اور بندرگاہوں پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا اور اس معاملے پر ملاقات کے دوران بھی تبادلۂ خیال کیا۔

    عباس عراقچی کے مطابق ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی امور کے وسیع دائرے پر گفتگو ہوئی، جن میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات، اسرائیل۔فلسطین تنازع، یمن کی جنگ، افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی، اور روس۔یوکرین جنگ شامل تھے۔

    انھوں نے سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے مسائل فوجی ذرائع سے حل نہیں ہو سکتے۔

    عباس عراقچی نے مزید کہا کہ تہران اور ماسکو اس بات پر متفق ہیں کہ فلسطینیوں کی ’نسل کشی‘ اور خطے میں اسرائیلی توسیع پسندی ختم ہونی چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران اور روس برکس، شنگھائی تعاون تنظیم اور یوریشین اقتصادی اتحاد سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز کے ذریعے امریکی ’یکطرفہ پسندی‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے باہمی تعاون جاری رکھیں گے۔

    ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایرانی اور روسی صدور کی جانب سے جامع سٹریٹیجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    روس ایران کے ساتھ تعاون ترک نہیں کرے گا: روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف

    عباس عراقچی کی تقریر کے بعد، سرگئی لاوروف نے کہا کہ وہ ایرانی وزیر خارجہ کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل سے متفق ہیں اور اس بات چیت کو بہت نتیجہ خیز سمجھتے ہیں۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور روس کے درمیان سٹریٹجک تعاون بڑھ رہا ہے۔

    روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ انھوں نے ایران کو خوراک اور طبی امداد کی پیشکش کی ہے اور کہا کہ مسعود پزشکیان ماسکو میں گیس کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

    سرگئی لاوروف نے یہ بھی کہا کہ روس دونوں ممالک کے مشترکہ سٹریٹجک معاہدے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور ماسکو ایران کے ساتھ تعاون کو کبھی ترک نہیں کرے گا۔

  11. مصری پارلیمان میں صدر کو سعودی عرب فوج بھیجنے کا اختیار دینے سے متعلق ووٹنگ ملتوی

    مصری پارلیمنٹ میں صدر کو سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کرنے کا اختیار دینے سے متعلق ووٹنگ کو مزید ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے، اور اب یہ 26 اکتوبر کو ہوگی۔

    اس ووٹنگ کو کل اس لیے ملتوی کیا گیا تھا تاکہ تمام نمائندوں کو اپنی رائے دینے اور اپنے خیالات کے اظہار کا موقع مل سکے۔

    صدر عبدالفتاح السیسی نے سنیچر کے روز مصری اراکینِ پارلیمنٹ سے کہا کہ اگر سعودی عرب درخواست کرے تو اسے حوثی حملوں کے خلاف مدد فراہم کرنے کی منظوری دی جائے۔

    اُنھوں نے کہا تھا: ’میں جانتا ہوں کہ اس اقدام کے لیے پارلیمانی منظوری درکار ہے، اس لیے میں نے ایک ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی ہے تاکہ ہمیں یہ اختیار مل سکے کہ اگر سعودی عرب درخواست کرے تو ہم کارروائی کر سکیں۔‘

    مصر 2015 میں یمن میں سعودی قیادت والے فوجی اتحاد کا حصہ بنا تھا، اگرچہ اس کا کردار بنیادی طور پر جنگی محاذ پر فوجی کارروائیاں کرنے کے بجائے بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے راستوں کو محفوظ بنانے تک محدود رہا ہے۔

    حوثی رہنماؤں نے مصر کو خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ ان کی جنگ میں مداخلت نہ کرے، کیونکہ ایسی مداخلت بالآخر اسرائیلی مفادات کی تکمیل کا باعث بنے گی۔

    حوثیوں نے براہ راست دھمکیاں دینے سے تو گریز کیا، لیکن 1960 کی دہائی میں مصر کی جانب سے کی گئی فوجی مداخلت کا حوالہ دیا، جس کے نتیجے میں مصر کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

  12. یمن کے صوبے شبوہ میں فوجی کیمپ پر حوثیوں کے حملے میں کم ازکم 53 افراد ہلاک، 200 زخمی

    مقامی حکام کے مطابق، پیر کے روز جنوبی وسطی یمن کے صوبہ شبوہ میں ’انصار اللہ‘ (حوثی) گروپ کے حملے میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور 200 زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ سرکاری سکیورٹی فورسز کے ایک تربیتی کیمپ پر کیا گیا، ایسے وقت میں جب ملک بھر میں لڑائی شدت اختیار کر رہی ہے۔

    خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کی جانب سے تصدیق کی گئی ویڈیوز میں صوبہ شبوہ کے اس مقام پر زخمی افراد اور خون میں لت پت لاشیں زمین پر بکھری ہوئی دکھائی دیں۔

    مقامی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ حوثیوں نے کیمپ میں جاری تربیتی مشقوں کے دوران سکیورٹی فورسز پر تین بیلسٹک میزائل داغے۔

    حوثیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

    صوبہ شبوہ جنوبی وسطی یمن کے ساحلی علاقے میں واقع ہے اور توانائی کے وسیع ذخائر سے مالا مال ہے۔

    شبوہ میں موجود ایک سرکاری فوجی ذریعے نے یہ بھی بتایا کہ حوثیوں نے اتوار کے روز اس سڑک کو بند کر دیا جو صوبہ شبوہ کو صوبہ بیضا سے ملاتی ہے۔ واضح رہے کہ صوبہ بیضا اس وقت حوثیوں کے کنٹرول میں ہے۔

  13. روس کبھی بھی ایران کے ساتھ تعاون ترک نہیں کرے گا: روسی وزیرِ خارجہ کی تہران میں نیوز کانفرنس

    روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ روس ایران کے ساتھ تعاون ترک نہیں کرے گا۔

    پیر کو تہران میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے روسی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران اور روس کے درمیان سٹریٹجک تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ روس دونوں ممالک کے مشترکہ سٹریٹجک معاہدے کے حوالے سے مکمل طور پر پرعزم ہے اور ماسکو کبھی بھی ایران کے ساتھ تعاون ترک نہیں کرے گا۔

    روسی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے ایران کو خوراک اور طبی امداد کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسعود پزشکیان ماسکو میں ہونے والی گیس کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

    اس موقع پر ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کے مسائل کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

    اُنھوں نے خطے میں عدم تحفظ کی وجہ امریکہ، ایران کے ساتھ جنگ ​​اور بحری ناکہ بندی کو قرار دیا۔

    عباس عراقچی نے کہا کہ اُنھوں نے روسی وزیرِ خارجہ کے ساتھ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کی صورتحال پر گفتگو کی ہے۔

  14. فرانس میں پرتشدد احتجاج کے بعد مقامی میئرز کو جزوی کرفیو لگانے کے اختیارات

    فرانس کے وزیرِ اعظم سیباستیاں لیکورنو نے کہا ہے کہ اُنھوں نے مقامی میئرز کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ ملک کے کچھ حصوں میں جزوی کرفیو نافذ کر سکتے ہیں۔ اُن کے بقول اس اقدام کا مقصد عوام اور کاروباری اداروں کا تحفظ کرنا ہے۔

    پیرس میں کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم لیکورنو کا کہنا تھا کہ پیر سے پیرس میں ایک اہم آپریشن شروع ہو رہا ہے جس میں 200 تفتیش کار شامل ہوں گے، یہ تفتیش کار ہفتے کے آخر میں ہونے والے تشدد کی فوٹیج کا جائزہ لیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت متاثرہ علاقوں کو پہنچنے والے نقصانات سے نمٹنے اور بحالی کے لیے فنڈز بھی مختص کرے گی اور یہ رقم ان لوگوں سے وصول کی جائے گی جو ان پرتشدد کارروائیوں کے ذمہ دار ہیں۔

    لیکورنو نے کہا، ’ایک ایسا قانون لایا جائے گا جس کے ذریعے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ جن لوگوں نے املاک کو نقصان پہنچایا ہے، انھیں اس کا ہرجانہ ادا کرنا پڑے۔‘

    خیال رہے کہ مہنگائی اور سکولوں میں پیدا ہونے والے مسائل کے خلاف سنیچر کے روز فرانس بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا۔

    فرانسیسی حکومت کے مطابق، جسے 'تشدد میں اضافہ' قرار دیا جا رہا ہے، اس دوران کم از کم ساڑھے پانچ لاکھ افراد سڑکوں پر نکل آئے۔

    پیرس میں شام تک انسدادِ فسادات پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی، جہاں پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔

    دارالحکومت پیرس اور دیگر علاقوں میں متعدد عمارتوں کو آگ لگا دی گئی۔ لیموج میں واقع ٹاؤن ہال میں لگنے والی شدید آگ کے باعث عمارت کی چھت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا۔

    کئی شہروں میں لوٹ مار کے واقعات بھی پیش آئے، جن کے دوران ٹاؤن ہالز اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا۔

  15. حکومتِ پنجاب کا خفیہ کیمروں، ریکارڈنگ والی عینکوں، پن اور گھڑیوں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے خفیہ کیمروں اور ریکارڈنگ آلات سے لیس عینکوں، پین، گھڑیوں اور دیگر ڈیوائسز پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    یہ فیصلہ پیر کو پنجاب کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت وزیرِ اعلی پنجاب مریم نواز نے کی۔

    اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ اطلاعات و نشریات اعظمی بخاری کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ خاص طور پر خواتین اور بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا۔

    پنجاب حکومت کے مطابق جاسوسی کے آلات اور خفیہ الیکٹرانک ڈیوائسز کے استعمال اور خرید و فروخت پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق جاسوسی کے آلات کے ذریعے غیر قانونی نگرانی، ہراسانی اور بلیک میلنگ کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ خفیہ کیمروں سے لیس روزمرہ استعمال کی اشیاء کے غیر قانونی استعمال پر سخت سزا ہو گی۔

  16. امریکہ کے کسی بھی نئے حملے کا نتیجہ عالمی سطح پر توانائی کا سنگین بحران ہو گا: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا انتباہ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس نئی کارروائیاں کرنے کی ’فنی اور عسکری‘ صلاحیت نہیں، تاہم ’وہ شاید کچھ کامیابیاں حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔‘

    ایرانی میڈیا کے مطابق، حسین محبی نے کہا: ’امریکہ یقیناً اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ کوئی نیا تنازع شروع کرے جس سے اسے نئی کامیابیاں حاصل ہوں۔‘

    اُنھوں نے وضاحت کی کہ خطے میں موجود امریکی اڈوں کا بیشتر حصہ غیر فعال کر دیا گیا ہے اور یہ کہ ان کی افواج، تھکاوٹ کا شکار ہونے کے علاوہ، ایران سے سینکڑوں کلومیٹر دور منتقل ہو چکی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ امریکی بحری جہاز بھی خلیج فارس سے 700 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر موجود ہیں۔

    تاہم، حسین محبی نے فوجی حملے کے امکان کو مسترد نہیں کیا اور کہا: ’امریکہ کے پاس نئی کارروائیاں انجام دینے کی فنی اور عسکری صلاحیت نہیں، لیکن یہ ممکن ہے کہ چونکہ امریکی انتخابات قریب آ رہے ہیں، اس لیے وہ کچھ کامیابیاں حاصل کرنا چاہے۔‘

    سپاہِ پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے کہا: ’ہم ان امکانات کو نظرانداز نہیں کرتے اور کسی بھی اقدام کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں، اور اس بار ہمارا جواب کہیں زیادہ سخت ہو گا۔‘

    انھوں نے خبردار کیا: ’امریکہ کی کسی بھی نئی کارروائی، خواہ وہ محدود ہی کیوں نہ ہو، کے نتیجے میں دنیا کو توانائی کے ایک سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

  17. ایران اور روس کے وزرائے خارجہ کی تہران میں ملاقات

    پیر کو تہران پہنچنے والے روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات کی ہے۔

    ملاقات میں عباس عراقچی کے علاوہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے نائبین اور ترجمان بھی موجود تھے۔

    دونوں فریقین کے سفارتی وفود کے درمیان مشاورت کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔

    اس ملاقات کے بعد سرگئی لاوروف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات طے ہے۔

    روسی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ماسکو کا مقصد ایک ’بڑے پیمانے کی جنگ‘ کو روکنا ہے۔

    ایران کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کا مقصد دوطرفہ معاہدوں کو آگے بڑھانا ہے۔

    سرگئی لاوروف بحرین میں ہونے والے ’خلیجی تعاون کونسل‘ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد تہران روانہ ہوئے تھے۔

  18. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مزید 25 افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو، اسلام آباد

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے مزید 25 افراد کے نام انسداد دہشت گردی کے فورتھ شیڈول میں ڈال دیے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے افراد کی تعداد 400 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

    جن افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے ان میں سے زیادہ تر کا تعلق کالعدم قرار دی گئی تنظیم جملوں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے ہے اور زیادہ تر افراد کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پونچھ ڈویژن سے ہے۔

    محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے اس فہرست میں پونچھ سے 16 سدھنوتی سے پانچ نیلم سے دو جبکہ باغ اور میر پور سے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کا ایک ایک نمائندہ شامل ہے۔

    محکمہ داخلہ نے چند روز قبل جن افراد کی فہرست جاری کی تھی اس میں راولاکوٹ کے ایک مقامی صحافی کا نام بھی شامل ہے۔

    اگر کسی شخص کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے تو اس کو مقامی تھانے میں ہفتے میں ایک مرتبہ حاضری لگوانا پڑتی ہے اور اگر اس شخص کو کسی دوسرے علاقے میں جانا ہو تو اسے متعلقہ تھانے میں پیشگی اطلاع دینا ضروری ہے۔

    ضلعی سطح ہر ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے جس میں خفیہ اداروں کے اہلکار بھی شامل ہوتے ہیں اور ان کی طرف سے تیار کی گئی رپورٹ کی روشنی میں ضلعی کمیٹی کسی بھی شخص کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کی منظوری دیتی ہے۔

  19. سعودی عرب پر حملوں کا جواب ’مکہ اتحاد‘ کی جانب سے اجتماعی سطح پر دیا جائے گا: ڈی جی آئی ایس پی آر کا حوثیوں کے نام انتباہی پیغام

    پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کو ضروری فوجی معاونت فراہم کر رہا ہے اور اس کے خلاف کسی بھی حملے کو روکنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔

    انڈپینڈنٹ العربیہ کو دیے گئے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدے کے تحت رُکن ممالک کے خلاف کسی بھی جارحیت کا اجتماعی جواب دیا جائے گا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ اگربین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت فوجی معاونت کے لیے باضابطہ درخواست کرتی ہے تو اسلام آباد اس پر غور کرے گا۔

    حوثیوں کے نام ایک انتباہی پیغام میں پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے تصدیق کی کہ سعودی عرب پر حملوں کا جواب ’مکہ اتحاد‘ کے رکن ممالک کی جانب سے اجتماعی سطح پر دیا جائے گا۔

    انھوں نے زور دیا کہ ان کا ملک سعودی عرب کو ضروری فوجی معاونت فراہم کر رہا ہے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے۔

    بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کو براہِ راست فوجی معاونت فراہم کرنے کے امکان کے بارے میں احمد شریف چوہدری نے کہا کہ انھیں معلوم نہیں کہ آیا اسلام آباد کو اس مقصد کے لیے کوئی باضابطہ درخواست موصول ہوئی ہے یا نہیں۔ تاہم انھوں نے زور دیا کہ پاکستان اپنے پاس آنے والی کسی بھی درخواست کا جائزہ لے گا اور اس کے بارے میں مناسب فیصلہ کرے گا۔

    مکہ اور مدینہ پر حملوں کے بارے میں پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ حملوں کے بعد ان کے ملک میں ’گلیوں میں عام لوگوں، بچوں اور نوجوانوں سے لے کر ہماری سیاسی اور عسکری قیادت تک، سب کے جذبات غصے پر مبنی تھے۔ ہم حیران تھے کہ کوئی سمجھدار شخص سعودی عرب پر حملہ کیسے کر سکتا ہے یا مقدس مقامات کو دھمکی دینے یا انھیں خطرے میں ڈالنے کا تاثر کیسے دے سکتا ہے؟‘

  20. مشرقِ وسطیٰ میں امریکی شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت

    مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر حصوں میں قائم امریکی سفارت خانوں نے امریکی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ’پیچیدہ سکیورٹی صورتحال‘ اور سفری رکاوٹوں کے پیشِ نظر چوکس رہیں۔

    خلیجِ فارس کے ممالک، اسرائیل، عراق، لبنان اور اردن میں قائم امریکی سفارت خانوں کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی الرٹ میں کہا گیا ہے کہ: ’مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت موجود امریکی شہریوں کو پیچیدہ سکیورٹی صورتحال کے باعث زیادہ چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔‘

    سکیورٹی الرٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ: ’پروازیں منسوخ ہونے، فضائی حدود بند ہونے اور سفر میں رکاوٹیں پیش آنے کے امکانات سے آگاہ رہیں۔‘

    انتباہ میں کہا گیا ہے کہ یہ جنگ تیزی سے دیگر علاقوں تک ’پھیل‘ سکتی ہے۔

    امریکی شہریوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ پروازوں سے متعلق معلومات پر نظر رکھیں اور ہنگامی صورتحال کے لیے متبادل منصوبے تیار رکھیں۔

    اس انتباہ میں یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر کیے گئے حملوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ حوثیوں کے حملوں میں 18 افراد کی ہلاکت کے بعد ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ بدستور بند ہے۔

    امریکی شہریوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ پروازوں سے متعلق معلومات پر نظر رکھیں اور ہنگامی صورتحال کے لیے متبادل منصوبے تیار رکھیں۔