آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افغانستان میں شیعہ برادری پر بڑھتی پابندیاں: طالبان پر عارضی نکاح پر قدغن لگانے اور عبادات میں مداخلت کرنے کے الزامات
- مصنف, بی بی سی مانیٹرنگ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
طالبان کی حکومت نے افغانستان کی شیعہ برادری پر اپنی پابندیوں میں بتدریج اضافہ کیا ہے۔
حال ہی میں کابل میں ایک سینیئر شیعہ عالم نے الزام عائد کیا کہ طالبان نے عارضی نکاح کا معاہدہ کروانے پر انھیں طلب کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا، جو کہ شیعہ جعفری فقہ میں قابلِ قبول ہے لیکن سنی حنفی فقہ میں نہیں۔
فقہ جعفریہ کو طالبان سے قبل قائم افغانستان کی حکومت کے تحت باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔
تاہم طالبان نے سابقہ حکومت کی قانون سازی کو منسوخ کر دیا ہے اور دیگر اسلامی مکاتبِ فکر کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف حنفی فقہ کو فروغ دیا ہے۔
’عارضی نکاح کا معاہدہ کروانے پر طلب کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا‘
کابل میں ایک سینئر شیعہ عالم آیت اللہ حسین داد شریفی نے الزام عائد کیا ہے کہ طالبان حکام نے انھیں عارضی نکاح کا معاہدہ کروانے پر طلب کیا اور تشدد کیا، جو کہ شیعہ جعفری فقہ میں قابلِ قبول عمل ہے۔
15 مئی کو کیے گئے ایک خطاب میں شریفی نے الزام لگایا کہ طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر و سماعتِ شکایات کے اہلکاروں نے ان سے تفتیش کی، انھیں مارا پیٹا اور ملک کی شیعہ برادری پر مزید پابندیاں عائد کیں۔
طالبان ایک سخت گیر سنی گروہ ہیں اور 15 اگست 2021 کو اقتدار میں واپسی کے بعد سے انھوں نے ملک میں غالب حنفی فقہ کو ہی فروغ دیا ہے۔ سنّی فقہ عارضی نکاح (نکاح المتعہ) کو تسلیم نہیں کرتا۔
شریفی نے کہا کہ طالبان نے انھیں طلب کیا اور ایک اہلکار نے ’مجھے مکا مارا جس سے میری پگڑی گر گئی‘ تاہم کمرے میں موجود افراد نے مزید شدت اختیار کرنے سے روک دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا کہ انھیں اور کئی دیگر شیعہ علما کو اس بات کی تحریری ضمانت دینے پر مجبور کیا گیا کہ وہ عارضی نکاح کا انعقاد نہیں کریں گے۔
انھوں نے کہا: ’انھوں نے درجنوں علما کو جرم کے نام پر طلب کیا ہے، انھیں مدرسے لے جا کر دستخط، تصاویر اور ضمانتیں لی ہیں کہ آئندہ اگر یہ عمل دہرایا تو چھ ماہ قید میں رکھا جائے گا۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ خدا کی قسم، کیا یہ ہمارے لیے توہین نہیں؟ کیا یہ ہمارے مکتبِ فکر کی توہین نہیں؟ کیا یہ ہمارے عقیدے کی توہین نہیں؟‘
عالمِ دین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ طالبان اہلکار سڑکوں پر ہزارہ شیعہ جوڑوں کو روک کر، عارضی نکاح کے شبے میں حراست میں لے رہے ہیں۔
انھوں نے زور دیا کہ وہ سیاسی شخصیت نہیں ہیں اور انھوں نے سیاست میں ایک دن بھی نہیں گزارا اور طالبان سے اپیل کی کہ ’کم از کم ہماری نجی زندگی میں مداخلت نہ کریں۔‘
بیرونِ ملک قائم افغان نجی اداروں، بشمول برطانیہ میں قائم افغانستان انٹرنیشنل، امریکہ میں قائم امو ٹی وی اور اطلاعاتِ روز نے شریفی کے بیانات کو رپورٹ کیا ہے۔
قانونی تناظر کیا ہے؟
افغانستان کی تقریباً 20 فیصد آبادی شیعہ ہے اور سابقہ حکومت نے شیعہ شہریوں کے لیے شہری معاملات میں باضابطہ طور پر شیعہ فقہ کو تسلیم کیا تھا۔
شیعہ شہریوں کی اکثریت جعفری فقہ پر عمل کرتی ہے اور طالبان سے پہلے کی حکومت نے 2009 کے شیعہ پرسنل سٹیٹس قانون کے تحت خاندانی معاملات جیسے نکاح، طلاق، وراثت اور دیگر شہری امور میں اسے قانونی حیثیت دی تھی۔
تاہم اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد طالبان نے افغانستان کا آئین اور وہ قوانین معطل کر دیے جو سابقہ اسلامی جمہوریہ حکومت کے تحت منظور کیے گئے تھے۔
اس کے بجائے طالبان مسلسل سنی حنفی فقہ کو ترجیح دے رہے ہیں اور شیعہ جعفری فقہ کو محدود کر رہے ہیں، جس میں شیعہ اکثریتی صوبوں کے نصاب سے اس کا اخراج بھی شامل ہے۔
اسی بنیاد پر سنی طالبان حکام عارضی نکاح کے عمل کو تسلیم نہیں کرتے، حالانکہ شیعہ جعفری فقہ اسے جائز قرار دیتا ہے۔
طالبان کے 2024 کے اخلاقی قانون نے ان کی وزارت کو اختیار دیا کہ وہ ’اسلامی شریعت اور حنفی فقہ کی شرائط کے مطابق نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں۔‘
قابلِ ذکر ہے کہ اسی وزارت کے اہلکاروں پر شریفی کو مبینہ طور پر حراست میں لینے اور بدسلوکی کرنے کا الزام ہے۔
طالبان کے 2026 کے فوجداری ضابطے نے بھی دیگر اسلامی مکاتبِ فکر اور مذہبی اقلیتوں کے مقابلے میں سنی حنفی فقہ کی بالادستی کو مضبوط کیا۔
خصوصی طور پر اس میں کسی فرد کے لیے حنفی مکتبِ فکر کو چھوڑنے پر پابندی عائد کی گئی ہے، حالانکہ عام طور پر چاروں سنی مکاتبِ فکر کو یکساں حیثیت حاصل سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح فروری 2026 میں طالبان نے اسلامی مبلغین کے طرزِ عمل کو منظم کرنے کے لیے ایک قانون جاری کیا جس کے مطابق مذہبی مبلغ کا تعلق حنفی مکتبِ فکر سے ہونا ضروری ہے۔
شیعہ برادری پر کیا پابندیاں ہیں؟
شیعہ افغان اور حزبِ اختلاف کے گروہ وقتاً فوقتاً طالبان پر عاشورہ کے عوامی اجتماعات محدود کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں، جس دن شیعہ مسلمان پیغمبر اسلام کے نواسے امام حسین کی شہادت کا سوگ مناتے ہیں۔
تاہم طالبان حکام ان پابندیوں کو عوامی تحفظ کے لیے ’سخت حفاظتی اقدامات‘ قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ تقریبات اکثر شدت پسند تنظیم داعش کے حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔
جب اسلامی تہواروں کے تعین میں معمولی اختلاف ہوا تو طالبان نے شیعہ شہریوں کو زبردستی اپنی فقہ کے مطابق عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ منانے پر مجبور کیا۔
حال ہی میں صوبہ غزنی کے جنوب مشرقی علاقے میں طالبان کی اخلاقی وزارت کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر شیعہ نمازیوں کو خبردار کیا کہ وہ سنی حنفی فقہ کے مطابق نماز ادا کریں، ورنہ ان کی مساجد بند کر دی جائیں گی اور انھیں قید کیا جائے گا۔
غزنی شہر کے نواحی علاقے نوآباد میں طالبان حکام نے مقامی شیعہ افراد کو متنبہ کیا کہ انھیں مغرب اور عشا کی نمازیں الگ الگ ادا کرنی ہوں گی، جبکہ شیعہ جعفری فقہ کے مطابق ان نمازوں کو اکٹھا پڑھنا معمول ہے۔
دیگر کن مذہبی گروہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے؟
اقتدار میں واپسی کے بعد طالبان حکام نے ان مسلم گروہوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جنھیں وہ غیر روایتی سمجھتے ہیں، جن میں شیعہ، بالخصوص اسماعیلی شیعہ، بعض صوفی گروہ اور سلفی شامل ہیں۔
زیادہ تر معاملات میں طالبان کی اخلاقی وزارت یا اس کی مقامی شاخوں نے یہ پابندیاں عائد یا نافذ کی ہیں۔
شیعہ اسلام کی اسماعیلی شاخ خاص طور پر طالبان کی طرف سے نشانے پر دکھائی دیتی ہے۔
دسمبر 2025 میں برطانیہ میں قائم ایک انسانی حقوقی تنظیم راوداری نے کہا تھا کہ افغانستان کی اسماعیلی شیعہ اقلیت کو عبادت، مذہبی رسومات اور جبری تبدیلیٔ مذہب کی کوششوں سمیت امتیازی سلوک اور پابندیوں کا سامنا ہے۔
جنوری 2026 میں ملک سے باہر قائم افغان میڈیا نے رپورٹ کیا کہ شمال مشرقی صوبہ بدخشاں میں طالبان حکام نے ان اسماعیلیوں کے لیے مراعات کی پیشکش کی جو سنی اسلام قبول کریں، جن میں مالی مدد، سکیورٹی ضمانتیں اور سرکاری ملازمت تک رسائی شامل ہے۔
ستمبر 2025 میں طالبان کی اخلاقی وزارت نے ایک سنی صوفی رہنما، سید ابراہیم گیلانی، اور ان کے کئی پیروکاروں کو ’صوفی ازم کے غلط استعمال‘ اور شریعت کے خلاف سرگرمیوں پر حراست میں لیا تھا۔
طالبان نے مشرقی صوبہ کنڑ میں سنی سلفیوں کے مدارس کو بند کر کے انھیں بھی نشانہ بنایا ہے۔
مارچ 2026 میں طالبان نے تعلیمی اداروں پر پابندیاں عائد کیں، جن میں سنی اسلام کی پابندی کا اعلان شامل تھا۔
طالبان کا مؤقف کیا ہے؟
طالبان نے شریفی کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور شیعہ طرزِ عمل پر پابندیوں کے بارے میں عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، اگرچہ اطلاعات ہیں کہ شیعہ رہنماؤں نے اس معاملے پر احتجاج کیا ہے۔
17 مئی کو طالبان کے زیرِ انتظام وزارتِ دیہی بحالی و ترقی نے کہا کہ وزیر ملا عبد اللطیف منصور نے ایک بااثر شیعہ رہنما سید حسن فاضل زادہ اور دیگر نمائندوں سے ملاقات کی۔
اگرچہ بیان میں مزید تفصیل نہیں دی گئی، تاہم افغانستان انٹرنیشنل ٹی وی نے منصور کے حوالے سے کہا کہ وہ تمام مکاتبِ فکر کا احترام کرتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا: ’یہ بیان شیعہ شہریوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور شیعہ علما کی گرفتاری اور پرتشدد سلوک کی خبروں کے بعد دیا گیا۔‘
افغانستان کے شیعہ علما کے اعلیٰ کمیشن نے 13 مئی کو اعلان کیا کہ اس نے ’آیت اللہ شریفی کے ساتھ توہین آمیز سلوک‘ کا معاملہ طالبان کی اخلاقی وزارت کے سامنے اٹھایا اور ایسے نامناسب رویے کو روکنے کا مطالبہ کیا۔
بیان میں کہا گیا: ’کمیشن کے حکام کے استقبال کے دوران معزز وزارت کے حکام نے تعاون اور اس معاملے کو سنجیدگی سے آگے بڑھانے کی یقین دہانی کرائی اور طے پایا کہ وزارت کی کارروائی کے نتائج کمیشن کے حکام کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے۔‘
تاہم طالبان کی اخلاقی وزارت خاموش رہی ہے۔
ماضی میں طالبان رہنما زیادہ تر افغانستان میں بسنے والی تمام قومیتوں اور مذہبی گروہوں کے درمیان اتحاد پر زور دیتے رہے ہیں، اگرچہ بعض نے سنی حنفی فقہ کی بالادستی پر زور دیا ہے۔
ناقدین کیا کہتے ہیں؟
افغان مبصرین، سابق حکام اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے شیعہ اور دیگر مذہبی گروہوں پر طالبان کی پابندیوں پر تنقید کی ہے۔
سابق رکنِ پارلیمان عارف رحمانی نے 17 مئی کو افغانستان انٹرنیشنل کو بتایا: ’شیعہ برادری کے لیے توہین، تذلیل اور مذہبی آزادیوں سے محرومی، خصوصاً علما اور شیعہ رہنماؤں کی تذلیل، غیر دانشمندانہ، غیر اخلاقی اور سیاسی بصیرت کے خلاف ہے۔‘
اسی رپورٹ میں ایک تبصرہ نگار نے کہا: ’تاریخ نے بار بار ثابت کیا ہے کہ کوئی بھی حکومت جو اپنے عوام کی حمایت نہ کرے اور ان پر ظلم کرے، وہ دیر یا بدیر ختم ہو جاتی ہے، اور طالبان کی امارت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔‘
سابق وزیر اطلاعات و ثقافت عبدالباری جہانی نے طالبان کو ایک کھلے خط میں شیعہ برادری کے ساتھ رویے پر سخت تنقید کی۔
انھوں نے افغانستان کے طالبان سے سیاسی فاصلے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا: ’آپ کے شیعہ بھائیوں کی مخالفت اب نفرت میں بدل چکی ہے۔ نفرت کا یہ جذبہ روز بروز بڑھ رہا ہے اور ایک سے دوسرے میں منتقل ہو رہا ہے، اور آپ یا اس سے بھی بڑی طاقتیں، چھ سے سات ملین افراد کی دشمنی کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔‘