آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کے سکول میں ملالہ کی کتاب پڑھنے والوں پر بجرنگ دل کے کارکنوں نے مبینہ حملہ کیوں کیا؟
- مصنف, راکسی گگاڈیکر چھرا
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
یہ جمعرات کی شام کی بات ہے انڈیا کے شہر احمد آباد میں ایک سکول کی جانب سے ملالہ یوسفزئی اور این فرینک کی کتابیں اپنے بک کلب سے ہٹانے کے فیصلے کے خلاف طلبہ، پروفیسرز اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے پرامن احتجاج کے طور پر کتابیں پڑھنا شروع کیں جب ہی ان پر ہندو دائیں بازو تنظیم بجرنگ دل کی جانب سے مبینہ طور پر حملہ کیا گیا۔
ملالہ یوسفزئی اور این فرینک کی کتابوں کو سکول کے ’بک کلب‘ سے ہٹانے کے فیصلے کے خلاف احمد آباد کے وسترا پور علاقے میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ڈی ای او) کے دفتر کے قریب ایک چھوٹے سے باغ میں تقریباً 50 افراد جمع تھے۔
وہ ملالہ یوسفزئی کی خود نوشت ’آئی ایم ملالہ‘ اور این فرینک کی ڈائری کے علاوہ جارج آرویل، بھگت سنگھ، بی آر امبیڈکر، جواہر لال نہرو اور اروندھتی رائے جیسے مصنفین کی تحریریں پڑھ رہے تھے۔
احمد آباد یوتھ اینڈ سٹوڈنٹس کلیکٹیو نے ان کتابوں کی اجتماعی طور پر باآواز بلند پڑھنے کے ذریعے احتجاج کا منصوبہ بنایا تھا۔
اس سے قبل سکول نے اپنے مطالعاتی پروگرام میں آئی ایم ملالہ اور این فرینک کی کتابوں کو اضافی مطالعے کے لیے تجویز کیا تھا تاہم بعض والدین کے اعتراضات کے بعد سکول نےان کتابوں کو فہرست سے ہٹا دیا تھا۔
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے اس سے قبل سکول کو ہدایت دی تھی کہ ایسی کتابیں شامل نہ کی جائیں جو والدین کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچا سکتی ہوں۔
اس فیصلے پر طلبہ اور سول سوسائٹی کے مختلف گروپوں نے تنقید کی اور اعتراض اٹھایا کہ اس سے طلبہ کی مختلف قسم کے ادب اور خیالات تک رسائی محدود ہو سکتی ہے۔
’یوتھ اینڈ سٹوڈنٹس کلیکٹو‘ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس فیصلے کے خلاف پرامن اور خاموش احتجاج کے طور پر ایک کتاب پڑھنے کی تقریب منعقد کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ان کے مطابق مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے چھ بجے بجرنگ دل سے وابستہ افراد کا ایک گروپ پارک میں پہنچا جس کے بعد دونوں گروپوں کے درمیان جھڑپ ہو گئی۔
احتجاج میں شریک افراد کا الزام ہے کہ گروپ کے بعض ارکان لاٹھیاں اٹھائے ہوئے تھے، زعفرانی رنگ کی پٹیاں باندھے ہوئے تھے اور انھوں نے کتاب پڑھنے والے افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
'اس نے میرا بازو پکڑا، زور سے دھکا دیا اور بال بھی کھینچے‘
اس احتجاج کے منتظمین میں شامل سواتی گوسوامی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس گروپ نے دھمکایا تھا کہ وہ احتجاج میں شامل افراد کو ’آئی ایم ملالہ‘ پڑھنے نہیں دیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’انھوں نے میرا بازو پکڑا، زور سے دھکا دیا اور بال بھی کھینچے۔‘
منتظمین نے یہ الزام بھی عائد کیا احتجاج میں شریک ایک اور شخص میتری چھائی کو کئی بار کمر پر گھونسے بھی مارے گئے۔
شرکا میں شامل آدیا چھترولہ نے اپنے فون پر اس واقعے کی ویڈیو بنائی ہے۔
ان کے مطابق ’آدیا کو مبینہ طور پر دھمکی دی گئی اور کہا گیا کہ اگر انھوں نے ویڈیو بنانا بند نہ کی تو انھیں ’غائب‘ کر دیا جائے گا۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ دھمکی ویڈیو میں ریکارڈ ہوئی ہے۔ اس کے بعد مظاہرین وستراپور پولیس سٹیشن گئے اور پولیس سے شکایت درج کرنے کی درخواست کی۔
وستراپور پولیس انسپکٹر گیتا چودھری نے بی بی سی کو بتایا کہ مارپیٹ کا دعویٰ کرنے والے تمام شرکا کا طبی معائنہ کرایا گیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ اس کے بعد 20 افراد کے خلاف ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ان میں سے چھ افراد کی شناخت کر لی گئی ہے جبکہ تین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
گیتا چودھری نے مزید کہا کہ پولیس نے واقعے میں ملوث دیگر افراد کے خلاف بھی مزید کارروائی کی ہے۔
’میں نہیں چاہتی کہ آنے والی نسلیں ایسے اہم ادب سے محروم رہیں‘
بی بی سی نے باغ میں موجود بعض مظاہرین سے بات کی، جنھوں نے دعویٰ کیا کہ جھڑپ شروع ہونے سے پہلے وہ کتابیں پڑھ رہے تھے۔
شرکا میں شامل میتری نے کہا کہ وہ بچپن سے ملالہ یوسفزئی، ان کی بہادری اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ان کی جدوجہد کے بارے میں پڑھتی رہی ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں نے این فرینک کے بارے میں بھی پڑھا ہے۔ جب میں سکول میں تھی تو ان کی کتاب ہمارے بک کلب کا حصہ تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں چاہتی کہ آنے والی نسلیں ایسے اہم ادب سے محروم رہیں۔‘
میتری کے مطابق احتجاج کے دوران پڑھی جانے والی کتابیں صرف مصنفین کی ذاتی کہانیوں تک محدود نہیں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ کتابیں طاقت کے نظام کے خلاف جدوجہد کی کہانیاں بیان کرتی ہیں اور میرا خیال ہے کہ طلبہ کو انھیں ضرور پڑھنا چاہیے۔‘
احتجاج میں شریک ایک اورشخص نے کہا کہ انھیں اروندھتی رائے کی تحریریں پسند ہیں اور وہ اس وقت ان کی کتاب ’آزادی‘ پڑھ رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کے لیے کتابوں تک رسائی محدود کرنا ان کی آزادانہ سوچ پر اثر ڈال سکتا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہماری آزادی خطرے میں ہے۔ اگر ہمیں اور ہمارے بچوں کو ایسی کتابیں پڑھنے کی اجازت نہ دی جائے جو ہماری سوچ کو وسعت دے سکیں تو یہ آزادی کے لیے خطرہ ہے۔‘
احمد آباد یونیورسٹی کے پروفیسر ساون بھی اس بک ریڈنگ میں شریک تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ افسوسناک ہے کہ دنیا بھر میں پڑھی جانے والی کتابوں پر اعتراض کیا جا رہا ہے اور طلبہ کو انھیں پڑھنے سے روکا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ایسی چیزوں کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے اور لوگوں کو ایسے واقعات کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔‘
کتابیں کیوں ہٹائی گئیں؟
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب احمد آباد کے ایک سکول نے طلبہ کے مطالعے کے پروگرام میں ملالہ یوسفزئی کی کتاب ’آئی ایم ملالہ‘ اور این فرینک کی ایک کتاب شامل کی۔
بعد ازاں بعض والدین نے ان کتابوں پر اعتراض کرتے ہوئے سکول انتظامیہ سے شکایت کی، جس کے بعد معاملہ ضلعی محکمہ تعلیم تک پہنچ گیا۔
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر روہت چودھری نے اس سے قبل بی بی سی گجراتی کو بتایا تھا کہ محکمہ کو مذہبی جذبات سے متعلق شکایت موصول ہوئی تھی۔
ان کے مطابق ’ہم نے سکول سے کہا تھا کہ ایسی کوئی سرگرمی نہ کی جائے جس سے کسی بچے کے مذہبی جذبات مجروح ہوں۔ اگر ایسی کوئی سرگرمی ہو رہی ہے تو اسے روک دیا جائے۔‘
اس فیصلے پر طلبہ اور سول سوسائٹی کے بعض گروپوں نے تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کو مختلف قسم کے ادب اور نظریات پڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔
اسی کے بعد یوتھ اینڈ سٹوڈنٹس کلیکٹو نے وسترا پور میں ’مطالعے کے ذریعے پرامن احتجاج‘ کا اعلان کیا۔
تنظیم کا کہنا تھا کہ وہ اس طریقے سے سکول کے فیصلے کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی ہے۔
احتجاج میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ یہ ایک پرامن احتجاج تھا، نہ کہ کوئی سیاسی سرگرمی۔
ان کے مطابق اسی دوران بعض افراد کے ساتھ مبینہ طور پر ہاتھا پائی ہوئی۔ احتجاج کرنے والوں نے دعویٰ کیا کہ ان افراد کا تعلق بجرنگ دل سے تھا۔
بجرنگ دل کے لیڈر جولت مہتا نے بعد میں اس واقعہ سے متعلق ایک ویڈیو پوسٹ کی۔
انھوں نے اس ویڈیو میں کہا کہ انھیں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے لڑنے والی نوجوان خاتون ملالہہ پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ تاہم انھوں نے الزام لگایا کہ ملالہ نے کشمیر کے معاملے پر انڈیا کے بارے میں ناموزوں اور حقائق کے خلاف تبصرے کیے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کی کتاب ملک میں پڑھی جائے۔
انھوں نے کہا کہ تنظیم کے ارکان احتجاج کرنے والے لوگوں سے ریڈنگ سیشن روکنے کے لیے پارک میں گئے تھے۔
واقعے کے خلاف سوشل میڈیا پر کڑی تنقید
اس واقعے نے سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔
بہت سے لوگوں نے اس واقعے کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔
سینئر صحافی دیپال ترویدی، سماجی کارکن گوہر رضا اور نیشنل نیوز چینل کے کنسلٹنگ ایڈیٹر گارگی راوت سمیت کئی لوگوں نے سوشل میڈیا پر اس واقعے سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز دوبارہ پوسٹ کیں۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر آزادی اظہار، متنوع لٹریچر پڑھنے کا موقع اور پرامن احتجاج کے حق جیسے مسائل کے حوالے سے وسیع بحث کو جنم دیا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکن فادر سیڈرک پرکاش نے پرامن پڑھنے کے سیشن میں شرکت کرنے والوں پر ’خوفناک حملے‘ کی مذمت کی۔
انھوں نے پولیس سے واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’اس ریڈنگ سیشن کا مقصد صرف ملالہ اور این فرینک کو پڑھنا نہیں تھا۔ یہ دوسرے مصنفین کو بھی پڑھنا تھا جو اتھارٹی پر سوال اٹھاتے ہیں اور لوگوں کو آزادانہ سوچنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ‘
انھوں نے کہا کہ ’نوجوان اور سول سوسائٹی تشدد کے خوف سے خاموش نہیں رہیں گے اور دائیں بازو کے گروپوں کے اس طرح کے احتجاج کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔‘
ماہر اقتصادیات اور پروفیسر ہیمنت شاہ نے بھی اس واقعہ پر تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ گجرات کا حقیقی ماڈل لگتا ہے- جہاں کوئی بات چیت نہیں ہوتی۔‘
ان کے مطابق ’طلبا ملالہ اور این فرینک کی کتابیں پڑھ رہے تھے۔ والدین نے اس کی شکایت ڈی ای او سے کی اور انھوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ مذہب کے نام پر لوگوں کی آزادی فکر پر قدغن لگانا تعلیمی نظام کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ تاہم احتجاج میں شامل افراد کے لیے جمعرات کو پیش آنے والا واقعہ صرف دو کتابوں تک محدود نہیں ہے۔‘