دلی ایئرپورٹ پر بنگلہ دیشی وزیر اعظم کے مشیر سے ’پوچھ گچھ‘ پر ڈھاکہ کا احتجاج: ’یہ شیخ حسینہ کی حکومت نہیں‘

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 10 منٹ

دلی ایئرپورٹ پر امیگریشن کے ’مسائل‘ کا سامنا کرنے والے بنگلہ دیشی وزیر اعظم طارق رحمان کے مشیر زاہد الرحمان نے احتجاجاً ڈھاکہ واپسی کا فیصلہ کیا۔ اس معاملے پر بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان نے بھی ناراضی ظاہر کی ہے۔

بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک غیر متوقع واقعہ ہے۔ یہ افسوس ناک بھی ہے۔ وزارت خارجہ اس سلسلے میں مناسب اقدامات کر رہی ہے۔‘

وزیر خارجہ نے یہ باتیں پیر کی دوپہر میڈیا سے گفتگو کے دوران کہیں۔ اسی دوپہر بعد بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے ڈھاکہ میں انڈین ہائی کمیشن کے سفارت کار پون کمار بدھے کو طلب کیا۔ وہ اس وقت ڈھاکہ میں انڈیا کے قائم مقام ہائی کمشنر ہیں۔

ادھر انڈیا کی وزارت خارجہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب دونوں ملکوں کے بیچ تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ اگرچہ اس سال کے اوائل میں بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی انتخابی فتح کے بعد تعلقات میں بہتری آئی تاہم 2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کی جانب سے حوالگی کی بارہا درخواستوں کے باوجود شیخ حسینہ انڈیا ہی میں مقیم ہیں۔

دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان بنگلہ دیش کے اس الزام پر بھی اختلافات رہے ہیں کہ انڈین حکام متفقہ واپسی کے طریقہ کار پر عمل کیے بغیر غیر دستاویزی تارکین وطن کو سرحد پار دھکیلنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

ڈھاکہ کا کہنا ہے کہ سرحدی محافظوں نے حالیہ عرصے میں ایسے کئی ’پش اِن‘ کی کوششوں کو ناکام بنایا ہے اور اس مسئلے کو گذشتہ ہفتے نئی دہلی میں بنگلہ دیش اور انڈیا کی بارڈر سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی بات چیت کے دوران بھی اٹھایا۔

اگرچہ ان مذاکرات کے دوران دونوں فریقین نے انٹیلیجنس کے تبادلے کو مضبوط بنانے اور سرحدی گشت میں ہم آہنگی پر اتفاق کیا تاہم تارکین وطن کا مسئلہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث بنا ہوا ہے۔

دلی ایئرپورٹ پر آخر ہوا کیا؟

وزیر اعظم کے مشیر زاہد الرحمان ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے اتوار کو دہلی پہنچے تھے۔ تاہم امیگریشن حکام نے انھیں دلی ایئرپورٹ پر طویل وقت تک روک کر رکھا۔ اگرچہ بعد میں انھیں داخلے کی اجازت دے دی گئی مگر وہ ڈھاکہ واپس لوٹ گئے۔

ایئرپورٹ پر پوچھ گچھ کے بعد ڈھاکہ میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن سمیت مختلف فریقین کی کوششوں کے باعث انھیں دہلی میں داخلے کی اجازت دے دی گئی۔

لیکن دہلی میں داخل ہونے کے بجائے انھوں نے ڈھاکہ واپس جانے کا فیصلہ کیا اور راتوں رات کولمبو (سری لنکا) روانہ ہو گئے۔ وہ پیر کی دوپہر ڈھاکہ پہنچے۔

انھوں نے ڈھاکہ میں نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ’میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ ایک غیر متوقع صورتِ حال پیدا ہو گئی تھی۔ اس پر فوری ردِعمل کے طور پر میں نے حکومت و ریاست کی جانب سے ایک قدم اٹھایا۔ بعد میں ہم کیا کریں گے، یہ میں ابھی نہیں بتا رہا۔‘

وہ بنگلہ دیشی وزیر اعظم کے پالیسی و سٹریٹیجی، اطلاعات و نشریات کی وزارت اور ثقافت امور کی وزارت کے مشیر ہیں اور ان کا عہدہ وزیر مملکت کے برابر ہے۔

آج منگل کو سیکریٹریٹ میں ایک معمول کی نیوز کانفرنس میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے زاہد الرحمان نے دہلی واقعے کی وضاحت کی ہے۔

’یہ شیخ حسینہ کی حکومت نہیں‘

زاہد الرحمان نے کہا کہ ’بنگلہ دیش اور انڈیا کے میڈیا میں جو کچھ آیا ہے، واقعات ویسے ہی پیش آئے ہیں۔ میں وہاں ایک فرد کے طور پر نہیں گیا تھا۔ میں حکومت کے ایک نمائندے کے طور پر، ریاست کے ایک نمائندے کے طور پر گیا تھا۔

’اس لیے میرے ساتھ جو کچھ ہوا، مجھے لگا کہ ہمیں فوری طور پر ایک احتجاج کرنا چاہیے۔ اسی وجہ سے میں نے واپس آنے کا فیصلہ کیا۔‘

دلی سے واپس آنے کا فیصلہ ان کا ذاتی تھا یا حکومت کا، اس سوال پر انھوں نے کہا کہ ’ابتدائی طور پر فیصلہ میرا تھا کیونکہ صورتِ حال میں نے دیکھی۔ بعد میں بات چیت کے ذریعے یہ فیصلہ لیا گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ انڈین حکام نے ’ایک مرحلے پر بھرپور کوشش کی‘ کہ وہ انڈیا میں داخل ہوں اور معمول کی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔

’لیکن میں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ مجھے لگا کہ میں ذاتی حیثیت میں یہ فیصلہ نہیں کر رہا ہوں۔ وزیر اعظم کے ایک مشیر کے طور پر میں نے محسوس کیا کہ ریاست یا حکومت کی طرف سے ایک واضح پیغام ہونا چاہیے کیونکہ ذاتی طور پر میرا کبھی یہ مقصد نہیں رہا کہ اس کے ذریعے کسی قسم کی منفی صورتِ حال پیدا ہو۔

’مجھے لگا کہ ایک پیغام اس ملک میں اور اس ملک سے باہر جانا چاہیے۔ وہ یہ ہے کہ یہ شیخ حسینہ کی حکومت نہیں ہے۔‘

اس حوالے سے پیر کو ہی بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمن اور وزیر مملکت برائے خارجہ شاما عبید نے ردِعمل دیا تھا۔

وزیر خارجہ نے صحافیوں سے کہا کہ ’یہ ایک غیر متوقع واقعہ ہے۔ افسوسناک بھی ہے۔ اس بارے میں وزارت خارجہ مناسب اقدامات کر رہی ہے۔‘

وزیر مملکت برائے خارجہ شاما عبید نے کہا کہ ’یہ واقعہ یقیناً خوش آئند نہیں۔ ہم اس طرح کے واقعات کی توقع نہیں کرتے۔‘

دوسری جانب زاہد الرحمان نے کہا کہ ان کے ساتھ جیسا ہوا، ویسا بنگلہ دیشی حکومت یا کسی اور کے ساتھ بھی ہو سکتا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’صرف انڈیا ہی نہیں، مستقبل میں کسی بھی ملک کے ساتھ روابط میں ہماری ایک واضح پالیسی ہے۔ ہم کسی بھی صورت میں نہیں چاہتے کہ کسی ملک کے ساتھ کوئی منفی صورتِ حال ہو، دشمنی تو دور کی بات ہے۔ سب سے پہلے بنگلہ دیش ہے، ہم بنگلہ دیش کو مقدم رکھیں گے اور اسی بنیاد پر ہر ملک کے ساتھ باہمی مفادات کے حوالے سے روابط ہوں گے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’کسی بھی طور پر ریاست کی خودداری اور وقار کو نقصان پہنچا کر یا اپنے مفاد کے خلاف کسی کو فائدہ دینا اس حکومت کی پالیسی نہیں ہو سکتی۔‘

انھوں نے بتایا کہ یہ معاملہ اب وزارت خارجہ کے پاس جا چکا ہے اور وہ اس پر ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

زاہد الرحمان نے کہا کہ ’جب میں ایک کارکن کے طور پر بات کرتا تھا تو ایک بات بار بار کہتا تھا کہ ہم طاقت اور حجم میں ایک نسبتاً چھوٹا ملک ہیں۔ دوست بدلے جا سکتے ہیں مگر پڑوسی نہیں بدلے جا سکتے۔ یہ سچ ہے۔ یہ بات انڈیا کے لیے بھی درست ہے۔ وہ چاہیں بھی تو ہمیں تبدیل نہیں کر سکتے۔ ہم ان کے ہمسائے ہی رہیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کی حکومت کو بھی احساس ہوگا کہ ایک غیر متوقع واقعہ پیش آیا ہے۔‘

وہ ذاتی پاسپورٹ پر دلی کیوں گئے؟

انھوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ وہ سفارتی پاسپورٹ کے بجائے ذاتی پاسپورٹ پر دلی کیوں گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے سفارتی پاسپورٹ نہیں لیا۔ کسی اور وجہ سے نہیں۔ بس لیتے لیتے دیر ہو گئی۔ تاہم سفارتی پاسپورٹ کوئی مسئلہ نہیں تھا کیونکہ میرے پاسپورٹ پر ’سارک‘ کا سٹیکر لگا ہوا ہے۔

’اس کا مطلب ہے کہ سفارتی پاسپورٹ کی طرح یہ بھی مؤثر ہونا چاہیے۔ میں سفارتی پاسپورٹ لینے کا پابند بھی نہیں تھا۔ چاہوں تو لے سکتا ہوں۔ یہاں کچھ اور وجوہات تھیں جن کا ذکر انڈین میڈیا میں بھی کم و بیش آیا ہے۔‘

انھوں نے ہوائی اڈے پر پیش آنے والے واقعے کی تفصیل بیان کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں ایک وفد کی قیادت کر رہا تھا۔ میرے ساتھ دوسرے لوگ بھی تھے۔ وہ امیگریشن کراس کر کے چلے گئے۔ جب میری امیگریشن شروع ہوئی تو فوراً سمجھ گیا کہ تاخیر ہو رہی ہے۔ وہ مختلف لوگوں سے بات کر رہے تھے۔ انھیں وقت لگ رہا تھا۔‘

ہوائی اڈے پر پوچھ گچھ کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’مجھ سے زیادہ پوچھ گچھ نہیں کی گئی، مجھے ایک جگہ بٹھا دیا گیا۔ بطورِ ریاستی نمائندہ یہ میرے لیے مناسب نہیں تھا۔ مجھے زیادہ کچھ بتایا بھی نہیں جا رہا تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ دلی میں متعین بنگلہ دیشی ہائی کمشنر پورے وقت ان کے ساتھ رہے۔ ’انھوں نے مختلف جگہوں پر فون کر کے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی۔‘

’ہائی کمشنر کے بارے میں کہا گیا کہ کیا ان کی کوئی کمزوری یا غفلت تھی۔ مگر میرے وہاں پہنچنے کے بعد سے وہ میرے ساتھ رہے۔ آخر میں، میں انڈین وقت کے مطابق رات ساڑھے بارہ بجے کولمبو کے راستے ڈھاکہ واپس آیا۔ کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ میں انڈیا کی امیگریشن کراس کروں۔ اسی وجہ سے واپسی کچھ پیچیدہ ہو گئی، ورنہ آسان بھی ہو سکتی تھی۔‘

’انڈیا جانے سے پہلے اطلاع دے دی تھی‘

انھوں نے کہا کہ انڈین حکام نے ایسا رویہ کیوں اختیار کیا، اس پر وہ خود کچھ نہیں کہیں گے۔

’مسئلہ کیا تھا، میں خود نہیں کہہ رہا کیونکہ انڈین میڈیا میں کافی کچھ آ چکا ہے۔ انھوں نے اپنے ذرائع سے معلومات لی ہیں۔ لیکن دو گھنٹے کے اندر میں نے فیصلہ کر لیا کہ بہت ہو گیا، میں اندر نہیں جاؤں گا۔

’میں ریاست کے ایک عہدے پر ہوں اور اس عہدے کے تقاضوں کے مطابق جو احترام ہونا چاہیے تھا، وہ موجود نہیں تھا۔ اسی لیے یہ فیصلہ کیا۔‘

’جب میں نے پاسپورٹ واپس مانگا تو انھوں نے بہت خلوص کے ساتھ درخواست کی مگر مجھے لگا کہ جو ہوا اس پر احتجاج ضروری ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان کے انڈیا جانے کی اطلاع پہلے ہی دے دی گئی تھی۔ ’اگر کوئی مسئلہ ہوتا تو پہلے ہی اس کا حل یا اعتراض سامنے آ جاتا تو شاید بہتر ہوتا۔‘

مستقبل میں انڈیا جانے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’اگر مناسب دعوت ملے گی تو یقیناً جاؤں گا۔‘

’میں انڈیا کے ساتھ منطقی اور معقول بنیادوں پر روابط چاہتا ہوں۔ بعض لوگوں کو لگتا ہے کہ انڈیا کے ساتھ روابط کا مطلب ملک بیچ دینا ہے۔ بنگلہ دیش کو بیچ کر یہ حکومت انڈیا کے ساتھ تعلقات نہیں بنائے گی۔ برابر کی سطح پر تجارت سمیت کئی شعبوں میں ترقی کی گنجائش ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ انڈیا کے ساتھ تعلقات اب پہلے کے مقابلے میں کافی حد تک معمول پر آ چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعے پر انڈیا نے کوئی ردِعمل دیا ہے یا نہیں، اس کا علم وزارت خارجہ کو ہے۔