آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عبدالکلام: انڈیا کے سادگی پسند ’سائنسدان صدر‘ جن کی ذہانت کے مشرف بھی معترف تھے
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی
یہ بات سنہ 2005 کی ہے جب جنرل پرویز مشرف انڈیا آئے تھے اور انھوں نے اُس وقت انڈیا کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ساتھ ساتھ انڈین صدر اے پی جے عبدالکلام سے بھی ملاقات کی تھی۔
’میزائل مین‘ کے نام سے مشہور انڈیا کے سابق صدر اے پی جے عبدالکلام 15 اکتوبر 1931 کو پیدا ہوئے تھے اور آج سے لگ بھگ سات برس قبل ان کی وفات ہوئی تھی۔
مشرف سے ہونے والی ملاقات سے ایک دن پہلے عبدالکلام کے سیکریٹری پی کے نائر اُن کے پاس بريفنگ کے لیے گئے تھے۔
پی کے نائر نے انھیں بتایا ’سر کل جنرل مشرف آپ سے ملنے آ رہے ہیں۔‘ انھوں نے جواب دیا، 'ہاں مجھے پتہ ہے۔‘
نائر نے کہا: ’وہ ضرور کشمیر کا مسئلہ اٹھائیں گے۔ آپ کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘
کلام ایک لمحے کے لیے ٹھٹھكے، اُن کی طرف دیکھا اور کہا: ’اس کی فکر نہ کریں۔ میں سب سنبھال لوں گا۔‘
اگلے دن ٹھیک سات بج کر 30 منٹ پر پرویز مشرف اپنے قافلے کے ساتھ انڈیا کے ایوانِ صدر پہنچے اور انھیں پہلی منزل پر ڈرائنگ روم میں لے جایا گیا۔
عبدالکلام نے اُن کا استقبال کیا۔ اُن کی کرسی تک گئے اور اُن کے پاس بیٹھے۔ ملاقات کا وقت 30 منٹ طے تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عبدالکلام نے گفتگو شروع کی: ’صدر صاحب، انڈیا کی طرح آپ کے ملک میں بھی بہت سے دیہی علاقے ہوں گے۔ آپ کو نہیں لگتا کہ ہمیں اُن کی ترقی کے لیے جو کچھ ممکن ہو کرنا چاہیے؟‘
جنرل مشرف ’جی ہاں‘ کے علاوہ اور کیا کہہ سکتے تھے!
سائنسداں بھی سفارتکار بھی
عبدالکلام نے کہنا شروع کیا: ’میں آپ کو مختصراً ’پورا‘ کے بارے میں بتاؤں گا۔ پورا کا مطلب ہے پرووائڈنگ اربن فیسیلیٹیز ٹو رورل ایریاز‘ (یعنی دیہی علاقوں میں شہروں جیسی سہولیات فراہم کرنا)۔
پس پشت آویزاں پلازما سکرین پر حرکت ہوئی اور کلام نے اگلے 26 منٹ تک مشرف کو لیکچر دیا کہ ’پورا‘ کا کیا مطلب ہے اور اگلے 20 برسوں میں دونوں ممالک (انڈیا اور پاکستان) اس مقصد کو کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔
30 منٹ بعد مشرف نے کہا: ’شکریہ صدر صاحب۔ انڈیا خوش قسمت ہے کہ اس کے پاس آپ جیسا سائنس دان صدر ہے۔‘
مصافحہ کیا گيا اور نائر نے اپنی ڈائری میں لکھا: ’عبدالکلام نے آج ثابت کر دیا کہ سائنسدان بھی سفارتکار ہو سکتے ہیں۔‘
تین لاکھ 52 ہزار روپے
مئی 2006 میں صدر عبدالکلام کا سارا کنبہ اُن سے ملنے دہلی آیا۔ مجموعی طور پر اُن میں 52 لوگ شامل تھے۔ ملنے کے لیے آنے والوں میں عبدالکلام کے 90 سال کے بڑے بھائی سے لے کر ان کی ڈیڑھ سال کی پڑپوتي بھی شامل تھی۔
یہ لوگ آٹھ دن تک صدارتی محل میں ٹھہرے۔ اجمیر شریف بھی گئے۔ کلام نے ان کے ٹھہرنے کا کرایہ اپنی جیب سے ادا کیا۔
یہاں تک کہ ایک پیالی چائے تک کا حساب رکھا گیا اور ان کے جانے کے بعد کلام نے اپنے اکاؤنٹ سے تین لاکھ 52 ہزار روپے کا چیک کاٹ کر صدارتی دفتر کو بھیجا۔
ان کے صدر رہتے ہوئے یہ بات کسی کو پتہ نہیں چلی۔
بعد میں جب اُن کے سیکریٹری نائر نے ان کے ساتھ گزارے گئے دنوں پر کتاب لکھی، تو پہلی بار اس کا ذکر سامنے آیا۔
افطار کا پیسہ یتیم خانے کو
اسی طرح نومبر 2002 میں رمضان کے مہینے میں کلام نے اپنے سیکریٹری کو بلا کر پوچھا: ’یہ بتائیے کہ ہم افطار کے ڈنر کا اہتمام کیوں کریں؟ ویسے بھی یہاں مدعو کیے جانے والے افراد کھاتے پیتے لوگ ہوتے ہیں۔ آپ افطار پر کتنا خرچ کرتے ہیں؟‘
صدارتی محل کی مہمان نوازی کے محکمہ کے سربراہ کو فون لگایا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ افطار کی دعوت پر تقریباً ڈھائی لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے۔
عبدالکلام نے کہا: ’ہم یہ پیسہ یتیم خانوں کو کیوں نہیں دے سکتے؟ آپ یتیم خانوں کا انتخاب کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ یہ پیسہ ضائع نہ ہو۔‘
صدارتی محل کی جانب سے افطار کے لیے مقرر رقم سے آٹے، دال، کمبل اور سوئٹرز کا انتظام کیا گیا اور اسے 28 یتیم خانوں کے بچوں میں تقسیم کیا گیا۔
لیکن بات یہیں ختم نہیں ہو گئی۔ کلام نے نائر سے کہا: ’یہ چیزیں تو آپ نے حکومت کے پیسے سے لی ہیں اس میں میرا حصہ کیا ہوا؟ میں آپ کو ایک لاکھ روپے کا چیک دے رہا ہوں۔‘
’اس کا بھی اسی طرح استعمال کیجیے جیسے آپ نے افطار کے لیے مختص رقم کا کیا ہے، لیکن کسی کو یہ مت بتائیے کہ یہ پیسے میں نے دیے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
بارش نے بھی کلام کا خیال رکھا
صدر عبدالکلام انڈیا کے سب سے زیادہ فعال صدر تھے۔ اپنے پورے دور اقتدار میں انھوں نے 175 سرکاری دورے کیے جن میں سے صرف سات غیر ملکی دورے تھے۔
وہ لكش ديپ کو چھوڑ کر انڈیا کی ہر ریاست میں گئے۔
15 اگست 2003 کو کلام نے یوم آزادی کے موقع پر شام کو صدارتی محل کے لان میں ہمیشہ کی طرح ایک چائے پارٹی رکھی جس میں تقریباً تین ہزار لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا۔
صبح آٹھ بجے سے جو بارش شروع ہوئی تو رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ صدارتی محل کے افسر پریشان ہو گئے کہ اتنے سارے لوگوں کو عمارت کے اندر چائے نہیں پلائی جا سکتی۔
فوری طور پر 2000 چھتریوں کا انتظام کیا گیا۔ جب دوپہر 12 بجے صدر کے سیکریٹری ان سے ملنے گئے تو کلام نے کہا: ’کیا شاندار دن ہے۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے۔‘
سیکریٹری نے کہا: ’آپ نے تین ہزار لوگوں کو چائے پر بُلا رکھا ہے۔ اس موسم میں ان کا استقبال کس طرح کیا جا سکتا ہے؟‘ کلام نے کہا: ’فکر مت کیجیے ہم صدارتی محل کے اندر لوگوں کو چائے پلائیں گے۔‘
سیکریٹری نے کہا ہم زیادہ سے زیادہ 700 لوگوں کو اندر لا سکتے ہیں۔ میں نے 2000 چھتریوں کا انتظام تو کر لیا ہے لیکن یہ بھی شاید کم پڑیں۔
کلام نے ان کی طرف دیکھا اور بولے: ’ہم کر بھی کیا سکتے ہیں۔ اگر بارش جاری رہی تو زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا۔۔۔ ہم بھيگيں گے ہی نہ!‘
پریشان، بدحواس نائر دروازے تک پہنچے تھے کہ عبدالکلام نے انھیں آواز دی اور آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: ’آپ پریشان نہ ہوں، میں نے اُوپر بات کر لی ہے۔‘
اس وقت دن کے 12 بج کر 38 منٹ ہوئے تھے۔
ٹھیک 2 بجے اچانک بارش تھم گئی۔ سورج نکل آیا۔ ساڑھے پانچ بجے عبدالکلام روایتی طور پر لان میں تشریف لائے۔ اپنے مہمانوں سے ملے۔ ان کے ساتھ چائے پی اور سب کے ساتھ تصویر كھنچوائي۔ سوا چھ بجے قومی ترانہ ہوا۔
جیسے ہی کلام ایوان صدر کی عمارت کی چھت کے نیچے پہنچے، پھر سے جھماجھم بارش شروع ہو گئی۔ انگریزی میگزین ویک کے اگلے شمارے میں ایک مضمون چھپا، ’قدرت بھی کلام پر مہربان۔‘
یہ تحریر پہلی مرتبہ سنہ 2015 میں بی بی سی صفحات پر شائع ہوئی تھی جسے عبدالکلام کے یوم پیدائش کی مناسبت سے آج دوبارہ شائع کیا گیا ہے۔