لائیو, ’حوثیوں کی بیلسٹک میزائل صلاحیت ختم کرنے کے لیے‘ سعودی حکام کا یمن میں 136 اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ
سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے یمن میں حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کرتے ہوئے 136 فوجی اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی بیلسٹک میزائل داغنے کی صلاحیت کو کمزور اور تباہ کرنا ہے۔
خلاصہ
بلوچستان کے ضلع دُکی سے اغوا کیے گئے 11 مزدور بازیاب
صوابی میں آخری پلان دیا جائے گا، جو مخالفین کی نیندیں حرام کر دے گا: سہیل آفریدی کا لانگ مارچ سے خطاب
افغانستان سے دہشت گردی پر اختلافات کے باعث ماسکو فارمیٹ اجلاس مشترکہ اعلامیہ جاری نہ کر سکا، پاکستان
نئی دہلی کے حساس علاقے میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل
آبنائے ہرمز کے قریب گیس بردار جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، پاسدارانِ انقلاب کی مزید کارروائیوں کی دھمکی
لائیو کوریج
محسن رضائی کا امریکی وزیر خارجہ کو جواب، ’تاریخ کو دہرانے کے لیے تیار رہنا چاہیے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت کو تہذیبوں کی جنگ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش پر تنقید کرتے ہوئے تاریخ کا حوالہ دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق محسن رضائی نے یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے ایتھنز میں کی گئی تقریر کے ردعمل میں دیا، جس میں انھوں نے مغربی تہذیب کا حوالہ دیا اور ایران اور اس کی تہذیب کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کیے۔
محسن رضائی نے ایکس پر لکھا کہ ’ایران کے ہاتھوں شکست اور ذلت کے بعد ایتھنز جا کر تہذیبوں کی جنگ کا بیانیہ بنانے کے بجائے امریکی حکام کو تاریخ کا ایک اہم واقعہ پڑھنا چاہیے، جب ساسانی سلطنت کے بادشاہ شاپور اول کے سامنے رومی شہنشاہ کو گھٹنے ٹیکنے پڑے تھے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’جو کوئی تاریخ کو درمیان میں لاتا ہے، اسے اس کے دہرائے جانے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔‘
محسن رضائی کا یہ بیان قدیم ایرانی تاریخ کے ایک اہم فوجی واقعے کی طرف اشارہ ہے، جب ساسانی سلطنت نے رومی سلطنت کو بڑی شکست دی تھی۔
ساسانی سلطنت قدیم ایران کی ایک طاقتور سلطنت تھی جو تقریباً 224 عیسوی سے 651 عیسوی تک قائم رہی۔ اسے ایران کی تاریخ کی اہم ترین سلطنتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
شاپور اول کون تھے؟
شاپور اول ساسانی سلطنت کے دوسرے بادشاہ تھے، جنھوں نے تقریباً 240 سے 270 عیسوی تک حکومت کی۔ وہ رومی سلطنت کے خلاف اپنی فوجی کامیابیوں کے لیے مشہور ہیں۔
سنہ 260 عیسوی میں جنگِ ادیسہ کے دوران ساسانی فوج نے رومی شہنشاہ والیرین کو گرفتار کر لیا تھا۔ یہ رومی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ تھا، کیونکہ ایک رومی شہنشاہ دشمن کے ہاتھوں زندہ گرفتار ہوا تھا۔
فرانس میں طلبہ کے احتجاج کے بعد حکومت کا 3000 اساتذہ بھرتی کرنے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفرانس کی حکومت نے نوجوان طلبہ کے تین ہفتوں سے جاری احتجاج کے بعد 3000 اضافی متبادل اساتذہ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے
فرانس کی حکومت نے ثانوی تعلیم کے لیے مزید وسائل مختص کرنے کے مطالبے پر نوجوان طلبہ کے تین ہفتوں سے جاری احتجاج کے بعد 3000 اضافی متبادل اساتذہ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسے حکومت کی جانب سے اسے مظاہرین کے مطالبات کے جواب میں پہلی ٹھوس پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
فرانس کے وزیرِ تعلیم ایڈوارڈ جیفری نے جمعرات کی شام ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ وزارت ایک نیا کمپیوٹر پروگرام استعمال کرے گی، جس کے ذریعے اضافی اساتذہ کو ضرورت کے اعتبار سے تقریباً 500 ثانوی سکولوں میں تعینات کیا جائے گا۔
احتجاج کے دوران جمعرات کو ملک بھر میں تقریباً 71 ہزار افراد نے مظاہروں میں شرکت کی، جن میں سے 24 ہزار پیرس کے پلیس دے لا باستیل میں جمع ہوئے۔
پولیس نے بعض مقامات پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔ بورڈو میں ایک سکول میں توڑ پھوڑ کی گئی جبکہ مارسی میں سکول کے ایک نائب سربراہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
حکومت کے مطابق احتجاج شروع ہونے کے بعد سے اب تک چھ ہزار 877 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں، جن میں 86 فیصد کی عمریں 18 سال سے کم ہیں۔
جمعے کو ملک کے تین ہزار 500 میں سے تقریباً 140 ہائی سکول مکمل یا جزوی طور پر بند رہے، جو گذشتہ دنوں کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔ تاہم، آئندہ منگل کو ایک اور احتجاج کی اپیل کی گئی ہے۔
تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد کا طویل عرصے سے کہنا ہے کہ اساتذہ کی غیر حاضری اور ان کی جگہ پڑھانے کے لیے متبادل اساتذہ کی کمی کے باعث طلبہ کا تدریسی وقت ضائع ہو رہا ہے۔
نئے پروگرام کے تحت ان سکولوں کو ترجیح دی جائے گی جہاں اساتذہ کی کمی سب سے زیادہ ہے، جن میں بڑی تارکینِ وطن آبادی والے شہروں کے مضافاتی علاقوں کے سکول بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
علاقائی سفارت کاری کشیدگی میں اضافے کی روک تھام اور بحرانوں کے حل کا ذریعہ ہونی چاہیے: مسعود پزشکیان
،تصویر کا ذریعہIRNA
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ’علاقائی سفارت کاری محض اجلاسوں کے انعقاد تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے بحرانوں سے نمٹنے، مذاکرات جاری رکھنے، کشیدگی میں اضافے کی روک تھام اور عملی تعاون کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ بنانا چاہیے۔‘
انھوں نے یہ بات ترکمانستان میں آزاد ریاستوں کی دولتِ مشترکہ (سی آئی ایس) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ایکس پر کہی۔ اس موقع پر انھوں نے ایران اور اس تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے ’سی آئی ایس پلس ایران‘ کے نام سے ایک نیا فارمیٹ تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پزشکیان اجلاس میں شرکت کے بعد تہران واپس پہنچ گئے ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں ایرانی صدر بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ علاقائی بحرانوں کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اور خطے کی سلامتی علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے یقینی بنائی جانی چاہیے۔
پزشکیان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے حالیہ ہفتوں میں تجاویز کا تبادلہ ہوا ہے۔
اس دوران علاقائی حکام خلیج فارس اور بحیرہ احمر میں کشیدگی کم کرنے اور بحری آمد و رفت برقرار رکھنے کے لیے بھی مشاورت کر رہے ہیں۔
پاناما میں 7.7 شدت کا زلزلہ، متعدد شہروں میں بجلی کی فراہمی متاثر، پروازیں معطل
،تصویر کا ذریعہEPA
وسطی امریکی ملک پاناما میں سات اعشاریہ سات شدت کے زلزلے کے باعث ملک کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے جبکہ متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
زلزلے کے بعد ملک کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازیں بھی کئی گھنٹوں کے لیے معطل رہیں۔
پاناما کے حکام کے مطابق زلزلے سے اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم، متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچنے اور بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
زلزلے کا مرکز صوبہ ہیریرا کے جنوب مشرق میں ایک کم آبادی والے علاقے میں بتایا گیا ہے۔
زلزلے کے باعث پروازوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی، تاہم پاناما کینال میں بحری جہازوں کی آمد و رفت معمول کے مطابق جاری رہی۔
رواں سال پاناما کے پڑوسی ممالک کولمبیا اور وینزویلا میں بھی شدید اور ہلاکت خیز زلزلے آ چکے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی اتحاد کا یمن میں حوثیوں کے 136 فوجی اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ، ’حملوں کا مقصد حوثیوں کی بیلسٹک میزائل صلاحیت کو ختم کرنا ہے،‘ سعودی حکام
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے یمن میں حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کرتے ہوئے 136 فوجی اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی بیلسٹک میزائل داغنے کی صلاحیت کو کمزور اور تباہ کرنا ہے۔
سعودی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں کو متعدد فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ سعودی اتحاد نے ان کارروائیوں کو ایک بڑے فوجی آپریشن کا حصہ قرار دیا ہے۔
حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ کے مطابق سعودی حملوں میں یمن کے شمال مغربی صوبے صعدہ کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب سعودی عرب کے مطابق جمعرات کو حوثیوں کے ایک میزائل حملے میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دوسری جانب حوثی میڈیا نے صنعا کے ہوائی اڈے پر سعودی حملوں میں دو افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔
سعودی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ سعودی لڑاکا طیارے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فورسز کو فضائی مدد بھی فراہم کر رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کا روس سے ڈیزل درآمد کرنے کے معاہدے کا اعلان، یوکرینی صدر زیلنسکی کی ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے روس سے ڈیزل درآمد کرنے کے معاہدے کا اعلان کیا ہے، تاہم یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اسے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے لیے ’تحفہ‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق پوتن نے فوری طور پر تین لاکھ ٹن ڈیزل امریکی اور عالمی منڈیوں میں فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے بعد نومبر میں پانچ لاکھ ٹن اور پھر مزید دس لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر مزید کہا کہ مختصر مدت میں روس سے مزید 30 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔ اس کا انحصار روس کی ریفائنریوں کی صورتِ حال پر ہوگا، جنھیں یوکرین کے حملوں کا سامنا رہا ہے۔
اس معاہدے کے تحت امریکی محکمہ خزانہ روسی ڈیزل کی برآمدات پر عائد پابندیاں سات اپریل تک معطل کر رہا ہے، تاہم امریکہ کے بینکوں میں موجود روسی اثاثے بدستور منجمد رہیں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ اس معاہدے کے بدلے امریکہ روس کو کیا دے گا۔
زیلنسکی نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’ایسی جنگ میں سرمایہ کاری کے مترادف ہے جسے طول دینے کے بجائے ختم ہونا چاہیے۔‘
دوسری جانب پوتن نے کہا کہ روس امریکہ اور عالمی منڈیوں کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم انھوں نے فراہم کی جانے والی مقدار کی وضاحت نہیں کی۔ روس نے رواں سال کے آغاز میں ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کی تھی۔
ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا روس اتنی بڑی مقدار میں ڈیزل فراہم کر سکتا ہے اور اس سے امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں کتنی کمی آئے گی۔
سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی کے ماہر ٹم آرمٹیج کے مطابق، ٹرمپ کی جانب سے بتائی گئی پہلی کھیپ تقریباً 22 لاکھ 50 ہزار بیرل کے برابر ہے، جبکہ امریکہ میں روزانہ ڈیزل کی کھپت تقریباً 38 لاکھ بیرل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے امریکی پمپوں پر ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی نمایاں فرق پڑنے کا امکان نہیں۔ انھوں نے اسے وسط مدتی انتخابات سے قبل مہنگائی کم کرنے کے لیے ٹرمپ کی ایک قدرے مایوس کن کوشش بھی قرار دیا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنرواں سال 18 جون کو روسی آئل ریفائنری پر یوکرین کے ڈرون حملے کے بعد کے مناظر
برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ یوکرین کی حمایت اور دیرپا امن کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام جاری رکھے گی۔ برطانیہ روس پر پابندیوں کے ذریعے دباؤ برقرار رکھنے اور منصفانہ و دیرپا امن کی کوششوں کی حمایت کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔
فروری میں شروع ہونے والی ایران جنگ کے باعث حالیہ مہینوں میں امریکہ میں پیٹرول اور خصوصاً ڈیزل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس سے صارفین پر مالی دباؤ بڑھا اور مجموعی مہنگائی میں اضافہ ہوا۔
امریکی آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق، امریکہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت اس وقت 6.28 ڈالر فی گیلن ہے، جو ستمبر کے اختتام پر ریکارڈ کی گئی 6.53 ڈالر فی گیلن کی بلند ترین سطح سے کم ہے۔
ٹرمپ کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد امریکی محکمہ خزانہ نے روسی ڈیزل کی درآمد کی اجازت دینے کے لیے باضابطہ طور پر عارضی لائسنس جاری کر دیا۔ پیوٹن نے بھی تصدیق کی کہ جمعے کو ان کی ٹرمپ سے عالمی توانائی کی صورتِ حال پر بات ہوئی تھی۔
انڈیا: دارالحکومت دہلی میں کاکروچ پارٹی کے احتجاج سے قبل 250 سے زائد ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو سٹیشنز کے راستے بھی بند
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں کاکروچ جناتا پارٹی کے احتجاج سے قبل نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے سٹیشنوں سے آنے اور جانے والی 250 سے زائد ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ دہلی میٹرو کے 57 سٹیشنوں کے داخلی اور خارجی راستے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ریلوے بورڈ کے فیصلے کے تحت نو اکتوبر کو دوپہر دو بجے کے بعد اپنے ابتدائی سٹیشنوں سے روانہ ہونے والی مسافر ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ 10 اکتوبر کو صبح چار بجے سے دوپہر دو بجے کے درمیان نئی دہلی یا حضرت نظام الدین ریلوے سٹیشن پہنچنے والی ٹرینیں بھی منسوخ رہیں گی۔
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے مختلف علاقوں کو سکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت قلعے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی جانب سے سنیچر کو بڑے احتجاج کی کال کے بعد سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے۔
مظاہرین انتخابی اصلاحات اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان پر ووٹر فہرستوں میں مبینہ ردوبدل کے الزامات ہیں۔
تاہم الیکشن کمیشن نے ان الزامات کی تردید کی ہے، جبکہ گیانیش کمار نے مستعفی ہونے کے مطالبے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج کے لیے اجازت نہیں دی گئی۔ مظاہرے کے مرکزی مقام جنتر منتر کی جانب جانے والی تمام سڑکیں بھی رکاوٹیں لگا کر بند کر دی گئی ہیں۔
،تصویر کا ذریعہANI
بڑی تعداد میں ٹرینوں کی منسوخی کے فیصلے پر ہزاروں مسافروں کو ہونے والی پریشانی کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ریلوے کے سابق عہدیداروں، مسافروں کی تنظیموں اور ملازمین کی یونینوں نے بھی اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔
ریلوے بورڈ کے سابق رکن (انجینیئرنگ) سوبودھ جین نے کہا کہ ’اتنی بڑی تعداد میں ٹرینیں منسوخ کرنا احتجاج کرنے والوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے۔‘
آل انڈیا ریلوے مینز فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری شیو گوپال مشرا نے بھی ریلوے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انھوں نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے یاد نہیں کہ ملک کے کسی بھی حصے میں احتجاج یا مظاہروں کے باعث اس سے پہلے کبھی بیک وقت اتنی بڑی تعداد میں ٹرینیں منسوخ کی گئی ہوں۔‘
ان کے مطابق ٹرینوں کی اچانک منسوخی کے باعث ہزاروں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب دہلی میٹرو ریل کارپوریشن نے بھی 57 میٹرو سٹیشنوں کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے ہیں۔
بلوچستان کے ضلع دُکی سے اغوا کیے گئے 11 مزدور بازیاب, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
بلوچستان کے
ضلع دُکی سے اغوا کیے گئے 11 مزدور بازیاب کرا
لیے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ
بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند نے جمعے کو ایک پریس
کانفرنس میں مزدوروں کی بازیابی کی تصدیق کی۔ تاہم حکام نے یہ نہیں بتایا کہ
مغویوں کی بازیابی کن حالات میں ممکن ہوئی۔
یاد رہے کہ
25 ستمبر کو دُکی کے علاقے پلری میں سڑک تعمیر کرنے والی ایک کمپنی کے کیمپ پر 30
سے زائد مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔
سرکاری حکام
کے مطابق حملے میں کمپنی کا ایک نجی سکیورٹی گارڈ ہلاک جبکہ ایک راہگیر سمیت تین
افراد زخمی ہوئے تھے۔ حملہ آوروں نے کمپنی کی چار گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے کے
علاوہ 12 مزدوروں کو اغوا کر لیا تھا، جن میں سے 10 کا تعلق پنجاب سے تھا۔
پانچ روز
قبل اغوا کیے گئے مزدوروں میں سے ایک کو، جس کا تعلق پنجاب سے تھا، اغوا کاروں نے
فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
افغانستان سے دہشت گردی پر اختلافات کے باعث ماسکو فارمیٹ اجلاس مشترکہ اعلامیہ جاری نہ کر سکا، پاکستان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان نے کہا ہے کہ ماسکو فارمیٹ کے حالیہ اجلاس کے بعد افغانستان سے دہشت گردی کے مسئلے پر اختلافات کے باعث مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہو سکا، تاہم اسلام آباد خطے کے ممالک کے ساتھ مکالمے اور سفارتی رابطوں کا عمل جاری رکھنا چاہتا ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان نے 5 اکتوبر کو ماسکو میں ہونے والے آٹھویں ماسکو فارمیٹ اجلاس میں تعمیری انداز میں شرکت کی اور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گرد سرگرمیوں پر اپنے تحفظات واضح طور پر پیش کیے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیمیں خطے کے لیے، خصوصاً پاکستان کے لیے، ایک سنگین سکیورٹی خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ انھوں نے یاد دلایا کہ گذشتہ سال ماسکو فارمیٹ کے مشترکہ اعلامیے میں بھی اس معاملے کا واضح ذکر شامل تھا۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سال افغان طالبان کے وفد نے دہشت گردی سے متعلق وہ زبان برقرار رکھنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی جو گذشتہ برس تمام فریقوں کے درمیان طے پائی تھی، جس کے نتیجے میں اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہو سکا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے نزدیک یہ محض الفاظ یا سفارتی اصطلاحات کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک حقیقی اور سنجیدہ سکیورٹی چیلنج ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’کوئی بھی ایسا مشترکہ اعلامیہ جو افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کی حقیقت اور شدت کی عکاسی نہ کرے، زمینی صورتحال کی مکمل اور درست تصویر پیش نہیں کر سکتا۔‘
ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے بتایا کہ اجلاس کے دوران روسی نمائندے نے بھی اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ طالبان وفد نے اس زبان پر اعتراض کیا جسے ایک سال قبل متفقہ طور پر قبول کیا گیا تھا۔
ان کے مطابق طالبان وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان کی زمینی صورتحال تبدیل ہو چکی ہے، تاہم پاکستان کی رائے میں صورتحال میں تبدیلی کا مطلب درحقیقت یہ ہے کہ افغانستان سے پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ دہشت گرد عناصر کو ملنے والی بڑھتی ہوئی گنجائش خطے اور عالمی برادری کے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہیے اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
آئندہ ماسکو فارمیٹ اجلاس میں پاکستان کی شرکت کے بارے میں سوال پر دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اگلا اجلاس تقریباً ایک سال بعد متوقع ہے، اس لیے اس حوالے سے مشاورت اور فیصلہ سازی کے لیے کافی وقت موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی رابطوں کا حامی ہے، تاہم آئندہ اجلاس میں شرکت کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
مکہ دفاعی اتحاد ایک دفاعی معاہدہ ہے، یمن میں پاکستانی طیاروں کی کارروائیوں کی خبریں بے بنیاد ہیں: دفترِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہSaudi Press Agency
ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سکیورٹی کے تحفظ کے لیے مملکت کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی رکھتا ہے، جبکہ مکہ دفاعی اتحاد ایک دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے جس کا مقصد رکن ممالک کی اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی افواج کی جانب سے شہریوں کے تحفظ کے اقدامات کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے مدینہ میں طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن سٹیشن پر ہونے والے حملے کی بھی شدید مذمت کی تھی اور حرمین شریفین کی حرمت اور زائرین کی سلامتی کو ہر صورت یقینی بنانے پر زور دیا تھا۔
ترجمان کے مطابق 5 اکتوبر کو ریاض میں مکہ اتحاد کی سٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری قیادت نے خطے کی صورتحال اور اجتماعی دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
’پاکستانی طیاروں کی یمن میں کارروائیوں کی خبریں بے بنیاد ہیں‘
ترجمان نے میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی لڑاکا طیاروں کے یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں شریک ہونے کی خبریں محض قیاس آرائیاں ہیں اور انھیں پہلے ہی رد کیا جا چکا ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ مکہ دفاعی اتحاد کا مقصد سعودی عرب کے دفاع کو مضبوط بنانا ہے، نہ کہ یمن میں کارروائیاں کرنا۔ ان کے مطابق پاکستان کے فوجی کئی دہائیوں سے مختلف دفاعی اور تربیتی ذمہ داریوں کے تحت سعودی عرب میں موجود ہیں اور مستقبل میں کسی بھی اضافی تعیناتی کا فیصلہ اتحاد کی ضروریات کے مطابق کیا جائے گا۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے دورہ پاکستان کا خیرمقدم
ترجمان نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے 6 سے 8 اکتوبر تک جاری رہنے والے دورۂ پاکستان نے پاکستان اور اقوامِ متحدہ کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط کیا۔
ان کے مطابق سیکریٹری جنرل نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، صدرِ مملکت، وزیراعظم، عسکری قیادت اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں، جن میں فلسطین، کشمیر، افغانستان، دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی اور علاقائی امن سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے سیکریٹری جنرل کو مقبوضہ کشمیر، سندھ طاس معاہدے اور افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔
کشمیر پر پاکستان کا مؤقف برقرار
ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے، جس کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
انھوں نے انڈیا کے نئے سیاسی نقشے کو ’کارٹوگرافک جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یکطرفہ نقشہ سازی سے کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔
فلسطین پر مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں
غزہ سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق پاکستان آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
انڈیا کو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر احتجاج
دفترِ خارجہ نے بتایا کہ 2 اکتوبر کو بین الاقوامی سرحد کے بیڈیاں سیکٹر میں انڈین بارڈر سکیورٹی فورس کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر انڈین ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے۔
پاکستان نے انڈیا سے واقعے کی شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
سعودی عرب میں پاکستانیوں کی سلامتی پر تشویش
ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب میں تقریباً 25 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں، اس لیے مملکت کی سکیورٹی پاکستان کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان خطے میں کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت جاری رکھے گا، تاہم سعودی عرب کے دفاع اور خودمختاری کے حوالے سے اپنے وعدوں پر قائم ہے۔
نئی دہلی کے حساس علاقے میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل
،تصویر کا ذریعہReuters
انڈیا کی وزارتِ داخلہ نے دارالحکومت نئی دہلی کے ایک حساس علاقے میں موبائل انٹرنیٹ سروس عارضی طور پر معطل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
دہلی پولیس کے سپیشل سیل کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق جن پتھ اور کرتیویہ پتھ کے چوراہے کے گرد چار کلومیٹر کے دائرے میں تمام موبائل انٹرنیٹ سروسز بند رہیں گی۔
مراسلے کے مطابق پابندی 9 اکتوبر کی رات 10 بجے سے 10 اکتوبر کی رات 10 بجے تک نافذ رہے گی۔ حکام نے تمام ٹیلی کام کمپنیوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ مقررہ علاقے میں موبائل انٹرنیٹ کی تمام اقسام اور ٹیکنالوجیز عارضی طور پر معطل کر دی جائیں۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے انٹرنیٹ سروس کی معطلی کی وجوہات کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ وزارتِ داخلہ نے ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 2023 اور متعلقہ قواعد کے تحت تمام موبائل انٹرنیٹ ٹیکنالوجیز کی عارضی معطلی کی منظوری دی ہے۔ اس سلسلے میں ایئرٹیل، جیو، ووڈافون آئیڈیا اور ایم ٹی این ایل سمیت ٹیلی کام کمپنیوں کو فوری طور پر احکامات پر عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔
صوابی میں آخری پلان دیا جائے گا، جو مخالفین کی نیندیں حرام کر دے گا: سہیل آفریدی کا لانگ مارچ سے خطاب
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بخشی پل کے مقام پر لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پشاور کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور آئندہ مرحلوں میں اہم اعلانات کا عندیہ دیا۔
انھوں نے کہا کہ وہ پشاور کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ چکے ہیں، لیکن عوام کے جوش و جذبے اور مارچ میں شرکت میں کوئی کمی نہیں آئی۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا، ’میں پشاور کے عوام کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ماشاء اللہ عوام نے بھرپور ساتھ دیا ہے اور ہمارے کارکنوں کا عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔‘
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ چارسدہ میں لانگ مارچ کے آئندہ لائحۂ عمل کا اعلان کریں گے اور کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ اس منصوبے کو ضرور سنیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’چارسدہ کے بعد صوابی میں آخری پلان دیا جائے گا، جو مخالفین کی نیندیں حرام کر دے گا۔‘ انھوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ نظم و ضبط برقرار رکھیں اور آئندہ مراحل کے لیے تیار رہیں۔
آبنائے ہرمز کے قریب گیس بردار جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، پاسدارانِ انقلاب کی مزید کارروائیوں کی دھمکی
،تصویر کا ذریعہReuters
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک بڑے ایل پی جی گیس بردار جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم اور پیشرانی نظام میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔
نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ ’این وی سن شائن‘ نامی گیس بردار جہاز ایک ’غیر مجاز راستے‘ سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا، جس پر کارروائی کی گئی۔ ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں جہاز کے اہم حصوں میں آگ لگ گئی۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی نگرانی اور وہاں بحری آمدورفت کا انتظام اس کی بحری فورس کی ذمہ داری ہے اور خطے میں ’جارح قوتوں‘ کی موجودگی یا مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کے انتظامی نظام کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب برطانیہ کے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے اطلاع دی ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب ایک تجارتی جہاز نامعلوم گولے یا میزائل کی زد میں آیا، جس سے جہاز میں آگ لگ گئی۔ برطانوی ادارے کے مطابق آگ پر بعد میں قابو پا لیا گیا، تاہم اس واقعے اور ایرانی دعوے کے درمیان تعلق کے بارے میں فوری طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
پاسداران انقلاب نے بعد ازاں ایک اور بیان میں خبردار کیا کہ مستقبل میں کارروائیاں صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہیں گی۔ اس کے مطابق ایسے تمام جہاز، جو ایرانی حکام کے بقول غیر مجاز راستے اختیار کریں گے یا ’امریکی جارحانہ اقدامات‘ کا ساتھ دیں گے، پورے خطے میں نگرانی اور تعاقب کی زد میں آ سکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اب کسی بھی ’خلاف ورزی‘ کے مرتکب جہاز کے خلاف کارروائی صرف آبنائے ہرمز میں نہیں بلکہ خطے کے دیگر سمندری راستوں پر بھی کی جا سکتی ہے، اور ایسے واقعات پر ’فیصلہ کن سزا‘ دی جائے گی۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کا ایڈیشنل سیشن جج اسداللہ رئیسانی کی گمشدگی پر تشویش، ’سرچ آپریشن جاری ہے‘: صوبائی ترجمان, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہAPP
انسانی حقوق کی تنظیم، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے بلوچستان کے ایڈیشنل سیشن جج اسداللہ رئیسانی کی مبینہ گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے ان کی فوری بازیابی کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
ایچ آر سی پی کے بیان کے مطابق جج اسداللہ رئیسانی 6 اکتوبر 2026 کو کوئٹہ سے پنجگور کے لیے روانہ ہوئے تھے، تاہم اہلِ خانہ کے مطابق سوراب کے علاقے سے گزرتے ہوئے ان سے رابطہ منقطع ہو گیا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اسداللہ رئیسانی کے ٹھکانے کا تعین کریں اور ان کے اہلِ خانہ کو تمام پیش رفت سے باخبر رکھیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور جج اسداللہ رئیسانی کی محفوظ بازیابی کے لیے تمام ضروری اقدامات فوری طور پر کیے جانے چاہییں۔
جمعے کے روز وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شاہد رند سے ایڈیشنل سیشن جج پنجگور کی بازیابی سے متعلق پیش رفت کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
شاہد رند کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مغوی جج کی بازیابی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور جیسے ہی اس حوالے سے کوئی اہم پیش رفت سامنے آئے گی، میڈیا کو آگاہ کر دیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج آخری آپشن ہے، پی ٹی آئی انتہا پسندی کی سیاست چھوڑ دے: بلاول بھٹو
،تصویر کا ذریعہScreenshort
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے حالات سب کے سامنے ہیں، تاہم صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ ایک ’قانونی ایٹم بم‘ کے مترادف ہے اور اسے صرف آخری آپشن کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔
کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک ہفتہ قبل وفاقی حکومت اور ’پورا نظام‘ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے تیار تھا، لیکن پیپلز پارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے غیر معمولی آئینی اختیارات کا استعمال آخری چارۂ کار ہونا چاہیے۔
بلاول بھٹو نے مذاکراتی عمل کے حوالے سے کہا کہ عوام کو یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کیوں ناکام بنائے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے حوالے سے بحث ہو رہی ہے تو اس کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے گورنر راج کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی‘ اور ’صوبے میں ایسے حالات پیدا ہو چکے ہیں کہ ایمرجنسی نافذ کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔‘
بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر زور دیا کہ سیاسی کشیدگی اور محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات، پارلیمانی سیاست اور جمہوری عمل ہی مسائل کا حل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے ’انتہا پسندی اور نفرت کی سیاست‘ کر رہی ہے، جس کا نقصان صوبے، عوام اور ملک کو پہنچ رہا ہے۔ ان کے بقول اس طرزِ سیاست سے سب سے زیادہ نقصان خود پاکستان تحریک انصاف کو ہو رہا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس عوامی حمایت موجود ہے، لیکن اپنی سیاسی حکمت عملی اور ’انتہا پسندانہ سیاست‘ کے باعث وہ اپنے ہی حامیوں کو مایوس کر رہی ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہی وجہ ہے کہ کراچی میں بھی جماعت مؤثر سیاسی کردار ادا نہیں کر سکی۔
انھوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی نے اپنی موجودہ سیاسی روش برقرار رکھی تو مستقبل میں خیبر پختونخوا میں بھی اس کی سیاسی پوزیشن متاثر ہو سکتی ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے انتخابی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کوشش کر کے تمام فریقوں کو الیکٹورل ریفارمز کمیٹی پر آمادہ کیا ہے اور مسلم لیگ (ن) اس پر رضامند ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کمیٹی کے اجلاسوں میں شریک نہیں ہوگی تو آئندہ انتخابات کو شفاف کیسے بنایا جا سکے گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ وہ دھرنوں، محاذ آرائی اور ’انتہا پسندی کی سیاست‘ ترک کر کے پارلیمانی سیاست، سیاسی جماعتوں سے مکالمے اور پارلیمان کی کمیٹیوں میں فعال شرکت کا راستہ اختیار کرے۔
انھوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی یہ راستہ اپناتی ہے تو نہ صرف سیاسی ماحول بہتر ہو سکتا ہے بلکہ عوام کی مایوسی بھی کم کی جا سکتی ہے۔
گورنر راج کا فیصلہ وفاق کرے گا، لانگ مارچ ’لکی ایرانی سرکس‘ بن چکا ہے: فیصل کریم کنڈی
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ وفاقی حکومت نے کرنا ہے، تاہم صوبے کی صورتحال پر رپورٹ طلب کی گئی تو وہ وفاق کو اپنی رپورٹ بھجوا دیں گے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے کے حالات سب کے سامنے ہیں اور اگر وفاقی حکومت نے رپورٹ مانگی تو وہ موجودہ صورتحال سے متعلق اپنی رائے اور مشاہدات سے آگاہ کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ وفاق کے بغیر خیبر پختونخوا نہیں چل سکتا، لیکن صوبائی حکومت مسلسل وفاق کے ساتھ محاذ آرائی کی سیاست کر رہی ہے۔
گورنر نے کہا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے اور صدرِ مملکت و وزیراعظم ہی اس بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاق یہ سمجھے کہ صوبے کے حالات اس نوعیت کے ہیں تو فیصلہ بھی وہی کرے گا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ بطور گورنر جب چاہیں چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس کو طلب کر سکتے ہیں۔
سیاسی صورتحال اور مذاکرات کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کی پیشکش بھی قبول نہ کی جائے تو پھر معاملات کو آگے بڑھانا مشکل ہو جاتا ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف پر تنقید کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ پارٹی کو پہلے اپنے داخلی مسائل کا جائزہ لینا چاہیے۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اپنی صفوں کے لوگوں کا تحفظ ممکن نہیں تو صوبے، عوام اور وسائل کے تحفظ کی ذمہ داری کیسے نبھائی جا سکتی ہے۔
پی ٹی آئی سے منسوب مبینہ آڈیو لیکس پر تبصرہ کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پارٹی رہنما خود ایک دوسرے کی حقیقت بتا رہے ہیں۔
لانگ مارچ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسے بھی ’لکی سرکس‘ میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور ایک سے دوسرے شہر گھوم رہے ہیں۔ صوابی میں متوقع اجتماع کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ صوابی نہیں آئیں گے، صوابی پار کر کے دکھائیں۔‘
پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوشش، علی محمد خان کا سپیکر سے رابطہ
،تصویر کا ذریعہNational Assembly
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ انھوں نے مذاکرات کی بحالی کے لیے قومی اسمبلی کے سپیکر سردار محمد ایاز صادق سے جعے کی صبح رابطہ کیا ہے تاکہ کسی ممکنہ کشیدگی یا نقصان سے قبل بات چیت کا راستہ نکالا جا سکے۔
علی محمد خان کے مطابق انھوں نے آج پارلیمنٹ ہاؤس میں سپیکر سے گفتگو کرتے ہوئے درخواست کی کہ وہ فریقین کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے کردار ادا کریں تاکہ کسی نقصان سے بچا جا سکے۔
،تصویر کا ذریعہNational Assembly of Pakistan
انھوں نے کہا، ’اگر کہیں کوئی تعطل یا تناؤ کی صورتحال ہے تو نقصان ہونے سے پہلے بات چیت ہو جانی چاہیے، یہ بہتر ہوگا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف ایک پرامن جماعت ہے اور ’اگر کسی کو بھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم ایسا نہیں چاہتے، ہم پرامن لوگ ہیں۔‘
ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ سپیکر کے دفتر سے اس ملاقات کی تفصیلات اور سپیکر کے مؤقف کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
سابق اقوامِ متحدہ کمشنر ناوی پلے نے نوبیل امن انعام جیت لیا: ’اگر آپ تھوڑی اور تالیاں بجائیں تو شاید میں یہ انعام ٹرمپ کے نام بھی کر دوں‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی ممتاز قانون دان اور سابق اقوامِ متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ناوانیتھم ’ناوی‘ پلے کو امن، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے خدمات کے اعتراف میں نوبیل امن انعام 2026 سے نوازا گیا ہے۔
نوبیل کمیٹی کے سربراہ یورگن واٹنے فریدنیس نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ناوی پلے نے عالمی سطح پر امن، انصاف اور بین الاقوامی قانون کے تحفظ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا، جس کے اعتراف میں انہیں اس سال کا نوبیل امن انعام دیا جا رہا ہے۔
نوبیل امن انعام جیتنے پر ناوی پلے کا ردِعمل: ’یہ کوئی مذاق ہی لگتا ہے‘
نوبیل امن انعام 2026 کی فاتح ناوی پلے نے انعام ملنے کی خبر پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ابتدا میں یقین ہی نہیں آیا کہ یہ خبر واقعی درست ہے۔
انعام کے اعلان کے بعد اپنے مختصر خطاب میں سابق اقوامِ متحدہ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا کہ انھیں ایک کال موصول ہوئی اور ایک شخص نے بتایا کہ وہ نوبیل امن انعام جیت گئی ہیں۔
ناوی پلے نے ہنستے ہوئے کہا: ’یہ کوئی مذاق ہی ہونا چاہیے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’آپ کی تالیاں میرے لیے بہت معنی رکھتی ہیں، لیکن چونکہ میں ایک وکیل اور جج ہوں، اس لیے میں اب بھی اس خبر کی تصدیق کرنا چاہتی ہوں۔‘
85 سالہ ناوی پلے نے حاضرین سے خوشگوار انداز میں مخاطب ہوتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی چٹکی لی۔ انھوں نے کہا: ’اگر آپ تھوڑی اور تالیاں بجائیں تو شاید میں یہ انعام ٹرمپ کے ساتھ بھی بانٹ لوں۔‘
یہ تبصرہ گذشتہ سال کی نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو کے اس اقدام کی جانب اشارہ تھا، جب انھوں نے جنوری میں اپنا تمغہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کیا تھا۔
ناوی پلے کون ہیں؟
85 سالہ ناوی پلے جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں ایک غریب انڈین نژاد خاندان میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد بس ڈرائیور تھے۔ نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) کے دور میں انھوں نے انسانی حقوق کے لیے کام کا آغاز کیا اور 1967 میں صوبہ نیٹل میں وکالت کا دفتر قائم کرنے والی پہلی خاتون بنیں۔
بعد ازاں وہ جنوبی افریقہ میں ہائی کورٹ کی جج مقرر ہونے والی پہلی غیر سفید فام خاتون بھی بنیں۔ اپارتھائیڈ مخالف کارکنوں کے مقدمات لڑنے کے بعد انھیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے روانڈا کے لیے بین الاقوامی فوجداری ٹربیونل کی جج منتخب کیا، جہاں انھوں نے آٹھ سال خدمات انجام دیں، جن میں چار سال بطور صدر شامل ہیں۔
ناوی پلے حالیہ برسوں میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ بھی رہ چکی ہیں۔ وہ اس وقت بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں اس مقدمے سے بھی وابستہ ہیں جس میں میانمار پر نسل کشی کے الزامات زیرِ سماعت ہیں۔
ناوی پلے کو دنیا بھر میں انسانی حقوق، انصاف اور جوابدہی کے اصولوں کے فروغ کے لیے طویل خدمات کے باعث عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل ہے۔
ایران کے خلاف جنگ میں 81 امریکی فوجی طیارے اور ڈرون تباہ یا متاثر، لاگت 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی کانگریس کے بجٹ دفتر (سی بی او) کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق رواں سال ایران کے خلاف شروع کی گئی امریکی فوجی مہم ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران کم از کم 81 امریکی فوجی طیارے، جنگی جہاز اور ڈرون تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یکم اگست تک ان فضائی اثاثوں کے نقصان کی مالیت 1.9 ارب سے 3.3 ارب ڈالر کے درمیان تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ آٹھویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے، جبکہ مستقل جنگ بندی تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔
متاثر ہونے والے امریکی فضائی اثاثوں میں 12 ایف-15 ای سٹرائیک ایگل لڑاکا طیارے، ایک ایف-35 اے لائٹننگ ٹو، سات کے سی-135 فضائی ایندھن بردار طیارے اور 45 ایم کیو-9 ریپر ڈرونز شامل ہیں۔
سابق امریکی بحری افسر اور دفاعی تجزیہ کار ہارلن اُلمین کا کہنا ہے کہ جدید جنگوں میں کم لاگت والے ڈرونز بڑی فوجی طاقتوں کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں اور فوجی اثاثوں کو نشانہ بنا کر نقصان پہنچانے میں کسی حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’چھوٹے ڈرون بھی انتہائی قیمتی فوجی اثاثوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور حالیہ تنازع کے دوران خلیجی ممالک میں اس کی مثالیں دیکھی گئی ہیں۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت نے روایتی فضائی برتری کو بھی چیلنج کر دیا ہے۔ روس۔یوکرین جنگ کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کم وسائل رکھنے والے ممالک بھی ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑی فوجی طاقتوں کو مؤثر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اُدھر جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر سیاسی دباؤ بھی بڑھا دیا ہے۔ انتظامیہ نے مالی سال 2027 کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کی درخواست کی ہے، تاہم کانگریس میں اس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
گذشتہ ماہ 45 ڈیموکریٹ سینیٹرز اور ایک آزاد رکن نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو خط لکھ کر جنگی اخراجات کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا تھا۔
کانگریس کے بجٹ دفتر کی ایک الگ رپورٹ کے مطابق یکم اگست تک ایران کے ساتھ جنگ پر امریکی اخراجات تقریباً 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے، جبکہ ادارے کا اندازہ ہے کہ تنازع جاری رہنے کی صورت میں ہر اضافی ماہ کی لاگت دو سے تین ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب پینٹاگون نے رپورٹ میں بیان کردہ نقصانات اور ان کے بجٹ پر ممکنہ اثرات کے بارے میں مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے نوبیل امن انعام کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی نامزدگی: ’امید ہے اب کی بار صدر ٹرمپ کی کوششوں کو مناسب پذیرائی ملے گی‘
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
آج (نو اکتوبر کو) نوبل فاؤنڈیشن کی جانب سے نوبل امن انعام کا اعلان کیا جانا ہے۔ اس
موقع پر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ
ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔
شہباز شریف نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا ہے
کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا میں امن کو فروغ دینے میں ایک تاریخی
کردار ادا کیا۔
’اُن کی بروقت مداخلت نے پاکستان اور
انڈیا کو کشیدگی کے دہانے سے واپس لانے اور جنگ بندی یقینی بنانے میں مدد دی، جو
آج تک برقرار ہے۔‘
وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں
پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔
’ہمیں
خلوصِ دل سے امید ہے کہ ہمارے خطے میں امن کے فروغ اور تنازعات کی روک تھام کے لیے
صدر کی کوششوں کو اس بار مناسب پذیرائی ملے گی۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ برس حکومتِ
پاکستان نے ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا پاکستان اور انڈیا کے مابین حالیہ
لڑائی کے دوران صدر ٹرمپ کی ’فیصلہ کن سفارتی مداخلت اور قائدانہ کردار‘ کے اعتراف
میں انھیں 2026 کے نوبیل امن انعام کے لیے باضابطہ طور پر نامزد کرنے کی سفارش کی
ہے۔