آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, امریکی صدر ٹرمپ کا ایران میں کوہ کلنگ پر حملہ کرنے کا عندیہ

نطنز کی جوہری تنصیبات کے قریب واقع کوہ کلنگ پر حملے کا عندیہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا اور اگر وہ مداخلت نہ کرتے ’تو آج اسرائیل موجود نہ ہوتا، مشرقِ وسطیٰ موجود نہ ہوتا، اور غالب امکان ہے کہ اس کے بعد ایران یورپی اور امریکی شہروں کو بھی نشانہ بناتا۔‘

خلاصہ

  • امریکہ جلد ہی ایران میں کوہ کلنگ پر حملہ سکتا ہے: ٹرمپ
  • ترکی میں ایرانی حکومت کی اہم مالیاتی شہ رگیں کاٹ دیں: امریکی وزارت خزانہ
  • امریکی بحری محاصرے کے باوجود تیل کی منتقلی اور فروخت ممکن بنائی: ایرانی وزیر تیل
  • بلوچستان: ضلع کچھی میں مسلح افراد کا پولیس تھانے اور سرکاری دفاتر پر حملہ
  • میجر جنرل فیصل نصیر کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کا کوآرڈینیٹر مقرر کر دیا گیا

لائیو کوریج

  1. امریکہ جلد ہی ایران میں کوہ کلنگ پر حملہ سکتا ہے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ممکنہ طور پر بہت جلد ایران میں واقع کوہ کلنگ (جسے مغربی ذرائع ابلاغ میں پکیکس ماؤنٹین بھی کہا جاتا ہے) پر حملہ کر سکتا ہے۔

    یہ زیرِ زمین سرنگوں کا ایک کمپلیکس ہے جو نطنز کی جوہری تنصیبات کے قریب واقع ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ خلا کے شعبے میں سب سے آگے ہے، ’ہمیں ہر اس فرد کے بارے میں معلوم ہے جو کوہ کلنگ میں حرکت کر رہا ہے، ہمیں ایران بھر میں ہر فرد کی نقل و حرکت کا علم ہے۔‘

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’اگر کچھ غلط ہوتا ہے تو ہم انھیں (ایران کو) نشانہ بنائیں گے، ہم انھیں شدت سے نشانہ بنائیں گے۔‘

    صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا؛ ’اگر ہم وہاں مداخلت نہ کرتے تو آج اسرائیل موجود نہ ہوتا، مشرقِ وسطیٰ موجود نہ ہوتا، اور غالب امکان ہے کہ اس کے بعد وہ یورپی شہروں اور ہمارے شہروں کو بھی نشانہ بناتے۔ لیکن ہم نے انھیں جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا۔‘

    امریکی صدر نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ امریکہ کے لیے ’کوئی بڑی بات نہیں‘ ہے۔

    اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کو ’جنگ‘ قرار نہیں دیتے۔

    جمعے کے روز ایک صحافی نے سوال کیا کہ اگر ایران کے ساتھ تنازع ’جنگ‘ نہیں تو پھر اسے کیا کہا جائے؟

    ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا: ’دیکھیں، بہت سے لوگ اسے جنگ نہیں کہتے۔ میں اسے ایک فوجی تنازع کہتا ہوں کیونکہ ہمارے لیے یہ نسبتاً ایک چھوٹا معاملہ ہے۔ یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ ہم نے وینزویلا میں کارروائی کی تھی، وہاں ہمارا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایران کے ساتھ تنازع میں ہم نے 18 افراد کو کھویا۔ ویتنام میں ہم نے ایک لاکھ افراد کو کھویا تھا۔‘

  2. جنوبی لبنان میں اسرائیل کا حملہ، دو افراد ہلاک

    لبنان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعے کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ حملہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے باوجود کیا گیا۔

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (این این اے) نے رپورٹ کیا کہ حملہ سٹریٹجک اہمیت کی حامل ’علی الطاہر‘ پہاڑی کے قریب کیا گیا۔ یہ وہ علاقہ ہے جس کے بارے میں اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہاں قبضہ کر لیا ہے، تاہم حزب اللہ نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اس نے یہ مقام کھو دیا ہے۔

    لبنانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نبطیہ شہر میں دو نوجوان ’موٹرسائیکل پر سوار تھے جب انھیں نشانہ بنایا گیا‘ اور امدادی کارکنوں نے ان کی لاشیں مقامی ہسپتال منتقل کر دیں۔

    اسرائیل نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ اس نے اس پہاڑی کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ان کے ملک کی فوج ’اس علاقے میں دشمن کی دوبارہ موجودگی کو روکنے کے لیے‘ اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔

    مارچ سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ لبنان کے کہنا ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملوں اور زمینی کارروائی میں 4300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط اور اسرائیل و لبنان کے درمیان ایک فریم ورک معاہدے تک پہنچنے کے بعد جھڑپوں کی شدت میں کمی آئی ہے، تاہم بیروت اب بھی اسرائیلی حملوں کے جاری رہنے کی اطلاعات دے رہا ہے۔

  3. بلوچستان: ضلع کچھی میں مسلح افراد کا پولیس تھانے اور سرکاری دفاتر پر حملہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے بھاگ ناڑی میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس تھانے اور دیگر سرکاری دفاتر پر حملہ کیا ہے۔

    حملے کے دوران مسلح افراد اور پولیس اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں پانچ شہری زخمی ہو گئے۔

    سرکاری حکام کے مطابق زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے کوئٹہ اور سندھ کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

    بھاگ ناڑی کے ایک رہائشی نور احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کے بعض حصوں میں داخل ہونے کے بعد مسلح افراد نے پولیس تھانے اور دیگر مقامات کو نشانہ بنایا۔

    ان کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں سے ایک سے ڈیڑھ گھنٹے تک فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔

    وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پولیس اور انسدادِ دہشت گردی فورس (اے ٹی ایف) کے اہلکاروں نے حملے کو ناکام بنا دیا۔

    انھوں نے پولیس اور اے ٹی ایف کے اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسندی کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

    محکمۂ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تھا۔

    انھوں نے کہا کہ جوابی کارروائی کے دوران متعدد شدت پسند زخمی ہوئے، جنھیں ان کے ساتھی ہمراہ لے گئے۔

    دریں اثنا وزیرِ اعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے میڈیا شاہد رند نے کہا کہ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے سکھر، لاڑکانہ اور کوئٹہ کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ان کے مطابق زخمی شہریوں کا ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں علاج جاری ہے اور حکومت بلوچستان انھیں ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔

    بھاگ ناڑی انتظامی طور پر بلوچستان کے ضلع کچھی کا حصہ ہے۔

  4. چھ ڈالر فی گیلن: امریکہ میں ڈیزل کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی

    امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق امریکہ میں ڈیزل کے فی گیلن کی اوسط قیمت 5.85 ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔ یہ شرح ایک سال قبل کی 3.71 ڈالر کی اوسط قیمت سے کہیں زیادہ ہے اور روس کے یوکرین پر حملے کے بعد قائم ہونے والے سابقہ ریکارڈ سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوبارہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ روسی آئل ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں نے ایندھن کی فراہمی میں مزید خلل پیدا کر دیا ہے۔

    ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے دنیا بھر میں مہنگائی اور حکومتوں کے قرض لینے کی لاگت میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی کساد بازاری کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

  5. نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر تعینات ہونے والے میجر جنرل فیصل نصیر کون ہیں؟

    پاکستان کی وفاقی حکومت نے میجر جنرل فیصل نصیر کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کا نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر دیا ہے۔

    اس ضمن میں جاری ہونے والے سرکاری نوٹیفیکیشن کے مطابق اُن کی یہ تقرری تین سال کے لیے کی گئی ہے۔ میجر جنرل فیصل نصیر اس سے قبل انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے انٹرنل ونگ، جسے ’ڈی جی سی‘ کہا جاتا ہے، کے سربراہ رہے ہیں۔

    اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق ان کی تقرری وفاقی حکومت کی منظوری سے کی گئی ہے اور یہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گی اور آئندہ احکامات تک برقرار رہے گی۔

    نیکٹا کا ادارہ سنہ 2008 میں وزارتِ داخلہ کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ اس ادارے کا کام دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف قومی حکمت عملی مرتب کرنا، ایکشن پلان تیار کرنا، مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنانا اور وفاقی حکومت کو پیش رفت سے آگاہ کرنا ہے۔

    نیکٹا کو ماضی میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف تشکیل دیے گئے 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی نگرانی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔

    پاکستان کے عوامی حلقوں میں میجر جنرل فیصل نصیر کا نام نیا نہیں ہے۔

    اپریل 2022 میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف کامیاب عدم تحریک کے بعد اُن کی جانب سے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا گیا تھا اور احتجاجی جلسوں اور تقاریر کے دوران وہ میجر جنرل فیصل نصیر کا نام لے کر اُن پر شدید تنقید کرتے تھے۔

    تین نومبر 2022 کو لانگ مارچ کے دوران جب ایک قاتلانہ حملے میں عمران خان زخمی ہوئے تو انھوں نے اس حملے کا الزام جن تین شخصیات پر عائد کیا تھا اس میں سے ایک فیصل نصیر تھے۔ تاہم پاکستانی فوج نے اس الزام کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا تھا۔

    ایک پریس کانفرنس کے دوران عمران خان نے اُس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مطالبہ کیا تھا کہ ’میجر جنرل فیصل نصیر کو عہدے سے ہٹایا جائے یا ان کا تبادلہ کیا جائے۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر درج کرانا چاہتے ہیں مگر ایسا نہیں کیا جا رہا۔

    بعدازاں اپنے ایک بیان میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا تھا کہ ’عمران خان کے ادارے اور مخصوص افسر کے خلاف بے بنیاد الزامات ناقابل قبول ہیں۔‘

    آئی ایس پی آر نے اپنی پریس ریلیز میں یہ بھی کہا تھا کہ ’فوج نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ ادارے اور اس کے سینیئر افسر کے خلاف ہتک عزت پر قانونی کارروائی کی جائے۔‘

    میجر جنرل فیصل نصیر کون ہیں؟

    بی بی سی اُردو کی ایک رپورٹ کے مطابق فوجی افسر فیصل نصیر کو سنہ 2022 میں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی جس کے بعد وہ اگست 2022 میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی میں تعینات ہوئے تھے۔

    وہ آئی ایس آئی کے انٹرنل ونگ جسے عام طور پر ’پولیٹیکل ونگ‘ یا صرف ’سی‘ بھی کہا جاتا ہے، کے سربراہ رہے ہیں۔ اس عہدے کو عام طور پر ’ڈی جی سی‘ کہا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ اس سے مراد کاؤنٹر انٹیلیجنس نہیں، بلکہ یہ محض ایک حرف کے طور استعمال ہوتا ہے۔ آئی ایس آئی میں ان کے علاوہ ڈی جی اے، بی وغیرہ جیسے مخفف بھی استعمال ہوتے ہیں۔

    آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی بطور میجر جنرل اسی عہدے پر تعینات رہے تھے۔ یاد رہے کہ دسمبر 2025 میں یفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو ’سیاسی سرگرمیوں، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی‘ سمیت چار الزامات پر 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔

    میجر جنرل فیصل نصیر نے فوج کی پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا تھا اور اپنے کیریئر کے ابتدائی حصے میں ہی وہ کور آف ملٹری انٹیلیجنس میں چلے گئے جس کے بعد ان کا کیریئر انٹیلجنس اسائنمنٹس تک رہا ہے۔

    اور یہی وجہ ہے کہ ان سے متعلق زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ انھیں اپنے اب تک کے کیریئر کے دوران تمغہ بسالت اور امتیازی سند جیسے گیلنٹری ایوارڈز کے علاوہ آرمی چیف کمینڈیشن کارڈ بھی مل چکا ہے۔

    اپنے کیریئر کے دوران جنرل فیصل دو مرتبہ بلوچستان میں تعینات رہے۔ 2022 میں بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے سرفراز بگٹی (جو اب وزیر اعلیٰ بلوچستان ہیں) نے بتایا تھا کہ میجر جنرل فیصل بلوچستان میں انتہائی کشیدہ حالات کے دوران تعینات رہے۔

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’ہم نے انھیں انسداد دہشت گردی، اور کاؤنٹر انٹیلجنس کے معاملات جن میں چاہے لشکر جھنگوی ہو یا داعش یا دیگر ممالک کی ایجنسیاں، انھیں نہایت ذہانت اور پروفیشنلی کام کرتے دیکھا ہے۔‘

  6. ترکی میں ایرانی حکومت کی اہم مالیاتی شہ رگیں کاٹ دیں: امریکی وزارت خزانہ

    امریکی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کے تحت آج ’ترکی میں ایرانی حکومت کی اہم مالیاتی شہ رگیں کاٹ دی گئی ہیں۔‘

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک ’اقتصادی ڈی ڈے‘ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی بھی ملک کو ’سخت‘ معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں امریکی وزارت خزانہ نے کہا: ’آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول نے ترکی میں قائم گولڈن گلوبل بینک اور اس کی ذیلی کمپنیوں کو (پابندیوں کے لیے) نامزد کیا، جنھوں نے پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے لیے کروڑوں ڈالر مالیت کے لین دین میں سہولت فراہم کی ہے اور ایرانی حکومت کو اپنے فنڈز بین الاقوامی سطح پر منتقل کرنے کے لیے بینکاری خدمات تک رسائی فراہم کی ہے۔‘

  7. امریکی بحری محاصرے کے باوجود تیل کی منتقلی اور فروخت ممکن بنائی: ایرانی وزیر تیل

    ایران کے وزیرِ تیل محسن پاک نژاد کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بحری محاصرے اورعائد کی گئی پابندیوں کے باوجود، ’خلیج فارس کے علاقے سے ہزاروں کلومیٹر دور تیل کی منتقلی اور فروخت ممکن بنائی گئی۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بحری محاصرے میں 18 جون سے 15 جولائی کے درمیان پیدا ہونے والے وقفے سے ایران نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اپنے ’تیل کا ایک قابلِ ذکر حصہ بحیرہ عمان کے اُس پار کسی مقام پر منتقل کر دیا۔‘ ایسی جگہ جہاں تیل کی خریداروں کو فراہمی ممکن ہو۔

    پاک نژاد نے امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے بحری محاصرے کو ’مشکل اور مؤثر‘ قرار دیا، تاہم وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایران کی تیل کی صنعت رکی نہیں ہے اور مختلف تدابیر اور طریقہ کار کی مدد سے پابندیوں میں سے راستہ نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    ایران کے وزیرِ تیل نے یہ بھی کہا کہ 40 روزہ جنگ کے دوران اور امریکہ کی جانب سے جزیرہ خارگ کے 550 سے زیادہ مقامات پر حملوں کے باوجود تیل کی برآمدات ’ایک لمحے کے لیے بھی بند نہیں ہوئیں۔‘

  8. پاکستانی فوج کا تین روز کے دوران بلوچستان میں مختلف کارروائیوں میں 48 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران تین روز میں 48 عسکریت پسندوں اور شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق گذشتہ 12 سے 24 گھنٹوں میں سکیورٹی فورسز نے مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی کے اضلاع میں ’فتنہ الخوارج‘ کالعدم تحریکِ طالبان اور ’فتنہ الہندوستان‘ (بلوچ علیحدگی پسند گروپس) کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر متعدد آپریشنز کیے۔

    ان کارروائیوں میں 36 عسکریت اور شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق چار ستمبر کو مستونگ میں آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور ان کا مقابلہ کیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں چھ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔

    قلات میں بھی انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک اور آپریشن کیا گیا۔ اس کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا اور دو شدت پسندوں کو ہلاک کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع سبی کے علاقے بھاگ میں سکیورٹی فورسز نے مقامی آبادی کے تعاون سے فوری ردِعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس سٹیشن بھاگ پر دہشت گردوں کے حملے کی کوشش ناکام بنا دی۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو شدت پسند مارے گئے۔

  9. حوثیوں اور یمنی افواج کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 81 فوجی اہلکار ہلاک

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات سے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور تعز کے قریب حوثیوں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی سرکاری افواج کے درمیان جھڑپوں میں دونوں جانب سے کم از کم 81 فوجی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

    بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں تعینات یمنی فوج کے ایک عہدیدار نے اپنی فورسز کے 24 اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی، جبکہ تعز کے علاقے میں موجود ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ وہاں 15 افراد ہلاک ہوئے۔

    اے ایف پی نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں طبی ذرائع کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ان جھڑپوں میں حوثی مسلح افواج کے کم از کم 42 ارکان بھی ہلاک ہوئے۔

    یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب حوثی فورسز نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور تعز کے علاقے کے آس پاس راکٹوں اور ڈرونز کے ذریعے زمینی حملہ کیا۔

  10. پاکستانی فوج کا بلوچستان کے ضلع قلات میں کارروائی کے دوران 12 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی ار نے دعویٰ کیا ہے کہ دو ستمبر کو بلوچستان کے ضلع قلات میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کے دوران 12 عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

    جمعے کو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے کی نشاندہی اور نگرانی کی گئی اور فورسز کی جانب سے فوری ’سرجیکل ایکشن‘ کے ذریعے اسے تباہ کر دیا گیا جس کے نتیجے میں 12 عسکریت پسند مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دوران اسلحے اور دیسی ساختہ بارودی آلات کے ذخیرے کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

  11. ’ایسے جارح کو جواب دینے کے لیے کب تک انتظار کرنا چاہیے جو عرب ممالک کی خودمختاری کا احترام نہیں کرتا:‘ ایرانی وزیرِ خارجہ کا اُردنی ہم منصب سے سوال

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے اردنی ہم منصب کے حالیہ بیانات کے جواب میں لکھا: ’اردنی وزیر خارجہ کی رائے میں ایران کو ایسے جارح کا جواب دینے کے لیے کب تک انتظار کرنا چاہیے جو نہ تو عرب اور نہ ہی ایرانی خودمختاری کا احترام کرتا ہے؟‘

    ایکس پر اپنے بیان میں عراقچی نے کہا کہ ایران پر امریکہ کے ابتدائی حملوں میں ’عرب ممالک کی فضائی، زمینی اور آبی حدود کا استعمال کیا گیا تھا‘ اور انھوں نے اردنی وزیرِ خارجہ پر لاعلمی کا الزام عائد کیا۔

    گذشتہ روز ایک سرکاری بیان میں اردن کی وزارت خارجہ نے کویت پر ایران کے حملوں کو ’وحشیانہ‘ قرار دیا اور اسے ’قومی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی، سلامتی، استحکام اور علاقائی سالمیت کے لیے خطرہ‘ نیز ’بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا تھا۔

    دوسری جانب قطر کی وزارتِ خارجہ نے کویت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’یہ حملے کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کو پیچیدہ بناتے ہیں اور خطے میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘

  12. آبنائے ہرمز میں فوجی دستے بھیجنے کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا: جنوبی کوریا

    جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں فوجی دستے بھیجنے کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا ہے۔

    جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں فوجی دستے بھیجنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

    ان میڈیا رپورٹس کے بعد کہ جنوبی کوریا اس سال کے آخر تک آبنائے ہرمز میں فوجی دستے بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ کوریا کے صدارتی دفتر نے جمعے کو اعلان کیا کہ اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور ابھی بھی جائزے کا عمل جاری ہے۔

    عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے اہم سمندری گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے حوالے سے جنوبی کوریا پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دباؤ ہے۔

  13. امریکی حملے سے ایران میں شادی کی تقریب کے دوران ہلاکتوں کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے: رپورٹ

    امریکی جریدے ’ایگزیوس‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے منگل کے روز امریکی حملوں کے دوران ایران میں ایک شادی کی تقریب کے دوران شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ یہ واقعہ امریکی حملے کا براہِ راست نتیجہ تھا، لیکن اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ چھ ماہ قبل امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے شہریوں کے جانی نقصان کے بڑے واقعات میں سے ایک ہو گا۔

    اب تک شہریوں کے جانی نقصان کا سب سے ہولناک واقعہ جنگ کے پہلے دن پیش آیا تھا، جب امریکی حکام کے مطابق ایران میں ایک سکول پر امریکی حملے میں 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اس حملے کے بارے میں فوج کی تحقیقات جلد مکمل ہو جائیں گی۔

    ’ایگزیوس‘ سے بات کرنے والے امریکی حکام کے مطابق سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے بدھ کے روز اس حملے کے اندرونی جائزے کا حکم دیا۔

    یہ رپورٹ خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی جانب سے اسلحہ کے ماہرین کے حوالے سے دی گئی اس خبر کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’کوہستک‘ شہر میں شادی کی تقریب کے دوران ہونے والا دھماکہ غالباً امریکی ہتھیار کے براہِ راست لگنے سے ہوا تھا، نہ کہ ایرانی فضائی دفاعی میزائل کے بالواسطہ ٹکرانے یا رخ تبدیل کرنے کے نتیجے میں۔

  14. سیلاب کے بعد ہائیڈرو پاور منصوبوں کے کارکن سرنگوں میں کیسے پھنس گئے؟

    نیپال میں اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ علاقے میں دریائے تریشولی کے کنارے متعدد ہائیڈرو پاور منصوبے قائم ہیں، جن کے زیرِ زمین پھیلے ہوئے وسیع سرنگوں کا نظام موجود ہیں۔

    جب سیلابی ریلے پہاڑی علاقوں سے گزر کر دریائے تریشولی تک پہنچے تو پانی، مٹی اور ملبہ بڑی مقدار میں ان سرنگوں میں داخل ہو گیا۔ سیلابی پانی کے باعث کئی سرنگیں کیچڑ اور ملبے سے بھر گئیں، جس کے نتیجے میں وہاں کام کرنے والے متعدد کارکن اندر ہی پھنس گئے۔

    حکام کے مطابق کچھ کارکن بروقت سرنگوں سے باہر نکلنے میں کامیاب رہے، تاہم اندازہ ہے کہ اب بھی 150 سے زائد افراد مختلف سرنگوں میں محصور ہیں۔

    امدادی کارروائیوں کے دوران ریسکیو ٹیموں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ پھنسے ہوئے افراد تک رسائی کے لیے فوجی اہلکار پہاڑی علاقوں میں بڑی چٹانوں کو دھماکوں کے ذریعے ہٹا رہے ہیں تاکہ راستہ بنایا جا سکے۔

    اس کے علاوہ انجینیئرز مٹی سے بھری سرنگوں میں ہوا بھی پمپ کر رہے ہیں تاکہ اندر موجود افراد کو آکسیجن کی فراہمی برقرار رکھی جا سکے اور ان کی زندہ بچنے کی امید بڑھائی جا سکے۔ ریسکیو ٹیمیں وقت کے خلاف دوڑتے ہوئے پھنسے ہوئے کارکنوں کو بحفاظت نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

  15. نیپال سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد 1,301 ہوگئی جبکہ 5,339 افراد اب بھی لاپتہ

    نیپال اور تبت میں نو روز قبل آنے والے تباہ کن اچانک سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں اور لاپتہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق دونوں علاقوں میں مجموعی طور پر 1,301 افراد ہلاک جبکہ 5,339 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

    نیپالی پولیس کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 1,280 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 4,798 افراد کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

    دوسری جانب تبت میں حکام نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 21 ہو گئی ہے، جبکہ 541 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔

    حکام کے مطابق لاپتہ ہونے والوں میں کم از کم 34 مختلف ممالک کے سینکڑوں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جس کے باعث یہ سانحہ بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

    دریں اثنا نیپال میں امدادی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ مختلف ہائیڈرو پاور منصوبوں کی کم از کم چھ سرنگوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے، جہاں 150 سے زائد افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    امدادی ٹیمیں وقت کے خلاف دوڑتے ہوئے لاپتا افراد کی تلاش اور ممکنہ زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

    یاد رہے کہ جمعہ کو تریشولی 3 اے ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ سے دو کارکنوں کو نو روز بعد زندہ نکال لیا گیا تھا، جس کے بعد دیگر پھنسے افراد کے اہل خانہ میں بھی امید کی نئی لہر پیدا ہوئی ہے۔

  16. ریسکیو کیے گئے دو کارکنوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک

    نیپال کے وزیراعظم کے دفتر نے بتایا ہے کہ ہائیڈرو پاور پلانٹ کی سرنگ سے ریسکیو کیے گئے دو کارکنوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

    سرکاری بیان کے مطابق دوسرے نمبر پر ریسکیو کیے جانے والے کبیر مہارجن کی حالت نازک ہے اور وہ کھٹمنڈو کے آرمی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ دوسرے کارکن سنجیا ساہا کا بھی اسی ہسپتال میں طبی معائنہ کیا جائے گا۔

    دونوں کارکنوں کو جمعہ کی صبح ہیلی کاپٹر کے ذریعے کھٹمنڈو منتقل کیا گیا تھا، جہاں انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ نو روز تک سرنگ میں پھنسے رہنے کے بعد ان کی بحفاظت بازیابی کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد مختلف ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں میں پھنسے باقی کارکنوں کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں، جبکہ 150 سے زائد افراد کے اب بھی مختلف سرنگوں میں محصور ہونے کا خدشہ ہے۔

    حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن اس وقت کم از کم چھ ہائیڈرو پاور سرنگوں میں جاری ہے۔ جمعہ کو تریشولی 3 اے ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ سے دو کارکنوں کو بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ دیگر پھنسے افراد تک رسائی کی کوششیں جاری ہیں۔

    امدادی حکام کا کہنا ہے کہ وہ وقت سے مقابلہ کرتے ہوئے باقی کارکنوں کو زندہ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ریسکیو کارروائیوں میں بھاری مشینری اور خصوصی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

    دریں اثنا، سامنے آنے والی ویڈیوز میں وہ جذباتی لمحہ دیکھا جا سکتا ہے جب تریشولی 3 اے سرنگ میں پھنسے دونوں کارکنوں کو نو روز بعد بحفاظت باہر نکالا گیا۔ ان کی بازیابی نے دیگر لاپتہ اور پھنسے ہوئے افراد کے اہل خانہ میں بھی امید پیدا کر دی ہے۔

  17. نیپال: تباہ کن سیلاب کے نو روز بعد ہائیڈرو پاور پلانٹ کی سرنگ سے دو مزدور بحفاظت ریسکیو

    نیپال میں تباہ کن اچانک سیلاب کے نو روز بعد تریشولی 3 اے ہائیڈرو پاور پلانٹ کی سرنگ میں پھنسے دو کارکنوں کو زندہ نکال لیا گیا۔ حکام کے مطابق دونوں کارکنوں کو ریسکیو کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے دارالحکومت کھٹمنڈو کے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    حکام نے بتایا کہ بچائے جانے والے کارکنوں کی شناخت سنجیا شاہ اور کبیر مہارجن کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں افراد کے ہاتھوں اور ٹانگوں پر زخم ہیں، جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر سرنگ کے اندر رینگتے ہوئے نکلنے کی کوشش کے دوران آئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق سرنگ کے اندر پھنسے مزید کم از کم 39 افراد کو بھی نکالنے کی امید ہے، کیونکہ آج صبح امدادی کارکنوں نے اندر سے آوازیں سننے کی اطلاع دی تھی۔

    دریں اثنا، سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع ابلاغ پر جاری ہونے والی ویڈیوز میں وہ لمحہ دکھایا گیا ہے جب دونوں کارکنوں کو محفوظ طریقے سے سرنگ سے باہر نکالا گیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ نیپال کے دیگر ہائیڈرو پاور منصوبوں میں اب بھی 150 سے زائد افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔

    بچائے گئے کارکنوں میں سے ایک کے بھائی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے عزیز کی بحفاظت واپسی کی خبر سن کر اس کا دل اب ’ہلکا‘ محسوس کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے آنے والے شدید اچانک سیلاب نے نیپال کے ہمالیائی علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی، جس کے بعد متعدد ہائیڈرو پاور منصوبوں کے کارکن سرنگوں اور مختلف مقامات پر پھنس گئے تھے۔

  18. اسرائیلی قید سے ایک لبنانی شہری رہا، مزید چار کی رہائی آج متوقع

    لبنان کے ان پانچ شہریوں میں سے ایک کو واپس ان کے ملک کے حوالے کر دیا گیا ہے جنہیں اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں کے دوران حراست میں لیا تھا، جبکہ باقی چار افراد کی رہائی جمعہ تک مؤخر کر دی گئی۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق تفتیش کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ یہ افراد عام شہری تھے، کسی مسلح یا دہشت گرد تنظیم سے وابستہ نہیں تھے اور نہ ہی کسی کارروائی میں شریک رہے تھے، اس لیے انھیں مزید حراست میں رکھنے کا کوئی جواز موجود نہیں تھا۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کے دفتر نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اسرائیل پانچ لبنانی شہریوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔ بعد ازاں لبنانی فوج نے آئی سی آر سی کے ذریعے ان میں سے ایک شخص، مالک غازی، کو وصول کر لیا۔ انھیں جنوبی لبنان کے ناقورہ بارڈر کراسنگ سے شہر صور میں لبنانی فوجی انٹیلی جنس کے دفتر منتقل کیا گیا۔

    باخبر ذرائع کے مطابق باقی چار افراد، جن میں حسین عبداللہ محمود عیاش، اسعد محمود محمد الحسیکہ (شامی شہری)، علی حسن شور اور سام ابراہیم الصمادی شامل ہیں، کو جمعہ کی صبح لبنان کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے۔ ریڈ کراس نے اس عمل کو ایک جاری انسانی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام تفصیلات آپریشن مکمل ہونے کے بعد جاری کی جائیں گی۔

    اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست افراد سے پوچھ گچھ مکمل ہونے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ وہ عام شہری ہیں اور کسی دہشت گرد سرگرمی یا تنظیم سے ان کا تعلق ثابت نہیں ہوا۔ اسی بنیاد پر ان کی رہائی کا فیصلہ کیا گیا۔ جنوبی لبنان میں تنازع کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے اپنی تحویل میں موجود افراد کو رہا کیا ہے۔

    لبنانی حکام نے اگرچہ اسرائیل میں موجود اپنے شہریوں کی مجموعی تعداد نہیں بتائی، تاہم متاثرہ خاندانوں اور ان کے امور کی نگرانی کرنے والی ایک کمیٹی کے مطابق کم از کم 33 افراد 2024 سے مختلف اوقات میں لبنانی سرزمین سے حراست میں لیے گئے۔ ان میں ایک شامی شہری اور حزب اللہ کے بعض جنگجو بھی شامل ہیں۔

    یہ پیش رفت گزشتہ ماہ روم میں امریکی سرپرستی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے۔ ان مذاکرات میں لبنانی حکومت نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ زیرِ حراست لبنانی شہریوں کی پہلی کھیپ کو رہا کرے۔ نیتن یاہو کے دفتر نے اس رہائی کو دونوں ممالک کی جانب سے کی جانے والی ان کوششوں سے جوڑا ہے جن کا مقصد 1980 کی دہائی میں لبنان میں اغوا اور قتل کیے گئے لبنانی یہودی شخصیات کی باقیات کا سراغ لگانا ہے۔

    ذرائع کے مطابق حالیہ مہینوں کے دوران لبنان اور اسرائیل نے ان باقیات کی تلاش کے لیے مختلف زمینی سرگرمیاں بھی انجام دی ہیں، تاہم ان کارروائیوں کی نوعیت اور نتائج کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

  19. جنوبی کوریا آبنائے ہرمز میں فوجی دستے بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے

    جنوبی کوریا کے ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ ان کی حکومت ’آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی‘ کے تحفظ کے لیے فوجی سازوسامان اور اہلکار تعینات کرنے کی تیاری کر رہی ہے، اور اس مشن کو رواں سال کے اختتام سے پہلے شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    روئٹرز نے جمعرات، 12 ستمبر کو رپورٹ کیا کہ جنوبی کوریائی میڈیا نے سرکاری اور فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سیئول اس تعیناتی کے لیے پارلیمانی منظوری حاصل کرنے کی خاطر ضروری قانونی مراحل طے کر رہا ہے۔

    ان رپورٹس کے مطابق، حکومت کابینہ میں اس منصوبے کا جائزہ لینے کے بعد اسی ماہ پارلیمان سے منظوری حاصل کرنے کے لیے باضابطہ درخواست پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    جنوبی کوریا کی ممکنہ فوجی تعیناتی ایسے وقت میں زیرِ غور ہے جب آبنائے ہرمز میں سلامتی کی صورتحال کشیدہ ہے اور حالیہ ہفتوں کے دوران تجارتی جہازوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی وجہ سے متعدد ممالک اس اہم آبی گذرگاہ میں بحری سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنے کردار کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

    تاہم، جنوبی کوریا کی حکومت کے عہدیداروں نے اب تک ان رپورٹس پر کوئی باضابطہ ردِعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

  20. امریکی حملے میں ’تین ایرانی پائلٹ ہلاک‘

    ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نیوز نے خبر دی ہے کہ دو رات قبل ایران پر امریکی حملوں میں ’تین ایرانی فوجی پائلٹ‘ ہلاک ہوئے تھے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق پاسداران انقلاب کے قریب سمجھے جانے والی اس میڈیا ایجنسی نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ یہ پائلٹ کہاں اور کس طرح ہلاک ہوئے۔

    تسنیم نیوز کے مطابق ان پائلٹس کے نام مجتبیٰ باقری، بحریہ کے حامد اوکاٹی اور فضائیہ کے حسین مہدویان تھے۔

    تسنیم نے ایک علیحدہ رپورٹ میں ایرانی آرمی فورسز کے چھ دیگر ارکان کے نام بھی شائع کیے اور کہا کہ وہ ملک کے جنوبی حصوں میں حملوں میں ہلاک ہوئے۔

    یاد رہے کہ امریکہ نے 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب ایران پر ایک لمبے وقفے کے بعد حملے کیے تھے۔ سینٹکام نے دو دن قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے جنوبی ایران کے متعدد شہروں پر حملے کیے ہیں۔

    ایران کے مطابق سرک میں کوہستک پر حملے کے علاوہ صوبہ خوزستان کے اہواز اور آغاجری کے علاقوں میں کیے گئے حملوں میں سات افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔

    ہلاک ہونے والوں میں ایک شخص کی شناخت ’مقبول سکیورٹی فورسز‘ کے رکن کے طور پر ہوئی ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے بھی تصدیق کی تھی کہ آئی آر جی سی کی ایرو سپیس فورس کے چار ارکان صوبہ کرمانشاہ میں ہلاک ہوئے تھے جبکہ اطلاعات کے مطابق لاوان جزیرے پر امریکی حملے کے بعد بسیج فورس کے تین اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔