لائیو, تیہامہ میں حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی، مخا اور ذوباب میں حوثیوں پر یمنی فوج کے حملے

یمن میں حوثیوں کی تیز پیش قدمی اور سعودی تیل پائپ لائن پر حملے نے خطے میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ امریکہ سعودی عرب کی حمایت بڑھا رہا ہے، تاہم براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کر رہا ہے۔ اس پیش رفت سے ایران جنگ میں علاقائی کشیدگی اور معاشی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

خلاصہ

  • حوثیوں کا یمن میں بڑی پیش قدمی کا دعویٰ، بحیرۂ احمر کی اہم بحری گزر گاہ پر گرفت مزید مضبوط
  • متعدد حملوں کے بعد سعودی عرب کی ’مشرق۔مغرب‘ تیل پائپ لائن بند کر دی گئی
  • ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں کے خلاف حملوں کی درخواست مسترد کر دی: ایگزیوس
  • ایران، امریکہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات حل کریں: نریندر مودی
  • ایران کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے: امریکی وزیر دفاع
  • برکس ممالک کے درمیان قومی کرنسیوں میں تجارت بڑھائی جائے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

لائیو کوریج

  1. چینی صدر شی جن پنگ دہلی پہنچ گئے، برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے

    شی جن پنگ

    ،تصویر کا ذریعہANI Videograb

    چینی صدر شی جن پنگ برکس سمٹ 2026 میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کا طیارہ پالم ایئربیس پر اترا۔

    شی جن پنگ نے اس سے قبل 2019 میں انڈیا کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر ان کی اور انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کی چنئی کے قریب مملا پورم میں غیر رسمی سربراہی ملاقات ہوئی تھی۔

    ادھر انڈیا میں چین کے سفیر ژو فیہونگ نے جمعہ کی رات انسٹاگرام پر بتایا کہ صدر شی جن پنگ اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کے درمیان متوقع دوطرفہ ملاقات کی تیاریاں جاری ہیں۔

    صدر شی کی آمد سے کچھ ہی دیر قبل چائنا سدرن ایئرلائنز نے چھ برس بعد انڈیا اور چین کے درمیان براہِ راست فضائی سروس بحال کرنے کا اعلان بھی کیا۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق گوانگزو اور نئی دہلی کے درمیان پروازیں 21 ستمبر سے دوبارہ شروع ہوں گی۔

  2. آئی اے ای اے کانفرنس: ایرانی جوہری ادارے کے سربراہ ویانا روانہ

    IRAN

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ محمد اسلامی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی 70ویں جنرل کانفرنس میں شرکت کے لیے ویانا روانہ ہو گئے ہیں۔

    محمد اسلامی کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب گزشتہ ہفتے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی ’عدم تعمیل‘ پر ایران کا معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجنے کی قرارداد منظور کی تھی۔

    یہ قرارداد امریکہ، فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے پیش کی تھی، جبکہ بورڈ آف گورنرز کے 35 رکن ممالک میں سے 23 نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

    ایران کا کہنا ہے کہ ’جاری جنگ اور اس کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی دھمکیوں کے باعث ایجنسی کے معائنہ کاروں کی سلامتی کی ضمانت دینا ممکن نہیں رہا ہے۔‘

  3. ایران کا عراق سے ملحق شلمچہ اور چذابہ سرحدی گزرگاہیں بند کرنے کا اعلان

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خوزستان کے گورنر کے سکیورٹی امور کے نائب ولی اللہ حیاتی نے شلمچہ سرحدی گزرگاہ کی بندش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’عراقی حکام کے حکم پر چذابہ سرحد بھی بند کر دی گئی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’عراقی حکام کے اعلان کے مطابق خوزستان صوبے میں شلمچہ اور چذابہ سرحدیں آج صبح سے اگلے حکم تک بند ہیں اور فی الحال ان گزرگاہوں سے نہ سامان اور نہ ہی مسافروں کی آمدورفت ہو رہی ہے۔

    انھوں نے تاجروں، ڈرائیوروں اور مسافروں سے کہا ہے کہ وہ ان دونوں سرحدی ٹرمینلز کا رخ کرنے سے گریز کریں۔

    دوسری جانب مہرآن کے گورنر نے کہا ہے کہ مہرآن سرحد کھلی ہے۔

    عراق نے سعودی عرب کی مشرق-مغرب تیل پائپ لائن پر عراق کی سرزمین سے کیے گئے ڈرون حملے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر ان سرحدی گزرگاہوں کو بند کیا ہے۔

    شلمچہ اور چذابہ خوزستان صوبے میں ایران اور عراق کے درمیان اہم سرکاری سرحدی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہیں۔

  4. عراق اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ میں ٹیلیفونک رابطہ

    عراقی وزیرِ خارجہ فواد حسین اور سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کے درمیان سنیچر کی صبح ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی۔

    یہ رابطہ عراقی سرزمین سے سعودی عرب کی مشرق-مغرب تیل پائپ لائن کی جانب ڈرون بھیجے جانے کے بعد ہوا۔

    عراقی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے ’خطے میں ہونے والی تازہ پیش رفت اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا۔‘

    بغداد کے مطابق دونوں جانب سے ’دونوں ممالک کے درمیان رابطے، تعاون اور مشاورت جاری رکھنے کی اہمیت‘ پر زور دیا گیا۔

  5. مخا اور باب المندب میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے، یمنی فوج کا بڑے نقصان کا دعویٰ

    Yeman

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی مسلح افواج کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ مغربی یمن کے علاقوں مخا اور ذوباب میں حوثی تنظیم انصار اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    فوجی ترجمان ماجد النزیلی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں مخا اور ذوباب کے علاقوں میں متعدد اہداف تباہ کر دیے گئے۔ ان کے مطابق کارروائیوں میں گاڑیاں اور اسلحہ مکمل طور پر تباہ ہوا جبکہ مخا بندرگاہ کے قریب موجود حوثی جنگجو بھی مارے گئے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ساحلی شہر کے مختلف حصوں میں حوثی گروپ کے دیگر ارکان کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان کے بقول مخا شہر میں ایک شاپنگ سینٹر کے قریب حوثی جنگجوؤں کے بڑے اجتماع پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہاں موجود عناصر کو ملیا میٹ کر دیا گیا ہے۔

  6. تیہامہ میں حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی اور سعودی تیل پائپ لائن پر حملہ، ایران جنگ کا دائرہ پھیلنے کا خدشہ, پال ایڈمز، بی بی سی نیوز کے سفارتی امور کے نامہ نگار نگار پال ایڈمز کا تجزیہ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    یمن کے جنوبی علاقوں میں تیہامہ کے وسیع ساحلی میدان میں حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی نے بظاہر بیشتر مبصرین کو حیران کر دیا ہے۔

    تیہامہ یمن کا خشک ساحلی میدان ہے۔ حالیہ عرصے تک ’نیشنل ریزسٹنس‘ کے نام سے جانے جانے والے حوثی مخالف اتحاد کے پاس بحیرۂ احمر کے ساحل کے ساتھ خاصا بڑا علاقہ تھا، لیکن چند ہی دنوں میں اس کا بڑا حصہ حوثیوں کے قبضے میں چلا گیا۔

    کچھ اندازوں کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز نے یمن کی سٹریٹجیک اہمیت رکھنے والی ساحلی پٹی کے 130 کلومیٹر (81 میل) تک کے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔

    یہ کئی برسوں میں حوثیوں کی سب سے نمایاں فوجی کامیابی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 12 سال سے جاری خانہ جنگی، سعودی عرب کے تباہ کن فضائی حملوں اور امریکی، اسرائیلی اور برطانوی فورسز کے حملوں کے باوجود حوثی اب بھی ایک ایسی قوت ہیں جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ان کے مخالفین کے حیران اور حوصلہ پست ہونے کے بعد اس بات کا امکان کم ہے کہ حوثیوں کو جلد وہاں سے بے دخل کیا جا سکے گا۔

    برسلز میں قائم یورپی انسٹیٹیوٹ آف پیس کے سینیئر تجزیہ کار ہشام العمیسی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اب جبکہ وہ وہاں موجود ہیں، وہ اپنی پوزیشن مضبوط کر لیں گے اور انھیں وہاں سے نکالنا کہیں زیادہ مہنگا پڑے گا۔‘

    یقیناً حوثی اکیلے نہیں ہیں۔ انھیں ایران کی حمایت حاصل ہے اور تہران کے لیے یہ حمایت اس وقت مزید اہم ہو گئی ہے جب ایران کے نام نہاد ’محورِ مزاحمت‘ کے دیگر حصوں، یعنی لبنان کی حزب اللہ، غزہ میں حماس اور شام میں بشار الاسد کی حکومت کو مشکلات اور شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    ہشام العمیسی کے مطابق ’لہٰذا انھوں نے اپنی حمایت حوثیوں کی جانب منتقل کر دی اور ظاہر ہے کہ انھیں اس حمایت کی ضرورت ہے۔‘

    اگرچہ بیشتر تجزیہ کار اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ حوثیوں کو محض ایرانی کٹھ پتلی قرار دینا درست نہیں، تاہم گزشتہ چند روز کے واقعات ایک نئی اور پریشان کن حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

    امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر مشترکہ حملہ شروع کیے جانے کے سات ماہ بعد تہران کی حکومت اب دنیا کی صرف ایک نہیں بلکہ دو اہم ترین بحری گزرگاہوں پر اختیار رکھتی ہے، خلیجِ فارس کے دہانے پر واقع آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر تک رسائی کا راستہ باب المندب، جو نہر سویز کی جانب جانے کا اہم راستہ بھی ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے امریکہ سے مداخلت کی اپیلیں اب تک بے نتیجہ رہی ہیں۔

    ایگزیوس نے لکھا ہے کہ امریکہ ’یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش میں مبتلا ہے اور سعودی عرب کے لیے اپنی حمایت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ساتھ ہی براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز بھی کرنا چاہتا ہے۔‘

    تاہم سعودی عرب میں تشویش کی وجہ صرف باب المندب کو لاحق ممکنہ خطرہ نہیں ہے۔

    سیٹلائٹ تصاویر میں سعودی عرب کی مشرق-مغرب تیل پائپ لائن پر حوثیوں کے بظاہر میزائل اور ڈرون حملے کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ یہ پائپ لائن رواں سال کے آغاز میں آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد تیل برآمد کرنے کے لیے ایک اہم متبادل راستہ بن گئی ہے۔

    ان تصاویر سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ایران کے یمنی اتحادی ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ سے پیدا ہونے والے معاشی دباؤ میں مزید اضافہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    اگر ایران نے براہِ راست اس حملے کا حکم نہ بھی دیا ہو، تب بھی اس حملے سے واضح طور پر ایران کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

  7. ٹرمپ کی پالیسیوں کے سائے میں برکس اجلاس، 11 ممالک کے رہنما انڈیا میں جمع ہوں گے

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکہ برکس کا رکن نہیں، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے اثرات 12 اور 13 ستمبر کو انڈیا میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس میں نمایاں نظر آ سکتے ہیں۔

    اجلاس میں میزبان ملک انڈیا کے علاوہ برازیل، جنوبی افریقہ، چین، روس، ایران اور متحدہ عرب امارات سمیت 11 ممالک کے رہنما شرکت کریں گے۔

    سعودی عرب بھی اجلاس میں شرکت کرے گا۔

    ان ممالک کے رہنما کئی اہم معاملات پر تبادلۂ خیال کریں گے، تاہم صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے اثرات ان میں سب سے اہم موضوعات میں شامل ہو سکتے ہیں۔

    ایران کی جنگ اور امریکی محصولات کی دھمکی نے امریکہ کے مخالفین اور اتحادیوں، دونوں کے لیے عالمی توانائی کی منڈی کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی معیشت کے مستقبل کے بارے میں بھی مسلسل غیر یقینی پیدا کر دی ہے۔

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ایسے ماحول میں برکس ممالک اپنا سربراہی اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔ تاہم امکان کم ہے کہ برکس کی جانب سے امریکہ پر کھلے عام تنقید کرتے ہوئے مشترکہ بیان جاری کیا جائے یا ٹرمپ کی پالیسیوں اور جغرافیائی سیاست کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی مشترکہ حکمتِ عملی تشکیل دی جائے۔

    چینی صدر شی جن پنگ برکس اجلاس میں شرکت کے لیے انڈیا پہنچ رہے ہیں

    چینی صدر شی جن پنگ سنیچر کو 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بیجنگ سے انڈیا روانہ ہو گئے ہیں۔

    چینی میڈیا ادارے گلوبل ٹائمز کے مطابق چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی بھی شی جن پنگ کے ہمراہ انڈیا آنے والے وفد میں شامل ہیں۔

    Mohamed Abd El Ghany/POOL/AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہMohamed Abd El Ghany/POOL/AFP via Getty Images

    تاہم انڈیا میں چین کے سفیر شو فے ہونگ نے جمعے کی رات ایکس پر لکھا کہ ’چین اور انڈیا صدر شی جن پنگ اور وزیرِاعظم نریندر مودی کے درمیان دوطرفہ ملاقات کی تیاری کر رہے ہیں۔‘

    چینی سفیر کے مطابق چین انڈیا کے ساتھ بات چیت بڑھانے، تعاون مضبوط کرنے اور اختلافات کو مناسب طریقے سے حل کرنے پر زور دے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’چین اور انڈیا کو ایک دوسرے کی کامیابی میں معاون اچھے ہمسایوں اور شراکت داروں کی حیثیت سے آگے بڑھنا چاہیے۔‘

    واضح رہے کہ شی جن پنگ نے اس سے قبل سنہ 2019 میں انڈیا کا دورہ کیا تھا۔ اس دوران چنئی کے قریب ماملاپورم میں دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان غیر رسمی سربراہی ملاقات ہوئی تھی۔

  8. قطر کی سعودی عرب کی مشرق-مغرب تیل پائپ لائن پر حملے کی مذمت

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    قطر کی وزارتِ خارجہ نے سعودی عرب کی مشرق-مغرب تیل پائپ لائن پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔

    سعودی عرب کی مشرق-مغرب تیل پائپ لائن ریاض کی تیل برآمدات کے لیے واحد ایسا راستہ ہے جو آبنائے ہرمز سے نہیں گزرتا۔

    قطر نے اپنے بیان میں کہا کہ ’شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانا قابلِ مذمت اقدام، بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی اور کشیدگی میں خطرناک اضافہ ہے، جو علاقائی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتا ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ قطر ’برادر ملک سعودی عرب کے ذمہ دارانہ مؤقف کو سراہتا ہے، جس میں عراقی حکومت کی ان کوششوں کی حمایت کی گئی ہے کہ اس کی سرزمین کو سعودی عرب اور پڑوسی ممالک کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔‘

    ریاض نے عراقی وزیرِاعظم علی الزیدی کی درخواست کے بعد اعلان کیا ہے کہ ’وہ ان حملوں کا جواب نہیں دے گا۔‘

  9. 11 ستمبر کے حملوں کے ذمہ دار ایرانی نہیں بلکہ وہی لوگ تھے جنھیں امریکہ نے خود ہتھیار فراہم کیے: ایرانی ترجمان کا امریکی وزیرِ دفاع کے بیان پر ردِعمل

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے 11 ستمبر کے واقعات کی برسی کے موقع پر امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے اس بیان کی مذمت کی ہے جس میں انھوں نے ایران کے خلاف جنگ کا دفاع کیا تھا۔

    پیٹ ہیگسیتھ نے 11 ستمبر کے حملوں کی برسی کے موقع پر کہا تھا کہ ’امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں کو وہاں بھیجتا رہے گا جہاں ان کی جگہ ہے، یعنی جہنم میں۔‘

    اس کے جواب میں اسماعیل بقائی نے ایکس پر لکھا کہ ’11 ستمبر کی برسی کے موقع پر امریکی وزیرِ دفاع کی پیش کردہ داستان بنیادی تضادات سے بھری ہوئی ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ کوئی جارحیت کرے، بزدلانہ قتل کرے اور شہریوں کی ہلاکت کا سبب بنے اور ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کرے کہ اسے دہشت گردی کی تعریف طے کرنے اور مختلف فریقوں کے تشدد کے جائز ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنے کا خصوصی اختیار حاصل ہے۔‘

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’11 ستمبر کے حملوں کے ذمہ دار ایرانی نہیں تھے، وہی لوگ تھے جنھیں امریکہ نے گزشتہ دہائیوں میں خود ہتھیار فراہم کیے، منظم کیا یا کسی اور طریقے سے تربیت دی تھی۔‘

  10. ایران کی بحری ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک 99 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا: امریکی فوج کا دعویٰ

    Centcom

    ،تصویر کا ذریعہCentcom

    امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ’ایران کی بحری ناکہ بندی کے دوران اب تک 99 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا جا چکا ہے۔‘

    سینٹکام نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’وہ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی سے متعلق قواعد پر سختی اور مکمل طور پر عمل درآمد کی نگرانی کر رہی ہے۔‘

    پوسٹ میں امریکی بحریہ کے ایک سی ہاک ہیلی کاپٹر کی تصویر بھی جاری کی گئی، جس میں اسے امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس باکسر پر اترتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    سینٹکام کے مطابق، باکسر ایمفیبیئس ریڈی گروپ کی قیادت کرنے والا یو ایس ایس باکسر ایران کی بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کے لیے کارروائیوں میں مصروف ہے۔

  11. عراقی فوج کا سعودی عرب کی مشرق-مغرب تیل پائپ لائن پر حملے کی تحقیقات کا اعلان

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    عراقی مسلح افواج نے اعلان کیا ہے کہ وزیرِ اعظم علی الزیدی نے سعودی عرب کی مشرق-مغرب تیل پائپ لائن پر حملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    عراقی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ’عراقی حکومت مملکتِ سعودی عرب کے مؤقف اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے عراق کی کوششوں کے جواب کو سراہتی ہے۔‘

    عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق فوج نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم نے ’ان حملوں کی تفصیلات اور ان کے پسِ پردہ عوامل کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔‘

    وزیرِ اعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ اس واقعے میں ملوث ہونے کا ثبوت ملنے والے ہر شخص کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

    اس سے قبل بھی عراق کی سرزمین سے سعودی عرب میں تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے جواب میں سعودی عرب اور امریکہ کی جانب سے بھی حملے کیے گئے تھے۔ ایسے ہی ایک حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے کئی ارکان بھی ہلاک ہوئے تھے۔

  12. پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ: ایک ہفتے کے دوران پیٹرول 29.95 اور ڈیزل 25 روپے 27 پیسے فی لیٹر مہنگا

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان میں پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل پانچویں روز بھی اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے بعد 12 ستمبر سے پیٹرول پانچ روپے دو پیسے اور ڈیزل پانچ روپے 28 پیسے فی لیٹر مزید مہنگا ہو گیا ہے۔

    پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق تازہ اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 375 روپے 82 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ نئی قیمتیں 12 سے 14 ستمبر تک نافذ العمل رہیں گی۔

    تازہ اضافے سے قبل 11 ستمبر کو پیٹرول کی قیمت میں تین روپے پانچ پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں پانچ روپے 37 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔ اس سے ایک روز قبل بھی دونوں مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔

    گذشتہ چار روز میں پیٹرول کی قیمت مجموعی طور پر 24 روپے 93 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 19 روپے 99 پیسے فی لیٹر بڑھ چکی تھی۔ آج کے اضافے کے بعد گذشتہ پانچ روز میں پیٹرول مجموعی طور پر 29 روپے 95 پیسے اور ڈیزل 25 روپے 27 پیسے فی لیٹر مہنگا ہو چکا ہے۔

    اس طرح ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت پہلی بار اس تازہ اضافے کے دوران 400 روپے فی لیٹر کی حد سے تجاوز کر گئی ہے۔

    10 ستمبر 2026 سے پیٹرول کی قیمت 367.75 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 392.67 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

    اس سے ایک روز قبل، 9 ستمبر کو پیٹرول 364.35 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 385.95 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی۔

    اور 8 ستمبر کو پیٹرول کی قیمت 358.77 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 381.77 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی۔

    اس سے پہلے 5 ستمبر کو پیٹرول 345.87 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 378.05 روپے فی لیٹر کا تھا۔

    اعداد و شمار کے مطابق 5 ستمبر سے 10 ستمبر کے درمیان پیٹرول کی قیمت میں 21.88 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 14.62 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خلیجی خطے میں تیل بردار جہازوں پر حملوں اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    واضح رہے کہ حکومت نے مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی عالمی قیمتوں اور سپلائی سے متعلق صورتحال کے تناظر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لینے کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے۔

  13. یمن میں ہونے والی پیش رفت کا ایران سے کوئی تعلق نہیں: اسماعیل بقائی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’یمن میں ہونے والی پیش رفت کا ایران سے کوئی تعلق نہیں اور ایران نے مذاکرات اور امن کے لیے مدد فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔‘

    ایرانی سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’یمن میں جو کچھ ہوا وہ اس بات کی علامت ہے کہ یمنیوں کا صبر جواب دے رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم یک طرفہ مؤقف اختیار نہیں کر سکتے اور کئی برس سے جاری ظالمانہ محاصرے کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔‘

    اسماعیل بقائی نے دعویٰ کیا کہ ’امریکہ ایران پر الزام عائد کر کے صورتحال کو بگاڑنے اور اسلامی ممالک کے درمیان افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

    ان کے مطابق ’پابندیاں اور معاشی محاصرہ ایران کے خلاف جنگ ہیں۔‘

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’کسی ملک کا معاشی اور بحری محاصرہ جارحیت کا اقدام تصور کیا جا سکتا ہے، لہٰذا ان حالات میں ایران کے اقدامات دفاع کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔‘

  14. عراق نے سعودی عرب پر ڈرون حملے کے بعد ایران کے ساتھ شلمچہ سرحدی گزرگاہ بند کر دی

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    روئٹرز کے مطابق عراق نے ایران کے ساتھ واقع شلمچہ سرحدی گزرگاہ کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق عراقی سکیورٹی کے دو ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ عراق نے یہ گزرگاہ احتیاطی اقدامات کے پیشِ نظر بند کی ہے۔ یہ فیصلہ عراق کی سرزمین سے سعودی عرب کی مشرق-مغرب تیل پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد کیا گیا۔

    شلمچہ سرحدی گزرگاہ ایران اور عراق کے درمیان آمدورفت کے اہم زمینی راستوں میں سے ایک ہے۔

    رپورٹس کے مطابق سعودی عرب پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ڈرون عراق کے جنوب مشرقی صوبے میسان سے لانچ کیا گیا تھا۔ میسان کی سرحد ایران سے ملتی ہے اور اس کا انتظامی مرکز العماره شہر ہے۔

  15. حوثیوں کی یمن میں بڑی پیش قدمی: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    حوثی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    یمن کے حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے مغربی ساحل پر ایک بڑی پیش قدمی کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد اہم بین الاقوامی بحری تجارتی راستے باب المندب پر ان کی گرفت مزید مضبوط ہو گئی ہے۔

    یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ ایران کے حمایت یافتہ اس گروہ نے باب المندب کی آبنائے میں آبی گزر گاہ کے دہانے پر واقع پیریم جزیرے پر قبضہ کر لیا ہے۔

    اس سے قبل یہ پیش رفت سامنے آئی تھی کہ فوجی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز سے اہم ساحلی شہر مخا کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ ایک یمنی فوجی عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حوثی اب پوری ساحلی پٹی پر قابض ہیں۔

    پیریم کا نقشہ

    حوثیوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں، تاہم انھوں نے سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی اپنی دھمکی دہرائی۔

    اس معاملے سے واقف دو ذرائع نے بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ذاتی طور پر زور دیا ہے کہ وہ ان کے خلاف فوجی کارروائی کریں۔

    ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے اب تک امریکی فوج کو براہِ راست مداخلت سے دور رکھا ہے اور صرف انٹیلی جنس اور اہداف کی نشاندہی سے متعلق مدد کی پیشکش کی ہے۔

    بعد ازاں ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا: ’علاقائی استحکام کے حوالے سے ہم سعودی عرب اور جمہوریہ یمن کی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔‘

    جمعہ کے روز یمن کی حکومت نواز فورسز پیریم (جسے میون بھی کہا جاتا ہے) کے علاقے سے پسپا ہو گئیں۔

    عینی شاہدین اور خبر رساں اداروں کے مطابق اس کے بعد حوثی فورسز جزیرے میں داخل ہو گئیں۔

    بعد میں حوثیوں نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حمایت یافتہ فورسز کو نکال باہر کرنے کے لیے ان کی فوجی کارروائی ’کامیاب‘ رہی ہے اور ’سعودی بحری جہازوں کے علاوہ تمام کمپنیوں کے لیے سمندری آمد و رفت محفوظ ہے۔‘

    حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ یہ ’وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی‘ تین ستمبر کو سعودی عرب کی جانب سے ’ہمارے عزیز عوام کے خلاف کھلی جارحیت‘ کے جواب میں شروع کی گئی تھی۔

    سریع نے یہ بھی کہا کہ حوثیوں نے تعز اور الحدیدہ کے علاقوں کے چھ اضلاع سے ’دشمن کی‘ فورسز کو نکال باہر کیا ہے، اور دعویٰ کیا کہ سینکڑوں فوجی ہلاک، زخمی یا گرفتار ہوئے ہیں۔

    تاہم حوثیوں کے بیان میں پیریم جزیرے کا ذکر نہیں کیا گیا۔

    سعودی عرب نے حالیہ پیش رفت پر تا حال عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    پیریم جزیرہ باب المندب کی آبنائے کے سب سے تنگ حصے پر واقع ہے، اور امریکہ و ایران کے درمیان تنازع کے باعث آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے بعد اس علاقے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

    سعودی عرب ایشیا میں اپنے صارفین تک تیل کی ترسیل کے لیے بحیرۂ احمر اور باب المندب کی آبنائے پر انحصار کر رہا ہے۔

    حوثی

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    حوثیوں، یمن کی حکومت اور سعودی عرب کے درمیان تنازع میں حالیہ شدت تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بھی بنی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق ایک ہفتہ قبل جنوب مغربی یمن میں حوثیوں کی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔

    سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بھی حکومت نواز فورسز کی حمایت میں مغربی یمن کے حوثی زیرِ کنٹرول علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ حوثیوں نے جنوبی سعودی عرب کے شہروں اور تیل کی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

    2015 میں حوثیوں نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا، جس کے بعد خانہ جنگی میں سعودی فوجی مداخلت شروع ہوئی۔اس وقت حوثیوں کا یمن کے بڑے حصے، بشمول دار الحکومت صنعا، پر کنٹرول ہے۔

    اس وقت حوثیوں کا یمن کے بڑے حصے، بشمول دار الحکومت صنعا، پر کنٹرول ہے۔

  16. متعدد حملوں کے بعد سعودی عرب کی ’مشرق۔مغرب‘ تیل پائپ لائن بند کر دی گئی

    آرامکو کمپنی کی تیل تنصیبات

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سعودی عرب کی وزارتِ توانائی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ متعدد حملوں کے بعد ملک نے احتیاطی اقدام کے طور پر خام تیل کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی اہم مشرق۔مغرب پائپ لائن کو بند کر دیا ہے۔

    وزارت کے مطابق جمعرات کی صبح ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں اس پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پائپ لائن کو محفوظ بنانے اور اس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے تکنیکی اور امدادی ٹیمیں موقع پر بھیج دی گئی ہیں۔

    وزارتِ توانائی نے مزید کہا کہ ’آئندہ کسی بھی پیش رفت سے متعلق معلومات بعد میں جاری کی جائیں گی۔‘

    واضح رہے کہ مشرق۔مغرب پائپ لائن سعودی عرب کے مشرق میں واقع بقیق کی تنصیبات سے تیل کو بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع بندرگاہ تک پہنچاتی ہے۔ اس کی معمول کی گنجائش تقریباً 50 لاکھ بیرل یومیہ ہے۔

    سیٹلائٹ تصویر

    ،تصویر کا ذریعہCopernicus Sentinel-3/Reuters

    جمعرات کے روز حاصل ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر میں سعودی عرب کی ’ایسٹ ویسٹ‘ تیل پائپ لائن کے قریب دھوئیں کا ایک بڑا بادل دکھائی دیا تھا۔

    سعودی عرب نے اس علاقے میں کسی واقعے کی تصدیق نہیں کی تھی تاہم ایرانی میڈیا اور یمن کے حوثی جنگجوؤں نے دعویٰ کیا تھا کہ سیٹلائٹ تصاویر میں پائپ لائن کے اوپر دکھائی دینے والا دھواں حوثیوں کے حملے کا نتیجہ ہے۔

  17. ترک اور سعودی وزرائے خارجہ کے درمیان سعودی عرب پر حالیہ حملوں پر گفتگو

    ترکی کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں علاقائی صورتحال اور سعودی عرب پر یمنی حوثیوں کے حالیہ حملوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    اس گفتگو کے متعلق ایک ترک سفارتی ذریعے نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا۔

    یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ یمن کے مغربی ساحلی علاقے میں حوثی گروہ کی پیش قدمی بھی جاری ہے۔

    گذشتہ ماہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان نے ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں باہمی دفاع کی ایک شق بھی شامل ہے۔

  18. ایران، امریکہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات حل کریں: نریندر مودی

    انڈین وزیر اعظم مودی اور ایرانی صدر پزشکیان

    ،تصویر کا ذریعہx.com/narendramodi

    بی بی سی فارسی کے مطابق انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے برکس اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے۔ انھوں نے سمندری نقل و حرکت کی حفاظت اور بحری عملے کے تحفظ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

    دونوں رہنماؤں کی دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں یہ دوسری ملاقات تھی۔ ملاقات میں انڈیا اور ایران کے دو طرفہ تعلقات پر تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ خطے کی مجموعی صورتحال گفتگو کا مرکزی موضوع رہی۔

    یہ ملاقات پزشکیان کی برکس اجلاس میں شرکت کے لیے انڈین دار الحکومت پہنچنے کے چند گھنٹوں بعد ہوئی۔

    ایرانی صدر کی حیثیت سے یہ مسعود پزشکیان کا انڈیا کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔

    ملاقات کے کچھ ہی دیر بعد نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر لکھا: ’ہم نے انڈیا اور ایران کی دوستی پر گفتگو کی۔ ہمارا ماننا ہے کہ ہمیں طویل مدتی حکمتِ عملی اور باہمی فائدے پر مبنی پالیسی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’خطے کی صورتحال بھی زیرِ بحث آئی۔ انڈیا پائیدار امن کے حصول کے اپنے عزم پر قائم ہے۔‘

    انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ’دونوں رہنماؤں نے حالیہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا۔‘

    وزارت کے مطابق نریندر مودی نے ’انڈیا کے اس مستقل مؤقف کا اعادہ کیا کہ تمام مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔‘

  19. ایران کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے: امریکی وزیر دفاع

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ

    ،تصویر کا ذریعہFinn Gomez/Getty Images

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائے گا۔

    وہ امریکی محکمۂ دفاع کے ہیڈکوارٹر پینٹاگون میں 11 ستمبر کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

    اپنی تقریر میں ہیگسیتھ نے کہا: ’گذشتہ چھ ماہ کے دوران ہم نے دنیا میں دہشت گردی کے سب سے بڑے ریاستی سرپرست کو کچل دیا ہے۔ ہماری افواج نے ایک ایسی حکومت کے خلاف جنگ لڑی ہے جو تقریباً نصف صدی سے ہماری موت کی خواہش رکھتی تھی اور 11 ستمبر کے حملوں پر خوشیاں مناتی رہی ہے۔

    ’ایک ایسی حکومت جو کئی دہائیوں سے امریکیوں کے خلاف دہشت گرد حملوں کی حامی رہی ہے اور جس کی وجہ سے ہمارے اتحادیوں سمیت ہزاروں افراد عراق اور افغانستان میں مارے گئے ہیں۔‘

    ہیگسیتھ نے اس جنگ میں امریکہ کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھی تعریف کی۔

    امریکی وزیرِ دفاع نے کہا: ’امریکہ نے ان کے (ایران کے) رہنماؤں کو ختم کر دیا، ان کی فضائیہ کو تباہ کر دیا۔ ان کی بحریہ اب سمندر کی تہہ میں ہے اور ان کے دفاعی نظام بھی تباہ ہو چکے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ امریکہ اب بھی انھیں مار رہا ہے اور ان کے تیل بردار جہازوں کو سمندر کی تہہ میں بھیج رہا ہے، ’ہم یہ ضمانت دیتے ہیں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔‘

    ہیگسیتھ نے ایران پر بڑھتے ہوئے اقتصادی دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔

  20. ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں کے خلاف حملوں کی درخواست مسترد کر دی: ایگزیوس

    Trump, MBS

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو ٹیلی فون کالیں کیں اور انھیں حوثیوں کے خلاف حملے کرنے کی درخواست کی۔

    ایگزیوس نے اپنی خبر میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی درخواست مسترد کر دی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال امریکی انتظامیہ حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتی۔

    خبر میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر جمعرات کے روز ہنگامی طور پر سعودی عرب گئے۔

    ایگزیوس کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں امریکی فوجی اور سویلین حکام نے اپنے سعودی ہم منصبوں کو آگاہ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات کے مطابق امریکہ کی توجہ ایران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ پر مرکوز رہے گی، جبکہ ایک اور فوجی محاذ کھولنے سے گریز کیا جائے گا۔