لائیو, ایران مذاکرات کی میز پر دوبارہ آئے گا: صدر ٹرمپ کا دعویٰ، پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کی ڈرون سے نگرانی کی ویڈیو جاری کر دی
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آئے گا اور ’ہمیں وہ سب کچھ دے گا جو ہم چاہتے ہیں‘۔ دوسری جانب ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی دھمکی کے بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ڈرون کے ذریعے آبنائے ہرمز کی نگرانی کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ ویڈیو کے ساتھ یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ ’تمام آمدورفت اور مسلح افواج کے مکمل کنٹرول میں ہے۔‘
خلاصہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ جلد ہی ان تمام جہازوں کی 'ناکہ بندی' شروع کرے گا جو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کریں گے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود معاہدہ نہیں ہو سکا ہے
ایرانی حکام کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز سے اب تک 3300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایران کا مذاکرات میں جزوی پیش رفت کا دعویٰ: ’دو، تین اہم نکات پر اختلاف رائے‘ کے سبب معاہدہ نہیں ہو سکا، اسماعیل بقائی
محض ایک ملاقات میں کسی کو معاہدہ طے پانے کی توقع نہیں تھی، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان
پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا، امید ہے دونوں فریق جنگ بندی کے لیے اپنا عزم جاری رکھیں گے، اسحاق ڈار
تاحال مذاکرات کے اگلے دور کے وقت، مقام اور طریقۂ کار کا فیصلہ نہیں ہوا ہے، ایرانی میڈیا
لائیو کوریج
امریکہ کے ساتھ معاہدہ تب ممکن ہو سکتا ہے اگر وہ ایرانی قوم کے حقوق کا خیال کرے: ایرانی صدر
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ’امریکی حکومت اپنی آمرانہ روش ترک کر کے ایرانی قوم کے حقوق کا احترام کرے تو امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ ہونا ممکن ہو سکتا ہے۔‘
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایرانی صدر کا یہ بیان ایرانی میڈیا کی جانب سے صدر پزشکیان اور روسی صدر پوتن کے درمیان ہونے والی گفتگو کی خبروں کے بعد سامنے آیا ہے۔
ایرانی میڈیا میں صدر پزشکیان کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ ’دسترس سے باہر نہیں۔‘
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ ’ایران اپنے جوہری عزائم ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔‘
انھوں نے فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ ’میری پیش گوئی ہے کہ وہ واپس آئیں گے اور ہمیں وہ سب کچھ دیں گے جو ہم چاہتے ہیں۔‘
پاکستان اور ترکی کا امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی پابندی پر زور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے درمیان ٹیلفونک رابطے میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت پر گفتگو کی گئی۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان اسلام آباد مذاکرات میں پیش رفت پر گفتگو کی گئی اور فریقین پر جنگ بندی کی پابندی پر زور دیا گیا۔
بیان کے مطابق ترک وزیر خارجہ نے ایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق ہاکان فیدان نے اسحاق ڈار کو انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کی دعوت دی۔
اسرائیل کا پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کو نظرانداز کیا جانا, نک بیک، بی بی سی نیوز، اسرائیل
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی حکومت کی جانب سے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کو بڑی حد تک نظرانداز کیا جا رہا ہے کم از کم عوامی سطح پر تو یہی تاثر لیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو شروع ہی سے ان مذاکرات کے حق میں نہیں تھے۔ ان کی خواہش امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے جاری رکھنا تھی۔
انھیں عالمی سطح پر بے چینی بڑھنے کے باعث یہ تاثر بھی ختم کرنا پڑا کہ وہ آخری لمحات تک صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک عبوری جنگ بندی پر رضامند ہونے سے لاعلم تھے۔
اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان کسی فوری معاہدے پر اتفاق نہ ہونے پر اسرائیلی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا اگرچہ ایسا معاہدہ پہلے بھی کم ہی متوقع تھا۔
اس کے برعکس اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کے سربراہ نے فوج کو ہائی الرٹ پر جانے کا حکم دیا ہے، ایسی سطح پر جو ماضی کی بڑی فوجی کارروائیوں سے قبل دیکھی گئی تھی۔
ہم نے اس بارے میں اسرائیلی فوج سے تصدیق کی درخواست کی ہے تاہم تاحال جواب موصول نہیں ہوا۔ البتہ یہ بیانیہ نیتن یاہو کے حالیہ بیانات سے مطابقت رکھتا ہے۔
چند روز قبل انھوں نے کہا تھا کہ انگلی ’ابھی بھی ٹریگر پر ہے‘ اور گزشتہ شب انھوں نے ایک بار پھر عزم ظاہر کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم نہیں ہوئی۔
اسی دوران اسرائیلی فوج لبنان پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
بیروت کے حکام کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ان کارروائیوں کے نتیجے میں دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایران مذاکرات کی میز پر دوبارہ آئے گا: صدر ٹرمپ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آئے گا اور ’ہمیں وہ سب کچھ دے گا جو ہم چاہتے ہیں۔‘
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی مذاکرات کاروں نے تقریبا ہر نکتے پر اتفاق سے آمادگی کا اظہار کر دیا تھا تاہم ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔
ان کا دعویٰ تھا کہ ایران ’مذاکرات کی میز سے اٹھا نہیں‘ ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’میرا خیال ہے وہ واپس آئیں گے اور ہمیں وہ سب کچھ دیں گے جو ہم چاہتے ہیں۔‘
انٹرویو کے ایک اور حصے میں ٹرمپ نے چین کو خبردار کیا کہ اگر اس نے ایران کی فوجی مدد کی تو اس پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ موجودہ تنازع کے بعد تیل اور گیس کی قیمتیں بالآخر کم ہو جائیں گی۔
امریکہ کے ساتھ معاہدہ دسترس سے باہر نہیں: ایرانی صدر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ بین الاقوامی قانون کی پابندی کرے تو امریکہ کے ساتھ معاہدہ ’دسترس سے باہر نہیں‘ ہے۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق یہ بات صدر پزشکیان اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ہونے والی ایک ٹیلیفونک گفتگو کے دوران سامنے آئی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ رابطہ اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ اور ایران مذاکرات کے بعد کیا گیا۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے اس گفتگو کے حوالے سے مختصر بیان جاری کیا ہے۔
پاکستان مذاکرات کے عمل میں سہولت کاری جاری رکھے گا: اسحاق ڈار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان مذاکرات کے عمل میں سہولت کاری کا عمل جاری رکھے گا۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق آج سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور اسحاق ڈار کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے۔
اس موقع پر نائب وزیرِ اعظم نے اسلام آباد مذاکرات سے متعلق تازہ پیش رفت سے آگاہ کیا اور تمام فریقوں کی جانب سے جنگ بندی کے وعدوں پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔
پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان مذاکرات کے عمل میں سہولت کاری جاری رکھے گا اور خطے سمیت وسیع تر امن و استحکام کے لیے تمام سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔
اسحاق ڈار اور مصر کے وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، اسلام آباد مذاکرات کی پیش رفت پر گفتگو
،تصویر کا ذریعہMOFA
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور مصر کے وزیر خارجہ کے درمیان اسلام آباد مذاکرات اور اس کی پیش رفت کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مصر کے وزیر خاجہ ایچ ای بدر عبداللطیٰ سے ٹیلیفونک گفتگو میں اسحاق ڈار نے اپنے مصری ہم منصب کو 'اسلام آباد مذاکرات' اور فریقین کے درمیان روابط کو آسان بنانے میں پاکستان کی مسلسل کوششوں سے آگاہ کیا۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے اس بات پربھی زور دیا کہ تمام فریقین کے لیے جنگ بندی کے اپنے عزم کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے خطے اور اس سے باہر امن اور استحکام کے حصول کے لیے مسلسل بات چیت اور سفارت کاری کی ضرورت کا اعادہ کیا۔
نیٹو نے آبنائے ہرمز کو ’کھلوانے‘ میں مدد کی پیشکش کی ہے: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے
کہ نیٹو نے آبنائے ہرمز کو ’کھلوانے‘ میں مدد کی پیشکش کی ہے۔ انھوں نے یہ بات
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جو اس اعلان کے فوراً بعد سامنے آیا کہ
امریکہ اس اہم بحری گزرگاہ کی ناکہ بندی کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکہ نیٹو سے ’بہت
مایوس‘ تھا، لیکن اب ’وہ آنا چاہتے ہیں اور آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں مدد کرنا
چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس اہم آبی گزر
گاہ کو کھلوانے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا، اس لیے ہم آبنائے ہرمز کو ہر قیمت پر
کھولیں گے، اور ان کے بقول یہ راستہ ’زیادہ دیر میں نہیں‘ دوبارہ استعمال کے قابل
ہو جائے گا۔‘
ٹرمپ نے مزید بتایا کہ ’امریکہ
وہاں مائن سویپرز بھیج رہا ہے اور ان کے مطابق برطانیہ جو نیٹو کا رکن ہے بھی ایسا
کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’میری سمجھ کے
مطابق برطانیہ اور چند دیگر ممالک بھی مائن سویپرز بھیج رہے ہیں۔‘
بی بی سی نے اس حوالے سے برطانوی
وزارتِ دفاع سے رابطہ کیا ہے۔
ایران امریکہ مذاکرات: ٹرمپ کے بیانات سے آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید کشیدہ, بی بی سی نیوز کے جو ان ووڈ کا تجزیہ
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر
ڈونلڈ ٹرمپ تیز رفتار معاہدوں کے خواہش مند سمجھے جاتے ہیں۔ اسلام آباد میں کسی
اتفاقِ رائے تک نہ پہنچنے کے بعد ان کا ردِعمل کیسا ہوگا، اس پر بہت سے لوگوں کے
ذہنوں میں بہت سے سوال تھے اور اب ان کا پہلا ردِعمل سامنے آ گیا ہے۔
ٹروتھ سوشل
پر دو طویل بیانات میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ان چند جہازوں کی راہ روک دیں گے جو
اس وقت آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
انھوں نے
لکھا کہ ’میں نے امریکی بحریہ کو ہدایت دی
ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں ہر اس جہاز کو تلاش کرے اور روکے جس نے ایران کو
ٹول ادا کیا ہو۔ جو بھی غیر قانونی ٹول ادا کرے گا، اسے کھلے سمندر میں محفوظ
راستہ نہیں ملے گا۔‘
اگرچہ ان
بیانات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ’محفوظ راستہ‘ کس طرح روکا جائے گا، لیکن یہ
یاد رکھنا اہم ہے کہ امریکہ نے گزشتہ چند ماہ میں وینیزویلا آنے جانے والے جہازوں
پر چڑھائی کی ہے اور اُن کا راستہ بھی روکا ہے۔
اہم بات یہ
ہے کہ ٹرمپ نے کہا کہ ’دیگر ممالک بھی اس ناکہ بندی میں شامل ہوں گے،‘ تاہم انھوں
نے یہ نہیں بتایا کہ کون سے ممالک۔
ایران کی
جانب سے دنیا کے اہم ترین آبی راستوں میں سے ایک پر جزوی مگر مؤثر پابندی کے باعث
صرف وہی جہاز گزر پا رہے ہیں جو یا تو ایران کے اتحادی ہیں یا وہ ممالک جنھیں
تہران دوست سمجھتا ہے یا وہ جن کے بارے میں خیال ہے کہ انھوں نے تقریباً 20 لاکھ
ڈالر کے قریب ٹول ادا کیا ہے۔
ٹرمپ نے یہ
بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا تھا حالانکہ ایرانی
حکام اپنے عوامی بیانات میں اس کے برعکس مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں اور اس آبی
راستے کو اپنی اہم سٹریٹجک طاقت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
اگر ٹرمپ کی
دھمکی پر عمل کیا گیا تو عالمی منڈیوں تک پہنچنے والے تیل کی مقدار مزید کم ہو
سکتی ہے جس کے سنگین معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ بیانات
مکمل جنگ کے دوبارہ آغاز کے مترادف تو نہیں لیکن یہ صورتحال میں ایک اور اضافہ
ضرور ہیں۔
پاکستان میں قلیل مدتی حکومتی بانڈز میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ, تنویر ملک، صحافی
پاکستان میں
قلیل مدتی مقامی حکومتی بانڈز، خصوصاً ٹریژری بلز میں رواں ماہ غیر ملکی سرمایہ کاروں
کی دلچسپی میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ماہرین کے مطابق
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آئی ہے۔
سٹیٹ بینک آف
پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق تین اپریل تک ٹریژری بلز میں 24.6 ملین ڈالر
کی خالص سرمایہ کاری ہوئی جبکہ مارچ میں 251.9 ملین ڈالر نکل گئے۔
اعداد و شمار
کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 3 اپریل تک 34.9 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جبکہ
10.4 ملین ڈالر واپس نکال لیے گئے۔
اعدادوشمار کے
مطابق صرف ٹریژری بلز ہی نہیں بلکہ مجموعی طور پر بانڈز اور ایکویٹیز میں بھی بہتری
دیکھنے میں آئی۔ ان شعبوں میں مجموعی طور پر 39.1 ملین ڈالر کی آمد جبکہ 28.1 ملین
ڈالر کا انخلا ہوا، یوں خالص سرمایہ کاری 10.9 ملین ڈالر رہی۔
واضح رہے کہ
مارچ کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث ابھرتی ہوئی معیشتوں، بشمول پاکستان،
میں بانڈز اور ایکویٹیز کی فروخت میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں پرکشش منافع کے باوجود
ٹریژری بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز سے غیر ملکی سرمایہ نکل گیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کی ڈرون سے نگرانی کی ویڈیو جاری کر دی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ڈونلڈ ٹرمپ
کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی دھمکی کے بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک
ویڈیو جاری کی ہے جس میں ڈرون کے ذریعے آبنائے ہرمز کی نگرانی کے مناظر دکھائے گئے
ہیں۔
ویڈیو کے
ساتھ یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ ’تمام آمدورفت اور مسلح افواج کے مکمل کنٹرول میں
ہے۔‘
اسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی
کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم ان کے مطابق اس عمل میں ’کچھ وقت لگے گا۔‘
عُمانی وزیرِ خارجہ کی ایران امریکہ مذاکرات کے تسلسل اور جنگ بندی میں توسیع کی اپیل
عُمان کے
وزیرِ خارجہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری رکھنے اور جنگ بندی میں
توسیع کی اپیل کی ہے۔
یہ بیان ایک
اسے وقت سامنے آیا ہے کہ جب اسلام آباد میں ہونے والی ایک اہم نشست کسی معاہدے کے
بغیر ختم ہو گئی۔
بدربوسعیدی
نے ایکس پر لکھا ’کامیابی کے لیے ممکن ہے کہ تمام فریقین کو مشکل اور سخت سمجھوتوں
پر آمادہ ہونا پڑے لیکن یہ قربانی جنگ اور ناکامی کے درد کے مقابلے میں کچھ بھی
نہیں۔‘
واضخ رہے کہ
جنگ کے آغاز سے قبل عُمان ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار کی
میزبانی اور ثالثی کر چکا ہے۔
یہ راستہ ایران کا کبھی نہیں رہا کہ وہ اسے بند کرے: آبنائے ہرمز کی بندش پر یو اے ای کا ردِعمل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
متحدہ عرب
امارات نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ ڈالنے کے معاملے پر سخت ردِعمل
دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’تیل اور گیس کی ترسیل کے اس اہم آبی گُزرگاہ کو بند کرنے یا
محدود کرنے کا اختیار ایران کے پاس کبھی نہیں رہا۔‘
امارات کے
وزیرِ صنعت اور ابوظبی کی سرکاری تیل کمپنی کے سربراہ سلطان احمد الجابر نے سوشل
میڈیا پر لکھا ’ایسی کوئی بھی کوشش علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی اقتصادی شہ رگ
میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے اور ہر ملک کی توانائی، خوراک اور صحت کے تحفظ کے لیے
براہِ راست خطرہ ہے۔‘
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی
کارروائی کے آغاز کے بعد سے تہران نے خبردار کیا ہے کہ جو جہاز آبنائے ہرمز
استعمال کرنے کی کوشش کریں گے انھیں ’آگ لگا دی جائے گی۔‘
اس دھمکی کے
بعد اس اہم آبی گُزر گاہ سے تجارت تقریباً رک گئی ہے اور عالمی سطح پر تیل و گیس
کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
الجابر نے
کہا کہ ’ایسی مثال قائم کرنا غیر قانونی، خطرناک اور ناقابلِ قبول ہے۔ دنیا اس کی
متحمل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اسے ایسا ہونے دینا چاہیے۔‘
پسِ پردہ مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے رہنے کا امکان, بی بی سی نیوز کی اسلام آباد میں موجود جنوبی ایشیا کی نمائندہ آزادہ موشیری کا تجزیہ
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کے
نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان سے روانہ ہو چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے
اپنی ’بہترین اور آخری‘ پیشکش پیش کر دی ہے۔
تاہم اس کے
بعد یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت
پاکستان کے ذریعے جاری رہی۔ اس کی نہ تو امریکی حکام نے باضابطہ تصدیق کی ہے اور
نہ ہی ایرانیوں نے اور ماضی کی طرح اس بار بھی ثالثوں کے ذریعے ہونے والی گفتگو کی
نوعیت کو سمجھنا مشکل ہے۔
اس کے
باوجود یہ اشارہ ملتا ہے کہ مصالحت اور پسِ پردہ رابطوں کے دروازے مکمل طور پر بند
نہیں ہوئے۔
ایرانی
وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ایران نے کبھی یہ توقع نہیں کی تھی کہ ’ایک
ہی نشست میں‘ معاہدہ طے پا جائے گا۔
یہ صورتحال
اس حقیقت کی بھی یاد دہانی ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے عوام کے سامنے جو بیانیہ
پیش کر رہے ہیں، اس میں حقیقت اور سیاسی تاثر کو الگ کرنا کتنا مشکل ہے۔
اسی دوران
نازک جنگ بندی کا مستقبل، عالمی سطح پر پیدا ہونے والی بے چینی اور جنگ میں پھنسے
بے شمار لوگوں کی زندگیاں غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔
بریکنگ, امریکہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا نکلنے کی کوشش کرنے والے تمام جہازوں کی ’ناکہ بندی‘ کرے گا: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
امریکی صدر
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ جلد ہی ان تمام جہازوں کی ’ناکہ بندی‘ شروع کرے گا
جو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کریں گے۔
ٹروتھ سوشل پر
جاری ایک طویل بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ’ملاقات اچھی رہی، زیادہ تر نکات پر اتفاق
ہو گیا، لیکن وہ واحد نکتہ جو سب سے اہم تھا یعنی ’جوہری معاملہ‘ اس پر اتفاق نہیں
ہو سکا۔‘
انھوں نے
کہا کہ ’آزادانہ آمدورفت کے معاہدے تک ’کسی بھی وقت‘ پہنچا جا سکتا ہے، لیکن ایران
نے اس کی اجازت نہیں دی اور صرف یہ کہہ کر رکاوٹ ڈالی کہ ’شاید کہیں کوئی بارودی
سرنگ ہو، جس کے بارے میں صرف ایران کو علم ہے۔‘
اسی بیان
میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے امریکی بحریہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ’بین
الاقوامی پانیوں میں ہر اس جہاز کو تلاش کرے اور روکے جس نے ایران کو ٹول ادا کیا
ہو۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی بحریہ جلد ہی ’ایرانیوں کی بچھائی ہوئی بارودی
سرنگوں کو تباہ کرنا شروع کرے گی۔‘
ٹرمپ نے کہا
کہ ’جو بھی غیر قانونی ٹول ادا کرے گا، اسے کھلے سمندر میں محفوظ راستہ نہیں ملے
گا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’کوئی بھی ایرانی جو ہم پر یا پرامن جہازوں پر حملہ کرے
گا، اسے تباہ کر دیا جائے گا۔‘
ان کے مطابق
’ناکہ بندی جلد شروع ہونے والی ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک اور بیان میں یہ بھی کہا کہ ’ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن جان بوجھ کر انھوں نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا۔‘
ان کے مطابق اس صورتحال نے ’دنیا بھر میں کئی ممالک اور لوگوں کے لیے بے چینی، خلل اور تکلیف پیدا کی۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو چاہیے کہ ’جتنی جلدی ممکن ہو اس بین الاقوامی آبی راستے کو کھولنے کا عمل شروع کرے۔‘
انھوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ انھیں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور مذاکرات کار جیرڈ کشنر نے مکمل طور پر بریف کیا ہے۔
انھوں نے پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔
ٹرمپ کے مطابق ’تقریباً 20 گھنٹے‘ جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ ’اصل مسئلہ صرف ایک ہے ایران اپنے جوہری عزائم ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگرچہ کئی نکات پر اتفاق ہو گیا تھا، جو فوجی کارروائی جاری رکھنے سے بہتر تھے لیکن ان کے مطابق ’یہ سب نکات اس حقیقت کے مقابلے میں بے معنی ہیں کہ جوہری طاقت ایسے غیر مستحکم، مشکل اور غیر متوقع لوگوں کے ہاتھ میں نہیں دی جا سکتی۔‘
اسلام آباد سے امریکہ واپسی کے سفر کے دوران نائب صدر وینس کی چند تازہ تصاویر
اسلام آباد سے روانگی کے بعد
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی وطن واپسی کے سفر کے دوران لی گئی چند تازہ تصاویر
سامنے آئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ تازہ موصول
ہونے والی تصاویر اُس وقت کی ہیں کہ جب امریکی نائب صدر کا طیارہ جرمنی کے رامشٹائن
ایئر بیس پر ایندھن بھروانے کے لیے رکا، جہاں انھیں جہاز سے اترتے اور سفر میں
شامل اہلکاروں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
اگر امریکہ ایران سے معاہدہ چاہتا ہے تو اسے مذاکرات کے کئی ادوار کے لیے تیار رہنا ہوگا: اولیانوف
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنجوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے میں روس کے نمائندے میخائیل اولیانوف
جوہری توانائی کے بین الاقوامی
ادارے میں روس کے نمائندے میخائیل اولیانوف نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس
بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے پر حیرت نہیں
ہونی چاہیے۔‘ ان کے مطابق ’کیا واقعی نائب صدر یہ توقع رکھتے تھے کہ اتنے پیچیدہ
اور مختلف معاملات پر بس چند گھنٹوں میں اتفاق ہو جائے؟‘
انھوں نے ایکس پر جاری ایک بیان
میں کہا کہ ’معاہدہ صرف اسی صورت ممکن تھا جب فریقین میں سے کوئی ایک مکمل طور پر
پیچھے ہٹنے پر آمادہ ہوتا اور اس معاملے میں ایسا نہیں ہے۔‘
اولیانوف نے مزید کہا کہ ’اگر
امریکی فریق واقعی معاہدہ چاہتے ہیں تو انھیں کئی مذاکرات کے کئی ادوار اور ماہرین
کی سطح پر متعدد نشستوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘ ان کے مطابق ’یہ سفارت کاری کی
بنیاد ہے۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد
میں ایران اور امریکہ کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، جو کسی نتیجے کے
بغیر ختم ہو گئے۔
اسرائیلی حملوں کے بعد جنوبی لبنان سے اُٹھتے دھوائیں کے بادل
،تصویر کا ذریعہReuters
جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں
کے بعد سرحد کے قریب گھنے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔
تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی
اپاچی ہیلی کاپٹر لبنان کی فضائی حدود کے اوپر پرواز کے دوران فلیئرز چھوڑ رہا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے
آئی ہے جب ہمارے مشرقِ وسطیٰ کے نمائندے نے رپورٹ کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں حملوں
کا سلسلہ کسی وقفے کے بغیر جاری ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ریڈ زون کی جانب جانے والے تمام راستے تاحال بند ہیں: ترجمان اسلام آباد پولیس
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترجمان اسلام آباد پولیس کی جانب
سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’غیر ملکی وفود کی آمدورفت کا سلسلہ ابھی ریڈزون
میں جاری ہے جس کی وجہ سے مختلف اوقات میں کلب روڈ، مری روڈ اور ایکسپریس ہائی وے پر
ٹریفک کو روکا جارہا ہے۔‘
ترجمان اسلام آباد پولیس کا مزید
کہنا ہے کہ ’تاحال ریڈزون کے تمام راستے بند ہیں۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ غیر ضروری
سفر سے گریز کریں۔‘
ترجمان کے مطابق ڈائیورشنز کے دوران
شہری قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جیونی میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں تین کوسٹ گارڈز ہلاک
،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ایران
سے متصل سرحدی ضلع گوادر کے علاقے جیونی میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں کوسٹ گارڈز
کے تین اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
مکران ڈویژن میں ایک سینیئر سرکاری
اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ ضلع میں جیونی کی سمندری حدود میں
پیش آیا۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ جیونی میں سمندر
میں کوسٹ گارڈز کے اہلکار معمول کی گشت پر تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کو نشانہ
بنایا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس حملے میں کوسٹ
گارڈز کے تین اہلکار ہلاک ہوئے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ واقعے کے بارے میں تحقیقات
کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
میڈیا پر سامنے آنے والے ایک بیان
میں اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے قبول
کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ کی 15 تاریخ
کو بھی جیونی میں پانوان کے علاقے میں کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں پر حملہ ہوا تھا جس میں
کوسٹ گارڈز کے دو اہلکار مارے گئے تھے۔
جیوانی ضلع گوادر کی ایران سے متصل
تحصیل ہے۔ یہ علاقہ ایران کے ساتھ سرحد سے اندازاً 25 سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع
ہے۔