آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ٹرمپ کو ناممکن فوجی آپریشن یا خراب معاہدے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا: پاسداران انقلاب

ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلیجنس تنظیم کا کہنا ہے کہ امریکہ کے لیے فیصلے لینے کے مواقع کم ہیں اور ٹرمپ کو ’ناممکن فوجی آپریشن یا خراب معاہدے‘ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ اس سے امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کو قابلِ قبول نہیں سمجھتے۔

خلاصہ

  • ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ 'امریکہ کے صدر نے ایرانی بحری جہازوں کی غیرقانونی ضبطی کو کھلے عام ’قزاقی‘ قرار دیتے ہوئے فخر سے کہا کہ ’ہم قزاقوں کی طرح عمل کرتے ہیں۔ سنگین اعتراف جرم ہے۔‘
  • ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اس بات کا امکان موجود ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے حملے دوبارہ شروع کر دے۔‘
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کا جلد جائزہ لیں گے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اسے قابلِ قبول نہیں سمجھتے۔
  • روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اعلان کیا ہے کہ ماسکو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے خاتمے اور مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے درکار ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
  • بی بی سی سے بات کرنے والے متعدد صومالی سکیورٹی حکام کے مطابق صومالی قزاقوں نے یمن کے ساحل کے قریب ایک تیل بردار جہاز کو اغوا کر لیا ہے۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں مختلف ایرانی شخصیات کی جانب سے رابطہ کیا جا رہا ہے جو معاہدے کی پیشکش کر رہے ہیں

لائیو کوریج

  1. 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ کویت کی ماہانہ تیل برآمدات صفر بیرل رہیں: رپورت

    دنیا میں سمندر کے ذریعے تیل کی ترسیل پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ’ٹینکر ٹریکرز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اپریل کے مہینے میں کویت کی خام تیل کی برآمدات صفر رہیں۔

    ٹینکر ٹریکرز کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 1991 کی خلیجی جنگ کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کویت نے پورے مہینے خام تیل برآمد نہیں کیا۔

    بی بی سی عربی کے مطابق کویت پٹرولیم کارپوریشن کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم ٹینکر ٹریکر کا کہنا ہے کہ گذشتہ مہینے کے دوران کویت کی تیل برآمدات ’صفر بیرل‘ رہیں۔

    ٹینکر ٹریکرز کا کہنا ہے کہ کویت میں تیل کی پیداوار جاری ہے جس کا کچھ حصہ ذخیرہ کیا جا رہا ہے جبکہ ریفائنڈ پڑوڈکٹ میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور اس کی کچھ مقدار برآمد بھی کی گئی ہے۔ ’تاہم ہماری معلومات کے مطابق خام تیل اب تک کویت سے باہر نہیں بھیجا گیا۔‘

  2. مذاکرات میں تسلسل کے لیے امریکہ کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہو گی: پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر

    پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے تسلسل لیے امریکہ کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہو گی۔

    اتوار کو اسلام آباد میں ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں امیری مقدم کا کہنا تھا کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک جامع منصوبہ اور اپنا موقف واضح انداز میں پیش کیا ہے۔

    تاہم ایرانی سفارتکار کا کہنا تھا کہ کسی بھی پیش رفت کا انحصار امریکہ کی سنجیدگی اور مسائل کو حقیقی سفارتی کوششوں کے ذریعے حل کرنے کی آمادگی پر ہے۔

    رضا امیری نے تصدیق کی کہ ایران نے اپنی تازہ تجویز پاکستان کے ساتھ شیئر کی ہے جو تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری مذاکرات میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ تجویز بعد میں امریکی فریق تک پہنچا دی گئی ہے۔

    بطور ثالث اسلام آباد کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ ثالثی کا عمل اب بھی جاری ہے۔

    انھوں نے امریکی رویے کو غیر متوقع اور جارحانہ قرار دیتے ہوئے اس کا موازنہ ایران کی شفاف سفارتی پالیسی سے کیا۔

    امیری مقدم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان قفقاز اور وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ تجارت میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ایرانی راستہ ایک موزوں انتخاب ہے۔

    ان کے مطابق اس حوالے سے دونوں ممالک کے سرحدی راستے دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ میں اضافے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

  3. سیستان بلوچستان میں پاسدارانِ انقلاب کے قافلے پر حملے میں راسک شہر کے کمانڈر زخمی

    ایران کے صوبے سیستان بلوچستان کی صورتِ حال پر نظر رکھنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ضلع راسک میں مسلح افراد کی جانب سے فوجی گاڑیوں کے ایک قافلے پر حملے کے نتیجے میں پاسدارانِ انقلاب کے کئی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق زخمی ہونے والوں میں محمود باغبانی بھی شامل ہیں۔ محمود باغبانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شہر راسک میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ہیں۔

    بلوچستان ہیومن رائٹس ڈاکیومنٹیشن نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ اس حملے میں دیگر اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق آج علی الصبح مسلح افراد نے صوبہ سیستان بلوچستان کے جنوبی سرحدی شہر راسک میں ’پاسدارانِ انقلاب کی ایک گاڑی‘ پر حملہ کیا۔

    تسنیم کے مطابق مسلح افراد کو پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے ’مزاحمت‘ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد وہ ’موقع سے فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔‘

    تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    حالیہ ہفتوں میں سیستان بلوچستان میں جھڑپوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    ایک ہفتے سے بھی کم عرصہ قبل، بدھ کے روز سیستان پولیس انفارمیشن سینٹر نے بتایا تھا کہ زاہدان میں سکیورٹی فورسز پر مسلح افراد کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک اور کم از کم دو دیگر زخمی ہو گئے۔ اسی دوران ایک اور واقعے میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک گشتی دستے کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

  4. ایران نے 2022 کے احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکار کے قتل کے جرم میں سزا یافتہ شخص کو پھانسی دے دی

    ایرانi عدلیہ کے خبر رساں ادارے میزان کے مطابق 2022 میں ایران میں مظاہروں کے دوران ایک سکیورٹی اہلکار کے قتل میں ملوث مجرم کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔

    اتوار کے روز میزان کی جانب سے شائع رپورٹ میں کہا گیا ایران کی سپریم کورٹ نے 2025 کے اواخر میں مجرم کی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا جس کے بعد اسے پھانسی دے دی گئی۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ملزم کی شناخت مہربان عبداللہ زادہ کے نام سے کی گئی ہے جنھیں 2022 میں ہونے والے ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکار عباس فاطمیہ کی موت کے ذمہ دار افراد میں سے ایک قرار دیا گیا تھا۔ یہ احتجاج پولیس تحویل میں نوجوان خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے تھے۔

    میزان کے مطابق ملزم نے سکیورٹی اہلکار پر حملے کا اعتراف کیا تھا۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا (ہیومنر رائٹس ایکٹوسٹ اِن ایران) نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ عبداللہ زادہ سے زبردستی اعترافِ جرم کروانے کے لیے ان پر تشدد کیا گیا تھا۔

  5. ٹرمپ کو ناممکن فوجی آپریشن یا خراب معاہدے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا: پاسداران انقلاب

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلیجنس یونٹ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ’ناممکن فوجی آپریشن یا خراب معاہدے‘ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق تنظیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں حالیہ پیشرفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکہ کے لیے فیصلے لینے کے مواقع کم ہیں۔ یونٹ کا کہنا ہے کہ تہران نے امریکی فوج کو ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے ڈیڈلائن مقرر کر دی ہے۔ تاہم اس ڈیڈلائن کی کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین، روس اور یورپ کی جانب سے واشنگٹن کے خلاف لہجے میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کو ’ناممکن فوجی آپریشن یا خراب معاہدے‘ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا ٹرتھ سوشل پر جاری اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ’وہ ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کا جلد جائزہ لیں گے،‘ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’وہ اسے قابلِ قبول نہیں سمجھتے۔‘

    دوسری جانب ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ کی جنگ کے حوالے سے نو نکات پر مشتمل تجاویز کے جواب میں ایران نے 14 نکاتی تجاویز بھیجی ہیں۔

    خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ’امریکہ نے اپنے تجویز میں دو ماہ کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم ایران نے واضح کیا کہ تمام معاملات 30 دن کے اندر حل ہونے چاہییں اور توجہ جنگ بندی میں توسیع کے بجائے ’جنگ کے خاتمے‘ پر مرکوز ہونی چاہیے۔

    ایران کی جانب سے واشنگٹن پہنچائی جانے والی 14 نکاتی تجویز میں دوبارہ حملے سے دور رہنے کی ضمانت، ایران کے گرد و نواح سے امریکی فوجیوں کا انخلا، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگ کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے ہرجانے کی ادائیگی، ایران پر ہر قسم کی پابندیوں کا خاتمہ، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا اختتام اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا طریقۂ کار جیسے امور شامل ہیں۔

    تسنیم کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران ان تجاویز پر امریکہ کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔

  6. مارکو روبیو رواں ہفتے ویٹیکن کا دورہ کریں گے، اطالوی اخبارات

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو رواں ہفتے ویٹیکن اور اٹلی کا دورہ کریں گے۔ روبیو کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چند ہفتے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سوشل میڈیا پر پوپ لیو پر تنقید کرنے کے باعث سیاسی حلقوں کے مختلف دھڑوں سے تعلق رکھنے والے مسیحیوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کا کہنا ہے کہ اٹلی کے دو اخبارات لا ریپبلکا اور کوریئرے ڈیلا سیرا میں شائع ہونے والی خبروں میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا مارکو روبیو کی پوپ لیو سے براہِ راست ملاقات ہو گی یا نہیں۔ تاہم ان اخبارات کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ ویٹیکن کے اعلیٰ سفارتی عہدیدار کارڈینل پیئٹرو پیرولین سے ملاقات متوقع ہے۔

    مارکو روبیو کی پوپ لیو سے آخری ملاقات مئی 2025 میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ہمراہ ہوئی تھی۔ دونوں امریکی عہدیداروں نے سینٹ پیٹر اسکوائر میں نئے پوپ کی افتتاحی عبادت میں شرکت کی تھی اور اگلے روز پوپ سے ایک نجی ملاقات بھی کی تھی۔

  7. پاکستان کے مقامی بانڈز میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کے مقامی بانڈز میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق رواں مالی سال کے دوران 17 اپریل تک مقامی بانڈز میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 94 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق یکم جولائی 2025 سے اپریل کے وسط تک ٹریژری بلز میں 97 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی آمد ہوئی، جبکہ 91 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا انخلا ہوا جس کے نتیجے میں خالص سرمایہ کاری 5 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہی۔

    اس دوران مارچ کے مہینے میں پاکستان کے مقامی بانڈز سے غیر ملکی سرمایہ کاری کا زیادہ اخراج ریکارڈ کیا گیا۔

    سٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ٹریژری بلز سے سب سے زیادہ 29 کروڑ 10 لاکھ ڈالر برطانیہ کو منتقل ہوئے، اس کے بعد 27 کروڑ 10 لاکھ ڈالر متحدہ عرب امارات گئے۔

    اس کے علاوہ 21 کروڑ 80 لاکھ ڈالر بحرین اور سات کروڑ 70 لاکھ ڈالر سنگاپور کو منتقل ہوئے، جبکہ تین کروڑ 20 لاکھ ڈالر امریکہ گئے۔

  8. اسرائیل نے امریکہ سے جدید ایف-35 اور ایف-15 آئی اے طیاروں کے دو سکواڈرن خریدنے کی منظوری دے دی

    بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اسرائیل نے امریکی کمپنیوں لاک ہیڈ مارٹن اور بوئنگ سے ایف-35 اور ایف-15 آئی اے طیاروں کے دو نئے جنگی سکواڈرن خریدنے کے منصوبے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔

    اسرائیلی وزارتِ دفاع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اس سودے کی مالیت دسیوں ارب شیکل ہے۔

    اسرائیلی ویب سائٹ دی ٹائمز آف اسرائیل کی وزارتی کمیٹی برائے خریداری نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں وزارتِ دفاع کے اس منصوبے کی منظوری دی ہے جس کے تحت لاک ہیڈ مارٹن سے ایف-35 آئی کا چوتھا سکواڈرن اور بوئنگ سے ایف-15 آئی اے کا دوسرا سکواڈرن حاصل کیا جائے گا۔

    ٹائمز آف اسرائیل کی خبر کے مطابق ان طیاروں کی شمولیت کے بعد آنے والے برسوں میں اسرائیلی فضائیہ کے پاس ایف-35 آئی طیاروں کی مجموعی تعداد 100 تک پہنچ جائے گی جبکہ ایف-15 آئی اے — جو جدید ایف-15 ای ایکس کا اسرائیلی ماڈل ہے — کی تعداد 50 ہو جائے گی۔

  9. ایران اور فرانس کے وزرا خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے فرانسیسی ہم منصب کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جارحانہ جنگ کے خاتمے کے لیے تہران کے مؤقف اور اقدامات سے آگاہ کیا ہے۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اس ٹیلی فونک گفتگو کے دوران عباس عراقچی اور فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نویل بارو نے خطے اور عالمی سطح پر ہونے والی تازہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق عباس عراقچی نے اس موقع پر اپنے فرانسیسی ہم منصب کو ایران کے ان مؤقف اور سفارتی اقدامات سے آگاہ کیا جن کا مقصد امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ کا خاتمہ ہے۔

    فرانسیسی وزیر خارجہ نے سفارتی کوششوں کے تسلسل کے لیے اپنے ملک کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کا جاری رہنا خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کا سبب بنے گا۔

  10. خطے سے امریکی فوج کا انخلا، ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی سمیت 14 نکات امریکہ بھجوا دیے ہیں: ایرانی میڈیا

    ایران نے پاکستان کی ثالثی کے ذریعے امریکہ کی نو نکاتی تجاویز کے جواب میں اپنا مؤقف واشنگٹن کو پہنچا دیا ہے، جس میں بنیادی زور ’جنگ کے خاتمے‘ کے نکتے پر دیا گیا ہے۔

    ایران کی جانب سے امریکہ تک پہنچائی جانے والی تجاویز کے حوالے سے چند تفصیلات سامنے آرہی ہیں۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ کی جنگ کے حوالے سے نو نکات پر مشتمل تجاویز کے جواب میں ایران نے 14 نکاتی تجاویز بھیجی ہیں۔

    خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ’امریکہ نے اپنے تجویز میں دو ماہ کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم ایران نے واضح کیا کہ تمام معاملات 30 دن کے اندر حل ہونے چاہییں اور توجہ جنگ بندی میں توسیع کے بجائے ’جنگ کے خاتمے‘ پر مرکوز ہونی چاہیے۔

    ایران کی جانب سے واشنگٹن پہنچائی جانے والی 14 نکاتی تجویز میں دوبارہ حملے سے دور رہنے کی ضمانت، ایران کے گرد و نواح سے امریکی فوجیوں کا انخلا، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگ کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے ہرجانے کی ادائیگی، ایران پر ہر قسم کی پابندیوں کا خاتمہ، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا اختتام اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا طریقۂ کار جیسے امور شامل ہیں۔

    تسنیم کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران ان تجاویز پر امریکہ کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔

    تاہم اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا ٹرتھ سوشل پر جاری اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ’وہ ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کا جلد جائزہ لیں گے،‘ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’وہ اسے قابلِ قبول نہیں سمجھتے۔‘

  11. اسرائیل کا جنوبی لبنان کے متعدد شہروں میں کارروائی کے آغاز کا اعلان، علاقہ مکینوں کو گھر خالی کرنے کا حکم

    اسرائیل نے لبنان میں ایک اور نئی فوجی کارروائی کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے مُلک کے جنوب میں متعدد شہروں اور دیہات کے رہائشیوں سے اپنے گھروں کو خالی کرنے کی اپیل کی ہے۔

    اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے ایک ’انتباہ‘ جاری کرتے ہوئے جنوبی لبنان کے 11 شہروں اور قصبوں کے مکینوں سے کہا کہ وہ فوری طور پر اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو جائیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد اس کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

    فوج نے خبردار کیا ہے کہ جو افراد حزب اللہ کے ٹھکانوں یا فورسز کے قریب موجود ہوں گے، انھیں خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    اسرائیل بدستور جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیلی افواج اس وقت جنوبی لبنان کے ایک تنگ علاقے پر قابض ہیں اور ان گھروں کو منہدم کر رہی ہیں جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ حزب اللہ کے اہم ٹھکانوں اور تنصیبات کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔

    دوسری جانب حزب اللہ بھی ڈرون اور راکٹ حملوں کے ذریعے لبنان کے اندر اور شمالی اسرائیل میں اسرائیلی افواج کو نشانہ بنا رہی ہے۔

  12. آبنائے ہرمز سے باحفاظت گزرنے کے لیے ایران سے عالمی سطح پر رابطوں میں اضافہ: فارس نیوز

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کے سلسلے میں ایران سے رابطوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ کشیدگی کے باعث بحری آمدورفت گزشتہ ماہ کے مقابلے میں کم ہو کر تقریباً نصف رہ گئی ہے۔

    خبر رساں ادارے نے ایرانی وزارتِ خارجہ کے معاون برائے اقتصادی سفارتکاری حمید قنبری کے حوالے سے بتایا کہ متعدد ممالک اپنے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزارنے کے لیے ایران سے بار بار رابطے کر رہے ہیں تاکہ تہران کی منظوری حاصل کی جا سکے۔

    حمید قنبری کے مطابق مختلف ممالک تشویش اور فوری نوعیت کے پیغامات اور سفارتی مراسلوں کے ذریعے اپنی جہازرانی کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ جاپان کے وزیرِ اعظم اس سے قبل ذاتی طور پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ کر چکے ہیں، جس میں جاپانی تیل بردار جہازوں کی آبنائے ہرمز سے محفوظ انداز میں گزرنے کے حوالے سے بات چیت کی گئی تھی۔

    فارس نیوز کے مطابق جاری کشیدگی کے تناظر میں رواں ماہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت گزشتہ ماہ کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد کم ہو چکی ہے اور اس وقت صرف وہی جہاز گزرنے کی اجازت رکھتے ہیں جنھیں ایران کی جانب سے اجازت نامہ حاصل ہو اور جو ایرانی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے متعین کردہ راستوں پر سفر کریں۔

  13. جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے حملے، سات افراد ہلاک متعدد زخمی

    جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں، اسرائیل کی جانب سے یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں کہ جب علاقے میں جنگ بندی بدستور برقرار ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں عمارتوں کو مسمار کرنے کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں سرحدی گاؤں یارون میں واقع ایک کیتھولک خانقاہ بھی شامل ہے جسے حال ہی میں بلڈوزر کے ذریعے منہدم کیا گیا۔

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ اس مقام کو اسرائیل کی جانب راکٹ داغے جانے کے مرکز کے طور پر استعمال کر رہی تھی، تاہم لبنان کی کیتھولک کلیسا نے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔

  14. ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی سے متعلق امریکی صدر کا بیان براہِ راست اور سنگین اعتراف جرم ہے: ایرانی دفترِ خارجہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے جس میں انھوں نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ’امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کے نفاذ کے لیے ’بحری قزاقوں کی طرح‘ عمل کر رہی ہے۔‘ کہ جواب میں ایرانی دفترِ خارجہ کا ردِ عمل سامنے آیا ہے۔

    ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کے صدر نے ایرانی بحری جہازوں کی غیرقانونی ضبطی کو کھلے عام ’قزاقی‘ قرار دیتے ہوئے فخر سے کہا کہ ’ہم قزاقوں کی طرح عمل کرتے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکی صدر کے اس بیان کو محض زبانی لغزش نہیں بلکہ بین الاقوامی بحری قوانین کے خلاف امریکی اقدامات کی مجرمانہ نوعیت کا براہِ راست اور سنگین اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔‘

    اسماعیل بقائی نے اپنے اس حالیہ بیان میں زور دیا کہ ’عالمی برادری، اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بین الاقوامی قانون کی ایسی کھلی اور سنگین خلاف ورزیوں کو کسی بھی صورت معمول کا حصہ بننے سے روکنا چاہیے اور انھیں دوٹوک انداز میں مسترد کرنا چاہیے۔‘

    تاہم دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اساتزہ کے عالمی دن کے حوالے سے جاری ایک بیان میں کہا کہ ’اگر آج ہم وطن کے دفاع کے محاذ پر ایسی مناظر دیکھ رہے ہیں جنھوں نے دنیا کو حیران کر دیا ہے تو اس کا سہرا اُن اساتذہ کو جاتا ہے جنھوں نے ہمارے بچوں کو ایمان، قربانی، انسانیت اور ایران سے محبت کے سبق دیا ہے۔‘

  15. یمن کے ساحل کے قریب سے تیل بردار بحری جہاز اغوا

    بی بی سی سے بات کرنے والے متعدد صومالی سکیورٹی حکام کے مطابق صومالی قزاقوں نے یمن کے ساحل کے قریب ایک تیل بردار جہاز کو اغوا کر لیا ہے۔

    یمن کی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ ’ایم ٹی ایوریقا‘ نامی تیل بردار بحری جہاز کو ہائی جیک کرنے کے بعد صومالیہ کی جانب لے جایا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق جہاز کو خلیجِ عدن میں بندرگاہ قنا کے قریب قزاقوں نے اپنے قبضے میں لیا۔

    بی بی سی سے گفتگو کرنے والے نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ کے تین سکیورٹی حکام کے مطابق قزاق ایک دور دراز ساحلی علاقے، قندالہ نامی قصبے کے قریب سے روانہ ہوئے، جو خلیجِ عدن کے کنارے واقع ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ 10 دنوں کے دوران علاقے میں تیل بردار جہاز کے ساتھ پیش آنے والی یہ دوسری واردات ہے۔ اس سے قبل 22 اپریل کو صومالی قزاقوں نے ’آنر 25‘ نامی ٹینکر کو اغوا کیا تھا، جو 18 ہزار 500 بیرل تیل موغادیشو لے جا رہا تھا۔

    سکیورٹی حکام کے مطابق ایم ٹی ایوریقا اغوا سے قبل مغربی افریقی ملک ٹوگو کا پرچم لیے ہوئے تھا۔ جہاز کو مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بجے مسلح افراد نے اپنے قبضے میں لیا۔

    اطلاعات کے مطابق یہ جہاز اس وقت یمن اور صومالیہ کے درمیان خلیجِ عدن میں سفر کر رہا ہے اور امکان ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں صومالی پانیوں میں لنگر انداز ہو جائے گا۔

    دوسری جانب جمعے کے روز برطانیہ کی میری ٹائم ٹرانسپورٹ آپریشن نے ایک علیحدہ واقعے میں اطلاع دی کہ یمن کے شہر المکلا کے قریب ایک مال بردار جہاز کے قریب ایک کشتی میں سوار ’مسلح افراد‘ دیکھے گئے۔

    تاہم ابھی تک صومالی حکام اور صومالی پانیوں میں قزاقی کے خلاف کارروائیوں کی نگرانی کرنے والی یورپی یونین نیول فورس کی جانب سے تازہ ہائی جیکنگ کے واقعے پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

  16. روس خطے میں جنگ کے خاتمے اور ایران کی مدد کو تیار ہے: سرگئی لاوروف

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اعلان کیا ہے کہ ماسکو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے خاتمے اور مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے درکار ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جمعے کے روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس کے دوران روسی وزیر خارجہ نے تہران کے خلاف فوجی حملے کی مذمت پر مبنی روس کے اصولی مؤقف کو دہرایا۔

    انھوں نے زور دیا کہ روس، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مسلط کی گئی جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہے۔

    بیان کے مطابق، ایران کی مسلح افواج نے امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے بلا اشتعال تازہ حملوں کا بھرپور جواب دیا، جس کے دوران کم از کم 100 مرحلوں میں جوابی کارروائیاں کی گئیں اور مغربی ایشیا کے وسیع علاقے میں امریکی اور اسرائیلی حساس اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

    تاہم ایران کی جوابی کارروائیوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 40 دن کی جنگ کے بعد ایران کے خلاف حملوں میں دو ہفتوں کے وقفے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کی، تاہم ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا، جسے ایران کی جانب سے جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔

    اس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو تمام بحری آمدورفت کے لیے بند کر دیا ہے، سوائے ان جہازوں کے جو ایرانی حکام سے رابطہ کر کے اجازت حاصل کریں۔ اس اقدام نے عالمی توانائی منڈیوں میں شدید ہلچل پیدا کر دی ہے۔

    ادھر ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے روسی ہم منصب کو امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف ایران کے مؤقف اور مغربی ایشیا میں امن کے قیام کے لیے ایران کی کوششوں اور اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

  17. بلوچستان میں شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں چار عسکریت پسند اور جوابی کارروائی میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دو مختلف علاقوں میں فائرنگ کے تبادلے اور بارودی سرنگ کے دھماکے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ نجی سکیورٹی کمپنی کے دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    سرکاری حکام کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ ساحلی ضلع گوادر کے علاقے پسنی میں پیش آیا جہاں ایک جھڑپ میں چار عسکریت پسند بھی ہلاک ہوئے۔

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پسنی میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی۔

    اہلکار نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی کے دوران چار عسکریت پسند ہلاک جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں دو سکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے۔

    اُدھر ضلع دُکی میں باردی سرنگ کے دھماکے میں نجی سکیورٹی کمپنی کے دو اہلکار زخمی ہوگئے۔

    ڈکی پولیس کے ایک اہلکار عبدالغنی نے فون پر بتایا کہ یہ واقعہ ضلع کے علاقے تلائو میں پیش آیا۔

    انھوں نے بتایا کہ اس علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے بارودی سرنگ نصب کی تھی جو کہ اس وقت پھٹ گئی جب ایک موٹر سائیکل اس سے ٹکرا گیا۔

    بارودی سرنگ کے پھٹنے سے موٹر سائیکل پر سوار نجی سکیورٹی کمپنی کے دو اہلکار زخمی ہوگئے جن کو طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ زخمی ہونے والے پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز اس علاقے میں کوئلے کے ٹرکوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے تعینات تھے۔

  18. اس بات کا امکان موجود ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے حملے دوبارہ شروع کر دے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کا جلد جائزہ لیں گے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اسے قابلِ قبول نہیں سمجھتے۔

    فلوریڈا کے علاقے ویسٹ پام بیچ میں میامی روانگی سے قبل ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اس بات کا امکان موجود ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے حملے دوبارہ شروع کر دے۔‘

    اس سے قبل ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا تھا کہ ایران نے اپنی تجویز مستقل طور پر جنگ کے خاتمے کے مقصد کے تحت ثالث کے طور پر پاکستان کو پیش کی ہے اور اب ’معاملہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ سفارتکاری کا راستہ اختیار کرے یا محاذ آرائی پر مبنی پالیسی جاری رکھے۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پیغام میں لکھا کہ ’ایران نے گزشتہ 47 برسوں کے دوران انسانیت اور دنیا کے خلاف اپنے اقدامات کی ابھی تک اتنی بڑی قیمت ادا نہیں کی۔‘

    صحافیوں کے سوالات کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انھیں معاہدے کے مجموعی ڈھانچے سے آگاہ کر دیا گیا ہے تاہم ابھی تفصیلی متن انھیں فراہم کیا جانا ہے۔

    ایرانی حکام کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسترد کی گئی تجویز میں آبنائے ہرمز میں کشتیرانی کی بحالی اور ایران کے خلاف امریکی محاصرے کے خاتمے سے متعلق شرائط شامل ہیں جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت کو بعد کے مرحلے کے لیے مؤخر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

  19. سینٹ کام: بحری ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے 48 بحری جہازوں کا رخ موڑا گیا

    امریکی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے بتایا ہے کہ گذشتہ 20 دنوں میں بحری ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے 48 بحری جہازوں کا رخ موڑا جا چکا ہے۔

    امریکی بحری ناکہ بندی میں خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں واقع ایران کی تمام بندرگاہیں اور ساحلی علاقے شامل ہیں۔

    اس کے نتیجے میں ایرانی بندرگاہوں میں بحری جہازوں کی آمد و رفت روک دی گئی ہے، اور ایرانی تجارت سے متعلق کسی بھی بحری نقل و حرکت کو محدود کر دیا گیا ہے۔

    کوئی بھی جہاز جو کسی بھی طور پر ایران سے منسلک ہو، یا ایرانی سامان لے جا رہا ہو یا لانے والا ہو، اسے روکا جائے گا اور اس کی تلاشی لی جائے گی۔

  20. آبنائے ہرمز کا کنٹرول جوہری ہتھیاروں سے زیادہ اہم ہے: ایرانی رکنِ پارلیمان

    ایرانی شوریٰ کونسل کی تعمیرِ نو کمیٹی کے سربراہ محمد رضا رضائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام و انصرام جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہے۔

    ایران کے سرکاری چینل العالم ٹی وی کے مطابق رضائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنا ایرانی عوام کا مطالبہ ہے، اور ہم اس حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

    ایرانی رکنِ پارلیمان کے مطابق، آبنائے ہرمز کے انتظام کے منصوبے کے تحت جہازوں سے وصول کی جانے والی فیس کا 30 فیصد فوجی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے پر خرچ کیا جائے گا۔