حالات معمول پر آنے کے بعد تیل کی طلب میں یومیہ 30 لاکھ بیرل اضافہ ہو گا: آرامکو سربراہ

،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images
سعودی عرب کی سرکاری تیل اور گیس کی کمپنی آرامکو کے صدر اور چیف ایگزیکٹو امین ناصر نے پیش گوئی کی ہے کہ خطے میں حالات معمول پر آنے کے بعد تیل کی طلب میں یومیہ تقریباً 30 لاکھ بیرل اضافہ ہو گا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس میں یومیہ 20 لاکھ بیرل اضافی کھپت اور بحران کے دوران مختلف ممالک کی جانب سے استعمال کیے گئے ذخائر کی بحالی کے لیے مزید 10 لاکھ بیرل یومیہ شامل ہوں گے۔
العربیہ بزنس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امین ناصر کا کہنا ہے کہ خطے میں جنگ سے پیدا ہونے والے بحران کے آغاز سے اب تک تقریباً تین ارب بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔
آرامکو کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سٹریٹجک ذخائر سے تیل جاری نہ کیا جاتا، چین کی سمندری راستے سے تیل کی درآمدات میں کمی نہ ہوتی اور ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن سپلائی کو برقرار رکھنے میں کردار ادا نہ کرتی تو تیل کی قیمتیں کہیں زیادہ بلند سطح تک پہنچ سکتی تھیں۔
تیل کی برآمد کے راستوں کے بارے میں ناصر نے کہا کہ آرامکو ایسٹ۔ویسٹ لائن کی استعداد موجودہ 70 لاکھ بیرل یومیہ سے بڑھا کر ایک کروڑ بیرل یومیہ کرنے پر کام کر رہی ہے، جبکہ اضافی برآمدی راستوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان منصوبوں پر انجینیئرنگ کا کام بحران کے ابتدائی دنوں ہی میں شروع کر دیا گیا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ کمپنی اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر سعودی عرب سے باہر خاص طور پر اپنی سب سے بڑی منڈی ایشیا میں تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو دوگنا کرنے پر کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد سپلائی کو مزید لچک پیدا کرنا اور اسے بہتر بنانا ہے۔










